ایک دن سب نے داستان ہو جانا ہے

قبر پہ مٹی ڈال کر میں ہاتھ جھاڑتا ہوا ذرا فاصلہ پہ چلا آیا۔جنازے میں کافی لوگ شامل تھے۔کچھ خاموش،افسردہ کھڑے مرحوم کو یاد کر رہے تھے۔کچھ دبی آواز میں فیملی مسائل پہ بات کر رہے تھےاور کچھ آس پاس کے ماحول سے بے بہرہ زور زور سے حکومت کی نااہلی کا رونا رو رہے تھے۔ مرحوم کا جواں سالہ بیٹا آنکھوں میں آنسو بھرے سسکیاں لے رہا تھا۔میں اپنے قریبی رفیق کے جنازے میں شریک تھا اور خاموش کھڑا دکھی دل کے ساتھ اپنی اُن مصروفیات کو یاد کر رہا تھا جن کے سبب میں پچھلے چار دن سے موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا اُن عزیز کی عیادت کو نہ جا سکا تھا۔

جتنا جتنا میں سوچتا جاتا اتنا ہی میرا وجود شرم سے زمین میں دھنستا جا رہا تھا، جسے ایک دن اسی قبرستان کی مٹی تلے دفن ہونا تھا ،،،مٹی میں مل جانا تھا۔بعض اوقات ہم اپنی خود ساختہ مصروفیات میں ، اپنی زندگی میں ، اپنے آپ میں اتنے گم ہوتے ہیں کہ دوسروں کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں ،،،ہمیں انکی محبت ،خلوص اور چاہت کا احساس ہی نہیں ہوتا اور جب وہ ہم میں نہ ہوں ،،،ہم سے دور چلے جائیں تو ہم پہروں اُن کو یاد کر کے آنسو بہاتے ہیں اور پشیمان ہوتے ہیں۔

لوگ آہستہ آہستہ قبرستان کے خارجی دروازے کی طرف بڑھنے لگے ، میں ایک آخری نظر مرحوم کی ابدی آرامگاہ پر ڈالتا ہوا بوجھل قدموں سے واپسی کے راستے پہ چل پڑا،،،میں سوچ رہا تھا کہ ایک دن مجھے یہاں آنا ہے ،،کبھی نہ جانے کے لئیے۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

بیشتر لوگ تدفین سے فارغ ہو کر مرحوم کے گھر میں جمع تھے۔ میں بھی اُن میں شامل تھا ، میں بامشکل جنازے میں شامل ہو پایا تھااور چاہتا تھامرحوم کے لواحقین کے ساتھ کچھ لمحات گذار سکوں۔ کچھ نہ کر سکتا تھا مگردو تسلی کے بول کہہ کر اُنکے دکھ پر کچھ مرہم رکھ سکوں۔ اسی لمحے مرحوم کے عزیزوں نے دسترخوان بچھا دیا۔ لوگوں کی جلدی دیکھ کر مجھے لگا کہ شاید بہت ے لوگ اسی لئیے واپس آئے ہیں۔ آناً فاناً فضا دیگ کی آوازوں سے گونج اُٹھی۔ ہر سو بریانی کی مہک چھا گئی۔ لوگ پلیٹیں بھر بھر بوٹیوں پہ ہاتھ صاف کرنے میں مصروف ہوگئےتھے۔ چند لمحے قبل کی اداسی کی فضا کہیں گُم ہو چلی تھی،زندگی اپنا سب سے ضروری کام۰۰۰۰۰پیٹ بھرنے میں مگن تھی۔ مرحوم کے رفقاء دوڑ دوڑ کے ڈشزز فل کرنے میں مصروف تھے،،، ان میں مرحوم کا جواں سالہ بیٹا بھی شامل تھا جو آنکھوں میں آنسو لئیے لوگوں کی مدارات میں مصروف تھا۰۰۰۰۰۰انکل ٹھیک سے ڈالیں،،،،، بھائی گرم لے لو۔ مجھے دور کھڑا دیکھ کر میرے پاس آیا ،،،، بھائی آئیے نا،، اس نے مجھے دعوت ِ بریانی دی،،میں نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا کہ “ معذرت قبول کریں، میرے حلق سے ایک لقمہ بھی نہیں اُترے گا،انشاء اللہ کسی اچھے وقت میں تمہارے یہاں کھانا کھاؤں گا” ۔ اس نے ایک اُفسردہ نظر مجھ پہ ڈالی اور میرے شانے سے لگ کر سسک پڑا۔ تمہارے ابو ایک عظیم انسان تھے اور مجھے یقین ہے وہ بہت اچھی جگہ ہونگے۔میں نے اسکی کمر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے، رسمِ زمانہ ادا کی اور پلٹ گیا۔

(ابنِ آدم)

Posted in ایک دن سب نے داستاں ہو جانا ہے, ایک دن سب نے داستاں ہوجانا ہے | 2 Comments

کوئی ایک۰۰۰۰۰۰

نومبر کے اوائل کی ٹھنڈی سرد ہوا جیسے میرے تھکے ہوئے وجود کو جِلا بخش رہی تھی۔ہر طرف ایک خاموشی،،،،ایک سکون،،،،، پتوں کی سرسراہٹ بھی صاف سنی جارہی تھی،،،،،صاف نیلا آسمان، جیسے کسی ماں کا آنچل جس کی چھاؤں نے لمحہ بھر کے لئیے تمام مصیبتوں اور پریشانیوں سے آزاد کر دیا ہو،،،،ایک طمانیت کا احساس جو آپ ہی آپ مسرور کئے دے رہا ہو۔

میری نظریں قریبی درخت پہ بیٹھے پرندوں کے جوڑے پر مرکوز تھیں۔میں کافی دیر سے اُنہیں دیکھے جا رہا تھا،جو اپنے اطراف سے بیگانہ آپس میں چونچیں لڑانے میں مصروف تھے۔اُنکی خوشی کی چہچہاہٹ فضا کی نغمگی میں اضافہ کر رہی تھی۔

میں شہر کی گردآلود فضا سے گھبرا کر شام کے اس پچھلے پہر ایک دور اور نسبتاً سنسان باغ میں چلا آیا تھا ۔،جہاں شہر کی ہنگامہ خیزی کا دور دور شائبہ تک نہ تھا۔شہر سے دور ہونے کی وجہ سے لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔ اور اب میں بہت دیر سے گھاس پہ لیٹا قدرت کی صناعی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ،پرندوں کے اُس جوڑے پہ نظریں جمائے مسرور ہو رہا تھا

واہ ری قدرت اور اللٌہ کی صناعی،،،کوئی بھی کام مصلحت سے خالی نہیں،،،،جاندار کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا اور انکے دل میں ایک دوسرے کی محبت ڈالی۔ایک دوسرے کے بغیر ادھورے،داستانِ حیات نامکمل۰۰۰۰۰۰۰۰

تنہائی سے بڑا کوئی عذاب نہیں،،،اسکے کرب اور دکھ کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو کبھی تنہا رہے ہوں یا تنہا ہوں۰۰۰۰۰۰۰تنہائی انسان کو نگل جاتی ہے،،کھا جاتی ہے،،،،اسکے اندر جینے کی آخری رمق تک جلا ڈالتی ہے،،،،اسکے وجود کو بھسم کردیتی ہے،،،،انسان جیتے جی زندہ درگور،،،،نہ جیتوں میں ہوتا ہے نہ ہی مردوں میں۰۰۰۰۰۰۰۰۰

میں سوچتا چلا گیا،،،،، ہمارے لئیے کسی ایک کا ہونا کتنا ضروری،،،،کوئی ایک جو ہمارا اپنا ہو،،،ہمارا ہمدرد،،،ہمارا ساتھی،،،،،ہمارا رازداں۰۰۰۰۰

ہمارے دکھ درد میں شریک،،جو ہمکو، ہم سے زیادہ جانتا ہو،،،جو ہمکو، ہم سے زیادہ چاہتا ہو،،،،جو ہمارے دکھوں میں، ہم سے زیادہ دکھی ،،،جو ہمارے سکھوں میں ، ہم سے زیادہ خوش،،،،کوئی ایسا ایک جو ہماری بات بغیر کہے سمجھ سکے۔

کوئی ایک جو ہمارے مصائب کے آگے ڈھال ہو،،،،ہمارا حوصلہ ہو،،جس پہ ہم فخر کر سکیں۔جو ہمارے تمام دکھوں کا مداوا ہو۔

کوئی ایک جس کے ساتھ ہم گھنٹوں خاموش بیٹھ کر بھی خوش رہیں،،،کوئی ایک جس کے ساتھ ہم گھنٹوں بلا تکان بول سکیں،،،،اسکی سُن سکیں اور اپنی سُنا سکیں،،،،بغیر کسی جھجھک کے اپنی بات کہہ سکیں،،،بغیر کسی خوف کے اپنی ہر چیز شیئر کر سکیں۰۰۰۰۰۰

کوئی ایک جو ہمارا اپنا ہو۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

کوئی ایک جو ہمارا مان ہو۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in Uncategorized | Leave a comment

الفاظ زباں نہیں مگر بے زباں نہیں

کسی نےپوچھامجھ سےکہ”اےابنِ آدم،تم اتنی گہرائی میں کیسےلکھ لیتےہو؟؟؟”                                                                                                                               میں سوچ میں پڑگیا،کیاواقعی میراکچھ لکھاکسی پراثرکرتاہو 

گا؟؟

اگریہ صحیح ہےتو مقصد پورا۰۰۰۰۰۰۰۰

اگرہماری ذراسی کوشش سےکوئی اچھا کرےیاکرنےکی کوشش کرےتوسمجھو مقصدِحیات پورا۰۰۰۰۰۰۰۰۰

‎کبھی کوئی اچھاشعرہمارےرگ وپےمیں اک طوفان  برپا  کردیتاہےاورہم پہروں اسکےسحرسےنہیں نکل پاتے،،،،کبھی کوئی اچھی تحریر،کوئی اچھاپیرا،ہمیں سوچ کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیتاہے،ہمیں لگتاہےکہ یہ ہمارےاندرکی آوازہے، یہی تووہ بات ہےجوہم کہناچاہ رہےتھے۰۰۰جوہمارےوجودمیں ناجانےکبسےفشاربرپاکیےتھی اورہم اُسے کہنےاورسوچنےسےقاصرتھے۔

‎اصل بات محسوسات کی ہوتی ہے،،،لکھاری بھی ایک عام انسان اوروہی کچھ محسوس جو دوسرےکرتےہیں،،،فرق صرف اتناکہ شاعراورلکھاری اپنےمحسوسات کوکاغذپر منتقل کرسکتےہیں اوراپنےجذبات،،،احساسات کوالفاظ کاجامہ پہناکرکاغذپربکھیردیتےہیں،،ایکاچھامصنف دراصل کاغذپربکھرےلفظوں کوایک درست ترتیب دینےکےحسن سےواقف ہوتاہے۔ایسی ترتیب کہ جس سےوجودمیں آنےوالےجملےانسان کےدل پراثرکرنےکی صلاحیت سےمالامال ہوں۔

‎میرایقین کامل ہےکہ اللہ نےاپنےہربندےکوکسی نہ کسی کام کےلیےچن رکھا ہے،جوبھی ذی روح اس دنیامیں ہے،،کسی نہ کسی مقصد

سےہے۰۰۰۰۰۰

‎بس اسکومحسوس صرف وہی شخص کرسکتاہےجسکےاندرکاانسان زندہ ہو،،،جودوسروں کادرد محسوس کرے،،،جسکےآنسودوسرےکی تکلیف میں

نکل سکیں،،،، ورنہ توبہت سےلوگوں کےلئیےیہ صرف کہانی یاکاغذکاٹکڑا ہے۔

‎مگرکچھ ایسےبھی ہوتےہیں جوکاغذپہ بکھرےلفظوں کادکھ دیکھ سکتےہیں،،،محسوس کرسکتے ہیں،،،یہاں تک کہ روبھی سکتےہیں۔

ابنِ آدم

Posted in ‎الفاظ زباں نہیں، پر بے زباں نہیں | Leave a comment

سرد کافی

543F6F73-1975-447F-BEA2-42CE35DD986A

 

آج موسم کے تیور صبح ہی سے بہت برہم تھے،،،،،تیز موسلہ دھار بارش کے بعد ہر طرف جل تھل ہو رہا تھا۔مسلسل وقفے وقفے سے بجلی کی کڑک کہ گویا آسمان سر پر آن گرا ہو!!!

میں شہر کے اس نسبتاً سنسان کافی شاپ میں ،اُسکے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔میز پر پڑی کافی اپنی بھینی بھینی مہک فضاؤں میں بکھیرنے کے بعد ہمارے روًیوں سے مایوس ہو کر سرد ہو چلی تھی۔

صرف خاموش بیٹھے رہو گے یا کچھ بولو گے بھی؟؟؟؟؟؟؟؟؟آخر تمُ میری بات کیوں نہیں سمجھتے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟کیوں اپنی زندگی خراب کر رہے ہو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟   تم جانتے ہو کہ میں اب کسی اور کی ہونے  والی  ہوں۰۰۰۰۰۰۰۰بھول کیوں نہیں جاتے مجھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اُس نے خاموشی کی دبیز چادر کو چاک کرتے ہوئے ایک سانس میں سارے الفاظ ادا کر دئیے۔ میں اک مُسکراہٹ کے ساتھ اسُکی حسین آنکھوں میں چھائی نمی کو دیکھتے ہوئے بولا۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

تم کیا سمجھتی ہو کہ کیا محبت کا مقصدصرف پا لینا ہے؟؟؟؟ کسی کو حاصل کر لینا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

نہیں  ہرگز نہیں۰۰۰۰۰بلکہ جو چیز حاصل ہو جائے وہ اپنی قدر و قیمت کھو دیتی ہے۔

محبت انجام کب سوچتی ہے؟؟؟؟؟

قسمت میں پھول ہیں کہ کانٹے،،،،کس کو پرواہ ۰۰۰

محبت تو بس ہوجاتی ہے، کسی بھی انجام سے لاپرواہ

میں نے ایک گہری نظر اسُکےحسین سراپے پر ڈالی،،تم مجھے کوئی ایک جگہ اس دنیا میں بتا دو جہاں مجھے تمہاری یاد نہ آئے

جہاں کی ہوا میں تمہارے وجود کی خوشبو بسی نہ ہو۰۰۰۰۰۰۰کوئی ایسی جگہ جہاں کا ذرہ ذرہ تمہیں پُکار نہ رہا ہو۰۰۰۰۰۰کوئی ایک ایسا ٹکڑا ء خاک جہاں میں سو سکوں ،،،،اور تمہاری یاد نہ آسکے۰۰۰۰۰سورج کی پہلی کرن میں تم جھلکتی ہو۰۰۰۰چاند کو دیکھوں تو تمہارا چہرہ۰۰۰۰۰ستارے ہیں  کہ تمہاری آنکھیں ۰۰۰۰۰۰۰میری ایک ایک سانس۰۰۰۰۰لہو کی اک اک بوند ۰۰۰۰۰تمہارے نام سے رواں دواں۰۰۰۰۰۰آنکھ کھولتا ہوں تو تمُ نظر آتی ہو۰۰۰۰۰آنکھ موندتا ہوں تو تمہارا چہرہ سامنے۰۰۰۰۰تمُ بتاؤ کہ میں کس چیز کو نہ دیکھوں؟؟

یہ آسمان،،،،، یہ بادل،،،،،،یہ بارش،،،،،،  یہ ہوا،،،،،،  یہ سمندر،،،،،،، یہ پانی ،،،،،،، یہ جگنو،،،،،، یہ تارے،،،،،، سب کے سب تمہارے

یہ پھول،،،،، یہ شبنم ،،،،،، یہ ہوا کی سرسراہٹ،،،،،، یہ پرنوں کی چہچہاہٹ ،،،،،،، ہر اک شے میں تم دکھتی ہو۰۰۰۰ہر اکِ چیز میں تم جھلکتی ہو۰۰۰۰۰ میں چاہوں بھی تو تمکو ایک پل کے لئیے اپنی زندگی سے نہیں نکال سکتا۔

تم میری ایک ایک سانس میں شامل ہو،،،،اصل میں تم میری زندگی ہو۔ وہ مبہوت سی میرے وحشت بھرے چہرے کو تکے جا رہی تھی۰۰۰۰۰۰اُسے میری آنکھوں میں چاہت کے سچے دیپ نظر آرہے تھے۔ وہ چاہتے ہوئے بھی مزید کچھ نہ بول سکی،،،نم آنکھوں کے ساتھ میز پہ رکھی سرد کافی کی پیالی اُٹھائی اور اہنے یاقوتی لبوں سے لگا لی۔ میں چپ چاہ سر جھکائے اپنے خالی ہاتھوں کو تک رہا تھا۔ بادل ایک بار پھر زور سے کڑکے مگر میرے اندر کی خاموشی کو توڑنے سے قاصر تھے۔

(ابنِ آدم)

Posted in سرد کافی | 1 Comment

اِک انتظارِ مسلسل

      

ٹرن۰۰۰ٹرن۰۰۰ٹرن،،،،،

موبائل فون کی گھنٹی سُنتے ہی وہدیوانوں کی طرح فون کی جانب لپکی!

جلدیمیںاسُکا گھٹنا بیڈ کےکونےسےٹکرایااوراسکےناتواںبوڑھےجسم میں

 جیسے اک آگ سی بھرگئی

اُسنےبامشکل تمام اپنی چیخ دبائیاورسسکی لیتےہوئے

ہونٹ سختی سےبھینچ لئیے،،،،

درد پرقابو پانےکی کوشش کرتے ہوئے موبائل فون

 اُٹھایا مگرلائنکٹ چکی تھیاُسنے بےچینی سےکاللاگ

 چیک کیاورایک ٹھنڈا سانس لیتےہوئےموبائلاک طرف رکھ دیا،،،

فونکمپنیکیجانبسےشایدکوئیپروموشنکالتھی

                پچھلےکئی دنوں سے اُسےاپنی بیٹی کےفون کا شدت سےانتظار تھا

ویسےہی عید میں چند دن باقی تھےاورآخری عشرےکی

 عبادات میں وہ اُسےبہت یاد کررہی تھی

نہجانےوہاگلا رمضان دیکھ پائےیا نہیں؟

بہت روئی تھی وہ اس بار۰۰۰۰۰

   آج وہ سحری کے بعد سےلال آنکھیں لئیےجاگ رہی تھی

تین گھنٹے پہلے،ٹائم کاحساب کرتےہوئےاُسنےاپنی

 بیٹی کو فون کیا تو وہبہت مصروفتھی،،،،

ویسےبھی دوسرے ممالک میں رمضان کا کوئیخاصاہتمام نہیںہوتا،

اُسکاخاوندآفس جارہاتھااوربچےاسکول کی تیاری میں مصروف،،،،

امی میںآپکوکچھدیرمیں فونکرتیہوں،،،،،”

بس جب سےہی وہانتظارمیں ٹہل ٹہل کرہلکان ہو رہی تھی

بےچاری میری بچی،،،کتناکام کا لوڈاسپر،،،

میاں،،،،بچے،،،ساس،،،سسر،،،،

یقیناً تھک کراسکیآنکھلگ گئیہوگی،اُسنے

اپنےآپ کوتسلیدینےکیکوششکی،،،،

بہت صبح جواُٹھنا پڑتا ہےاسے،،،کتنی چورتھی وہاُٹھنےکی،،،،

میںاُٹھااُٹھاکرتھک جاتی مگرمجال ہےجو بیڈ چھوڑ دے،،،،

یادوںکےدریچےکھلتےچلےگئے،،،،

اُسکےجھریوںبھرےچہرےپرمُسکراہٹ بکھرگئی،،،،

کتناشورتھااُسکےگھرمیں،،،صبح توجیسےایک جنگ 

چل رہی ہو،اسکامرحوم شوہر۰۰۰۰

وہ توجیسےساراگھرسرپہاُٹھالیتے،ڈیوٹی نہ ہوئی 

شیطان کیآنت،،،جو کبھی ختم ہی نہ ہو کےدی،،،

کسی کی پرواہ نہ تھیانہیں،بس ڈیوٹی

عزیزتھی،،اسنےخفگیسےسوچا،،،،،،

مرحوم شوہرکاچہرہآنکھوں کےسامنےگھوم گیا،،،،

ایک آنسواُسکیآنکھسےٹپکااورچہرےکیجھریوں

سےہوتاہوادوپٹےمیںگم ہوگیا،،،،،

وہسوچتیچلیگئی۰۰۰۰۰۰۰

اُسکےدونوںشریربچے،،،،،دونوںبہنبھائیکتنالڑتےتھے،،،،

مجال ہےجو اک پل سکونسےبیٹھجائیں،،،،

پوراگھراُلٹ پلٹ کردیتےاورانکیفرمائشیں،،،،

جوکبھیختم نہہونےکاناملیتیں،،،آج یہ کھاناہے،،،،،،

آج وہبنادیں،،،،توبہ تھیاُن سے،،،اُسکادل محبت سےبھرگیا

ماشاءالّلہ دونوںبچےملک سےباہراپنےگھروںمیں خوشتھے-

بیٹاباہرپڑھنےگیاتھااوروہیںسیٹ ہوگیاتھا،،،،

اورکیاکرتابیچارہ،یہاںرکھاہیکیاہے؟

صحیح کہتا ہےوہبھی یہاں کا سسٹم ہی خراب ہے،،اب وہ وہاں کتناخوش ہے،

اکثرتصویریںبھیجتا ہے،اسکابیٹابھی بہت پیاراہے،

بالکل باپ پہگیا ہے،،،اسکیآنکھوںمیںمحبت کے

دیئےروشنتھےکتنادلچاہتااپنےپوتےکوپیارکرنےکو،،،،

کب سےکہہ رہا ہےکہامی آؤنگااُسکا

پوتا پورے پانچ سال کاہوگیاایک تو وہ 

بھی ڈیوٹی کےمعاملےاپنےباپ پرگیا ہے،،

مجال ہے کہ کوئی کام چھوڑ کر ماں کے پاس چلا آئے

اُسےغصہآنےلگا،،،پرپھریہاںآنےکاخرچہ بھی تو بہت ہے

آخری بار

جب وہآیا تھاتو کتناخرچہہوگیاتھااُسکا،،،،

اُسنےاثبات میں سر ہلایا ،،،، ٹھیک کرتا ہے جو 

نہیںآتا،،،کچھ پیسےبچائےگاجو 

آگےاولادکےکامآئیںگےنہ۰۰۰۰۰۰۰۰۰

ہےتومیراہیبیٹا،،،،،اُسنےفخرسےسوچا۰۰۰۰۰۰۰

کیسےکیسےپیٹ کاٹ کراُس نےاوراُس کےشوہر

نےکچھپراپرٹی بنائیتھی،

جوآخرکاربیٹےکیتعلیماوربیٹیکیشادیپرکامآئی،،،،

اگرنہہوتیتوکیاآجدونوںباہرہوتے؟؟؟؟

کتناخیال رکھتا

 ہےمیرابیٹا،،،،یہاتنااچھافلیٹ،،،کام کرنے

والینوکرانی،،،سب کچھ تو ہےمیرےپاس،،،،،،

پتہ نہیں یہ کام والیکہاں رہگئی؟؟؟

اسنےچاروںطرف نظردوڑائی،،،اِک سناٹا،،،،،اِک ُ

ہوکاعالم۰۰۰۰۰۰۰۰

اُسنےآہستگی سےاپنےدکھتےگھٹنےکوسہلایا,,

اک سسکی نکل گئی،،،

نیل پڑگیاتھا،،،تکلیف بڑھتی جارہیتھی،،،

اب کام والیآئےتوسب سےپہلےگھٹنے

کامساج کرواؤنگی،،،اسنےسوچا۰۰۰۰۰۰۰۰

اُسکی نظر کھڑکی کےباہرچڑھتےسورج پرپڑی،

فون نہیں آیاابھی تک۰۰۰۰۰۰

اُسےفکر ہونےلگی،،،،اُس نےفون کرنے کےارادے

 سے فون اُٹھایا،،،،،

اسُکی نظرسامنےلگے وال کلاک پرپڑی،،،،اوہ۰۰۰۰

اب توبچوں کےاسکول سےآنےکا ٹائم ہوگیا تھا،،،

وہ یقیناًکچنمیںمصروفہوگی،،،،،،،،،

ویسے بھی اسکےساس سسر  دوپہر میں جلدی 

کھانا کھا کر قیلولہکےعادیہیں۔

اُسےیادآیاایک باراسکی بیٹی نےبتایاتھاکہ

امیاسٹائم سب سو رہےہوتےہیں،،،فون نہ کیاکریں۔

اُسنےفونایک سائیڈ پہ رکھ دیا اور بیڈ

 کےسرہانے سےسر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۰۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِآدم)

1D1FE5CE-E1AC-445D-BD68-6B5C7911C802.jpeg

Posted in اِک انتظارِ مسلسل | Leave a comment

پھول،بارش اور سمندر

     ڈھلتے سورج کی کرنیں مانند سی پڑ گئی تھیں،ہر طرف نارنجی روشنی کا ڈیرہ تھا۰ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا،جیسے وجود کو ایک توانائی بخش رہی تھی۰میں چُپ چاپ بیٹھا کافی دیر سے اُسے سمندر کی نرم ریت پر خوشی سےنہال،اُچھلتے ،کودتے،دوڑتے، بھاگتے،لہروں سےاٹھکھیلیاں کرتے دیکھ دیکھ کر مسرور ہو رہا تھا-

وہ تھی ہی ایسی۰۰۰۰۰فرشتوں کی سی معصومیت،،،،،،

سمندر۰۰۰بارش اور پھول،،،سب اسکی کمزوری،،،،

بارش ہوتی تو لگتا جیسے صدیوں کی پیاس ہو،،،سارا سارا دن پانی میں شرابور۰۰۰۰بھیگ بھیگ کر سرشار۰۰۰۰مجال ہے جو تھک جائے،،،،ذرا بیٹھ جائے۰۰۰۰۰

پھولوں سے جیسے اُسے عشق،،،کوئی بھی پھول ہو،،کسی بھی رنگ ونسل کا،،،دیکھتی تو خود بھی پھولوں کی طرح کھلِ اُٹھتی،،،،دیر تک تکتی رہتی،،،سونگھتی رہتی اور سنبھال سنبھال کر رکھتی۰۰۰۰جب کبھی کسی پھول کو پڑا دیکھتی تو ایسے اداس ہوجاتی ، جیسے پھول میں اُسکی جان ہو،،جیسے وہ پھولوں کا درد محسوس کر سکتی ہو۰۰۰۰پھولوں کے قدموں تلے روندے جانے کا غم اُسے پہروں اداس رکھتا،،اور کچھ ایسا ہی ربط اُسے سمندر اور ساحل سے بھی تھا-جب سمندر پر آتی تو خوشی جیسے اسکے انگ انگ سے پھوٹی پڑتی،،،،آتی جاتی لہروں سے اٹھکھیلیاں کرتی،،،کبھی دور تک پانی کے ساتھ دوڑتی چلی جاتی اور کبھی چپ چاپ دیر تک سمندر کو دیکھتی رہتی،،،جیسے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں کو اپنی نظروں سے ناپ رہی ہو۔جیسے اسکی وسعتوں کا اندازہ کر رہی ہو،،،،جیسے سمندر سے اسکا کوئی بندھن،،،کوئی ناتا ہو۰۰۰۰۰۰۰۰

      میں ڈوبتے سورج کی کرنوں میں سنہری ہوتے اسکے دلکش وجود کو دیکھ دیکھ کر اپنی قسمت پر نازاں تھا۔وہ ساحل کی گیلی ریت پر خراماں خراماں آگے بڑھ رہی تھی، اور میں اُسکے نقشِ پا پہ اپنے قدم رکھے،جیسے سمندر کی ٹھنڈک کے ساتھ ساتھ اسکے وجود کے لمس کو اپنی روح کی گہرائیوں میں منتقل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔میں اس احساسِ وابستگی کو اپنے وجود میں مقید کرنا چاہتا تھا۔

اُسے میرے پیچھے ہونے کا احساس ہوا،،،اُس نے رک کر ہمیشہ کی طرح مجھے مُسکرا کر دیکھا،،،وہ رک کر میرا انتظار کر رہی تھی۔اسکی آنکھوں میں بسا پیار مجھے مبہوت کر رہا تھا،،،میں اسکے قدموں کے نشان پر چلتا،اسکے پاس پہنچ گیا۔ہم دونوں ایک ساتھ خاموش کھڑے ،ایک دوسرے کے وجود کو محسوس کر رہے تھے۔ڈوبتے سورج کا نظارا ماحول میں ایک رومانیت گھول رہا تھا،،کائنات کے کتنے ہی سربستہ راز،ہماری سوچ کی پروازوں سےکہیں آگے۰۰۰۰۰۰

   اُس نے آہستگی سے میرا ہاتھ تھام لیا،،،،میرے وجود میں ایک طمانیت سی چھا گئی۔وہ بہت خوش تھی اور میں اسے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا۔

محبت کا ایک روپ اپنے پیاروں کی خوشی میں پنہاں ہے،،ہم انکو خوشی دینے کی خاطر دن و رات تگ و دو میں لگے رہتے ہیں ،ہماری ساری کوششوں اور جدوجہد کا محور دراصل ہمارے اپنوں کی راحت اور خوشی میں پوشیدہ ہے۔

اپنے منہ کا نوالہ،،کسی اپنے کو کھلانے میں جو سواد ہے،،وہ خود کھانے میں کہاں۰۰۰۰۰۰

محبت دراصل قربانی ہی ہے،،،خود کو فنا کرنے کا نام،،،مصیبتوں اور پریشانیوں کو اپنی ذات پر جھیل کر ،،،اپنے پیاروں کو خوشیاں دینے کا نام۰۰۰۰۰۰۰

سورج کائنات کی وسعتوں میں گم ہو چکا تھا،،،سنہری روشنی تاریکی میں تبدیل ہو چکی تھی۔ہر سورج کے مقدر میں غروب ہونا  اور ہر روشنی کو بالآخر تاریکی میں ڈھل جانا ہے،،،ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے سمندر کی گیلی ریت کے گداز کو محسوس کرتے ہوئے آہستگی سے گھر کی جانب چل پڑے۔

(ابنِ آدم)

   

Posted in پھول،بارش اور سمندر | 2 Comments

جدائی

        خاموشی اکثر کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے۔ ہم دونوں بڑی دیر سےخاموش پارک کی اس بنچ پر بیٹھے ایک دوسرےسے نظریں چُرائے اپنے اپنے خیالوں میں گُم تھے۔میں اُس کے اس طرح بلانے پر ایک عجب خوف اور وسوسے کا شکار تھا۔

وہ بہت دیر سے خاموش تھی،،جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہو،،بہت بڑی بات!میں بھی اندر سےڈرا ہوا تھا،،،پوچھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا،،

“اب ہم کبھی نہیں ملیں گے”اس نے خاموشی توڑی،،،گویا ہزاروں من کا پہاڑ مجھ پر آ گرا،،میرا ڈر سچ ثابت ہوا،،میرا وجود مجھے گہرائیوں میں گرتا محسوس ہوا،،ریزہ ریزہ،،،،

اُس نے نم آنکھوں سے میرے دھواں دھواں چہرے پہ ایک آخری نظر ڈالی،میرے لاتعداد ان کہے سوالوں کے جواب اُسکے چہرے اور آنکھوں میں چھپی بےبسی اور کرب میں پنہا تھے۔

            وہ آہستگی سے مڑی اور پارک کے دروازے کی طرف دھیرے دھیرےچل پڑی،،بنا مجھ سے نظر ملائے،،میں اسکو دیکھتا رہ گیا،،اک ٹک،،،

یہ جداہونے کے لمحات بڑے ظالم ہوتے ہیں شاید جدائی سے بھی زیادہ،،اسکا سارا وجود اسکو روکنے پر مضر،مگر قدم آگے بڑھنے پر مجبور،،،اُسےمحسوس ہو رہا تھا کہ اسکے قدموں کے نیچے نرم گھاس نہیں انگارے ہوں،،،جیسے سارا راستہ کانٹے بچھے ہوں،،چھوٹا سا راستہ،،،میلوں کا سفر لگ رہا تھا،،وہ چاہنے کے باوجود،،پیچھے مڑ کےنہیں دیکھنا چاہتی تھی،،اُسے معلوم تھا اگر اُس نے مُڑ کر دیکھا تو”پتھر”ہو جائے گی،کبھی نہ جا پائے گی۰۰۰۰۰۰۰

               “محبت” بڑی عجیب شےہے،اس کو دیکھنے کے لئےآنکھیں لازمی نہیں ،،دل کی آنکھوں کا ہونا ضروری ہے،،،”بصارت” نہیں “بصیرت” چاہئیے،،،بعض اوقات ہم محبت کو دیکھ نہیں پاتے،،سمجھ نہیں پاتے،،،جب میّسر ہو تو اہمیت کا احساس تک نہیں ہوتا،،،مگر جب ہم سے دور ہو جائے،،روٹھ جائے ،چھن جائے اور چھین لی جائے تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نےکیا کچھ کھو دیا۔

آنے والا ایک ایک لمحہ ایک ایک پل ہمیں یادوں کے اتھاہ سمندر کی تہہ میں اُ تارتا چلاجاتا ہے،،،،

محبت اپنے ساتھ ہمارا سب کچھ لے جاتی ہے۰۰۰

نہ دل میں اُمنگ،نہ چہرے پہ خوشی،نہ جذبے اور نہ ہی کوئی لگن،،،،نہ کچھ کھونے کا دکھ،نہ پانے کی مسرت۰۰۰۰

ہمارے اندر کا موسمِ بہار سب لے جاتی ہے!

اور ہم خالی ہاتھ!

جیسے جسم سے روح پرواز کر جائے،،موت سے پہلے موت،،،

ہم اپنا سب کچھ لٹا کر محبت کو پھر سے حاصل کرنا چاہتے ہیں ،،،،ہم چاہتے ہیں کہ وہ حسیں لمحات پھر سے لوٹ آئیں ،،،وقت پلٹ جائے،،،ہم پھر سے اُن لمحات میں جی سکیں مگر اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے،،،،وقت کسی کےلئیے پلٹا ہے نہ پلٹے گا!!!

(ابنِ آدم)

Posted in جدائی | 2 Comments