پھول،بارش اور سمندر

     ڈھلتے سورج کی کرنیں مانند سی پڑ گئی تھیں،ہر طرف نارنجی روشنی کا ڈیرہ تھا۰ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا،جیسے وجود کو ایک توانائی بخش رہی تھی۰میں چُپ چاپ بیٹھا کافی دیر سے اُسے سمندر کی نرم ریت پر خوشی سےنہال،اُچھلتے ،کودتے،دوڑتے، بھاگتے،لہروں سےاٹھکھیلیاں کرتے دیکھ دیکھ کر مسرور ہو رہا تھا-

وہ تھی ہی ایسی۰۰۰۰۰فرشتوں کی سی معصومیت،،،،،،

سمندر۰۰۰بارش اور پھول،،،سب اسکی کمزوری،،،،

بارش ہوتی تو لگتا جیسے صدیوں کی پیاس ہو،،،سارا سارا دن پانی میں شرابور۰۰۰۰بھیگ بھیگ کر سرشار۰۰۰۰مجال ہے جو تھک جائے،،،،ذرا بیٹھ جائے۰۰۰۰۰

پھولوں سے جیسے اُسے عشق،،،کوئی بھی پھول ہو،،کسی بھی رنگ ونسل کا،،،دیکھتی تو خود بھی پھولوں کی طرح کھلِ اُٹھتی،،،،دیر تک تکتی رہتی،،،سونگھتی رہتی اور سنبھال سنبھال کر رکھتی۰۰۰۰جب کبھی کسی پھول کو پڑا دیکھتی تو ایسے اداس ہوجاتی ، جیسے پھول میں اُسکی جان ہو،،جیسے وہ پھولوں کا درد محسوس کر سکتی ہو۰۰۰۰پھولوں کے قدموں تلے روندے جانے کا غم اُسے پہروں اداس رکھتا،،اور کچھ ایسا ہی ربط اُسے سمندر اور ساحل سے بھی تھا-جب سمندر پر آتی تو خوشی جیسے اسکے انگ انگ سے پھوٹی پڑتی،،،،آتی جاتی لہروں سے اٹھکھیلیاں کرتی،،،کبھی دور تک پانی کے ساتھ دوڑتی چلی جاتی اور کبھی چپ چاپ دیر تک سمندر کو دیکھتی رہتی،،،جیسے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں کو اپنی نظروں سے ناپ رہی ہو۔جیسے اسکی وسعتوں کا اندازہ کر رہی ہو،،،،جیسے سمندر سے اسکا کوئی بندھن،،،کوئی ناتا ہو۰۰۰۰۰۰۰۰

      میں ڈوبتے سورج کی کرنوں میں سنہری ہوتے اسکے دلکش وجود کو دیکھ دیکھ کر اپنی قسمت پر نازاں تھا۔وہ ساحل کی گیلی ریت پر خراماں خراماں آگے بڑھ رہی تھی، اور میں اُسکے نقشِ پا پہ اپنے قدم رکھے،جیسے سمندر کی ٹھنڈک کے ساتھ ساتھ اسکے وجود کے لمس کو اپنی روح کی گہرائیوں میں منتقل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔میں اس احساسِ وابستگی کو اپنے وجود میں مقید کرنا چاہتا تھا۔

اُسے میرے پیچھے ہونے کا احساس ہوا،،،اُس نے رک کر ہمیشہ کی طرح مجھے مُسکرا کر دیکھا،،،وہ رک کر میرا انتظار کر رہی تھی۔اسکی آنکھوں میں بسا پیار مجھے مبہوت کر رہا تھا،،،میں اسکے قدموں کے نشان پر چلتا،اسکے پاس پہنچ گیا۔ہم دونوں ایک ساتھ خاموش کھڑے ،ایک دوسرے کے وجود کو محسوس کر رہے تھے۔ڈوبتے سورج کا نظارا ماحول میں ایک رومانیت گھول رہا تھا،،کائنات کے کتنے ہی سربستہ راز،ہماری سوچ کی پروازوں سےکہیں آگے۰۰۰۰۰۰

   اُس نے آہستگی سے میرا ہاتھ تھام لیا،،،،میرے وجود میں ایک طمانیت سی چھا گئی۔وہ بہت خوش تھی اور میں اسے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا۔

محبت کا ایک روپ اپنے پیاروں کی خوشی میں پنہاں ہے،،ہم انکو خوشی دینے کی خاطر دن و رات تگ و دو میں لگے رہتے ہیں ،ہماری ساری کوششوں اور جدوجہد کا محور دراصل ہمارے اپنوں کی راحت اور خوشی میں پوشیدہ ہے۔

اپنے منہ کا نوالہ،،کسی اپنے کو کھلانے میں جو سواد ہے،،وہ خود کھانے میں کہاں۰۰۰۰۰۰

محبت دراصل قربانی ہی ہے،،،خود کو فنا کرنے کا نام،،،مصیبتوں اور پریشانیوں کو اپنی ذات پر جھیل کر ،،،اپنے پیاروں کو خوشیاں دینے کا نام۰۰۰۰۰۰۰

سورج کائنات کی وسعتوں میں گم ہو چکا تھا،،،سنہری روشنی تاریکی میں تبدیل ہو چکی تھی۔ہر سورج کے مقدر میں غروب ہونا  اور ہر روشنی کو بالآخر تاریکی میں ڈھل جانا ہے،،،ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے سمندر کی گیلی ریت کے گداز کو محسوس کرتے ہوئے آہستگی سے گھر کی جانب چل پڑے۔

(ابنِ آدم)

   

Advertisements
Posted in پھول،بارش اور سمندر | 1 Comment

جدائی

        خاموشی اکثر کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے۔ ہم دونوں بڑی دیر سےخاموش پارک کی اس بنچ پر بیٹھے ایک دوسرےسے نظریں چُرائے اپنے اپنے خیالوں میں گُم تھے۔میں اُس کے اس طرح بلانے پر ایک عجب خوف اور وسوسے کا شکار تھا۔

وہ بہت دیر سے خاموش تھی،،جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہو،،بہت بڑی بات!میں بھی اندر سےڈرا ہوا تھا،،،پوچھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا،،

“اب ہم کبھی نہیں ملیں گے”اس نے خاموشی توڑی،،،گویا ہزاروں من کا پہاڑ مجھ پر آ گرا،،میرا ڈر سچ ثابت ہوا،،میرا وجود مجھے گہرائیوں میں گرتا محسوس ہوا،،ریزہ ریزہ،،،،

اُس نے نم آنکھوں سے میرے دھواں دھواں چہرے پہ ایک آخری نظر ڈالی،میرے لاتعداد ان کہے سوالوں کے جواب اُسکے چہرے اور آنکھوں میں چھپی بےبسی اور کرب میں پنہا تھے۔

            وہ آہستگی سے مڑی اور پارک کے دروازے کی طرف دھیرے دھیرےچل پڑی،،بنا مجھ سے نظر ملائے،،میں اسکو دیکھتا رہ گیا،،اک ٹک،،،

یہ جداہونے کے لمحات بڑے ظالم ہوتے ہیں شاید جدائی سے بھی زیادہ،،اسکا سارا وجود اسکو روکنے پر مضر،مگر قدم آگے بڑھنے پر مجبور،،،اُسےمحسوس ہو رہا تھا کہ اسکے قدموں کے نیچے نرم گھاس نہیں انگارے ہوں،،،جیسے سارا راستہ کانٹے بچھے ہوں،،چھوٹا سا راستہ،،،میلوں کا سفر لگ رہا تھا،،وہ چاہنے کے باوجود،،پیچھے مڑ کےنہیں دیکھنا چاہتی تھی،،اُسے معلوم تھا اگر اُس نے مُڑ کر دیکھا تو”پتھر”ہو جائے گی،کبھی نہ جا پائے گی۰۰۰۰۰۰۰

               “محبت” بڑی عجیب شےہے،اس کو دیکھنے کے لئےآنکھیں لازمی نہیں ،،دل کی آنکھوں کا ہونا ضروری ہے،،،”بصارت” نہیں “بصیرت” چاہئیے،،،بعض اوقات ہم محبت کو دیکھ نہیں پاتے،،سمجھ نہیں پاتے،،،جب میّسر ہو تو اہمیت کا احساس تک نہیں ہوتا،،،مگر جب ہم سے دور ہو جائے،،روٹھ جائے ،چھن جائے اور چھین لی جائے تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نےکیا کچھ کھو دیا۔

آنے والا ایک ایک لمحہ ایک ایک پل ہمیں یادوں کے اتھاہ سمندر کی تہہ میں اُ تارتا چلاجاتا ہے،،،،

محبت اپنے ساتھ ہمارا سب کچھ لے جاتی ہے۰۰۰

نہ دل میں اُمنگ،نہ چہرے پہ خوشی،نہ جذبے اور نہ ہی کوئی لگن،،،،نہ کچھ کھونے کا دکھ،نہ پانے کی مسرت۰۰۰۰

ہمارے اندر کا موسمِ بہار سب لے جاتی ہے!

اور ہم خالی ہاتھ!

جیسے جسم سے روح پرواز کر جائے،،موت سے پہلے موت،،،

ہم اپنا سب کچھ لٹا کر محبت کو پھر سے حاصل کرنا چاہتے ہیں ،،،،ہم چاہتے ہیں کہ وہ حسیں لمحات پھر سے لوٹ آئیں ،،،وقت پلٹ جائے،،،ہم پھر سے اُن لمحات میں جی سکیں مگر اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے،،،،وقت کسی کےلئیے پلٹا ہے نہ پلٹے گا!!!

(ابنِ آدم)

Posted in جدائی | 3 Comments

اُداسیوں کے رنگ

       ڈھلتی جنوری کی اس سرد صبح میں بارش کے بعد جیسے موسم میں اک سحر سا پھونک دیا گیا تھا،ہر طرف اک لطیف سی خنکی جیسے کسی نے کاندھوں پر برف کے گالے رکھ دئیے ہوں۔ہر سو اک دلفریب سی مہک،جو لوگوں کے موڈ کو خوشگوار کئیے جا رہی تھی-

جیسا موڈ ہو ایسا ہی منظر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

       میں قدرت کے ان تمام حسین نظاروں ،دلفریب موسم اور خوشگوار مہک سے بے نیاز پچھلے پندرہ بیس منٹ سے شہر کے اس مصروف ہسپتال کی پارکنگ میں گاڑی پارک کرنے کی ناکام جد و جہد میں مصروف تھا-بڑھتی ہوئی آبادی اور ناقص منصوبہ بندی ،،،،،شہر میں ہر طرف مسائل کے انبار تھے-

بالآخر کافی کوششوں کے بعد پارکنگ مل گئی اور میں لمبے لمبے ڈگ پھرتا اُس وارڈ کی جانب گامزن تھا جہاں میں کسی عزیز کی عیادت کو آیا تھا۔

وارڈ میں ہر طرف میڈیسن کی مہک،متفکر چہرے،اداس آنکھیں اور بوجھل فضا  نے یہاں کا ماحول یکسر مختلف بنا دیا تھا۔میں سر جھکائے اپنے عزیز کی والدہ کے تاثرات سن رہا تھا اور اپنی کھوکھلی آواز میں ساتھ ساتھ تسلیاں دینے کی اپنی سی تگ و دو میں مصروف تھا۔میں اُن سے نظر چُرا رہا تھا،میں اُن آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا،جہاں دنیا جہان کا دکھ جیسے سمٹ آیا ہو،،،اتنا غم،،،،اتنی بے بسی۰۰۰۰۰۰

       بعض اوقات انسان کتنا بےبس،کتنا لاچار،،،،کہ نا چاہتے ہوئے بھی کسی کے لئے کچھ نہ کر پائے،،،،ہمارا دل چاہتا ہے کہ کاش ہمارے پاس کوئی ایسی طاقت،کوئی ایسا جادو ہوتا،ہم کچھ کرشمہ ساز ہوتے کہ پل بھر میں جہاں بھر کو رنج و الم،دکھوں سے نجات دلا سکتے-ہم چاہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ان غموں کے سمندر سے نکال سکیں،اُداسی کو خوشی میں بدلنے کا ہنر جان سکیں،،،،ہم انکی آنکھوں میں چھپے ان گنت سوالوں کا جواب دے سکیں،،،،اُن کے غموں کا مداوا کرسکیں،،،اے کاش کچھ کر سکیں۰۰۰۰۰۰کچھ تو۰۰۰۰۰۰!

           کم از کم ہم انہیں بتا سکیں کہ ہم انُکے دکھ دردمیں شریک ہیں،،ہم وہ الفاظ ادا کر سکیں جوکسی کے غم کا مرہم ہوں۔ کسی کے چہرے پہ مُسکراہٹ کا سبب۰۰۰۰

مگر شاید دکھ نہ ہوتے تو خوشی کا وجود بھی نہ ہوتا،،،،اللّہ کا کوئی بھی کام مصلحت سے خالی نہیں،،،،کبھی تو دکھ دے کر امتحان،،،تو کبھی خوشی دے کر آزماتا ہے،،،فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری ناقص عقل اسکی مصلحت کو سمجھنے سے قاصر۰۰۰۰۰۰

      بس یہاں آکر انسان کو اپنی اوقات کا پتہ،،،،وہ کتنا حقیر،،،،کتنا مجبور،،،،

تب وہ وقت اُسے اپنے خالق حقیقی سے اور قریب کر دیتا ہے،،،وہ جان جاتا ہے کہ زندگی کتنی حقیر اور وہ کتنا بے اختیار۰۰۰۰اُسکو بس ایک ہی آسرا،،،دعا۰۰۰دعا اور دعا۰۰۰۰۰۰۰

دل سے پُکارو 

اور گڑگڑاؤ تو۰۰۰۰۰

یقینِ کامل۰۰۰۰۰۰

ایک بس پُکار۰۰۰۰۰

ایک آنسو و ندامت۰۰۰۰۰

بس بیڑا پار۰۰۰۰۰۰۰۰

ایک لمحے میں کایا پلٹ جاتی ہے۰۰۰۰

منٹوں میں منظر بدل جاتا ہے۰۰۰۰۰

بےشک وہ ہر اک شے پہ قادر ہے۰۰۰۰۰۰

قریب سے آتی سسکیوں کی آواز ،،،مجھے خیالات کی دنیا سے باہر لے آئی،،،نزدیکی بیڈ کے کنارے کو پکڑے اک خاتون زار و قطار سسک رہی تھی،،،بلک رہی تھی،،،آس پاس کا اسٹاف انہیں سنبھالنے کی کوششوں میں مصروف۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

ماحول پر اک سوگوار سی چادر آن گری تھی۔ہر آنکھ پُرنم اور ہر دل بوجھل۰۰۰۰۰۰

میں خالی ذہن کے ساتھ بیٹھا اُن کے دکھ کو محسوس کر رہا تھا۔کچھ دیر بعد وہ پلٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے باہر نکل گئیں-وارڈ کا ماحول انتہائی دل سوز ہو چکا تھا۔ان خاتون کا جواں سالہ بیٹا پچھلے ہفتے اس بیڈ پہ زندگی کی جنگ ہار چکا تھا،،،آج جب وہ معاملات مکمل کرنے آئیں تو بے اختیار اس طرف کھنچی چلی آئیں اور اپنے لختِ جگرکے آخری لمحات کا کرب یاد کر کے آبدیدہ ہوگئیں،،،،،،وہ بیڈ کے کناروں پہ ہاتھ پھیر پھیر کر اُس کے لمس کو محسوس کر رہی تھیں،،،،اک اک چیز سے اسکی یاد کو تازہ کر رہی تھیں۰۰۰۰۰۰۰

اُس ماں کے کرب کو محسوس کرنا میرے بس کی بات نہ تھی،،،مگر پھر بھی میرا وجود پارہ پارہ ہوئے جا رہا تھا،،،،دل تھا کہ ڈوب ساگیا تھا۔ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہو،،،،،کچھ بھی نہ بچا ہو۰۰۰۰۰۰وارڈ کی فضا اچانک ایک ہلکے سے قہقہے سے معطر ہوگئی،میڈیکل کے اسٹوڈنٹ کا گروپ تمام اداسی اور سوگوارفضا سے بے نیاز ،پیشہ ورانہ مسکراہٹ لئیے اندر داخل ہورہا تھا۔

میں اُنکی آنکھوں میں سجے امید کے روشن دئیے اور مستقبل کے خواب دیکھ سکتا تھا۔

بےشک الّلہ پہ بھروسہ اور اُمید،،،یہی وہ عمل ہیں جن پہ دنیا قائم ہے ورنہ یہاں اتنے غم کہ کوئی مُسکرا ہی نہ سکے۔

میرے دل میں یقینِ کامل اُتر آیا،،،اسکی قدرت سے اچھے کی اُمیداور میں اپنے غموں کو بھول کر مُسکرا دیا۰۰۰

آج موسم بہت اچھا ہے،ایک چائے نہ ہو جائے،،،میں نے اپنے عزیز سے مُسکرا کر کہا،،،،اُسے معلوم تھا کہ ابھی وہ باہر جانے سے قاصر  ہے،،،مگر وہ ہنس دیا،،،،

یس وائے ناٹ۰۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in اُداسیوں کے رنگ | 2 Comments

محبت جیت جاتی ہے

ہلکی ہلکی بوندا باندی نے جنوری کی اس سردصبح میں کچھ اور خنکی گھول دی تھی-ہر طرف گہری دُھند کا راج تھا-سورج لاکھ کوششوں کے باوجود اس دبیز دھند کا پردہ چاک کر اپنا جاہ و جلال دکھانے سے قاصر تھا-اور بالآخر اس نے سرمئی بادلوں کے پیچھے منہ چھپانا غنیمت جانا-

ہم کافی دیر سے ساتھ ساتھ چل رہے تھے،ہر طرف اک خوشگوار سی مہک چھائی ہوئی تھی-ہمارے اطراف میں دلفریب ہریالی اور قریب ہی اک چھوٹی سی جھیل میں سرگوشیاں کرتے پرندے ،،،ماحول کی رومانیت میں اضافہ کر رہے تھے-

مگر میں ہر طرف سے لاتعلق،سر جھکائے اسکے حسین قدموں پر نظر جمائے،خاموشی سے قدم بہ قدم اسکے ساتھ چل رہا تھا اور ساتھ ساتھ اسکے وجود کی مہک اپنی سانسوں بسانے کی تگ و دو میں مصروف تھا-میں چاہتا تھا کہ ان حسین لمحات کے حسن کا اک اک قطرہ آبِ حیات کی مانند پی جاؤں۔

           میں اس پل میں مکمل جینا چاہتا تھا،ہر اک پل سے اسکی وابستگی کا احساس چرانا چاہتا تھا-میں اُس اطمینان کو محسوس کرنا چاہتا تھا جو اسکے وجود کے میرے ساتھ ہونے سے مجھے مل رہا تھا-

بعض اوقات ہماری زندگی میں کسی ایک کا ہونا بہت اہمیت رکھتا ہے،،،کوئی ایک جو بہت اپنا ہو،،،جس سے ہم اپنا ہر دکھ درد شیئر کرسکیں،،،جس پر ہمیں خود سے زیادہ بھروسہ ہو،،،،ہم سمجھتے ہوں کہ وہ ایک ہمارے ہر درد کا مداوا ہے-ہماری ہر مصیبت کے آگے کسی دیوار کی مانند کھڑا ہے،،،جب تک وہ ہے،ہمیں زندگی کے کسی موڑ پر نہ بکھرنے دے گا اور نہ گرنے دے گا-کچھ ایسا ہی مجھے اسکے ساتھ سے محسوس ہو رہا تھا،،،اگر وہ ساتھ ہے تو سب کچھ ہے،،،،ورنہ کچھ بھی تو نہیں۰۰۰۰۰۰

    ہم کافی دور نکل آئے تھے،مجھے معلوم تھا کہ دیر ہوچکی ہے اور اسکو یقیناً چائے کی طلب ہوگی،کبھی کبھی انسان محبت میں خودغرض ہوجاتا ہے اور میں بھی شاید ان لمحات کو زیادہ سے زیادہ طول دینا چاہتا تھا،مگر محبت خودغرضی پہ غالب آجاتی ہے،،،،،

میرے خیال میں چائے پی لینی چاہئیے،،،

میں نے خاموشی کا سحر نہ چاہتے ہوئے بھی توڑتے ہوئے کہا،،،

جواباٗ اس نے اپنی حسین آنکھوں سے اثبات میں اشارہ کرتے ہوئے مجھے مُسکرا کے دیکھا،،،جیسے کہہ رہی ہو

دیکھو محبت جیت گئی نا

میں بھی بے ساختہ مُسکرا پڑا اور ہمارے قدم کینٹین کی جانب بڑھنے لگے۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in محبت جیت جاتی ہے | 5 Comments

چاہت کی قندیلیں

جاتے دسمبر کی یخ بستہ رات کے آخری پہر میں بھی نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی-ہر طرف اک اداسی،اک سوگواری،اک سناٹا، اک خاموشی کا راج تھا-اتنا سناٹا کہ گھڑی کی ٹک ٹک کی گونج مجھے دوسرے کمرے سے صاف سنائی دے رہی تھی۰۰۰مگر آج سب مل کر بھی میرے دل کی خوشی کو کم کرنے میں ناکام تھے۔

        میں سرِ شام سے ہی ایک سرشاری،ایک مسرت،ایک سرور کی سی کیفیت میں مبتلا تھا،میرا دل واقعی بلیوں اچھل رہا تھا،اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سینہ توڑ کر باہر نکل آئے۔

                        میں پچھلے کئی گھنٹوں سے اپنے دھڑکتے دل،لرزتے وجود اور حیراں عقل کو سمجھانے میں مصروف تھا کہ یہ سب ایک خواب نہیں ،حقیقت ہے۔وہ جس کے خواب میں نے برسوں دیکھے،،،وہ کہ جسکے ہر ایک انگ کا،،،،،،ہر ایک رنگ کا میں دیوانہ تھا،،،،وہ جسے میں نے اپنی ہر دعا میں مانگا،،،،اپنے وجود سے زیادہ چاہا،،،،جسکی ہر ایک جھلک کے لئیے میں نے پہروں انتظار کیا،،،جسے سوچ سوچ کر میری صبح ہوئیں اور جسکی یادوں نے میری شاموں کو مہکایا،،،،جسکی ہر ایک ادا نے مجھے پہروں جگایا،،،،میرے خوابوں کو جگمگایا،،،،وہ میرا سب کچھ تھی ،،،آج برسوں کے بعد مجھے اسکی حسیں آنکھوں میں چاہت کے روشن دئیے نظر آئے تھے،مجھے محبت کی مہک آرہی تھی ،کسی کے دل میں بس جانا،کسی کی سوچ میں رچ جانا ہی محبت کی معراج ہے ۔

یہ محبت بھی بڑی عجیب شے ہے،مل جائے تو قرار نہیں،اور نہ ملے تو بھی بے قراری ہی بے قراری ۰۰۰۰۰دل و دماغ میں ایک گومگو سی کیفیت،،،دل تھا کہ مان کے ہی نہیں دے رہا تھا۔بعض اوقات اللہ ہمیں ،ہماری طلب سے بھی زیادہ عطا کر دیتا ہےاور ایسے راستے سے عطا کرتا ہے کہ انسانی عقل سوچ بھی نہ سکے،،،بے شک وہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار،،،،میری آنکھوں کے گوشے نم ہونے لگے،،،مگر آج کی رات کے یہ آنسو،خوشی کے آنسو تھے،،،،شکر کے آنسو تھے،،،،میں نے بستر چھوڑ دیا ،،،، وضو کیا اور اپنے پروردگار کے حضور سربسجود ہو گیا،،،،بے شک وہ ہر ایک شے پر قادر ہے۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in چاہت کی قندیلیں | 4 Comments

م۔محبت ع۔عشق

سُنو مجھے تم سے واقعی عشق ہے۰۰۰۰

کیا فرق ہے محبت اور عشق میں؟؟؟

ایک عجب سا سوال اور الجھن۰۰۰۰

وہ مجھے ایک ٹک تکتی رہی

عشق محبت کی معراج ہے،،،عشق ایک ایسا جذبہ جو ہر کسی

کو میسر نہیں،،عشق انسان کو اُس مقام تک لے جاتا ہے،

جہاں کا تصور بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں۰۰۰

میں اپنی دھن میں بے تکان بولے جا رہا تھا

محبت کے جذبے میں گنجائش ہے،محبت انسان کئی کرتا ہے

ایک محبت گئی تو دوسرے سے ہوگئی،،،ایک سے محبت کرتے کرتے کوئی دوسرا ٹکرا گیا،،،کسی کی ادا بھائی تو کسی کی صورت۰۰۰۰۰پھر نئی محبت شروع

مگر عشق،،،،

جب ہوجائے تو پھر جہاں بھر کا حسن بھی معشوق کے 

آگے ماند،،، حسین سے حسین صورت میں بھی آپ اپنے محبوب کو دیکھتے ہیں ،،،، دنیا بھر کی مسرتوں سے بڑھ کر محبوب کی خوشی،،،،اپنا آپ محبوب کی ایک ادا پر قربان۰۰۰۰

عشق کیا نہیں جا سکتا ،،یہ تو عطا ہے

جو صرف خاص الخاص دلوں کو مرحمت۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in م۔محبت ع۔عشق | 1 Comment

پانی

               میں نے ہتھیلی کی مدد سے اپنی پیشانی پر موجود پسینے کو صاف کیا،،ایک نظر آسمان کی طرف ڈالی اور پھر سے چل پڑا-پچھلے کئی دنوں سے موسم کے تیور غضبناک تھے-آسمان سے جیسے آگ برس رہی ہو،ہر ذی روح بلبلا رہا تھا اور ہلکان ہوئے جا رہا تھا۔لوگ اپنے اپنے گھروں میں مقیّد ہو کر رہ گئے تھے۔

مجھے جون کی اس چلچلاتی دوپہر میں ایک ضروری کام سے نکلنا پڑا تھا،،،پچھلے کئی گھنٹوں سے میں اس تپتی دوپہر میں سورج کے رحم وکرم پہ تھا۔میرا حلق خشک ہو رہا تھا،،،میں نے پانی کی تلاش میں نظریں دوڑائیں،،،دور ایک درخت تلے بنا ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ مجھے صحرا میں نخلستان لگا۔میں تیز قدموں سے اسکی طرف چل پڑا۔

ہاتھ میں منرل واٹر کی بوتل تھامے،میں درخت کے سائے تلے پڑی لکڑی کی ایک بینچ پر آن بیٹھا۰۰۰۰۰۰

پانی کا پہلا گھونٹ جیسے آبِ حیات تھا،،،،ایک سرور کی سی لہر میرے سارے وجود کو جِلا بخش گئی۔

“تم پانی کی طرح ہو”

مجھے کوئی یاد آگیا۰۰۰

وہ ہمیشہ مجھ سے کہتی تھی کہ “ تم میری زندگی میں پانی کی طرح ہو”

میں پوچھتا کیسے؟

تو وہ ہنس کر ٹال دیتی تھی

ایک دن میں ضد پر اڑ گیا کہ بتاؤ؟؟؟؟؟

میری سماعت میں آج تک اس کے پُر اثر لہجے میں کہے لازوال الفاظ گونج رہے ہیں،،،،،ایک انمول لمحہ۰۰۰۰۰۰۰۰

وہ اپنی گہری سیاہ آنکھیں میرے چہرے پہ جمائے بولی

“ہم پانی سے کبھی نہیں اُکتاتے،ایک ہی ذائقہ ہونے کے باوجود ،ہمیشہ ہمارے بدن کو اک نیا سرور،اک نئی جِلا بخشتا ہے،ہم پانی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔

پانی ہماری زندگی کی ضمانت،،،شاید قدرت کی چند بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت،،،،ایک انمول شے،،،،جسکی ضرورت زندگی کے پہلے پل سے آخری پل تک کبھی کم نہیں ہوتی۰۰۰۰۰”

میں ایک ٹک اُسے دیکھ رہا تھا۰۰۰۰

“تم بھی میری زندگی میں پانی کی مانند ہو،،،،تمہارا ساتھ مجھے زندگی کے آخری پل تک چاہئیے،،،،تم میری زندگی ہو،،،،تمہارے ساتھ گذارا ہر اک پل میری زندگی کو ایک نئی جِلا بخشتا ہے،ہر بار زندگی کے ایک نئے احساس سے ہمکنار کرتا ہے،،بےشک تمُ میرے لئیے قدرت کی ایک انمول نعمت ہو۔”

میں پلک جھپکائے بغیر،،، مبہوت سا اُسے ایک ٹک دیکھے جا رہا تھا،،،،مجھے اُس کے چہرے پہ چھائی سچائی اور جذبوں کے رنگ صاف دکھائی دے رہے تھے۰۰۰۰۰۰

میں سمجھ سکتا تھا،محسوس کر سکتا تھا،،،،میں جان گیا تھا کہ میں اسکے لئیے آبِ حیات کی مانند تھا،،،،،

پانی کی طرح،،،،،

ایک عجیب سا احساسِ وابستگی،،،،،ایک عجیب سی سرشاری

کچھ پا لینے کی خوشی،،،،،کسی کا ہو جانے کی تمنا

جذبے تھے کہ اُمڈ اُمڈ کر آ رہے تھے،،،،ایک احساسات کی بارش،،،جس میں میرا سارا وجود تتر بتر ہو رہا تھا،،،،جیسے بارش کا پانی،،،،،،،،

روڈ پر گذرتی گاڑی کے تیز ہارن کی آواز مجھے واپس اُسی تپتی دوپہر میں لے آئی،،،،میں نے بوتل میں موجود پانی کا آخری گھونٹ اپنے حلق میں انڈیلا،،،،اپنی نم ہوتی ہوئی آنکھ کو صاف کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

 

Posted in پانی | 1 Comment