محبت جیت جاتی ہے

ہلکی ہلکی بوندا باندی نے جنوری کی اس سردصبح میں کچھ اور خنکی گھول دی تھی-ہر طرف گہری دُھند کا راج تھا-سورج لاکھ کوششوں کے باوجود اس دبیز دھند کا پردہ چاک کر اپنا جاہ و جلال دکھانے سے قاصر تھا-اور بالآخر اس نے سرمئی بادلوں کے پیچھے منہ چھپانا غنیمت جانا-

ہم کافی دیر سے ساتھ ساتھ چل رہے تھے،ہر طرف اک خوشگوار سی مہک چھائی ہوئی تھی-ہمارے اطراف میں دلفریب ہریالی اور قریب ہی اک چھوٹی سی جھیل میں سرگوشیاں کرتے پرندے ،،،ماحول کی رومانیت میں اضافہ کر رہے تھے-

مگر میں ہر طرف سے لاتعلق،سر جھکائے اسکے حسین قدموں پر نظر جمائے،خاموشی سے قدم بہ قدم اسکے ساتھ چل رہا تھا اور ساتھ ساتھ اسکے وجود کی مہک اپنی سانسوں بسانے کی تگ و دو میں مصروف تھا-میں چاہتا تھا کہ ان حسین لمحات کے حسن کا اک اک قطرہ آبِ حیات کی مانند پی جاؤں۔

           میں اس پل میں مکمل جینا چاہتا تھا،ہر اک پل سے اسکی وابستگی کا احساس چرانا چاہتا تھا-میں اُس اطمینان کو محسوس کرنا چاہتا تھا جو اسکے وجود کے میرے ساتھ ہونے سے مجھے مل رہا تھا-

بعض اوقات ہماری زندگی میں کسی ایک کا ہونا بہت اہمیت رکھتا ہے،،،کوئی ایک جو بہت اپنا ہو،،،جس سے ہم اپنا ہر دکھ درد شیئر کرسکیں،،،جس پر ہمیں خود سے زیادہ بھروسہ ہو،،،،ہم سمجھتے ہوں کہ وہ ایک ہمارے ہر درد کا مداوا ہے-ہماری ہر مصیبت کے آگے کسی دیوار کی مانند کھڑا ہے،،،جب تک وہ ہے،ہمیں زندگی کے کسی موڑ پر نہ بکھرنے دے گا اور نہ گرنے دے گا-کچھ ایسا ہی مجھے اسکے ساتھ سے محسوس ہو رہا تھا،،،اگر وہ ساتھ ہے تو سب کچھ ہے،،،،ورنہ کچھ بھی تو نہیں۰۰۰۰۰۰

    ہم کافی دور نکل آئے تھے،مجھے معلوم تھا کہ دیر ہوچکی ہے اور اسکو یقیناً چائے کی طلب ہوگی،کبھی کبھی انسان محبت میں خودغرض ہوجاتا ہے اور میں بھی شاید ان لمحات کو زیادہ سے زیادہ طول دینا چاہتا تھا،مگر محبت خودغرضی پہ غالب آجاتی ہے،،،،،

میرے خیال میں چائے پی لینی چاہئیے،،،

میں نے خاموشی کا سحر نہ چاہتے ہوئے بھی توڑتے ہوئے کہا،،،

جواباٗ اس نے اپنی حسین آنکھوں سے اثبات میں اشارہ کرتے ہوئے مجھے مُسکرا کے دیکھا،،،جیسے کہہ رہی ہو

دیکھو محبت جیت گئی نا

میں بھی بے ساختہ مُسکرا پڑا اور ہمارے قدم کینٹین کی جانب بڑھنے لگے۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Advertisements
Posted in محبت جیت جاتی ہے | 3 Comments

چاہت کی قندیلیں

جاتے دسمبر کی یخ بستہ رات کے آخری پہر میں بھی نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی-ہر طرف اک اداسی،اک سوگواری،اک سناٹا، اک خاموشی کا راج تھا-اتنا سناٹا کہ گھڑی کی ٹک ٹک کی گونج مجھے دوسرے کمرے سے صاف سنائی دے رہی تھی۰۰۰مگر آج سب مل کر بھی میرے دل کی خوشی کو کم کرنے میں ناکام تھے۔

        میں سرِ شام سے ہی ایک سرشاری،ایک مسرت،ایک سرور کی سی کیفیت میں مبتلا تھا،میرا دل واقعی بلیوں اچھل رہا تھا،اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سینہ توڑ کر باہر نکل آئے۔

                        میں پچھلے کئی گھنٹوں سے اپنے دھڑکتے دل،لرزتے وجود اور حیراں عقل کو سمجھانے میں مصروف تھا کہ یہ سب ایک خواب نہیں ،حقیقت ہے۔وہ جس کے خواب میں نے برسوں دیکھے،،،وہ کہ جسکے ہر ایک انگ کا،،،،،،ہر ایک رنگ کا میں دیوانہ تھا،،،،وہ جسے میں نے اپنی ہر دعا میں مانگا،،،،اپنے وجود سے زیادہ چاہا،،،،جسکی ہر ایک جھلک کے لئیے میں نے پہروں انتظار کیا،،،جسے سوچ سوچ کر میری صبح ہوئیں اور جسکی یادوں نے میری شاموں کو مہکایا،،،،جسکی ہر ایک ادا نے مجھے پہروں جگایا،،،،میرے خوابوں کو جگمگایا،،،،وہ میرا سب کچھ تھی ،،،آج برسوں کے بعد مجھے اسکی حسیں آنکھوں میں چاہت کے روشن دئیے نظر آئے تھے،مجھے محبت کی مہک آرہی تھی ،کسی کے دل میں بس جانا،کسی کی سوچ میں رچ جانا ہی محبت کی معراج ہے ۔

یہ محبت بھی بڑی عجیب شے ہے،مل جائے تو قرار نہیں،اور نہ ملے تو بھی بے قراری ہی بے قراری ۰۰۰۰۰دل و دماغ میں ایک گومگو سی کیفیت،،،دل تھا کہ مان کے ہی نہیں دے رہا تھا۔بعض اوقات اللہ ہمیں ،ہماری طلب سے بھی زیادہ عطا کر دیتا ہےاور ایسے راستے سے عطا کرتا ہے کہ انسانی عقل سوچ بھی نہ سکے،،،بے شک وہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار،،،،میری آنکھوں کے گوشے نم ہونے لگے،،،مگر آج کی رات کے یہ آنسو،خوشی کے آنسو تھے،،،،شکر کے آنسو تھے،،،،میں نے بستر چھوڑ دیا ،،،، وضو کیا اور اپنے پروردگار کے حضور سربسجود ہو گیا،،،،بے شک وہ ہر ایک شے پر قادر ہے۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in چاہت کی قندیلیں | 4 Comments

م۔محبت ع۔عشق

سُنو مجھے تم سے واقعی عشق ہے۰۰۰۰

کیا فرق ہے محبت اور عشق میں؟؟؟

ایک عجب سا سوال اور الجھن۰۰۰۰

وہ مجھے ایک ٹک تکتی رہی

عشق محبت کی معراج ہے،،،عشق ایک ایسا جذبہ جو ہر کسی

کو میسر نہیں،،عشق انسان کو اُس مقام تک لے جاتا ہے،

جہاں کا تصور بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں۰۰۰

میں اپنی دھن میں بے تکان بولے جا رہا تھا

محبت کے جذبے میں گنجائش ہے،محبت انسان کئی کرتا ہے

ایک محبت گئی تو دوسرے سے ہوگئی،،،ایک سے محبت کرتے کرتے کوئی دوسرا ٹکرا گیا،،،کسی کی ادا بھائی تو کسی کی صورت۰۰۰۰۰پھر نئی محبت شروع

مگر عشق،،،،

جب ہوجائے تو پھر جہاں بھر کا حسن بھی معشوق کے 

آگے ماند،،، حسین سے حسین صورت میں بھی آپ اپنے محبوب کو دیکھتے ہیں ،،،، دنیا بھر کی مسرتوں سے بڑھ کر محبوب کی خوشی،،،،اپنا آپ محبوب کی ایک ادا پر قربان۰۰۰۰

عشق کیا نہیں جا سکتا ،،یہ تو عطا ہے

جو صرف خاص الخاص دلوں کو مرحمت۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in م۔محبت ع۔عشق | 1 Comment

پانی

               میں نے ہتھیلی کی مدد سے اپنی پیشانی پر موجود پسینے کو صاف کیا،،ایک نظر آسمان کی طرف ڈالی اور پھر سے چل پڑا-پچھلے کئی دنوں سے موسم کے تیور غضبناک تھے-آسمان سے جیسے آگ برس رہی ہو،ہر ذی روح بلبلا رہا تھا اور ہلکان ہوئے جا رہا تھا۔لوگ اپنے اپنے گھروں میں مقیّد ہو کر رہ گئے تھے۔

مجھے جون کی اس چلچلاتی دوپہر میں ایک ضروری کام سے نکلنا پڑا تھا،،،پچھلے کئی گھنٹوں سے میں اس تپتی دوپہر میں سورج کے رحم وکرم پہ تھا۔میرا حلق خشک ہو رہا تھا،،،میں نے پانی کی تلاش میں نظریں دوڑائیں،،،دور ایک درخت تلے بنا ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ مجھے صحرا میں نخلستان لگا۔میں تیز قدموں سے اسکی طرف چل پڑا۔

ہاتھ میں منرل واٹر کی بوتل تھامے،میں درخت کے سائے تلے پڑی لکڑی کی ایک بینچ پر آن بیٹھا۰۰۰۰۰۰

پانی کا پہلا گھونٹ جیسے آبِ حیات تھا،،،،ایک سرور کی سی لہر میرے سارے وجود کو جِلا بخش گئی۔

“تم پانی کی طرح ہو”

مجھے کوئی یاد آگیا۰۰۰

وہ ہمیشہ مجھ سے کہتی تھی کہ “ تم میری زندگی میں پانی کی طرح ہو”

میں پوچھتا کیسے؟

تو وہ ہنس کر ٹال دیتی تھی

ایک دن میں ضد پر اڑ گیا کہ بتاؤ؟؟؟؟؟

میری سماعت میں آج تک اس کے پُر اثر لہجے میں کہے لازوال الفاظ گونج رہے ہیں،،،،،ایک انمول لمحہ۰۰۰۰۰۰۰۰

وہ اپنی گہری سیاہ آنکھیں میرے چہرے پہ جمائے بولی

“ہم پانی سے کبھی نہیں اُکتاتے،ایک ہی ذائقہ ہونے کے باوجود ،ہمیشہ ہمارے بدن کو اک نیا سرور،اک نئی جِلا بخشتا ہے،ہم پانی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔

پانی ہماری زندگی کی ضمانت،،،شاید قدرت کی چند بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت،،،،ایک انمول شے،،،،جسکی ضرورت زندگی کے پہلے پل سے آخری پل تک کبھی کم نہیں ہوتی۰۰۰۰۰”

میں ایک ٹک اُسے دیکھ رہا تھا۰۰۰۰

“تم بھی میری زندگی میں پانی کی مانند ہو،،،،تمہارا ساتھ مجھے زندگی کے آخری پل تک چاہئیے،،،،تم میری زندگی ہو،،،،تمہارے ساتھ گذارا ہر اک پل میری زندگی کو ایک نئی جِلا بخشتا ہے،ہر بار زندگی کے ایک نئے احساس سے ہمکنار کرتا ہے،،بےشک تمُ میرے لئیے قدرت کی ایک انمول نعمت ہو۔”

میں پلک جھپکائے بغیر،،، مبہوت سا اُسے ایک ٹک دیکھے جا رہا تھا،،،،مجھے اُس کے چہرے پہ چھائی سچائی اور جذبوں کے رنگ صاف دکھائی دے رہے تھے۰۰۰۰۰۰

میں سمجھ سکتا تھا،محسوس کر سکتا تھا،،،،میں جان گیا تھا کہ میں اسکے لئیے آبِ حیات کی مانند تھا،،،،،

پانی کی طرح،،،،،

ایک عجیب سا احساسِ وابستگی،،،،،ایک عجیب سی سرشاری

کچھ پا لینے کی خوشی،،،،،کسی کا ہو جانے کی تمنا

جذبے تھے کہ اُمڈ اُمڈ کر آ رہے تھے،،،،ایک احساسات کی بارش،،،جس میں میرا سارا وجود تتر بتر ہو رہا تھا،،،،جیسے بارش کا پانی،،،،،،،،

روڈ پر گذرتی گاڑی کے تیز ہارن کی آواز مجھے واپس اُسی تپتی دوپہر میں لے آئی،،،،میں نے بوتل میں موجود پانی کا آخری گھونٹ اپنے حلق میں انڈیلا،،،،اپنی نم ہوتی ہوئی آنکھ کو صاف کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

 

Posted in پانی | 1 Comment

محبت بولتی ہے

      میں نے آہستگی کے ساتھ الماری کا دروازہ کھولا اور اندھیرے میں ٹٹول ٹٹول کر اپنی مطلوبہ اشیئا تلاش کرنے لگا-

مجھے آفس سے دیر ہو رہی تھی،رات گھر میں مہمان تھے اور سونے میں کافی دیر ہوگئی تھی-مجھے فکر تھی کہ میری سوئی ہوئی شریکِ حیات نہ جاگ جائے جو مجھ سے بہت بعد میں تمام گھر سمیٹ سماٹ کر سوئی ہوگی،،،شاید آدھی رات کے بعد۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

میں نے الماری بند کی،شوز ہاتھ میں اُٹھا کر دبے پاؤں لاؤنج میں آگیا-

اور وہی ہوا،شاید میرے دروازہ کھولنے کی آواز سے وہ جاگ گئی،پلک جھپکتے ہی وہ کمرے سے باہر تھی-

آپ نے مجھے اُٹھایا کیوں نہیں،اُس نے ہمیشہ کی طرح شکوہ کیا اور تیزی سے کچن میں مصروف ہوگئی،اُسے معلوم تھا کہ چند لمحوں کی سستی سے میں کچھ کھائے پئیے بغیر آفس کو نکل جاؤں گا-میں جوتے پہنتے ہوئے اُسے تیز تیز کام کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا،اُس کے چہرے سے تھکن عیاں تھی،آنکھوں میں بھرپور نیند کا اثر مگر وہ کس تیزی سے مصروف تھی-

میں سوچ رہا تھا،”محبت کے کتنے رنگ،،،،کیسے کیسے رنگ

محبت لفظوں کی محتاج نہیں،،،نہ اسُے اظہار کی ضرورت،،،،،

یہ تو جھلکتی ہے،،،چھلک چھلک پڑتی ہے،،،،ہمارے اک اک انگ سے،،،اس کے اپنے ہی رنگ،،،،

میرا دبے پاؤں چلنا،،،اسکا نیند سے لڑ کر اُٹھنا،،،،

محبت تو یہی ہے،،،،،ہاں محبت یہی ہے۰۰۰۰۰۰”

(ابنِ آدم)

Posted in محبت بولتی ہے | 2 Comments

مانوس اجنبی

      No signals میں نے جھنجھلا کر موبائل گاڑی کے ڈیش بورڈ پر پٹخ دیا،،،،پچھلے آدھے گھنٹے سے میں فون کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا مگر اس نیٹ ورک کو بھی آج ہی ڈاؤن ہونا تھا-میں ایک ڈنر پر مدعو تھا اور پہلے ہی کافی لیٹ ہوگیا تھا،ایک تو شہر کی ٹریفک اور ویک اینڈ کا رش۰۰۰۰

الّلہ کی پناہ،ہر شخص کو جلدی،،،ہر شخص دوڑ رہا تھا،میں نے زور سے ہارن بجایا،سامنے آنے والا موٹر سائیکل سورا مجھے خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا سائیڈ سے گذر گیا۔میں نے اسکی بُڑبڑاہٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی-

شہر کے اس پوش علاقے میں واقع مشہور ریسٹورنٹ کے داخلی دروازے میں داخل ہوتے ہوئے میں نے اپنی سانسیں بحال کرنے میں مصروف تھا-میں پارکنگ سے تقریباً دوڑتا ہوا یہاں پہنچا تھا،کسی کو انتظار کروانا میری فطرت کے خلاف تھا-ریسٹورنٹ کی انتظامیہ نے میری مطلوبہ ٹیبل تک رہنمائی کی جہاں میرے میزبان میرے منتظر تھے-میں دل ہی دل میں دیر سے آنے پہ شرمندہ ہوتا ہوا اُن سے پرتپاک انداز میں ملا۔آج اُن کے ساتھ انکی ایک عزیز دوست بھی آئیں جن سے میرا غائبانہ تعارف تھا مگر آج ملاقات کا موقع ملا-

              بڑی منفرد سی،کھوئی کھوئی سی،چپ چاپ،گم سُم،،،،سادہ مگر جاذب نظر شخصیت جو مقابل کو سحر انگیز کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال۰۰۰۰

کچھ لوگوں سے مل کر ہمیں ایک عجب سی کشش کااحساس،،،،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک نور کا ہالہ سا ہے جس نے انکے تمام وجود کو اپنے حصار میں مقیّد کر رکھا ہے اور یہ ہالہ مخاطب کو اپنی حدود میں رہ کر بات کرنے پر مجبور کر دیتا ہے،ایک عجب سی تعظیم جو آپ خودبخود اپنے اندر محسوس کرتے ہیں-

میری پہلی ملاقات تھی مگر اجنبیت کا احساس تک نہ تھا،دھیمے دھیمے لہجے میں ناپ تول کر بات کرنے کا انداز ،میں کھو سا گیا-ہر اک لفظ سے تجربے کی مہک آرہی تھی،ہر جملہ چیخ چیخ کر بولنے والے کی گہرائی کا پتہ دے رہا تھا-انکی شخصیت میں سب سے نمایاں انکی نم نم آنکھیں،جو اندر کے راز کھولنے کو بےتاب تھیں-انکا سکوت کتنے ہی چھپےطوفانوں کا پتہ دے رہا تھا،جیسے چھلک پڑنے کو بےتاب ہوں،جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہوں،تمام کہانیاں سنانا چاہ رہی ہوں مگر کوئی سننے والا ہو تو سُنے،،،، جو سمجھ سکے،جان سکے،مان سکے۰۰۰۰۰

مجھے لگا کہ انہوں نے تمام داستانوں کو دل میں دبا کر دروازہ کو اندر سے تالا لگا دیا ہو،،،،کبھی نہ کھولنے کے لئیے،،،،چاہے کوئی کتنی ہی آوازیں مارے،سر پٹکے مگر،،،،اب دیر ہو چکی ہو،،،دروازہ اب بند۰۰۰۰۰

میں انُکی باتوں اور شخصیت کے سحر میں کھویا کھانے میں مصروف تھا ،،کب وقت گذر گیا،کب رات گہری ہوئی،پتہ ہی نہ چل سکا،،،،زندگی کا سفر بھی عجب سفر ہے،جب ہم چاہتے ہیں کہ وقت تھم جائے تو گویا وقت کو پر لگ جاتے ہیں اور بعض اوقات ہمارے ناچاہنے کے باوجود وقت تھم سا جاتا ہے ،اک اک ساعت صدیوں کی طرح گذرتی ہی نہیں۰۰۰۰۰

ہر پل ہر آن منظر بدلتے رہتے ہیں جیسے ریل کا سفر،،،،ہر اسٹیشن سے نئے مسافر چڑھتے ہیں اور ہمارے ہمسفر بن جاتے ہیں،ہم ان میں کھو جاتے ہیں ،ان سے مانوس ہو جاتے ہیں مگر کچھ ہی اسٹیشن بعد بہت سے ہمیں چھوڑ جاتے ہیں ،اُنہیں اپنی اپنی منزلوں پہ اُترنا ہوتا ہے،ہم چاہیں مگر وہ نہیں رکتے یا رک نہیں پاتے شاید؟؟؟؟

پھر کچھ نئے مسافر ہمارے سفر میں شامل ہو جاتے ہیں،ہم پرانے مسافروں کی یاد دل میں چُھپائے ،نئے مسافروں کی قربت میں گُم ہوجاتے ہیں۔یونہی یہ کاروانِ زندگی رواں دواں رہتا ہے اور بالآخر ہماری منزلِ مقصود آن لیتی ہے اور ہمارا اسٹیشن۰۰۰۰۰۰۰۰۰ہمیں اس کارواں کو الوداع کہنا ہی ہوتا ہے،چاہے کوئی کتنی بھی آوازیں دے ہمیں اپنے اپنے مقررہ اسٹیشن پہ اُتر جانا ہے،،،،

یہی فلسفہ ء حیات اور یہی زندگی

میں نے پلٹ کر ایک خالی نظر ٹیبل پہ ڈالی اور جہاں کچھ دیر پہلے زندگی پوری رعنائیوں کے ساتھ جلوہ ء افروز تھی،،میں گذرتے لمحوں کی خوشبو اپنی یاداشت میں سمونے کی کوشش کرتے ہوئے پارگنک کی جانب بڑھ گیا۔

(ابنِ آدم)

Posted in مانوس اجنبی | 2 Comments

دل ہی تو ہے

        تیز گرم تپتی ہوئی سنگلاخ چٹانیں میرے پاؤں جھلسائے دے رہی تھیں،،،،،سورج جیسے حقیقتأ سوا نیزے پر اُتر آیا تھا۔میرا تمام جسم پسینے سے شرابور تھا۔مگر ابھی کچھ کام باقی تھا اور مجھے مزید ایک دو گھنٹے ان سنگلاخ چٹانوں کی خاک چھاننی تھی-میری جاب ہی کچھ ایسی تھی کہ میں اکثر جنگلوں ،بیابانوں میں سر کھپاتا پھرتا تھا۔آج بھی کچھ ایسا ہی دن تھا اور میں پچھلے کئی گھنٹوں سے سخت گرمی کے موسم میں ان جلتی ہوئی چٹانوں کے سینے پر محو ِسفر تھا۔اچانک میرے کان دور سے آتی اک ضربِ مسلسل کی صداؤں پہ مرکوز ہو گئے،،،،جیسے کوئی مسلسل پوری قوت کے ساتھ چٹانوں پہ ضربیں لگا رہا ہو۔

میں تجسس کی لگام تھامے بے اختیار اُن آوازوں کی کھوج میں نکل پڑا۔تھوڑی ہی دور ایک چٹان کی آڑ میں مجھے کچھ مزدور نظر آئے،جو چٹانوں کے بڑے بڑے پتھروں کو ہتھوڑوں کی مدد سے توڑ کر عمارتی استعمال میں  لانے کے قابل بنانے میں مصروف تھے۔

           میں قریب  پڑے ایک پتھر پر بیٹھ گیا اور دلچسپی سے اُن کو کام کرتے دیکھنے لگا۔بڑے بڑے پتھربھی ،ہتھوڑوں کی پڑنے والی ضرب ِ مسلسل کی تاب نہ لاتے ہوئے،ریزہ ریزہ ہوئے جا رہے تھے۔پہلے پہل وہ کاری سے کاری ضرب بھی برداشت کر جاتے۔پھر اُن میں دڑاڑیں پڑنا شروع ہوئیں اور آخرکار کوئی ایک معمولی سی ضرب بھی انکو ریزہ ریزہ کر جاتی،،،بکھیر دیتی۔

میں دیکھتا رہا اور سوچتا رہا،،،،،،،،”انسانی دل”

انسانی دل کی مثال بھی اس پتھرکی سی ہے،جو دوسروں کے رویوں ،لہجوں اور الفاظ کی ضربیں برداشت کرتا جاتا ہے،مگر ہر آنے والی ضرب اسکے دل میں ایک نئی دڑاڑ ڈالتی جاتی ہے اور بالآخر جب اُسکے صبر وضبط کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو ایک معمولی سی بات بھی اسکے دل کو ریزہ ریزہ کر ڈالتی ہے،کرچی کرچی کر جاتی ہے۔پھر چاہے جانے والے لوٹ بھی آئیں ،،،،

کتنی ہی معافی تلافیاں ہو جائیں ،،،،شرمندگی اور احساسِ ندامت ہو مگر آبگینہءدل جب اک بار ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا۔

میں ایک ٹک چٹانوں کے مضبوط پتھروں کو ریزہ ریزہ ہو کر بکھرتے دیکھ رہا تھا۔

(ابنِ آدم)

Posted in دل ہی تو ہے | 4 Comments