حاصل زیست

آج بھی میں پتھر ہوئی آنکھیں لیئے بستر پہ لیٹا کروٹیں بدل رہا تھا ، نیند جیسے روٹھ سی گئی تھی، بہت جتن کئیے پر نیند کی دیوی کو منا لینا جیسے اب میرے بس میں نہیں تھا۔ رات کے اس پچھلے پہر چُپ چاپ لیٹا تنہائی کے اس کرب کو محسوس کر رہا تھا جو کسی کے پاس نہ ہونے سے اب میرا مقدر تھا ، ظالم وقت کی ایک تیز لہر اسے بہا کر مجھ سے بہت دور لے گئی تھی ۔ سناٹا اتنا گہرا تھا کہ دل کی دھڑکن گویا گھڑیال کی طرح بج رہی ہو۔ دھڑکنوں کی دھک دھک میرے ٹوٹے وجود کو جھنجوڑ جھنجوڑ ڈال رہی تھی ۔ کسی کے اپنا ہونے کا طمانیت بھرا احساس،،،،ساتھ ہی دوری کا غم،،،،ایک لازوال دکھ،،،،،رب سے ایک شکوہ۔ قسمت سے شکایت۰۰۰۰۰؟ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا نصیب کا شکر ادا کروں کہ وہ مجھے مل گیا یا اسکی دوری پہ ربِ کائنات سے شکوہ کروں؟

ایک گو مگو کی کیفیت۰۰۰۰۰۰ایک دکھ۰۰۰۰۰ایک اطمینان۰۰۰۰۰۰سیل فون کی میسج ٹون پہ میں دیوانہ وار اسکی طرف لپکا،،،مجھے لگا کہ اس نے مجھے یاد کیا مگرہمیشہ کی طرح میری اُمیدیں دم توڑگئیں۔ وہ مجھے انتظار کی سولی پہ لٹکا کہ کہیں گم ہو گیا تھا۰۰۰۰ وقت، حالات اور زمانے کے اصولوں نے اس کو اَن دیکھی زنجیروں میں جکژ لیا تھا۔۔وہ چاہتے ہوے بھی آزاد ہونے سے قاصرتھا۔۔شاید تھک گیا تھا ، ہار گیا تھا۔۔۔ محبت کو ہار ہی جانا ہوتا ہے، کبھی وقت سے، کبھی حالات سے اور کھی خود کو مٹا کر کسی کی خوشی کے خاطر ، محبت ہار جاتی ہے۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

محبت بڑی عجیب شے ہے ، ہمیشہ غلط وقت پہ۰۰۰۰کسی ایسے شخص سے ہوتی ہے جس پہ آپکو اختیار ہی نہیں ،،،،،،،جسے اپنا آپ مٹا کر بھی آپ حاصل نہیں کر سکتے، ، مگر محبت سوچ سمجھ کر کب کی جاتی ہے؟ قسمت میں کانٹے ہیں کہ پھول کس نے سوچا،،،،انجام کی کس کو پرواہ۰۰۰۰۰۰محبت میں تو محبوب کا چہرہ اسکا وجود ہی نظر آتا ہے،،، اسکے وجود کے آگے کوئی دیکھنا بھی چاہے تو دیکھ نہیں پاتا۰۰۰۰۰۰۰کچھ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا تھا ، وہ میری زندگی میں آیا تو تھا کہ میں مکمل ہو گیا ۰۰۰۰۰جیسے وہ میرے وجود کا ۰۰۰۰۰میرے دل کا گمشدہ حصہ ہو۰۰۰۰جسکے بغیر میں ادھورا تھا۰۰۰۰۰۰ جیسے میری صدیوں کی بے قراری ،،،، بے کلی صرف اسی کے لئیے تھی۔ میرے ویران دل کو اسی کی تلاش تھی ۔ اس سے مل کر مجھے لگا میرا دل اس پزل کی مانند ہے جسکا ایک حصہ کھو گیا ہو،،، وہ نامکمل ہو،،،،،،،۔اُسے پا کر میرے دل کا پزل مکمل ہو گیاہو۔ اُسے رنگ مل گئے ہوں اور اُسے ایک شکل مل گئی ہو۔وہ ملا تو جیسے زندگی میں ٹھہراؤ آگیا ہو،،،ایک تلاشِ مسلسل تھی جو ختم ہوگئی ۔اس کے ہونے کے بعد اب کوئی آرزو نہ رہی،،،،اک اطمینان،،،اک طمانیت،،،،اک سرور،،،،،،وہ مل گیا تو گویا جہان مل گیا۰۰۰۰۰۰

مجھے اپنا آپ ہمیشہ ادھورا لگا،،،، سب کچھ ہوتے ہوئے بھی میرے اندر ایک کمی ۰۰۰۰میں ہنستا تھا،،،کھلکھلاتا تھا ۰۰۰۰مگر میرے اندرایک گہری خاموشی تھی،،،،ایک کربِ مسلسل تھا۔مجھے نہیں پتا تھا کہ میری زندگی میں کیا کمی ہے۰۰۰۰؟ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی میرے اندر اتنا دکھ۰۰۰۰ ۰۰۰ ۰۰۰۰۰اتنا سناٹا۰۰۰۰۰اتنی اداسی۰۰۰۰۰۰کیوں؟؟؟؟؟ اسے دیکھا تو بس جیسے میری آنکھیں تھم سی گئیں ،،،میرے دل نے پکار پکار کر کہا کہ یہی میرا حاصلِ تلاش ہے،،، مجھے لگا میں تو اُسے صدیوں سے جانتا ہوں ،، جیسے جنم جنم کا ساتھ ہو،،،،،،، ہم تو ہمیشہ سے ایک ساتھ تھے،،، ازل سے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ دیئے۰۰۰۰ساتھ ساتھ،،،، ایک ساتھ۰۰۰۰۰۰ ربِ کائنات نے جب حضرت آدم کی تخلیق کی تھی تو انکی پشت سے دنیا میں آنے والی تمام ارواح کو نکالا گیا۔ تمام روحیں عالمِ ارواح میں ایک ساتھ تھیں تاکہ اپنےاپنے وقتِ مقررہ پہ جسموں میں داخل کر کے اس عالمِ فانی میں بھیجی جا سکیں۔عالم ارواح میں روحیں ایک لشکر کی صورت میں ایک ساتھ ہوتی ہیں ، چنانچہ جسموں میں داخل ہونے سے پہلے جو روحیں ایک دوسرے سے محبت و یگانگت رکھتی ہیں وہ جسموں میں داخل ہونے کے بعد بھی ایک دوسرے سے محبت اور الفت رکھتی ہیں۔اُسے پاکر مجھے لگا کہ میرا اسکا بھی صدیوں کا ساتھ،،،، ہماری روحیں پہلے سے ایک دوسرے سے متعارف،،،، سو ایک دوسرے کی تلاش میں بھٹک رہی تھیں،،،،،ایک دوسرے کی کھوج میں سرگرداں ۰۰۰۰۰۰۰ایک جہدِ مسلسل دوسرے کو پانے کی ،،اس دنیا فانی میں ہمارا قیام مختصر۰۰۰۰۰۰۰۰ پھر جب ہم اس خاک کی قید سے آزاد تو ہمیں ایک ہو جانا ہے،،،،کبھی نہ بچھڑنے کےلئیے،،،،ابدی ملن۰۰۰۰۰۰۰۰

مجھے پتہ چل چکا تھا کہ میری بےچین روح کو دراصل اس ساتھی روح کی تلاش تھی، جسے میرا دل۰۰۰۰ میری کم عقلی سمجھنے سے قاصر تھی۔اُسے پایا تو گویا تلاش ختم،،، کوئی آرزو رہی ،،،، نہ طلب،،،، نہ جستجو ۰۰۰۰۰ اُسے پا کر میرا وجود روشن ہو گیا ،،،، میرے دل کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ، اسکے وجود کے ساحل سے ٹکرا کر تھم گیا۔وہیں رک گیا،،،کہیں نہ جانے کے لیئے،،،کچھ اور نہ پانے کے لیئے۰۰۰۰۰۰

مگر محبت لاحاصلیت سے جڑی ہے ۰۰۰۰۰حاصل ہو جائےتو شاید انسان محبت کی بلندیوں کو نہیں چھو سکتا۔ میں نے زندگی میں بہت سی محبتوں کو حاصل ہونے کے بعد اپنی موت آپ مرتے دیکھا ہے۔ میرے لیئے محبت کو حاصل کرنا محبت کی معراج نہیں ہے۔ محبت تو ایک خوشبو ہے جو دور سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ کسی کا اپنا ہونے کا احساس۰۰۰۰۰کسی کو پہروں سوچنا۰۰۰۰۰اسکے ساتھ گھنٹوں خوابوں اور خیالوں میں باتیں کرنا۰۰۰۰۰ایک سایہ جو دن رات آپکے وجود کے ساتھ رہتا ہو۰۰۰۰۰۰ایک گمان جو حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا۰۰۰۰۰ایک تعلق جو احساسات کی ڈور سے بندھا ہو۰۰۰۰کسی پہ خود سے زیادہ یقیں۰۰۰۰کسے کے ہونے کا بھرم جو آپ ہی آپ مغرور کیئے دے رہا ہو۰۰۰۰۰کسی کی چاہ میں آسمانوں کی بلندیوں پہ پرواز۰۰۰۰۰۰اتنا سرور ہو کہ قدم زمین پہ پڑتے ہی نہ ہوں۰۰۰۰محبت ایک احساس ہی تو ہے۰۰۰۰ایک خیال۰۰۰۰۰کسی کی چاہ میں۰۰۰۰کسی کی راہ میں۰۰۰۰۰آنکھیں بچھائے۰۰۰۰جنم جنم کا انتظار۰۰۰۰۰۰۰

میں نے کروٹ بدل کر سیل فون کی طرف امید بھی نظروں سے دیکھا۔۔۔ مجھے خود سے زیادہ اس پر یقین تھا۔۔ مجھے پتہ تھا کے اک موج بے رحم نے ہمیں جدا کر دیا ہے، مگر دور اس وقت کے سمندر میں، اللہ کی طرف سے اک موج ہماری بھی ہے۔۔۔ دنیا نہ بھی چاہے، وقت ساتھ ہو یا نہ ہو۔۔۔اس موج کے طوفاں نے آنا ہے اور وقت کے منہ زور تھپیڑوں سے ہمیں بچا کر۔۔۔ہمیں اٹھا کر اک بار پھر سے دور بہت دور اک خوشبو سے جزیرے پر لے جانا ہے۔۔۔۔

اور اب میں انتظار کی سولی پہ چڑھا۔۔ دھڑکتے دل اور لرزتے وجود کے ساتھ اس موجِ موافق کے انتظار میں تھا۰۰۰۰۰۰ جسے آنا ہی تھا۰۰۰۰۰ مجھے یقین تھا ہمارا وقت آئےگا۰۰۰۰۰وہ لوٹ کر آئے گا۰۰۰۰۰۰۰اسے آنا ہی ہوگا۰۰۰۰۰

میں نے آہستگی سے آنکھیں  موندھ  لیں۔۔۔۔۔۔۔دو آنسو دھیرے سے پھسل کر میری بےخواب آنکھوں سے گر کر تکیہ میں جذب ہو گئے۔۔۔


(ابنِ آدم)

Posted in حاصلِ زیست | 1 Comment

لفظ تھے کہ نشتر

رات کے اس پچھلے پہر نیند جیسے اسکی آنکھوں سے روٹھ گئی ہو۔کسی پل اُسے چین نہیں آرہا تھا،اک بےکلی،اک بے چینی جس میں اسکا وجود نڈھال ہوا جا رہا تھا۔سر بوجھ سے پھٹا جا رہا تھا۰۰۰۰۰آنکھیں تھیں کہ جیسے آگ کا گولہ،،،، اسکا دل چاہ رہا تھا کہ پھوٹ پھوٹ کر روئے،چلا چلا کر اپنا درد دنیا کو بتائے۰۰۰۰۰زمانے کو دکھائے کہ جب مان ٹوٹتا ہے تو انسان کیسے ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔جب انسان اعتماد کی بلندیوں سے گرتا ہے تو بچ نہیں پاتا۰۰۰جب صدیوں کا بھروسہ ٹوٹتا ہے تو کچھ نہیں باقی بچتا۰۰۰۰۰۰۰

ایساہی کچھ اسکے ساتھ ہوا تھا،،،،ایک اعتماد کا رشتہ،،ایک مان،،،بھروسہ جو خود سے زیادہ کسی پر تھا،،،،وقت کی ایک ٹھوکر نے سب پاش پاش کر دیا تھا۔کیا ہوا تھا ؟؟؟؟صرف الفاظ ہی تو تھے۰۰۰۰۰۰۰۰۰وہ الفاظ کے وار ہی تو تھے جنہیں وہ سہہ نہیں پا رہا تھا۔ٹوٹ گیا تھا،،،،،،ہار گیا تھا۔

اس نےکہیں سنا تھا کہ الفاظ کے دانت ہوتے ہیں ۰۰۰۰وہ کاٹ لیتےہیں مگر آج اُس نے دیکھا ،الفاظ کے ہاتھوں میں من بھر کا ہتھوڑا ہوتا ہے جسکی ایک کاری ضرب برسوں کے رشتے،پیار ،بھرم،اعتماد اور مان کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔انُ الفاظ کے ہاتھ میں تیز دھار خنجر ہوتے ہیں جو آپ کے وجود کو لہولہان کر دیتے ہیں ۔الفاظ کے ہاتھوں میں وہ دودھاری تلوار ہوتی ہے ،جسکی ایک کاٹ آپ کے دل پر اتنا گہرہ گھاؤ ڈالتی ہے کہ ساری زندگی آپکے دل سے خون رِس رِس کر آنکھوں کے راستے ،،،آنسو بن کر بہتا رہتا ہے۔

لہو کا ایک سیلاب تھا جو اسکے وجود کو بہائے لے جارہا تھا۔آنسوؤں کی برسات تھی جو گرج چمک کے ساتھ برسے ہی جارہی تھی۔ایک ایک لفظ کی گونج اسکی سماعت میں ہیجان پیدا کر رہی تھی۔رنج و الم کا ایک طوفان تھا جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔سسکیاں تھیں جو رک کر نہیں دے رہی تھیں۔یا اللہ یہ کیسے کیسے لفظ اس دنیا میں پیدا کئیے،،،نشتر سے زیادہ کاری وارکرتے ہیں،،،،جن کا نشانہ ہمارا دل جو کبھی خطا نہ ہوتا۰۰۰۰۰۰۰جو ہماری سماعتوں کے راستے سیدھے ہمارے دل میں پیوست ہوجاتے،،،،وہ سوچ میں ڈوب گیا۔

لفظ تو بےجان ہوتے،،،،،،انکے تو خالی ہاتھ ہوتے،،،،انکو کیا پتہ کہاں وار کرنا ہے۔مان اور بھروسہ۰۰۰۰۰۰۰دراصل اس انسان سے منسوب ہوتا ہے جو وہ الفاظ ادا کر رہا ہوتا ہے۔لفظوں کو تاثیر تو ادا کرنے والا دیتا ہے۰۰۰۰۰اُن کے ہاتھوں میں پھول تھمانا ہے یا خنجر ،،،،وہ تو ادا کرنے والے کا کام۰۰۰۰۰۰وہ لفظ چاہیں تو خوشی بن کر آپکے وجود کو معطر کردیں یا چاہیں تو دودھاری تلوار کی مانند آپکے جستِ خاکی کو لہولہان کردیں۔

دو آنسو اسکی حسرت زدہ آنکھوں سےنکل کر اسکے ویران گالوں سے ہوتے ہوئے اُسکے دہکتے سینے پہ گر کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے فنا ہوگئے۰۰۰۰۰اُسے لگا یہ آنسو نہیں تھے یہ وہ بھرم تھا ۰۰۰۰مان تھا جو آنسوؤں کی صورت میں نکل رہا ہے۰۰۰۰۰اب چاہے وقت کتنا ہی مرہم لگائے ۰۰۰۰۰پشیمانی کے کتنے ہی الفاظ ادا کئیے جائیں ۰۰۰۰معافیاں مانگی جائیں۰۰۰۰۰معاف کر بھی دیا جائے ۰۰۰۰پر جو مان ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا۰۰۰۰۰۰ہم لاکھ چاہیں بھی تو اُسے جوڑ نہیں سکتے۰۰۰۰جو بھرم اُٹھ گیا سو اُٹھ گیا۰۰۰۰۰شاید یہی لفظوں کی کاٹ ہے۰۰۰۰اُنکی مار ہے۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

ابنِ آدم

Posted in Uncategorized | 1 Comment

ایک دن سب نے داستان ہو جانا ہے

قبر پہ مٹی ڈال کر میں ہاتھ جھاڑتا ہوا ذرا فاصلہ پہ چلا آیا۔جنازے میں کافی لوگ شامل تھے۔کچھ خاموش،افسردہ کھڑے مرحوم کو یاد کر رہے تھے۔کچھ دبی آواز میں فیملی مسائل پہ بات کر رہے تھےاور کچھ آس پاس کے ماحول سے بے بہرہ زور زور سے حکومت کی نااہلی کا رونا رو رہے تھے۔ مرحوم کا جواں سالہ بیٹا آنکھوں میں آنسو بھرے سسکیاں لے رہا تھا۔میں اپنے قریبی رفیق کے جنازے میں شریک تھا اور خاموش کھڑا دکھی دل کے ساتھ اپنی اُن مصروفیات کو یاد کر رہا تھا جن کے سبب میں پچھلے چار دن سے موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا اُن عزیز کی عیادت کو نہ جا سکا تھا۔

جتنا جتنا میں سوچتا جاتا اتنا ہی میرا وجود شرم سے زمین میں دھنستا جا رہا تھا، جسے ایک دن اسی قبرستان کی مٹی تلے دفن ہونا تھا ،،،مٹی میں مل جانا تھا۔بعض اوقات ہم اپنی خود ساختہ مصروفیات میں ، اپنی زندگی میں ، اپنے آپ میں اتنے گم ہوتے ہیں کہ دوسروں کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں ،،،ہمیں انکی محبت ،خلوص اور چاہت کا احساس ہی نہیں ہوتا اور جب وہ ہم میں نہ ہوں ،،،ہم سے دور چلے جائیں تو ہم پہروں اُن کو یاد کر کے آنسو بہاتے ہیں اور پشیمان ہوتے ہیں۔

لوگ آہستہ آہستہ قبرستان کے خارجی دروازے کی طرف بڑھنے لگے ، میں ایک آخری نظر مرحوم کی ابدی آرامگاہ پر ڈالتا ہوا بوجھل قدموں سے واپسی کے راستے پہ چل پڑا،،،میں سوچ رہا تھا کہ ایک دن مجھے یہاں آنا ہے ،،کبھی نہ جانے کے لئیے۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

بیشتر لوگ تدفین سے فارغ ہو کر مرحوم کے گھر میں جمع تھے۔ میں بھی اُن میں شامل تھا ، میں بامشکل جنازے میں شامل ہو پایا تھااور چاہتا تھامرحوم کے لواحقین کے ساتھ کچھ لمحات گذار سکوں۔ کچھ نہ کر سکتا تھا مگردو تسلی کے بول کہہ کر اُنکے دکھ پر کچھ مرہم رکھ سکوں۔ اسی لمحے مرحوم کے عزیزوں نے دسترخوان بچھا دیا۔ لوگوں کی جلدی دیکھ کر مجھے لگا کہ شاید بہت ے لوگ اسی لئیے واپس آئے ہیں۔ آناً فاناً فضا دیگ کی آوازوں سے گونج اُٹھی۔ ہر سو بریانی کی مہک چھا گئی۔ لوگ پلیٹیں بھر بھر بوٹیوں پہ ہاتھ صاف کرنے میں مصروف ہوگئےتھے۔ چند لمحے قبل کی اداسی کی فضا کہیں گُم ہو چلی تھی،زندگی اپنا سب سے ضروری کام۰۰۰۰۰پیٹ بھرنے میں مگن تھی۔ مرحوم کے رفقاء دوڑ دوڑ کے ڈشزز فل کرنے میں مصروف تھے،،، ان میں مرحوم کا جواں سالہ بیٹا بھی شامل تھا جو آنکھوں میں آنسو لئیے لوگوں کی مدارات میں مصروف تھا۰۰۰۰۰۰انکل ٹھیک سے ڈالیں،،،،، بھائی گرم لے لو۔ مجھے دور کھڑا دیکھ کر میرے پاس آیا ،،،، بھائی آئیے نا،، اس نے مجھے دعوت ِ بریانی دی،،میں نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا کہ “ معذرت قبول کریں، میرے حلق سے ایک لقمہ بھی نہیں اُترے گا،انشاء اللہ کسی اچھے وقت میں تمہارے یہاں کھانا کھاؤں گا” ۔ اس نے ایک اُفسردہ نظر مجھ پہ ڈالی اور میرے شانے سے لگ کر سسک پڑا۔ تمہارے ابو ایک عظیم انسان تھے اور مجھے یقین ہے وہ بہت اچھی جگہ ہونگے۔میں نے اسکی کمر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے، رسمِ زمانہ ادا کی اور پلٹ گیا۔

(ابنِ آدم)

Posted in ایک دن سب نے داستاں ہو جانا ہے, ایک دن سب نے داستاں ہوجانا ہے | 2 Comments

کوئی ایک۰۰۰۰۰۰

نومبر کے اوائل کی ٹھنڈی سرد ہوا جیسے میرے تھکے ہوئے وجود کو جِلا بخش رہی تھی۔ہر طرف ایک خاموشی،،،،ایک سکون،،،،، پتوں کی سرسراہٹ بھی صاف سنی جارہی تھی،،،،،صاف نیلا آسمان، جیسے کسی ماں کا آنچل جس کی چھاؤں نے لمحہ بھر کے لئیے تمام مصیبتوں اور پریشانیوں سے آزاد کر دیا ہو،،،،ایک طمانیت کا احساس جو آپ ہی آپ مسرور کئے دے رہا ہو۔

میری نظریں قریبی درخت پہ بیٹھے پرندوں کے جوڑے پر مرکوز تھیں۔میں کافی دیر سے اُنہیں دیکھے جا رہا تھا،جو اپنے اطراف سے بیگانہ آپس میں چونچیں لڑانے میں مصروف تھے۔اُنکی خوشی کی چہچہاہٹ فضا کی نغمگی میں اضافہ کر رہی تھی۔

میں شہر کی گردآلود فضا سے گھبرا کر شام کے اس پچھلے پہر ایک دور اور نسبتاً سنسان باغ میں چلا آیا تھا ۔،جہاں شہر کی ہنگامہ خیزی کا دور دور شائبہ تک نہ تھا۔شہر سے دور ہونے کی وجہ سے لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔ اور اب میں بہت دیر سے گھاس پہ لیٹا قدرت کی صناعی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ،پرندوں کے اُس جوڑے پہ نظریں جمائے مسرور ہو رہا تھا

واہ ری قدرت اور اللٌہ کی صناعی،،،کوئی بھی کام مصلحت سے خالی نہیں،،،،جاندار کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا اور انکے دل میں ایک دوسرے کی محبت ڈالی۔ایک دوسرے کے بغیر ادھورے،داستانِ حیات نامکمل۰۰۰۰۰۰۰۰

تنہائی سے بڑا کوئی عذاب نہیں،،،اسکے کرب اور دکھ کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو کبھی تنہا رہے ہوں یا تنہا ہوں۰۰۰۰۰۰۰تنہائی انسان کو نگل جاتی ہے،،کھا جاتی ہے،،،،اسکے اندر جینے کی آخری رمق تک جلا ڈالتی ہے،،،،اسکے وجود کو بھسم کردیتی ہے،،،،انسان جیتے جی زندہ درگور،،،،نہ جیتوں میں ہوتا ہے نہ ہی مردوں میں۰۰۰۰۰۰۰۰۰

میں سوچتا چلا گیا،،،،، ہمارے لئیے کسی ایک کا ہونا کتنا ضروری،،،،کوئی ایک جو ہمارا اپنا ہو،،،ہمارا ہمدرد،،،ہمارا ساتھی،،،،،ہمارا رازداں۰۰۰۰۰

ہمارے دکھ درد میں شریک،،جو ہمکو، ہم سے زیادہ جانتا ہو،،،جو ہمکو، ہم سے زیادہ چاہتا ہو،،،،جو ہمارے دکھوں میں، ہم سے زیادہ دکھی ،،،جو ہمارے سکھوں میں ، ہم سے زیادہ خوش،،،،کوئی ایسا ایک جو ہماری بات بغیر کہے سمجھ سکے۔

کوئی ایک جو ہمارے مصائب کے آگے ڈھال ہو،،،،ہمارا حوصلہ ہو،،جس پہ ہم فخر کر سکیں۔جو ہمارے تمام دکھوں کا مداوا ہو۔

کوئی ایک جس کے ساتھ ہم گھنٹوں خاموش بیٹھ کر بھی خوش رہیں،،،کوئی ایک جس کے ساتھ ہم گھنٹوں بلا تکان بول سکیں،،،،اسکی سُن سکیں اور اپنی سُنا سکیں،،،،بغیر کسی جھجھک کے اپنی بات کہہ سکیں،،،بغیر کسی خوف کے اپنی ہر چیز شیئر کر سکیں۰۰۰۰۰۰

کوئی ایک جو ہمارا اپنا ہو۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

کوئی ایک جو ہمارا مان ہو۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in Uncategorized | Leave a comment

الفاظ زباں نہیں مگر بے زباں نہیں

کسی نےپوچھامجھ سےکہ”اےابنِ آدم،تم اتنی گہرائی میں کیسےلکھ لیتےہو؟؟؟”                                                                                                                               میں سوچ میں پڑگیا،کیاواقعی میراکچھ لکھاکسی پراثرکرتاہو 

گا؟؟

اگریہ صحیح ہےتو مقصد پورا۰۰۰۰۰۰۰۰

اگرہماری ذراسی کوشش سےکوئی اچھا کرےیاکرنےکی کوشش کرےتوسمجھو مقصدِحیات پورا۰۰۰۰۰۰۰۰۰

‎کبھی کوئی اچھاشعرہمارےرگ وپےمیں اک طوفان  برپا  کردیتاہےاورہم پہروں اسکےسحرسےنہیں نکل پاتے،،،،کبھی کوئی اچھی تحریر،کوئی اچھاپیرا،ہمیں سوچ کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیتاہے،ہمیں لگتاہےکہ یہ ہمارےاندرکی آوازہے، یہی تووہ بات ہےجوہم کہناچاہ رہےتھے۰۰۰جوہمارےوجودمیں ناجانےکبسےفشاربرپاکیےتھی اورہم اُسے کہنےاورسوچنےسےقاصرتھے۔

‎اصل بات محسوسات کی ہوتی ہے،،،لکھاری بھی ایک عام انسان اوروہی کچھ محسوس جو دوسرےکرتےہیں،،،فرق صرف اتناکہ شاعراورلکھاری اپنےمحسوسات کوکاغذپر منتقل کرسکتےہیں اوراپنےجذبات،،،احساسات کوالفاظ کاجامہ پہناکرکاغذپربکھیردیتےہیں،،ایکاچھامصنف دراصل کاغذپربکھرےلفظوں کوایک درست ترتیب دینےکےحسن سےواقف ہوتاہے۔ایسی ترتیب کہ جس سےوجودمیں آنےوالےجملےانسان کےدل پراثرکرنےکی صلاحیت سےمالامال ہوں۔

‎میرایقین کامل ہےکہ اللہ نےاپنےہربندےکوکسی نہ کسی کام کےلیےچن رکھا ہے،جوبھی ذی روح اس دنیامیں ہے،،کسی نہ کسی مقصد

سےہے۰۰۰۰۰۰

‎بس اسکومحسوس صرف وہی شخص کرسکتاہےجسکےاندرکاانسان زندہ ہو،،،جودوسروں کادرد محسوس کرے،،،جسکےآنسودوسرےکی تکلیف میں

نکل سکیں،،،، ورنہ توبہت سےلوگوں کےلئیےیہ صرف کہانی یاکاغذکاٹکڑا ہے۔

‎مگرکچھ ایسےبھی ہوتےہیں جوکاغذپہ بکھرےلفظوں کادکھ دیکھ سکتےہیں،،،محسوس کرسکتے ہیں،،،یہاں تک کہ روبھی سکتےہیں۔

ابنِ آدم

Posted in ‎الفاظ زباں نہیں، پر بے زباں نہیں | Leave a comment

سرد کافی

543F6F73-1975-447F-BEA2-42CE35DD986A

 

آج موسم کے تیور صبح ہی سے بہت برہم تھے،،،،،تیز موسلہ دھار بارش کے بعد ہر طرف جل تھل ہو رہا تھا۔مسلسل وقفے وقفے سے بجلی کی کڑک کہ گویا آسمان سر پر آن گرا ہو!!!

میں شہر کے اس نسبتاً سنسان کافی شاپ میں ،اُسکے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔میز پر پڑی کافی اپنی بھینی بھینی مہک فضاؤں میں بکھیرنے کے بعد ہمارے روًیوں سے مایوس ہو کر سرد ہو چلی تھی۔

صرف خاموش بیٹھے رہو گے یا کچھ بولو گے بھی؟؟؟؟؟؟؟؟؟آخر تمُ میری بات کیوں نہیں سمجھتے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟کیوں اپنی زندگی خراب کر رہے ہو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟   تم جانتے ہو کہ میں اب کسی اور کی ہونے  والی  ہوں۰۰۰۰۰۰۰۰بھول کیوں نہیں جاتے مجھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اُس نے خاموشی کی دبیز چادر کو چاک کرتے ہوئے ایک سانس میں سارے الفاظ ادا کر دئیے۔ میں اک مُسکراہٹ کے ساتھ اسُکی حسین آنکھوں میں چھائی نمی کو دیکھتے ہوئے بولا۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

تم کیا سمجھتی ہو کہ کیا محبت کا مقصدصرف پا لینا ہے؟؟؟؟ کسی کو حاصل کر لینا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

نہیں  ہرگز نہیں۰۰۰۰۰بلکہ جو چیز حاصل ہو جائے وہ اپنی قدر و قیمت کھو دیتی ہے۔

محبت انجام کب سوچتی ہے؟؟؟؟؟

قسمت میں پھول ہیں کہ کانٹے،،،،کس کو پرواہ ۰۰۰

محبت تو بس ہوجاتی ہے، کسی بھی انجام سے لاپرواہ

میں نے ایک گہری نظر اسُکےحسین سراپے پر ڈالی،،تم مجھے کوئی ایک جگہ اس دنیا میں بتا دو جہاں مجھے تمہاری یاد نہ آئے

جہاں کی ہوا میں تمہارے وجود کی خوشبو بسی نہ ہو۰۰۰۰۰۰۰کوئی ایسی جگہ جہاں کا ذرہ ذرہ تمہیں پُکار نہ رہا ہو۰۰۰۰۰۰کوئی ایک ایسا ٹکڑا ء خاک جہاں میں سو سکوں ،،،،اور تمہاری یاد نہ آسکے۰۰۰۰۰سورج کی پہلی کرن میں تم جھلکتی ہو۰۰۰۰چاند کو دیکھوں تو تمہارا چہرہ۰۰۰۰۰ستارے ہیں  کہ تمہاری آنکھیں ۰۰۰۰۰۰۰میری ایک ایک سانس۰۰۰۰۰لہو کی اک اک بوند ۰۰۰۰۰تمہارے نام سے رواں دواں۰۰۰۰۰۰آنکھ کھولتا ہوں تو تمُ نظر آتی ہو۰۰۰۰۰آنکھ موندتا ہوں تو تمہارا چہرہ سامنے۰۰۰۰۰تمُ بتاؤ کہ میں کس چیز کو نہ دیکھوں؟؟

یہ آسمان،،،،، یہ بادل،،،،،،یہ بارش،،،،،،  یہ ہوا،،،،،،  یہ سمندر،،،،،،، یہ پانی ،،،،،،، یہ جگنو،،،،،، یہ تارے،،،،،، سب کے سب تمہارے

یہ پھول،،،،، یہ شبنم ،،،،،، یہ ہوا کی سرسراہٹ،،،،،، یہ پرنوں کی چہچہاہٹ ،،،،،،، ہر اک شے میں تم دکھتی ہو۰۰۰۰ہر اکِ چیز میں تم جھلکتی ہو۰۰۰۰۰ میں چاہوں بھی تو تمکو ایک پل کے لئیے اپنی زندگی سے نہیں نکال سکتا۔

تم میری ایک ایک سانس میں شامل ہو،،،،اصل میں تم میری زندگی ہو۔ وہ مبہوت سی میرے وحشت بھرے چہرے کو تکے جا رہی تھی۰۰۰۰۰۰اُسے میری آنکھوں میں چاہت کے سچے دیپ نظر آرہے تھے۔ وہ چاہتے ہوئے بھی مزید کچھ نہ بول سکی،،،نم آنکھوں کے ساتھ میز پہ رکھی سرد کافی کی پیالی اُٹھائی اور اہنے یاقوتی لبوں سے لگا لی۔ میں چپ چاہ سر جھکائے اپنے خالی ہاتھوں کو تک رہا تھا۔ بادل ایک بار پھر زور سے کڑکے مگر میرے اندر کی خاموشی کو توڑنے سے قاصر تھے۔

(ابنِ آدم)

Posted in سرد کافی | 1 Comment

اِک انتظارِ مسلسل

      

ٹرن۰۰۰ٹرن۰۰۰ٹرن،،،،،

موبائل فون کی گھنٹی سُنتے ہی وہدیوانوں کی طرح فون کی جانب لپکی!

جلدیمیںاسُکا گھٹنا بیڈ کےکونےسےٹکرایااوراسکےناتواںبوڑھےجسم میں

 جیسے اک آگ سی بھرگئی

اُسنےبامشکل تمام اپنی چیخ دبائیاورسسکی لیتےہوئے

ہونٹ سختی سےبھینچ لئیے،،،،

درد پرقابو پانےکی کوشش کرتے ہوئے موبائل فون

 اُٹھایا مگرلائنکٹ چکی تھیاُسنے بےچینی سےکاللاگ

 چیک کیاورایک ٹھنڈا سانس لیتےہوئےموبائلاک طرف رکھ دیا،،،

فونکمپنیکیجانبسےشایدکوئیپروموشنکالتھی

                پچھلےکئی دنوں سے اُسےاپنی بیٹی کےفون کا شدت سےانتظار تھا

ویسےہی عید میں چند دن باقی تھےاورآخری عشرےکی

 عبادات میں وہ اُسےبہت یاد کررہی تھی

نہجانےوہاگلا رمضان دیکھ پائےیا نہیں؟

بہت روئی تھی وہ اس بار۰۰۰۰۰

   آج وہ سحری کے بعد سےلال آنکھیں لئیےجاگ رہی تھی

تین گھنٹے پہلے،ٹائم کاحساب کرتےہوئےاُسنےاپنی

 بیٹی کو فون کیا تو وہبہت مصروفتھی،،،،

ویسےبھی دوسرے ممالک میں رمضان کا کوئیخاصاہتمام نہیںہوتا،

اُسکاخاوندآفس جارہاتھااوربچےاسکول کی تیاری میں مصروف،،،،

امی میںآپکوکچھدیرمیں فونکرتیہوں،،،،،”

بس جب سےہی وہانتظارمیں ٹہل ٹہل کرہلکان ہو رہی تھی

بےچاری میری بچی،،،کتناکام کا لوڈاسپر،،،

میاں،،،،بچے،،،ساس،،،سسر،،،،

یقیناً تھک کراسکیآنکھلگ گئیہوگی،اُسنے

اپنےآپ کوتسلیدینےکیکوششکی،،،،

بہت صبح جواُٹھنا پڑتا ہےاسے،،،کتنی چورتھی وہاُٹھنےکی،،،،

میںاُٹھااُٹھاکرتھک جاتی مگرمجال ہےجو بیڈ چھوڑ دے،،،،

یادوںکےدریچےکھلتےچلےگئے،،،،

اُسکےجھریوںبھرےچہرےپرمُسکراہٹ بکھرگئی،،،،

کتناشورتھااُسکےگھرمیں،،،صبح توجیسےایک جنگ 

چل رہی ہو،اسکامرحوم شوہر۰۰۰۰

وہ توجیسےساراگھرسرپہاُٹھالیتے،ڈیوٹی نہ ہوئی 

شیطان کیآنت،،،جو کبھی ختم ہی نہ ہو کےدی،،،

کسی کی پرواہ نہ تھیانہیں،بس ڈیوٹی

عزیزتھی،،اسنےخفگیسےسوچا،،،،،،

مرحوم شوہرکاچہرہآنکھوں کےسامنےگھوم گیا،،،،

ایک آنسواُسکیآنکھسےٹپکااورچہرےکیجھریوں

سےہوتاہوادوپٹےمیںگم ہوگیا،،،،،

وہسوچتیچلیگئی۰۰۰۰۰۰۰

اُسکےدونوںشریربچے،،،،،دونوںبہنبھائیکتنالڑتےتھے،،،،

مجال ہےجو اک پل سکونسےبیٹھجائیں،،،،

پوراگھراُلٹ پلٹ کردیتےاورانکیفرمائشیں،،،،

جوکبھیختم نہہونےکاناملیتیں،،،آج یہ کھاناہے،،،،،،

آج وہبنادیں،،،،توبہ تھیاُن سے،،،اُسکادل محبت سےبھرگیا

ماشاءالّلہ دونوںبچےملک سےباہراپنےگھروںمیں خوشتھے-

بیٹاباہرپڑھنےگیاتھااوروہیںسیٹ ہوگیاتھا،،،،

اورکیاکرتابیچارہ،یہاںرکھاہیکیاہے؟

صحیح کہتا ہےوہبھی یہاں کا سسٹم ہی خراب ہے،،اب وہ وہاں کتناخوش ہے،

اکثرتصویریںبھیجتا ہے،اسکابیٹابھی بہت پیاراہے،

بالکل باپ پہگیا ہے،،،اسکیآنکھوںمیںمحبت کے

دیئےروشنتھےکتنادلچاہتااپنےپوتےکوپیارکرنےکو،،،،

کب سےکہہ رہا ہےکہامی آؤنگااُسکا

پوتا پورے پانچ سال کاہوگیاایک تو وہ 

بھی ڈیوٹی کےمعاملےاپنےباپ پرگیا ہے،،

مجال ہے کہ کوئی کام چھوڑ کر ماں کے پاس چلا آئے

اُسےغصہآنےلگا،،،پرپھریہاںآنےکاخرچہ بھی تو بہت ہے

آخری بار

جب وہآیا تھاتو کتناخرچہہوگیاتھااُسکا،،،،

اُسنےاثبات میں سر ہلایا ،،،، ٹھیک کرتا ہے جو 

نہیںآتا،،،کچھ پیسےبچائےگاجو 

آگےاولادکےکامآئیںگےنہ۰۰۰۰۰۰۰۰۰

ہےتومیراہیبیٹا،،،،،اُسنےفخرسےسوچا۰۰۰۰۰۰۰

کیسےکیسےپیٹ کاٹ کراُس نےاوراُس کےشوہر

نےکچھپراپرٹی بنائیتھی،

جوآخرکاربیٹےکیتعلیماوربیٹیکیشادیپرکامآئی،،،،

اگرنہہوتیتوکیاآجدونوںباہرہوتے؟؟؟؟

کتناخیال رکھتا

 ہےمیرابیٹا،،،،یہاتنااچھافلیٹ،،،کام کرنے

والینوکرانی،،،سب کچھ تو ہےمیرےپاس،،،،،،

پتہ نہیں یہ کام والیکہاں رہگئی؟؟؟

اسنےچاروںطرف نظردوڑائی،،،اِک سناٹا،،،،،اِک ُ

ہوکاعالم۰۰۰۰۰۰۰۰

اُسنےآہستگی سےاپنےدکھتےگھٹنےکوسہلایا,,

اک سسکی نکل گئی،،،

نیل پڑگیاتھا،،،تکلیف بڑھتی جارہیتھی،،،

اب کام والیآئےتوسب سےپہلےگھٹنے

کامساج کرواؤنگی،،،اسنےسوچا۰۰۰۰۰۰۰۰

اُسکی نظر کھڑکی کےباہرچڑھتےسورج پرپڑی،

فون نہیں آیاابھی تک۰۰۰۰۰۰

اُسےفکر ہونےلگی،،،،اُس نےفون کرنے کےارادے

 سے فون اُٹھایا،،،،،

اسُکی نظرسامنےلگے وال کلاک پرپڑی،،،،اوہ۰۰۰۰

اب توبچوں کےاسکول سےآنےکا ٹائم ہوگیا تھا،،،

وہ یقیناًکچنمیںمصروفہوگی،،،،،،،،،

ویسے بھی اسکےساس سسر  دوپہر میں جلدی 

کھانا کھا کر قیلولہکےعادیہیں۔

اُسےیادآیاایک باراسکی بیٹی نےبتایاتھاکہ

امیاسٹائم سب سو رہےہوتےہیں،،،فون نہ کیاکریں۔

اُسنےفونایک سائیڈ پہ رکھ دیا اور بیڈ

 کےسرہانے سےسر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۰۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِآدم)

1D1FE5CE-E1AC-445D-BD68-6B5C7911C802.jpeg

Posted in اِک انتظارِ مسلسل | Leave a comment

پھول،بارش اور سمندر

     ڈھلتے سورج کی کرنیں مانند سی پڑ گئی تھیں،ہر طرف نارنجی روشنی کا ڈیرہ تھا۰ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا،جیسے وجود کو ایک توانائی بخش رہی تھی۰میں چُپ چاپ بیٹھا کافی دیر سے اُسے سمندر کی نرم ریت پر خوشی سےنہال،اُچھلتے ،کودتے،دوڑتے، بھاگتے،لہروں سےاٹھکھیلیاں کرتے دیکھ دیکھ کر مسرور ہو رہا تھا-

وہ تھی ہی ایسی۰۰۰۰۰فرشتوں کی سی معصومیت،،،،،،

سمندر۰۰۰بارش اور پھول،،،سب اسکی کمزوری،،،،

بارش ہوتی تو لگتا جیسے صدیوں کی پیاس ہو،،،سارا سارا دن پانی میں شرابور۰۰۰۰بھیگ بھیگ کر سرشار۰۰۰۰مجال ہے جو تھک جائے،،،،ذرا بیٹھ جائے۰۰۰۰۰

پھولوں سے جیسے اُسے عشق،،،کوئی بھی پھول ہو،،کسی بھی رنگ ونسل کا،،،دیکھتی تو خود بھی پھولوں کی طرح کھلِ اُٹھتی،،،،دیر تک تکتی رہتی،،،سونگھتی رہتی اور سنبھال سنبھال کر رکھتی۰۰۰۰جب کبھی کسی پھول کو پڑا دیکھتی تو ایسے اداس ہوجاتی ، جیسے پھول میں اُسکی جان ہو،،جیسے وہ پھولوں کا درد محسوس کر سکتی ہو۰۰۰۰پھولوں کے قدموں تلے روندے جانے کا غم اُسے پہروں اداس رکھتا،،اور کچھ ایسا ہی ربط اُسے سمندر اور ساحل سے بھی تھا-جب سمندر پر آتی تو خوشی جیسے اسکے انگ انگ سے پھوٹی پڑتی،،،،آتی جاتی لہروں سے اٹھکھیلیاں کرتی،،،کبھی دور تک پانی کے ساتھ دوڑتی چلی جاتی اور کبھی چپ چاپ دیر تک سمندر کو دیکھتی رہتی،،،جیسے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں کو اپنی نظروں سے ناپ رہی ہو۔جیسے اسکی وسعتوں کا اندازہ کر رہی ہو،،،،جیسے سمندر سے اسکا کوئی بندھن،،،کوئی ناتا ہو۰۰۰۰۰۰۰۰

      میں ڈوبتے سورج کی کرنوں میں سنہری ہوتے اسکے دلکش وجود کو دیکھ دیکھ کر اپنی قسمت پر نازاں تھا۔وہ ساحل کی گیلی ریت پر خراماں خراماں آگے بڑھ رہی تھی، اور میں اُسکے نقشِ پا پہ اپنے قدم رکھے،جیسے سمندر کی ٹھنڈک کے ساتھ ساتھ اسکے وجود کے لمس کو اپنی روح کی گہرائیوں میں منتقل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔میں اس احساسِ وابستگی کو اپنے وجود میں مقید کرنا چاہتا تھا۔

اُسے میرے پیچھے ہونے کا احساس ہوا،،،اُس نے رک کر ہمیشہ کی طرح مجھے مُسکرا کر دیکھا،،،وہ رک کر میرا انتظار کر رہی تھی۔اسکی آنکھوں میں بسا پیار مجھے مبہوت کر رہا تھا،،،میں اسکے قدموں کے نشان پر چلتا،اسکے پاس پہنچ گیا۔ہم دونوں ایک ساتھ خاموش کھڑے ،ایک دوسرے کے وجود کو محسوس کر رہے تھے۔ڈوبتے سورج کا نظارا ماحول میں ایک رومانیت گھول رہا تھا،،کائنات کے کتنے ہی سربستہ راز،ہماری سوچ کی پروازوں سےکہیں آگے۰۰۰۰۰۰

   اُس نے آہستگی سے میرا ہاتھ تھام لیا،،،،میرے وجود میں ایک طمانیت سی چھا گئی۔وہ بہت خوش تھی اور میں اسے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا۔

محبت کا ایک روپ اپنے پیاروں کی خوشی میں پنہاں ہے،،ہم انکو خوشی دینے کی خاطر دن و رات تگ و دو میں لگے رہتے ہیں ،ہماری ساری کوششوں اور جدوجہد کا محور دراصل ہمارے اپنوں کی راحت اور خوشی میں پوشیدہ ہے۔

اپنے منہ کا نوالہ،،کسی اپنے کو کھلانے میں جو سواد ہے،،وہ خود کھانے میں کہاں۰۰۰۰۰۰

محبت دراصل قربانی ہی ہے،،،خود کو فنا کرنے کا نام،،،مصیبتوں اور پریشانیوں کو اپنی ذات پر جھیل کر ،،،اپنے پیاروں کو خوشیاں دینے کا نام۰۰۰۰۰۰۰

سورج کائنات کی وسعتوں میں گم ہو چکا تھا،،،سنہری روشنی تاریکی میں تبدیل ہو چکی تھی۔ہر سورج کے مقدر میں غروب ہونا  اور ہر روشنی کو بالآخر تاریکی میں ڈھل جانا ہے،،،ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے سمندر کی گیلی ریت کے گداز کو محسوس کرتے ہوئے آہستگی سے گھر کی جانب چل پڑے۔

(ابنِ آدم)

   

Posted in پھول،بارش اور سمندر | 2 Comments

جدائی

        خاموشی اکثر کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے۔ ہم دونوں بڑی دیر سےخاموش پارک کی اس بنچ پر بیٹھے ایک دوسرےسے نظریں چُرائے اپنے اپنے خیالوں میں گُم تھے۔میں اُس کے اس طرح بلانے پر ایک عجب خوف اور وسوسے کا شکار تھا۔

وہ بہت دیر سے خاموش تھی،،جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہو،،بہت بڑی بات!میں بھی اندر سےڈرا ہوا تھا،،،پوچھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا،،

“اب ہم کبھی نہیں ملیں گے”اس نے خاموشی توڑی،،،گویا ہزاروں من کا پہاڑ مجھ پر آ گرا،،میرا ڈر سچ ثابت ہوا،،میرا وجود مجھے گہرائیوں میں گرتا محسوس ہوا،،ریزہ ریزہ،،،،

اُس نے نم آنکھوں سے میرے دھواں دھواں چہرے پہ ایک آخری نظر ڈالی،میرے لاتعداد ان کہے سوالوں کے جواب اُسکے چہرے اور آنکھوں میں چھپی بےبسی اور کرب میں پنہا تھے۔

            وہ آہستگی سے مڑی اور پارک کے دروازے کی طرف دھیرے دھیرےچل پڑی،،بنا مجھ سے نظر ملائے،،میں اسکو دیکھتا رہ گیا،،اک ٹک،،،

یہ جداہونے کے لمحات بڑے ظالم ہوتے ہیں شاید جدائی سے بھی زیادہ،،اسکا سارا وجود اسکو روکنے پر مضر،مگر قدم آگے بڑھنے پر مجبور،،،اُسےمحسوس ہو رہا تھا کہ اسکے قدموں کے نیچے نرم گھاس نہیں انگارے ہوں،،،جیسے سارا راستہ کانٹے بچھے ہوں،،چھوٹا سا راستہ،،،میلوں کا سفر لگ رہا تھا،،وہ چاہنے کے باوجود،،پیچھے مڑ کےنہیں دیکھنا چاہتی تھی،،اُسے معلوم تھا اگر اُس نے مُڑ کر دیکھا تو”پتھر”ہو جائے گی،کبھی نہ جا پائے گی۰۰۰۰۰۰۰

               “محبت” بڑی عجیب شےہے،اس کو دیکھنے کے لئےآنکھیں لازمی نہیں ،،دل کی آنکھوں کا ہونا ضروری ہے،،،”بصارت” نہیں “بصیرت” چاہئیے،،،بعض اوقات ہم محبت کو دیکھ نہیں پاتے،،سمجھ نہیں پاتے،،،جب میّسر ہو تو اہمیت کا احساس تک نہیں ہوتا،،،مگر جب ہم سے دور ہو جائے،،روٹھ جائے ،چھن جائے اور چھین لی جائے تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نےکیا کچھ کھو دیا۔

آنے والا ایک ایک لمحہ ایک ایک پل ہمیں یادوں کے اتھاہ سمندر کی تہہ میں اُ تارتا چلاجاتا ہے،،،،

محبت اپنے ساتھ ہمارا سب کچھ لے جاتی ہے۰۰۰

نہ دل میں اُمنگ،نہ چہرے پہ خوشی،نہ جذبے اور نہ ہی کوئی لگن،،،،نہ کچھ کھونے کا دکھ،نہ پانے کی مسرت۰۰۰۰

ہمارے اندر کا موسمِ بہار سب لے جاتی ہے!

اور ہم خالی ہاتھ!

جیسے جسم سے روح پرواز کر جائے،،موت سے پہلے موت،،،

ہم اپنا سب کچھ لٹا کر محبت کو پھر سے حاصل کرنا چاہتے ہیں ،،،،ہم چاہتے ہیں کہ وہ حسیں لمحات پھر سے لوٹ آئیں ،،،وقت پلٹ جائے،،،ہم پھر سے اُن لمحات میں جی سکیں مگر اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے،،،،وقت کسی کےلئیے پلٹا ہے نہ پلٹے گا!!!

(ابنِ آدم)

Posted in جدائی | 2 Comments

اُداسیوں کے رنگ

       ڈھلتی جنوری کی اس سرد صبح میں بارش کے بعد جیسے موسم میں اک سحر سا پھونک دیا گیا تھا،ہر طرف اک لطیف سی خنکی جیسے کسی نے کاندھوں پر برف کے گالے رکھ دئیے ہوں۔ہر سو اک دلفریب سی مہک،جو لوگوں کے موڈ کو خوشگوار کئیے جا رہی تھی-

جیسا موڈ ہو ایسا ہی منظر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

       میں قدرت کے ان تمام حسین نظاروں ،دلفریب موسم اور خوشگوار مہک سے بے نیاز پچھلے پندرہ بیس منٹ سے شہر کے اس مصروف ہسپتال کی پارکنگ میں گاڑی پارک کرنے کی ناکام جد و جہد میں مصروف تھا-بڑھتی ہوئی آبادی اور ناقص منصوبہ بندی ،،،،،شہر میں ہر طرف مسائل کے انبار تھے-

بالآخر کافی کوششوں کے بعد پارکنگ مل گئی اور میں لمبے لمبے ڈگ پھرتا اُس وارڈ کی جانب گامزن تھا جہاں میں کسی عزیز کی عیادت کو آیا تھا۔

وارڈ میں ہر طرف میڈیسن کی مہک،متفکر چہرے،اداس آنکھیں اور بوجھل فضا  نے یہاں کا ماحول یکسر مختلف بنا دیا تھا۔میں سر جھکائے اپنے عزیز کی والدہ کے تاثرات سن رہا تھا اور اپنی کھوکھلی آواز میں ساتھ ساتھ تسلیاں دینے کی اپنی سی تگ و دو میں مصروف تھا۔میں اُن سے نظر چُرا رہا تھا،میں اُن آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا،جہاں دنیا جہان کا دکھ جیسے سمٹ آیا ہو،،،اتنا غم،،،،اتنی بے بسی۰۰۰۰۰۰

       بعض اوقات انسان کتنا بےبس،کتنا لاچار،،،،کہ نا چاہتے ہوئے بھی کسی کے لئے کچھ نہ کر پائے،،،،ہمارا دل چاہتا ہے کہ کاش ہمارے پاس کوئی ایسی طاقت،کوئی ایسا جادو ہوتا،ہم کچھ کرشمہ ساز ہوتے کہ پل بھر میں جہاں بھر کو رنج و الم،دکھوں سے نجات دلا سکتے-ہم چاہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ان غموں کے سمندر سے نکال سکیں،اُداسی کو خوشی میں بدلنے کا ہنر جان سکیں،،،،ہم انکی آنکھوں میں چھپے ان گنت سوالوں کا جواب دے سکیں،،،،اُن کے غموں کا مداوا کرسکیں،،،اے کاش کچھ کر سکیں۰۰۰۰۰۰کچھ تو۰۰۰۰۰۰!

           کم از کم ہم انہیں بتا سکیں کہ ہم انُکے دکھ دردمیں شریک ہیں،،ہم وہ الفاظ ادا کر سکیں جوکسی کے غم کا مرہم ہوں۔ کسی کے چہرے پہ مُسکراہٹ کا سبب۰۰۰۰

مگر شاید دکھ نہ ہوتے تو خوشی کا وجود بھی نہ ہوتا،،،،اللّہ کا کوئی بھی کام مصلحت سے خالی نہیں،،،،کبھی تو دکھ دے کر امتحان،،،تو کبھی خوشی دے کر آزماتا ہے،،،فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری ناقص عقل اسکی مصلحت کو سمجھنے سے قاصر۰۰۰۰۰۰

      بس یہاں آکر انسان کو اپنی اوقات کا پتہ،،،،وہ کتنا حقیر،،،،کتنا مجبور،،،،

تب وہ وقت اُسے اپنے خالق حقیقی سے اور قریب کر دیتا ہے،،،وہ جان جاتا ہے کہ زندگی کتنی حقیر اور وہ کتنا بے اختیار۰۰۰۰اُسکو بس ایک ہی آسرا،،،دعا۰۰۰دعا اور دعا۰۰۰۰۰۰۰

دل سے پُکارو 

اور گڑگڑاؤ تو۰۰۰۰۰

یقینِ کامل۰۰۰۰۰۰

ایک بس پُکار۰۰۰۰۰

ایک آنسو و ندامت۰۰۰۰۰

بس بیڑا پار۰۰۰۰۰۰۰۰

ایک لمحے میں کایا پلٹ جاتی ہے۰۰۰۰

منٹوں میں منظر بدل جاتا ہے۰۰۰۰۰

بےشک وہ ہر اک شے پہ قادر ہے۰۰۰۰۰۰

قریب سے آتی سسکیوں کی آواز ،،،مجھے خیالات کی دنیا سے باہر لے آئی،،،نزدیکی بیڈ کے کنارے کو پکڑے اک خاتون زار و قطار سسک رہی تھی،،،بلک رہی تھی،،،آس پاس کا اسٹاف انہیں سنبھالنے کی کوششوں میں مصروف۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

ماحول پر اک سوگوار سی چادر آن گری تھی۔ہر آنکھ پُرنم اور ہر دل بوجھل۰۰۰۰۰۰

میں خالی ذہن کے ساتھ بیٹھا اُن کے دکھ کو محسوس کر رہا تھا۔کچھ دیر بعد وہ پلٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے باہر نکل گئیں-وارڈ کا ماحول انتہائی دل سوز ہو چکا تھا۔ان خاتون کا جواں سالہ بیٹا پچھلے ہفتے اس بیڈ پہ زندگی کی جنگ ہار چکا تھا،،،آج جب وہ معاملات مکمل کرنے آئیں تو بے اختیار اس طرف کھنچی چلی آئیں اور اپنے لختِ جگرکے آخری لمحات کا کرب یاد کر کے آبدیدہ ہوگئیں،،،،،،وہ بیڈ کے کناروں پہ ہاتھ پھیر پھیر کر اُس کے لمس کو محسوس کر رہی تھیں،،،،اک اک چیز سے اسکی یاد کو تازہ کر رہی تھیں۰۰۰۰۰۰۰

اُس ماں کے کرب کو محسوس کرنا میرے بس کی بات نہ تھی،،،مگر پھر بھی میرا وجود پارہ پارہ ہوئے جا رہا تھا،،،،دل تھا کہ ڈوب ساگیا تھا۔ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہو،،،،،کچھ بھی نہ بچا ہو۰۰۰۰۰۰وارڈ کی فضا اچانک ایک ہلکے سے قہقہے سے معطر ہوگئی،میڈیکل کے اسٹوڈنٹ کا گروپ تمام اداسی اور سوگوارفضا سے بے نیاز ،پیشہ ورانہ مسکراہٹ لئیے اندر داخل ہورہا تھا۔

میں اُنکی آنکھوں میں سجے امید کے روشن دئیے اور مستقبل کے خواب دیکھ سکتا تھا۔

بےشک الّلہ پہ بھروسہ اور اُمید،،،یہی وہ عمل ہیں جن پہ دنیا قائم ہے ورنہ یہاں اتنے غم کہ کوئی مُسکرا ہی نہ سکے۔

میرے دل میں یقینِ کامل اُتر آیا،،،اسکی قدرت سے اچھے کی اُمیداور میں اپنے غموں کو بھول کر مُسکرا دیا۰۰۰

آج موسم بہت اچھا ہے،ایک چائے نہ ہو جائے،،،میں نے اپنے عزیز سے مُسکرا کر کہا،،،،اُسے معلوم تھا کہ ابھی وہ باہر جانے سے قاصر  ہے،،،مگر وہ ہنس دیا،،،،

یس وائے ناٹ۰۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in اُداسیوں کے رنگ | 2 Comments

محبت جیت جاتی ہے

ہلکی ہلکی بوندا باندی نے جنوری کی اس سردصبح میں کچھ اور خنکی گھول دی تھی-ہر طرف گہری دُھند کا راج تھا-سورج لاکھ کوششوں کے باوجود اس دبیز دھند کا پردہ چاک کر اپنا جاہ و جلال دکھانے سے قاصر تھا-اور بالآخر اس نے سرمئی بادلوں کے پیچھے منہ چھپانا غنیمت جانا-

ہم کافی دیر سے ساتھ ساتھ چل رہے تھے،ہر طرف اک خوشگوار سی مہک چھائی ہوئی تھی-ہمارے اطراف میں دلفریب ہریالی اور قریب ہی اک چھوٹی سی جھیل میں سرگوشیاں کرتے پرندے ،،،ماحول کی رومانیت میں اضافہ کر رہے تھے-

مگر میں ہر طرف سے لاتعلق،سر جھکائے اسکے حسین قدموں پر نظر جمائے،خاموشی سے قدم بہ قدم اسکے ساتھ چل رہا تھا اور ساتھ ساتھ اسکے وجود کی مہک اپنی سانسوں بسانے کی تگ و دو میں مصروف تھا-میں چاہتا تھا کہ ان حسین لمحات کے حسن کا اک اک قطرہ آبِ حیات کی مانند پی جاؤں۔

           میں اس پل میں مکمل جینا چاہتا تھا،ہر اک پل سے اسکی وابستگی کا احساس چرانا چاہتا تھا-میں اُس اطمینان کو محسوس کرنا چاہتا تھا جو اسکے وجود کے میرے ساتھ ہونے سے مجھے مل رہا تھا-

بعض اوقات ہماری زندگی میں کسی ایک کا ہونا بہت اہمیت رکھتا ہے،،،کوئی ایک جو بہت اپنا ہو،،،جس سے ہم اپنا ہر دکھ درد شیئر کرسکیں،،،جس پر ہمیں خود سے زیادہ بھروسہ ہو،،،،ہم سمجھتے ہوں کہ وہ ایک ہمارے ہر درد کا مداوا ہے-ہماری ہر مصیبت کے آگے کسی دیوار کی مانند کھڑا ہے،،،جب تک وہ ہے،ہمیں زندگی کے کسی موڑ پر نہ بکھرنے دے گا اور نہ گرنے دے گا-کچھ ایسا ہی مجھے اسکے ساتھ سے محسوس ہو رہا تھا،،،اگر وہ ساتھ ہے تو سب کچھ ہے،،،،ورنہ کچھ بھی تو نہیں۰۰۰۰۰۰

    ہم کافی دور نکل آئے تھے،مجھے معلوم تھا کہ دیر ہوچکی ہے اور اسکو یقیناً چائے کی طلب ہوگی،کبھی کبھی انسان محبت میں خودغرض ہوجاتا ہے اور میں بھی شاید ان لمحات کو زیادہ سے زیادہ طول دینا چاہتا تھا،مگر محبت خودغرضی پہ غالب آجاتی ہے،،،،،

میرے خیال میں چائے پی لینی چاہئیے،،،

میں نے خاموشی کا سحر نہ چاہتے ہوئے بھی توڑتے ہوئے کہا،،،

جواباٗ اس نے اپنی حسین آنکھوں سے اثبات میں اشارہ کرتے ہوئے مجھے مُسکرا کے دیکھا،،،جیسے کہہ رہی ہو

دیکھو محبت جیت گئی نا

میں بھی بے ساختہ مُسکرا پڑا اور ہمارے قدم کینٹین کی جانب بڑھنے لگے۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in محبت جیت جاتی ہے | 5 Comments

چاہت کی قندیلیں

جاتے دسمبر کی یخ بستہ رات کے آخری پہر میں بھی نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی-ہر طرف اک اداسی،اک سوگواری،اک سناٹا، اک خاموشی کا راج تھا-اتنا سناٹا کہ گھڑی کی ٹک ٹک کی گونج مجھے دوسرے کمرے سے صاف سنائی دے رہی تھی۰۰۰مگر آج سب مل کر بھی میرے دل کی خوشی کو کم کرنے میں ناکام تھے۔

        میں سرِ شام سے ہی ایک سرشاری،ایک مسرت،ایک سرور کی سی کیفیت میں مبتلا تھا،میرا دل واقعی بلیوں اچھل رہا تھا،اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سینہ توڑ کر باہر نکل آئے۔

                        میں پچھلے کئی گھنٹوں سے اپنے دھڑکتے دل،لرزتے وجود اور حیراں عقل کو سمجھانے میں مصروف تھا کہ یہ سب ایک خواب نہیں ،حقیقت ہے۔وہ جس کے خواب میں نے برسوں دیکھے،،،وہ کہ جسکے ہر ایک انگ کا،،،،،،ہر ایک رنگ کا میں دیوانہ تھا،،،،وہ جسے میں نے اپنی ہر دعا میں مانگا،،،،اپنے وجود سے زیادہ چاہا،،،،جسکی ہر ایک جھلک کے لئیے میں نے پہروں انتظار کیا،،،جسے سوچ سوچ کر میری صبح ہوئیں اور جسکی یادوں نے میری شاموں کو مہکایا،،،،جسکی ہر ایک ادا نے مجھے پہروں جگایا،،،،میرے خوابوں کو جگمگایا،،،،وہ میرا سب کچھ تھی ،،،آج برسوں کے بعد مجھے اسکی حسیں آنکھوں میں چاہت کے روشن دئیے نظر آئے تھے،مجھے محبت کی مہک آرہی تھی ،کسی کے دل میں بس جانا،کسی کی سوچ میں رچ جانا ہی محبت کی معراج ہے ۔

یہ محبت بھی بڑی عجیب شے ہے،مل جائے تو قرار نہیں،اور نہ ملے تو بھی بے قراری ہی بے قراری ۰۰۰۰۰دل و دماغ میں ایک گومگو سی کیفیت،،،دل تھا کہ مان کے ہی نہیں دے رہا تھا۔بعض اوقات اللہ ہمیں ،ہماری طلب سے بھی زیادہ عطا کر دیتا ہےاور ایسے راستے سے عطا کرتا ہے کہ انسانی عقل سوچ بھی نہ سکے،،،بے شک وہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار،،،،میری آنکھوں کے گوشے نم ہونے لگے،،،مگر آج کی رات کے یہ آنسو،خوشی کے آنسو تھے،،،،شکر کے آنسو تھے،،،،میں نے بستر چھوڑ دیا ،،،، وضو کیا اور اپنے پروردگار کے حضور سربسجود ہو گیا،،،،بے شک وہ ہر ایک شے پر قادر ہے۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in چاہت کی قندیلیں | 4 Comments

م۔محبت ع۔عشق

سُنو مجھے تم سے واقعی عشق ہے۰۰۰۰

کیا فرق ہے محبت اور عشق میں؟؟؟

ایک عجب سا سوال اور الجھن۰۰۰۰

وہ مجھے ایک ٹک تکتی رہی

عشق محبت کی معراج ہے،،،عشق ایک ایسا جذبہ جو ہر کسی

کو میسر نہیں،،عشق انسان کو اُس مقام تک لے جاتا ہے،

جہاں کا تصور بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں۰۰۰

میں اپنی دھن میں بے تکان بولے جا رہا تھا

محبت کے جذبے میں گنجائش ہے،محبت انسان کئی کرتا ہے

ایک محبت گئی تو دوسرے سے ہوگئی،،،ایک سے محبت کرتے کرتے کوئی دوسرا ٹکرا گیا،،،کسی کی ادا بھائی تو کسی کی صورت۰۰۰۰۰پھر نئی محبت شروع

مگر عشق،،،،

جب ہوجائے تو پھر جہاں بھر کا حسن بھی معشوق کے 

آگے ماند،،، حسین سے حسین صورت میں بھی آپ اپنے محبوب کو دیکھتے ہیں ،،،، دنیا بھر کی مسرتوں سے بڑھ کر محبوب کی خوشی،،،،اپنا آپ محبوب کی ایک ادا پر قربان۰۰۰۰

عشق کیا نہیں جا سکتا ،،یہ تو عطا ہے

جو صرف خاص الخاص دلوں کو مرحمت۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in م۔محبت ع۔عشق | 1 Comment

پانی

               میں نے ہتھیلی کی مدد سے اپنی پیشانی پر موجود پسینے کو صاف کیا،،ایک نظر آسمان کی طرف ڈالی اور پھر سے چل پڑا-پچھلے کئی دنوں سے موسم کے تیور غضبناک تھے-آسمان سے جیسے آگ برس رہی ہو،ہر ذی روح بلبلا رہا تھا اور ہلکان ہوئے جا رہا تھا۔لوگ اپنے اپنے گھروں میں مقیّد ہو کر رہ گئے تھے۔

مجھے جون کی اس چلچلاتی دوپہر میں ایک ضروری کام سے نکلنا پڑا تھا،،،پچھلے کئی گھنٹوں سے میں اس تپتی دوپہر میں سورج کے رحم وکرم پہ تھا۔میرا حلق خشک ہو رہا تھا،،،میں نے پانی کی تلاش میں نظریں دوڑائیں،،،دور ایک درخت تلے بنا ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ مجھے صحرا میں نخلستان لگا۔میں تیز قدموں سے اسکی طرف چل پڑا۔

ہاتھ میں منرل واٹر کی بوتل تھامے،میں درخت کے سائے تلے پڑی لکڑی کی ایک بینچ پر آن بیٹھا۰۰۰۰۰۰

پانی کا پہلا گھونٹ جیسے آبِ حیات تھا،،،،ایک سرور کی سی لہر میرے سارے وجود کو جِلا بخش گئی۔

“تم پانی کی طرح ہو”

مجھے کوئی یاد آگیا۰۰۰

وہ ہمیشہ مجھ سے کہتی تھی کہ “ تم میری زندگی میں پانی کی طرح ہو”

میں پوچھتا کیسے؟

تو وہ ہنس کر ٹال دیتی تھی

ایک دن میں ضد پر اڑ گیا کہ بتاؤ؟؟؟؟؟

میری سماعت میں آج تک اس کے پُر اثر لہجے میں کہے لازوال الفاظ گونج رہے ہیں،،،،،ایک انمول لمحہ۰۰۰۰۰۰۰۰

وہ اپنی گہری سیاہ آنکھیں میرے چہرے پہ جمائے بولی

“ہم پانی سے کبھی نہیں اُکتاتے،ایک ہی ذائقہ ہونے کے باوجود ،ہمیشہ ہمارے بدن کو اک نیا سرور،اک نئی جِلا بخشتا ہے،ہم پانی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔

پانی ہماری زندگی کی ضمانت،،،شاید قدرت کی چند بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت،،،،ایک انمول شے،،،،جسکی ضرورت زندگی کے پہلے پل سے آخری پل تک کبھی کم نہیں ہوتی۰۰۰۰۰”

میں ایک ٹک اُسے دیکھ رہا تھا۰۰۰۰

“تم بھی میری زندگی میں پانی کی مانند ہو،،،،تمہارا ساتھ مجھے زندگی کے آخری پل تک چاہئیے،،،،تم میری زندگی ہو،،،،تمہارے ساتھ گذارا ہر اک پل میری زندگی کو ایک نئی جِلا بخشتا ہے،ہر بار زندگی کے ایک نئے احساس سے ہمکنار کرتا ہے،،بےشک تمُ میرے لئیے قدرت کی ایک انمول نعمت ہو۔”

میں پلک جھپکائے بغیر،،، مبہوت سا اُسے ایک ٹک دیکھے جا رہا تھا،،،،مجھے اُس کے چہرے پہ چھائی سچائی اور جذبوں کے رنگ صاف دکھائی دے رہے تھے۰۰۰۰۰۰

میں سمجھ سکتا تھا،محسوس کر سکتا تھا،،،،میں جان گیا تھا کہ میں اسکے لئیے آبِ حیات کی مانند تھا،،،،،

پانی کی طرح،،،،،

ایک عجیب سا احساسِ وابستگی،،،،،ایک عجیب سی سرشاری

کچھ پا لینے کی خوشی،،،،،کسی کا ہو جانے کی تمنا

جذبے تھے کہ اُمڈ اُمڈ کر آ رہے تھے،،،،ایک احساسات کی بارش،،،جس میں میرا سارا وجود تتر بتر ہو رہا تھا،،،،جیسے بارش کا پانی،،،،،،،،

روڈ پر گذرتی گاڑی کے تیز ہارن کی آواز مجھے واپس اُسی تپتی دوپہر میں لے آئی،،،،میں نے بوتل میں موجود پانی کا آخری گھونٹ اپنے حلق میں انڈیلا،،،،اپنی نم ہوتی ہوئی آنکھ کو صاف کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

 

Posted in پانی | 1 Comment

محبت بولتی ہے

      میں نے آہستگی کے ساتھ الماری کا دروازہ کھولا اور اندھیرے میں ٹٹول ٹٹول کر اپنی مطلوبہ اشیئا تلاش کرنے لگا-

مجھے آفس سے دیر ہو رہی تھی،رات گھر میں مہمان تھے اور سونے میں کافی دیر ہوگئی تھی-مجھے فکر تھی کہ میری سوئی ہوئی شریکِ حیات نہ جاگ جائے جو مجھ سے بہت بعد میں تمام گھر سمیٹ سماٹ کر سوئی ہوگی،،،شاید آدھی رات کے بعد۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

میں نے الماری بند کی،شوز ہاتھ میں اُٹھا کر دبے پاؤں لاؤنج میں آگیا-

اور وہی ہوا،شاید میرے دروازہ کھولنے کی آواز سے وہ جاگ گئی،پلک جھپکتے ہی وہ کمرے سے باہر تھی-

آپ نے مجھے اُٹھایا کیوں نہیں،اُس نے ہمیشہ کی طرح شکوہ کیا اور تیزی سے کچن میں مصروف ہوگئی،اُسے معلوم تھا کہ چند لمحوں کی سستی سے میں کچھ کھائے پئیے بغیر آفس کو نکل جاؤں گا-میں جوتے پہنتے ہوئے اُسے تیز تیز کام کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا،اُس کے چہرے سے تھکن عیاں تھی،آنکھوں میں بھرپور نیند کا اثر مگر وہ کس تیزی سے مصروف تھی-

میں سوچ رہا تھا،”محبت کے کتنے رنگ،،،،کیسے کیسے رنگ

محبت لفظوں کی محتاج نہیں،،،نہ اسُے اظہار کی ضرورت،،،،،

یہ تو جھلکتی ہے،،،چھلک چھلک پڑتی ہے،،،،ہمارے اک اک انگ سے،،،اس کے اپنے ہی رنگ،،،،

میرا دبے پاؤں چلنا،،،اسکا نیند سے لڑ کر اُٹھنا،،،،

محبت تو یہی ہے،،،،،ہاں محبت یہی ہے۰۰۰۰۰۰”

(ابنِ آدم)

Posted in محبت بولتی ہے | 2 Comments

مانوس اجنبی

      No signals میں نے جھنجھلا کر موبائل گاڑی کے ڈیش بورڈ پر پٹخ دیا،،،،پچھلے آدھے گھنٹے سے میں فون کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا مگر اس نیٹ ورک کو بھی آج ہی ڈاؤن ہونا تھا-میں ایک ڈنر پر مدعو تھا اور پہلے ہی کافی لیٹ ہوگیا تھا،ایک تو شہر کی ٹریفک اور ویک اینڈ کا رش۰۰۰۰

الّلہ کی پناہ،ہر شخص کو جلدی،،،ہر شخص دوڑ رہا تھا،میں نے زور سے ہارن بجایا،سامنے آنے والا موٹر سائیکل سورا مجھے خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا سائیڈ سے گذر گیا۔میں نے اسکی بُڑبڑاہٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی-

شہر کے اس پوش علاقے میں واقع مشہور ریسٹورنٹ کے داخلی دروازے میں داخل ہوتے ہوئے میں نے اپنی سانسیں بحال کرنے میں مصروف تھا-میں پارکنگ سے تقریباً دوڑتا ہوا یہاں پہنچا تھا،کسی کو انتظار کروانا میری فطرت کے خلاف تھا-ریسٹورنٹ کی انتظامیہ نے میری مطلوبہ ٹیبل تک رہنمائی کی جہاں میرے میزبان میرے منتظر تھے-میں دل ہی دل میں دیر سے آنے پہ شرمندہ ہوتا ہوا اُن سے پرتپاک انداز میں ملا۔آج اُن کے ساتھ انکی ایک عزیز دوست بھی آئیں جن سے میرا غائبانہ تعارف تھا مگر آج ملاقات کا موقع ملا-

              بڑی منفرد سی،کھوئی کھوئی سی،چپ چاپ،گم سُم،،،،سادہ مگر جاذب نظر شخصیت جو مقابل کو سحر انگیز کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال۰۰۰۰

کچھ لوگوں سے مل کر ہمیں ایک عجب سی کشش کااحساس،،،،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک نور کا ہالہ سا ہے جس نے انکے تمام وجود کو اپنے حصار میں مقیّد کر رکھا ہے اور یہ ہالہ مخاطب کو اپنی حدود میں رہ کر بات کرنے پر مجبور کر دیتا ہے،ایک عجب سی تعظیم جو آپ خودبخود اپنے اندر محسوس کرتے ہیں-

میری پہلی ملاقات تھی مگر اجنبیت کا احساس تک نہ تھا،دھیمے دھیمے لہجے میں ناپ تول کر بات کرنے کا انداز ،میں کھو سا گیا-ہر اک لفظ سے تجربے کی مہک آرہی تھی،ہر جملہ چیخ چیخ کر بولنے والے کی گہرائی کا پتہ دے رہا تھا-انکی شخصیت میں سب سے نمایاں انکی نم نم آنکھیں،جو اندر کے راز کھولنے کو بےتاب تھیں-انکا سکوت کتنے ہی چھپےطوفانوں کا پتہ دے رہا تھا،جیسے چھلک پڑنے کو بےتاب ہوں،جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہوں،تمام کہانیاں سنانا چاہ رہی ہوں مگر کوئی سننے والا ہو تو سُنے،،،، جو سمجھ سکے،جان سکے،مان سکے۰۰۰۰۰

مجھے لگا کہ انہوں نے تمام داستانوں کو دل میں دبا کر دروازہ کو اندر سے تالا لگا دیا ہو،،،،کبھی نہ کھولنے کے لئیے،،،،چاہے کوئی کتنی ہی آوازیں مارے،سر پٹکے مگر،،،،اب دیر ہو چکی ہو،،،دروازہ اب بند۰۰۰۰۰

میں انُکی باتوں اور شخصیت کے سحر میں کھویا کھانے میں مصروف تھا ،،کب وقت گذر گیا،کب رات گہری ہوئی،پتہ ہی نہ چل سکا،،،،زندگی کا سفر بھی عجب سفر ہے،جب ہم چاہتے ہیں کہ وقت تھم جائے تو گویا وقت کو پر لگ جاتے ہیں اور بعض اوقات ہمارے ناچاہنے کے باوجود وقت تھم سا جاتا ہے ،اک اک ساعت صدیوں کی طرح گذرتی ہی نہیں۰۰۰۰۰

ہر پل ہر آن منظر بدلتے رہتے ہیں جیسے ریل کا سفر،،،،ہر اسٹیشن سے نئے مسافر چڑھتے ہیں اور ہمارے ہمسفر بن جاتے ہیں،ہم ان میں کھو جاتے ہیں ،ان سے مانوس ہو جاتے ہیں مگر کچھ ہی اسٹیشن بعد بہت سے ہمیں چھوڑ جاتے ہیں ،اُنہیں اپنی اپنی منزلوں پہ اُترنا ہوتا ہے،ہم چاہیں مگر وہ نہیں رکتے یا رک نہیں پاتے شاید؟؟؟؟

پھر کچھ نئے مسافر ہمارے سفر میں شامل ہو جاتے ہیں،ہم پرانے مسافروں کی یاد دل میں چُھپائے ،نئے مسافروں کی قربت میں گُم ہوجاتے ہیں۔یونہی یہ کاروانِ زندگی رواں دواں رہتا ہے اور بالآخر ہماری منزلِ مقصود آن لیتی ہے اور ہمارا اسٹیشن۰۰۰۰۰۰۰۰۰ہمیں اس کارواں کو الوداع کہنا ہی ہوتا ہے،چاہے کوئی کتنی بھی آوازیں دے ہمیں اپنے اپنے مقررہ اسٹیشن پہ اُتر جانا ہے،،،،

یہی فلسفہ ء حیات اور یہی زندگی

میں نے پلٹ کر ایک خالی نظر ٹیبل پہ ڈالی اور جہاں کچھ دیر پہلے زندگی پوری رعنائیوں کے ساتھ جلوہ ء افروز تھی،،میں گذرتے لمحوں کی خوشبو اپنی یاداشت میں سمونے کی کوشش کرتے ہوئے پارگنک کی جانب بڑھ گیا۔

(ابنِ آدم)

Posted in مانوس اجنبی | 2 Comments

دل ہی تو ہے

        تیز گرم تپتی ہوئی سنگلاخ چٹانیں میرے پاؤں جھلسائے دے رہی تھیں،،،،،سورج جیسے حقیقتأ سوا نیزے پر اُتر آیا تھا۔میرا تمام جسم پسینے سے شرابور تھا۔مگر ابھی کچھ کام باقی تھا اور مجھے مزید ایک دو گھنٹے ان سنگلاخ چٹانوں کی خاک چھاننی تھی-میری جاب ہی کچھ ایسی تھی کہ میں اکثر جنگلوں ،بیابانوں میں سر کھپاتا پھرتا تھا۔آج بھی کچھ ایسا ہی دن تھا اور میں پچھلے کئی گھنٹوں سے سخت گرمی کے موسم میں ان جلتی ہوئی چٹانوں کے سینے پر محو ِسفر تھا۔اچانک میرے کان دور سے آتی اک ضربِ مسلسل کی صداؤں پہ مرکوز ہو گئے،،،،جیسے کوئی مسلسل پوری قوت کے ساتھ چٹانوں پہ ضربیں لگا رہا ہو۔

میں تجسس کی لگام تھامے بے اختیار اُن آوازوں کی کھوج میں نکل پڑا۔تھوڑی ہی دور ایک چٹان کی آڑ میں مجھے کچھ مزدور نظر آئے،جو چٹانوں کے بڑے بڑے پتھروں کو ہتھوڑوں کی مدد سے توڑ کر عمارتی استعمال میں  لانے کے قابل بنانے میں مصروف تھے۔

           میں قریب  پڑے ایک پتھر پر بیٹھ گیا اور دلچسپی سے اُن کو کام کرتے دیکھنے لگا۔بڑے بڑے پتھربھی ،ہتھوڑوں کی پڑنے والی ضرب ِ مسلسل کی تاب نہ لاتے ہوئے،ریزہ ریزہ ہوئے جا رہے تھے۔پہلے پہل وہ کاری سے کاری ضرب بھی برداشت کر جاتے۔پھر اُن میں دڑاڑیں پڑنا شروع ہوئیں اور آخرکار کوئی ایک معمولی سی ضرب بھی انکو ریزہ ریزہ کر جاتی،،،بکھیر دیتی۔

میں دیکھتا رہا اور سوچتا رہا،،،،،،،،”انسانی دل”

انسانی دل کی مثال بھی اس پتھرکی سی ہے،جو دوسروں کے رویوں ،لہجوں اور الفاظ کی ضربیں برداشت کرتا جاتا ہے،مگر ہر آنے والی ضرب اسکے دل میں ایک نئی دڑاڑ ڈالتی جاتی ہے اور بالآخر جب اُسکے صبر وضبط کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو ایک معمولی سی بات بھی اسکے دل کو ریزہ ریزہ کر ڈالتی ہے،کرچی کرچی کر جاتی ہے۔پھر چاہے جانے والے لوٹ بھی آئیں ،،،،

کتنی ہی معافی تلافیاں ہو جائیں ،،،،شرمندگی اور احساسِ ندامت ہو مگر آبگینہءدل جب اک بار ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا۔

میں ایک ٹک چٹانوں کے مضبوط پتھروں کو ریزہ ریزہ ہو کر بکھرتے دیکھ رہا تھا۔

(ابنِ آدم)

Posted in دل ہی تو ہے | 4 Comments

“فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان”

میں نے چُندھائی ہوئی آنکھوں سے سورج کی سمت دیکھنے کی ناکام کوشش کی،،،مجھے لگ رہا تھا کہ سورج زمین کے قریب آگیا ہے،،،،،اتنی گرمی!
ہر طرف آگ لگی ہوئی تھی،ہر ایک شخص بلبلایا سا پھر رہا تھا۔میں بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا اپنے آفس کی طرف دوڑ پڑا،،،میں سورج کی وحشت سے خود کو بچانا چاہ رہا تھا۔
اپنے روم میں آکر میں نے سُکھ کا سانس لیا،اےسی کی کولنگ میرے وجود کو سکون بخش رہی تھی۔کچھ دیر ریلکس ہونے کے بعد میں نے کھڑکی کا پردہ ذرا ہٹایا اور باہر کی طرف نظر ڈالی۔سوئپر ہاتھ میں جھاڑو پکڑے پارکنگ ایریا کی صفائی میں مصروف تھا،اُسکی شرٹ پسینے میں شرابور تھی،پھر میری نظر گیٹ پر کھڑے گارڈ پہ پڑی،،،اتنی گرمی میں وہ موٹے کپڑے کی وردی،موٹے جراب اور بھاری بھرکم جوتے پہنے چاک و چوبند انداز میں کھڑے سورج کی شعاعوں کو اپنے سپاٹ چہرے پہ برداشت کر رہے تھے۔
اُس سے ہٹ کر میری نظر باہر سڑک پہ پڑی،،،زندگی رواں دواں تھی،مسافر،خوانچہ فروش،فقیر،ٹریفک کانسٹیبل ہر کوئی اپنے کام میں مگن،گرمی،سردی،بارش ،طوفان سے بےنیاز اپنے پیاروں کے لئے رزق کی تگ و دو میں مصروف،،،،،
مجھے ان تمام افراد کے کاندھوں پر ایک نہ نظر آنے والی ضرورتوں کے پہاڑ کے ہونے کا احساس ہوا۔یہ کارخانہ ء خدا ہے،،،،ایک شخص سخت گرمی میں پسینے سے بے حال اور دوسرا ٹھنڈے کمرے میں ،آرام دہ کرسی پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھے براجمان۔دونوں کا مقصد ایک،،،،دونوں کی لگن ایک،،،،اپنے اپنے اہل و عیال کے لئے رزق کی فراہمی،مگر دونوں کی قسمت مختلف۔
میری آنکھوں میں تشکر کے آنسو آگئے،کتنے نا شکرے ہیں ہم انسان،،،سب کچھ پا کر بھی شکوے، شکایتوں کے انبار،،،،
بے اختیار میرے لبوں سے الّلہ کے شکر کے الفاظ نکلنے لگے،،،”اور ہم الله کی کون کون سی نعمتوں کو جُھٹلائیں گے”
“فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان”
(ابنِ آدم)

Posted in Uncategorized | Leave a comment

پھسلتے لمحے

میں بستر پہ لیٹا بڑی دیر سے کروٹیں بدل بدل کر سونے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھا۔جسم کا جوڑ جوڑ دُکھ رہا تھا اور نیند تھی کہ جیسے روٹھ ہی گئی ہو۔
آج کا دن بہت مصروف تھا،میں دن بھر مختلف کاموں میں بھاگتا رہا،،،ادِھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر،،،ایک پل بھی چین نہ مل سکا۔رات دیر سے گھر لوٹا توتمام اہلِ خانہ سو چکے تھے اور اب میں بستر پہ پڑا نیند کی مہربان دیوی کا منتظر تھا مگر۰۰۰۰۰۰۰
کبھی کبھی ہم اپنے پیاروں کو سب کچھ دینے کی چاہ میں اتنا تیز دوڑ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے اپنے بھی ہماری تیز رفتاری کا ساتھ نہیں دے پاتے اور ہمارے اور اُنکے درمیاں فاصلہ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ہم اُن سے اور وہ ہم سےدور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
اور جب ہم زندگی کی دوڑ میں دوڑتے دوڑتے تھک کر رک جاتے ہیں تو ہمیں اپنے پیاروں کی یاد اور انکی ضرورت،،،،مگر اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے،،،ہم اور ہمارے اپنے چاہتے ہوئے بھی اُن فاصلوں کو سمیٹنے میں ناکام رہتے ہیں۔وہ چاہتے ہوئے بھی دوری کی اس فصیل کو پار نہیں کر پاتے جو ہم نے خود اپنے درمیاں حائل کی ہوئی ہے۔
میں سوچتا جا رہا تھا،،،مجھے یاد نہیں آرہا تھا کہ آخری بار میں نے اپنی فیملی کے ساتھ ڈنر کب کیا تھا،،،،،مجھے یاد آیا کہ مجھے اپنے بچوں سے باتیں کئیے زمانہ گذر گیا ہے۔ہم کب آخری بار آؤٹنگ پر گئے تھے؟
میں دل ہی دل میں نادم ہوتا رہا،،،ایک بوجھ سا میرے سارے وجود پہ جیسے آگرا ہو۰۰۰۰
اِک آگہی کا عذاب جس میں جل اُٹھا تھا،،،مجھے احساسِ ندامت مارے جا رہا تھا۔
میں نے کروٹ بدل کر اپنے دُکھتے جسم کو آرام دینے کی کوشش کی،،،کیا کرونگا اتنا مال کما کر،،،،؟یہ کیسی دولت ہے جس سے ہماری خوشیاں ،،،،،نہیں ،نہیں،،،،،،،
میں دل ہی دل میں فیصلہ کر رہا تھا،کل سے جلد گھر لوٹ آنے کا،،،،،،
(ابنِ آدم)

 

Posted in پھِسلتے لمحے | 1 Comment

گہرے روگ،سنہرے لوگ

اپنا ہونے کے لئیے ساتھ ہونا ضروری نہیں۰۰۰
بعض اوقات تمام عمر ساتھ ساتھ چلنے والے،ایک ساتھ رہنے والے ،،،دراصل میں ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے ہیں کہ تمام عمر وہ ایک دوسرے کو سمجھ ہی نہیں پاتے  ،،،،،،
وہ جان ہی نہیں پاتے کہ انکے پہلو میں بیٹھے شخص کے پہلو میں دھڑکنے والا دل کیا پُکار رہا ہے۔
وہ ریل کی اس پٹری کی مانند ہوتے ہیں جو ساتھ ساتھ تو ہے
مگر کہیں ایک نہیں ہوسکتی۔
اور کبھی کہیں کوسوں دور بیٹھا شخص ہماری شہہ رگ سے بھی قریب ۰۰۰۰۰
ہم اپنے ہر دکھ درد میں اسکا ہاتھ اپنی بنض پر محسوس  کرتے ہیں۰۰۰۰
کہ وہ ہزاروں میل دور سے ہماری آواز کا درد اور ہماری سانسوں کی لرزش محسوس کر سکتا ہے۔ شاید یہی لوگ ہمارے اپنے ہوتے ہیں ۰۰۰۰
ہمارے دلوں میں بسنے والے سنہرے لوگ۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in گہرے روگ،سنہرے لوگ | 1 Comment

جگر گوشے

ویڑرز نے کھانے کی ڈشزز کے کور ایک زوردار آواز کے ساتھ ہٹائے،یہ گویا کھانا شروع ہونے کا عندیہ تھا۰تمام لوگ تیزی سے کھانے کی جانب لپکے،جیسے ایک لمحے کی کوتاہی انہیں مالِ غنیمت سے محروم کر دے گی۔ایک عجیب افراتفری کا سماں تھا،سوٹڈ بوٹڈ لوگ کچھ دیر کے لئے آدابِ محفل سے غافل نظر آرہے تھے۰ویٹرز دوڑ دوڑ کر ڈشزز کو دوبارا بھرنے میں مصروف تھے۔
میں اپنے آفس کولیگ کی بیٹی کی رخصتی میں مدعو تھا،تنہا آنے کی وجہ سے ایک کارنر ٹیبل پر بیٹھا رش چھٹنے کا منتظر تھا۰مجھے معلوم تھا کہ کھانا وافر مقدار میں موجود ہےاور کچھ دیر بعد میں سکون سے لے سکوں گا۔میری نظریں اسٹیج پہ بیٹھی دلہن پہ جمی ہوئیں تھیں جو کافی دیر سے سر جھکائے آنسو بہانے میں مصروف تھی۔اسُکی آنکھوں میں جیسے برسات کی جھڑی لگی تھی،ہچکیاں تھیں کہ تھم کر ہی نہیں دے رہیں تھیں ،ماں ،بہن اور چھوٹا بھائی نم آنکھوں سے اُسے چپ کرانے اور تسلی دینے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھے-میرا کولیگ اُفسردہ چہرہ لئیےمہمانوں کو کھانے پر مدعو کرنے اور سسرال والوں کی نازبرداریوں میں لگا ہوا تھا۰کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے،کوئی ناراض نہ ہو جائے،کسی کو کوئی بات بری نہ لگ جائے،،،،،ویٹر یہاں گرم روٹی لاؤ جلدی،،،،،،اُس نے بھاگتے ہوئے ویٹر سے کہا۔
کیا نظامِ قدرت اور کیا نظامِ زمانہ ہے،،،،
ہم اپنے باغ کی ننھی ننھی کونپلوں کو اپنا خونِ جگر دے کر بڑا کریں اور پھر اُنہیں کسی اور کا چمن مہکانے کے لئیے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے رخصت کر دیں ۔ہمارے آنگن کی چڑیائیں کسی اور کے صحن میں چہچہاہیں،،،،ہمارے گھروں کو سُونا کر کے کسی اور کے دریچوں کی رونقیں بڑھائیں ،،،،ہمارے دلوں کے گوشے،،،،ہمارے چمن کے پھول کسی اور کے آشیانوں کو مہکائیں اور خوشیوں سے آراستہ کریں !!!!!
یار بریانی تو صرف مٹن کی ہی اچھی بنتی ہے،میرے سامنے بیٹھے صاحب نے چکن لیگ پیس پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے اپنے ساتھی سے فرمایا۔جسکی انکے ساتھی نے سر ہلا کر تائید کی۔
میں نے ایک افسوسانہ نظر اُن پہ ڈالی اور پلیٹ اُٹھا کر ٹیبل کی جانب بڑھ گیا۔ٹائم کافی ہو گیا تھا اور اپنی بیٹی کی فرمائش پہ مجھے آئسکریم لے کے گھر جانا تھا۔مجھے معلوم تھا کہ وہ میرے انتظار میں جاگ رہی ہوگی۔اُسکا خیال آتے ہی میرے چہرے پہ مُسکراہٹ بکھر گئی،،،الله تمام بچیوں کا نصیب اچھا کرے،،،میرے کانوں میں ایک صاحب کی آواز آئی،،،میں زیرِ لب آمین کہتا آگے بڑھ گیا۔
(ابنِ آدم)

Posted in جگر گوشے | Leave a comment

اُڑے جاتے ہیں لمحے زندگی کے۰۰۰۰

کہیں خوشی،کہیں غم،،یہ دنیا کا دستور ہے۰کوئی شادیانے بجا رہا ہوتا ہے توکوئی آنسو چُھپا رہا ہوتا ہے۔زمانے کے چکر میں کوئی پہیے کے اوپر خوشی سے نہال ہو رہا ہوتا ہے اور کوئی اِسی پہیے کے نیچے دبا زندگی کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔
میرے کانوں میں دھماکوں کی آوازیں گونج رہیں تھیں۔سال کا آخری سورج غروب ہورہا تھا اور کچھ منچلے خوشیاں منانے میں مصروف تھے۔میں ساحلِ سمندر پہ بیٹھا ،لوگوں کو سال کے آخری “ڈوبتے سورج” کے ساتھ سیلفیاں بناتا دیکھ رہا تھا۰ہر ایک شخص مسرور نظر آرہا تھا۔وہ اس نارنجی روشنی میں نہائے منظر کو اپنے سیل فون کے کیمروں میں مقّید کرنا چاہتے تھے۰ایک خلقت تھی جو ساحلِ سمندر پر اُمڈ آئی تھی۔
میں ایک ٹوٹے ہوئے ہٹ کی آخری دیوار سے ٹکِا ڈوبتے سورج کے کرب کو محسوس کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۰۰۰۰اپنے آس پاس سے بیگانہ۰۰۰۰اک اداسی کا احساس جو کسی اپنے کو رخصت کرکے ہوتا ہے۔میں سوچ رہا تھا کہ آج کے بعد میں اپنی زندگی میں اس سورج کو پھر نہیں دیکھ پاؤں گا،اور بہت سے سورج ہونگے،،،،روشن ،،،شاداب مگر ۲۰۱۷ کا یہ آخری سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے کائنات کی وسعتوں میں کھونے جا رہا تھا۔
زندگی کا ایک اور سال تمام ہوا۰۰۰۰کیا کھویا۰۰۰کیا پایا؟ عمرِ عزیز کے زینے کا ایک اور اسٹیپ طے ہوگیا،ایک قدم اور آگے فنا کی جانب۰۰۰۰۰کتنے اسٹیپ باقی ہیں؟
کب آخری اسٹیپ آجائے،کس کو پتہ؟
میں نے سوچوں میں گُم ہو کر ریت اپنی مٹھی میں بند کی،مگر اُسے گرفت کرنے سے قاصر تھا۰۰۰زندگی بھی بند مٹھی کی ریت کی طرح ہمارے ہاتھوں سے پھسلتی جاتی ہے۰۰۰۰ایک سفر ہے جو جاری و ساری رہنا ہے،ابھی تو بہت کام ہیں جو کرنے ہیں۰۰۰۰۰
کیا ہم سفرِ آخرت کے لئیے تیار ہیں؟”نہیں” ہم میں سے کوئی بھی تیار نہیں۰۰۰اور نہ ہی جانا چاہتا ہے۔ہم کسی کو جب جاتا دیکھتے ہیں تو لگتا ہے بس اسی کو جانا تھا،،،،،،، اور ہمیں؟؟؟؟؟؟
سورج کی نارنجی روشنی،سیاہی میں تبدیل ہو چکی تھی،آس پاس کے لوگ اسکے دکھ سے بے خبر اپنی موج و مستی منا کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر جانےکی تیاری کر رہے تھے۔میں بوجھل قدموں سے چلتا ہوا سمندر کی لہروں میں آن کھڑا ہوا،،،سمندر کی ٹھنڈک میرے پیروں سے ہوتی ہوئی میرے وجود کو ایک نئی لگن بخشنے لگی۰۰۰۰میں نے آنکھیں بند کر لیں اور آنے والی صبح کے تصور میں گُم ہوگیا۰۰۰۰۰
اک نئی صبح،،،،،اک نئی اُمید
(ابنِ آدم)

Posted in اُڑے جاتے ہیں لمحے زندگی کے | Leave a comment

ہوا نصیب بنایا،سفرلکھااُس نے

میں نے کمرے میں پھیلی نائٹ بلب کی ہلکی سبز روشنی میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر گھڑی کی سوئیاں دیکھنے کی کوشش کی۔صبح کے چار بجنے والے تھے اور میری روانگی میں تقریباً چار گھنٹے اور باقی تھے۔نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی،میں نے آہستگی سے کروٹ لیتے ہوئے پرانے بیڈ کی چُرچُراہٹ کو دبانے کی ناکام کوشش کی۔مریم ابھی کچھ دیر پہلے روتے روتے سوئی تھی۔ہم دونوں کے درمیان ہماری تین سالہ ننھی پری ہماری ذہنی حالت سے بے خبر ایک معصوم مُسکراہٹ لئیے سو رہی تھی۔
مجھے چھٹیوں پہ آئے آج آخری دن تھا اور علی الصبح میری روانگی تھی،مجھے اپنوں کو چھوڑ کر جانا تھا،،،،پورے ایک اور سال کے لئیے،،،،،ہمیشہ کی طرح ہم دونوں ہی اُداس تھے،،،،جدائی کا ایک اور سال،اپنی پوری وحشت اور ہولناکیوں کے ساتھ تیار کھڑا تھا۔
پھر وہی ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ،،،،کام،کام اور پھر لمبی تنہا راتیں ۔شروع سال ہی سے آنے والے دنوں کا انتظار،،،اک اک کر کے دن گننا اور جب اپنے ملک آنا تو گویا وقت کو پر لگ گئے ہوں ،،،،دوڑ بھاگ،،،یہ کام،،،وہ کام۔اس سے ملنا،،،اُس کے پاس جانا اور پھر واپسی کا وقت
میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بیڈ کی پشت سے ٹک کر بیٹھ گیا۔میں نے اپنے ہاتھ کی اُنگلی اپنی سوئی ہوئی معصوم کلی کے ہاتھ میں تھمائی جسے اُس نے مضبوطی سے تھام لیا۔میں اور میرے اپنے،،،،،سب ایک دوسرے سے جدا،،،ایک دوسرے کے لئے تڑپتے رہتے،،،یہ کیسی مجبوری،،،،،نا چاہتے ہوئے بھی خود ساختہ جدائی۔ہم کو جدا ہونا ہی تھا،مجھے جانا ہی تھا،اپنوں کو چھوڑ کر،اپنوں کی خاطر۰۰۰۰۰
آج سرِ شام ہی سے مریم کی آنکھوں میں جیسے جھڑی سی لگ گئی ہو۔اُس نے رو رو کراپنی آنکھیں سُجالی تھیں ۔
سنیں ،،،آپ نا جائیں؟؟؟میں کم میں بھی گذارا کر لونگی،،،ہم روکھی سوکھی کھا لیں گے۔
میں اُسے سمجھا سمجھا کر تھک گیا کہ بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے،ہم روز چیٹ کریں گے اور فون بھی۔
میں جانتا تھا بھوکا پیٹ اور تنگدستی،،،بڑی سے بڑی محبتوں میں دڑاڑ ڈال دیتی ہے۔یہی سچ ہے،،،کڑوا سچ ۔
میں ڈگریوں کابوجھ اُٹھائے دربدر کی خاک چھان چکا تھا،،جان چکا تھا کہ یہ کاغذ کے ٹکڑے بغیر کسی سہارے کے نہیں اُڑ سکتے،،،اِنکو حاصل کر کے اُونچا اُڑنے کے خواب دیکھنے والے اکثر منہ کے بل گرتے ہیں ،،،کرچی کرچی ہوجاتے ہیں ،،،اُن کا وجود لہولہان اور ریزہ ریزہ
دن بھر کے رکےآنسو میری بے خواب آنکھوں میں اُمڈ آئے،،،میں نے اپنے بکھرتے وجود کو بامشکل سمیٹا،،،،اپنی معصوم پری کے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے آہستگی کے ساتھ اُس کے نازک ہاتھ میں دبی اپنی انگلی چھڑائی اور مریم پہ ایک نظر ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا،،،،فلائٹ کا ٹائم ہو چکا تھا،،،،ایک جدائی بھرے نئے سال کا آغاز۔

ہوا نصیب بنایا سفر لکھا اُس نے
تمام عمر پھروں دربدر لکھا اُس نے
سُلگتی دھوپ کی مانند زیست دی لیکن
نا سائباں،نہ کوئی شجر لکھا اُس نے

(ابنِ آدم)

Posted in ہوا نصیب بنایا، سفر لکھا اُس نے | 2 Comments

“یہ گذرتے پل”

شام کے سائے گہرے ہوچلے تھے،دن بھر کا تھکاماندہ سورج اپنی آب و تاب دکھانے کے بعد گھنے درختوں کے پیچھے ڈوبنے کو تیار تھا۔گذرتے وقت کا ہر اک پل اُسکی رعنائی اور جاہ و جلال میں کمی کر رہا تھا۔ہر سو چھائی ہوئی نارنجی روشنی اک سوگواری کی سی کیفیت پھیلا رہی تھی،پرندے تیزی سے اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف رواں دواں تھے۔جیسے وہ ڈوبتے سورج کی بےبسی دیکھنے کی تاب نہ رکھتے ہوں اور اس منظر سے آنکھیں چُرا کر بھاگ رہے ہوں۔
میں سیاہ سڑک پر تیزی سے فراٹے بھرتی ہوئی کار کی پچھلی نشست سے سر ٹکائے اس منظر کو دیکھنے میں محو تھا۔سڑک کے کنارے لگےدرخت ایک کے پیچھے بھاگتے جا رہے تھے۔مناظر اس تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے کہ آنکھ اُن سے لطف لینے سے قاصر اور عقل انہیں ٹھیک سے سمجھنے سے مجبور تھی۔
میں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھاکہ جب ہم آگے جارہے ہوتے ہیں تواپنے پیچھے کیا کچھ چھوڑ جاتے ہیں؟؟؟؟
کتنے ہی حسیں لمحات ہم مِس کر جاتے ہیں ،،،،،کتنے ہی بیش بہا قیمتی پل ہم گذارے بغیر ہی ضائع کر جاتے ہیں،،،،،سرابوں کے پیچھے اک نا ختم ہونے والی دوڑ۰۰۰۰۰۰
ایک کے بعد ایک حسیں سراب،جنہیں پانے کی جستجو میں ہم اپنی رفتار بڑھاتے چلے جاتے ہیں،،،،،تیز اور تیز
اور اس تیز رفتاری میں اپنے قدموں تلے،اپنے چاہنے والوں کی خوشیاں روندتے چلے جاتے ہیں،کچلے جاتے ہیں۔اُن مسرتوں کو جو اُنہوں نے ہم سے،ہماری ذات سے وابستہ کر رکھی ہوتیں ہیں۔
ہم رُکنا نہیں چاہتے اور بلآخر اس تیزرفتاری میں دوڑتے دوڑتے ایک دن منہ کے بل گرتے ہیں،،،،کبھی نہ اُٹھنے کے لئیے،،،،،،
اُس وقت ہم مڑ کر دیکھتے ہیں تو سوائے پچھتاؤں کے کچھ بھی نظر نہیں آتا۔
میں نے نم آنکھوں سے سورج کی بےبسی کو دیکھا،آخری سانسوں کے ساتھ ساتھ دم توڑتی روشنی ،اندھیروں میں تبدیل ہوتی جا رہی تھی،،،میں نے منظر کی تاب نہ لاتے ہوئے دھیرے سے سیٹ کی پشت سرٹکاتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔
(ابنِ آدم)

 

Posted in یہ گذرتے پل | Leave a comment

اپنا اپنا سفر۰۰۰۰اپنی اپنی جستجو

میں اوندھے منہ صوفہ پر پڑا،سنڈے مورنگ سے لطف اندوز ہونے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھا۔رات کو دیر تک جاگنے اور ویک اینڈ انجوائے کرنے کے باعث تمام اہلِ خانہ نیند کی مہربان دیوی کی آغوش میں خواب و خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف تھے،اور ادھر میں اکِ بدزوق اپنی سویرے اٹھنے کی عادت سے مجبور ۰۰۰۰۰۰نمازِ فجر کے بعد بستر پہ تا دیر کسی سیخ کباب کی مانند لوٹ پوٹ ہونے اور جسم کے جوڑ دُکھانے کےبعد لاؤنج میں چلا آیا تھا۔ویسے بھی دوسری تمام دیویوں کی طرح نیند کی دیوی بھی مجھ پر کم کم ہی مہربان ہوتی تھی،لہٰذا اب صوفے پر اُلٹا پڑا اپنی دانست میں سنڈے مارننگ انجوائے کرنے میں مصروف تھا۔
بیزار ہوکر میں بالکونی میں آن کھڑا ہوا،،،،ہر طرف ایک سکوت کی سی کیفیت طاری تھی،گلی تا حدِ نظر سُنسان پڑی تھی۔اچانک میری نظر ایک سائیکل سوار بزرگ پر پڑی جو اپنی جھولی میں کپڑے کا تھیلا اُٹھائے سامنے والے گھر کے باہر لگے جنگلی پھولوں کو درخت سے توڑ توڑ کر اپنے تھیلے میں ڈال رہے تھے۔پہلے تو میں انکو حیرت سے دیکھتا رہا پھر مجھے اُنکی شکل جانی پہچانی سی لگی۰۰۰۰۰۰
ارے یہ تو وہی تھے جو شام کو سگنل پہ پھولوں کے کنگن بیچتے ہیں،میری سمجھ میں سارا معاملہ آگیا۔
وہ صبح سویرے گلی محلوں کے درختوں سے پھول جمع کر کے کنگن بناتے اور شام کو سگنل پر بیچتے تھے۔
میں گہری سوچ میں ڈوبا انکو جاتا دیکھتا رہا۰۰۰ابھی کچھ ہی ٹائم گذرا تھا کہ سامنے سے اک آٹھ دس سال کا بچہ بڑا سا تھیلا اپنی پیٹھ پر اُٹھائے آرہا تھا اور تمام گھروں کے آگے رکھے کچرے کے ڈسٹ بنوں سے پلاسٹک کی بوتلیں اور دوسرا سامان چُن چُن کر اپنے تھیلے میں ڈالا اور آگے بڑھ گیا۔اُسکی رفتار کی تیزی بتا رہی تھی کہ وہ کچرا اُٹھانے والوں سے پہلے تمام ڈسٹ بنوں تک پہچنا چاہتا ہے۔
کچھ دیر بعد اخبار والا گلی میں داخل ہوا اور گھروں میں پھینکتا ہوا گذر گیا۔
واہ ری دنیا۰۰۰۰۰۰۰
میری سوچ کی پرتیں کھلنے لگیں،اللّہ نے کس کس کا رزق کس کس طرح لکھا ہے،ہر شخص اپنے اپنے نصیب کے مطابق عمل کر رہا ہے۔کوئی خواب و خرگوش کے مزے لےرہا ہےتو کوئی بوڑھا گلی گلی مارا مارا پھر رہا ہے،اک اک پھول کوچُنتا ہوا۰۰۰۰۰۰
کوئی بچہ اپنی نیند قربان کر کے کچرے دانوں سے اپنا رزق سمیٹ رہا ہے تو کوئی صوفہ پہ اُوندھا پڑا ہے اور اسکے باوجود تھک رہا ہے۰۰۰۰۰
توکوئی سورج نکلنے سے پہلے اخبار کے بنڈل بنا بنا کر گھر گھر جا رہا ہی۔
بے شک کائنات اِک سربستہ راز اور اُس کے خالق کے ہر کام میں مصلحت پوشیدہ ہے۔میں آہستہ آہستہ قدموں سے لاؤنج میں لوٹ آیا اور صوفہ کی پشت سے سر ٹکا دیا۔
(ابنِ آدم)

 

 

 

Posted in اپنا اپنا سفر۰۰۰اپنی اپنی جستجو | 2 Comments

بارش میں گُھلتے آنسو

دل دہلانے والی آواز کے ساتھ بجلی چمکی اور میرے سامنے کا منظر منّور ہوگیا۔ میں دیکھ سکتا تھا ،آسمان سے تیزی سے ایک کے پیچھے ایک گرتی بارش کی بوندیں ۰۰۰۰۰
جیسےکسی ٹوٹی مالا کے موتی۰۰۰۰۰
ایک ساتھ گر کر فنا ہونا منظور۰۰۰۰۰
مگر ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑنا گوارا نہیں!
میں نے چہرے پہ بہتےبارش کے پانی کو اپنی بھیگی آستین سے صاف کرنے کی ناکام سی کوشش کی۔میں کافی دیر سے ٹیرس پہ بیٹھا بارانِ رحمت میں تِتر بِتر تھا۔
کل شام سے جیسے آسمان والے کوبنجر زمین کی سسکیوں اور خشک ہوتے ہوئے پیڑوں کی آہ پر ترس آگیا تھا اور اُس نے اپنے ابرِ رحمت کے در کھول دئیے تھے،،،پانی تھا کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا،،،،نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔وہ لوگ جو کل بارانِ رحمت کے لئیے دعاگو تھے،آج بارش رکنے کی دعائیں کر رہے تھے۔
“واہ رے انسان کبھی خوش نہ ہونا۰۰۰۰۰”
میرے ذہن میں جھماکے ہونے لگے۰۰۰۰کسی کی یاد کی گھٹا ان الفاظ کے ساتھ اُمنڈ آئی اور میرے آنسو بارش کے پانی میں اضافہ کرنے لگے۔
انسان بھی کتنا عجیب ہے،کبھی کبھی تو ہزاروں کے مجمع میں تنہا اور کبھی کسی ایک کے ساتھ اتنا مگن کہ ہزاروں کے ہونے کی پرواہ نہیں۰۰۰۰۰
کچھ ایسا ہی ساتھ میرا اور اُسکا بھی تھا،،،،پہروں ہم اک دوسرے کے ساتھ گذار دیتے،،،گھنٹوں باتیں کرنے کے بعد بھی جب میں اپنی تشنگی کا اظہار کرتا تو وہ شکایتی لہجے میں کہتی”کبھی خوش نہ ہونا” اور میں مُسکرا دیتا۔ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ عزیز تھا،جتنا بھی،،،،جہاں تک ممکن۔
کہتے ہیں وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا،،،،ہر ملن کا مقدر جدائی ہے ،،،انسان ہار جاتا ہے،،،،کھو دیتا ہے،،،،،اپنوں کو،،،،،اپنے پیاروں کو
مجبور۰۰۰۰۰بے بس۰۰۰۰
کبھی حالات سے۰۰۰۰۰
کبھی قدرت کے ہاتھوں۰۰۰۰
اور کبھی کسی کے پیار میں اُسکو چھوڑ دینا بہتر۰۰۰
ایک رُک جاتا ہے اور دوسرا آگے بڑھ جاتا ہے،،،قدم بقدم دوری۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
سو میں بھی رُک گیا تھا اور آج بھی اُسی پل میں جی رہا تھا،،،،وہی لمحات،،،،وہی حاصل ِ زیست
میں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے،بادش کی بوندوں کو فنا ہوتے دیکھ رہا تھا ،،،،،رشک کر رہا تھا
کاش ہم بھی کسی مالا کے موتی ۰۰۰۰کسی بارش کی بوندیں ہوتے
ایک ساتھ۰۰۰۰۰
ساتھ ساتھ۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

 

Posted in بارش میں گُھلتے آنسو | 5 Comments

محبت ہمسفر میری

آسمان کی وسعتوں میں اُڑتے آوارہ بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کرتا چاند،کبھی کسی بادل کے پیچھے چھپ جاتا اور کبھی کسی بادل کے دامن سے جھانکتا۰۰۰اسُکی اس حرکت سے جیسے یادوں کےدریچے کُھلتے جا رہے تھے۰۰۰۰کسی کی شوخ و چنچل ہنسی اور میری نوجوانی کے دن۰۰۰۰ چاند کی چمک ماندپڑ گئی اور چاندنی دھندلا سی گئی۰۰۰میں نےدونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کی مدد سے ،آنکھوں میں چھائی نمی صاف کرنے کی ناکام کوشش کی،مگر دل جیسے بھر آیا تھااور آنسوؤں کا سیلاب ضبط کےتمام بند توڑنے کو بےتاب تھا۔
میں مغرب کے بعد چھت پر لیٹا ،آسمان کی وسعتوں پہ نگاہیں جمائے،چاند سے آنکھیں ملائے،،،جیسے اُسے ڈھونڈنے میں مصروف تھا۔کبھی کبھی کسی کی یاد،سارے بند توڑ کر،کسی بچھڑی ہوئی موج کی مانند آپ کے وجود کو بہا لے جاتی ہےاور آپ ہزار ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود،خود کو یادوں کے سمندر میں ڈوبنے سے نہیں بچا پاتے۔
کچھ ایسا ہی آج میرے ساتھ ہوا۰۰۰۰سرِ شام ہی دل پر اک اداسی،اک سوگواری کی دبیز چادر آن گری تھی جس نے میرے سارے وجود کو سوگواری کے اتھاہ غار میں دھکیل دیا تھا۰۰۰۰اک بوجھل بوجھل سا احساس۰۰۰۰۰۰۰
اک کھوئی ہوئی سی یاد۰۰۰۰۰
زندگی کا اک سنہرا باب۰۰۰۰۰۰
بھولی بسری اک کہانی۰۰۰۰۰۰
اک ان کہی،ان سنی داستاں ۰۰۰۰۰
وہ میری زندگی میں اک خواب کی مانند تھی۰۰۰۰آئی۰۰۰۰۰چھائی۰۰۰۰۰اور گذر گئی۰۰۰۰۰مگر ہمیشہ قائم رہنے والے انمٹ نقوش۰۰۰۰۰ہر پل یاد۰۰۰۰۰ہر پل کا ساتھ۰۰۰۰۰
یہ کسی کی چاہ ہی تو ہے جو ہماری تنہائیوں کو مہکاتی ہے،ہماری راتوں کو جگمگاتی ہے۰۰۰۰۰ہجوم میں ۰۰۰۰۰محفلوں میں ۰۰۰۰۰ہمیں تنہا بناتی ہے۰۰۰۰۰سوچ کی رہگذر پہ دور تک بھگاتی ہے اور مسلسل آگے بڑھتے رہنے پر اُکساتی ہے،اور پھر تھکاتھکا کر آرزوؤں کے نرم بستر پر تھپک تھپک کر سُلاتی ہے۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں خوشبو کی مانند آتے ہیں ،انکے وجود کو محسوس توکیا جا سکتا ہے۔
ایک لطافت۰۰۰۰۰ایک طمانیت کااحساس۰۰۰۰۰ایک راحت ایک سرور کی کیفیت۰۰۰۰۰مگر اُنکو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔بس ایک مہکا مہکا ساایک پاکیزہ سا احساسِ وابستگی۰۰۰۰اُن کے پاس ہونے کی طمانیت۔
میرا بھی اُس کے ساتھ بس اتنا ہی تعلق تھا۰۰۰۰۰خیالوں کا۰۰۰۰۰خوابوں کا۰۰۰۰۰اسُکا وجود میرے لئیے اک “گوہرِ نایاب ” کی مانند تھا۔
“میرے دل کی سیپ میں بند اک انمول موتی”۰۰۰۰۰نہ کبھی اظہارِ محبت کی خواہش ہوئی اور نہ کرنے کی تمنا۰۰۰۰۰
کسی کو طلب کے بغیر چاہنا ہی اصل محبت ۰۰۰۰بس دور دور سے اسکے پاس ہونے کا احساس،اُس سے رابطے کا اطمینان۰۰۰۰اور اپنی چاہت پر ناز۰۰۰۰یہی میری کُل کائناتِ حیات۰۰۰۰۰
میرے نزدیک محبت کو پا لینا دراصل محبت کھو جانے کے مترادف ہے،محبت تو بس ایک احساسِ وابستگی ہے،،،،ایک جذبہ ء لازوال،،،جسکی اصل روح دراصل” لا حاصلیت” ہے۔

(ابنِ آدم)

Posted in محبت ہمسفر میری | 3 Comments

سفرِ رائیگاں

تالیوں کی تیز آواز میری سماعت پہ ہتھوڑوں کی طرح برس رہی تھی,مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سب لوگ مجھ پہ قہقہے لگا رہے ہوں، میں آنکھوں میں نمی لئیے،اپنے ساتھیوں کی پذیرائی بھری گفتگو سُن رہا تھا مگر سمجھنے سے قاصر تھا۔ یہ سب ایک خواب کی مانند لگ رہا تھا،مجھے یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ آج میرا آفس میں آخری دن ہےاور مجھے یہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے رخصت کیا جا رہا ہے۔
عمرِ عزیز کے پینتیس سے زائد برس گذارنے کے بعد آج ریٹائرڈ ہو رہا تھا،میری سروس ایکسٹینشن کی درخواست مسترد ہو گئی تھی اور مجھے بتایا جا رہا تھا کہ آپ نے تمام زندگی بہت محنت اور ایمانداری سے کام کیا

………Weldone……

مگر اب آپ کام کے قابل نہیں لہٰذا

…..you may go now……
بامشکل تمام میں نے آنکھ میں بھرے آنسوؤں کو گرنے سے بچا رکھا تھا۔
بوجھل قدموں اور ڈوبتے دل کے ساتھ میں دونوں ہاتھوں میں تحفے اور تعریفی اسناد تھامے آفس کے زینے سے نیچے اُتر رہا تھا۔
مجھے پینتیس برس پہلے کا زمانہ یاد آرہا تھا ، جیسے کل کی بات ہو۰۰۰۰میں ایک بھرپور نوجوان۰۰۰۰دو چار جست میں زینہ طے۰۰۰۰منٹ میں اوُپر اور اگلے منٹ نیچے۰۰۰۰مگر
آج یہی زینہ برسوں کی مُسافت معلوم ہو رہا تھا۔
کیا کھویا۰۰۰؟
کیا پایا۰۰۰؟
ایک چھوٹا سا گھر۰۰۰بچے تعلیم پا گئے۰۰۰۰اپنے اپنے کاموں میں مگن۰۰۰۰۰اللّہ نے عزت سے گذار دی۰۰۰۰میری چھوٹی سی فیملی۰۰۰۰۰
میری بیوی۰۰۰۰مجھے اُسکے شکوے یاد آرہے تھے
۰۰۰۰۰۰کبھی تو جلدی گھر آجایا کریں
۰۰۰۰۰ارے اپنی صحت کی فکر ہے آپکو
بچے آپکو یاد کرتے کرتے آج بھی سو گئے
اُسکے فون۰۰۰۰حالات خراب ہیں ،،،دیکھ بھال کر آئیے گا،،،،مجھے فکر ہو رہی ہے
آج جلدی آجائیں،،،،بہت اچھا موسم ہے،،،،،اِس ویک اینڈ پر کہیں چلتے ہیں مزہ آئے گا
مگر ۰۰۰۰میں کمپنی کا وفادار۰۰۰۰اپنی کام میں مگن۰۰۰۰ایک ذمہ دار فرد۰۰۰۰کام کا بوجھ۰۰۰۰روز ایک نئی جنگ۰۰۰۰روز ارجنٹ کام
سوری آج مشکل ہے ، نہیں آپاؤں گا۰۰۰۰چلیں گے کبھی فرصت سے۰۰۰۰
مگر ۰۰۰۰وہ فرصت کے لمحات کبھی نہیں آئے۰۰۰
اور آج کے بعد فرصت ہی فرصت ۰۰۰۰
میرے قدم ڈگمگا گئے۰۰۰۰میں نے ریلنگ کا سہارا لیا اور بامشکل تمام خود کو گرنے سے بچایا۰۰۰۰
وقت بھی بہت ظالم ہے۰۰۰۰اب نہ جسم میں جان رہی
اور نہ دل میں اُمنگ۰۰۰۰
مجھے بچوں کی باتیں یاد آنے لگیں ۰۰۰۰۰
پاپا، آپ نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟؟؟؟
کیا کیا ہے ہمارے لئیے؟؟؟؟
آپکو بس اپنی جاب سے پیار ہے۰۰۰میرا دل بھر آیا۔
تمام عمر دوسروں کو اچھی زندگی دینے کی جد و جہد میں،،،کیا ہارا؟۰۰۰۰کیا جیتا؟
کہاں کہاں غلط کیا؟؟؟کیا صحیح تھا؟؟
میں اب بھی سمجھنے سے قاصر تھا۰۰۰
شاید اپنی زندگی اور جوانی لُٹانے کے باوجود بھی کچھ حاصل نہ کر پایا۰۰۰
آج بھی خالی ہاتھ۰۰۰۰۰
بہت دیر سے روکے ہوئے آنسو میرے چہرے کی جھریوں سے ہوتے ہوئے۰۰۰۰آفس کی آخری سیڑھی پر گر کر کہیں گُم ہوگئے۔
(ابنِ آدم)

Posted in سفرِ رائیگاں | 1 Comment

خالی کشکوم

بہت دیرسے میں ،اُس پارک میں درخت سے ٹیک لگائےاسکےسائےکو بڑھتےدیکھ رہا تھا۔
میرے دیکھتے ہی دیکھتے سورج لمبی مُسافت طے کرکےتیزی کےساتھ غروب ہونے کو بےتاب تھا۔پرندے دن بھر کی تگ و دو کے بعداپنے اپنے گھونسلوں کی طرف رواں دواں تھے۔
صبح سے شام اور شام سے صبح۰۰۰
دن کسی تیز رفتار ٹرین کے ڈبوں کی مانند،اِک جھلک دیکھا کر اوجھل ہوتے جاتے ہیں ،،جیسے ٹوٹی مالا کے موتی۰۰۰ایک ایک کر کے گرتے جاتے ہوں اور بالآخر ٹرین نے گذر جانا اور مالا نے فنا ہو جانا ہے۔
اور ہم انسان ہر کام اور عمل کل پر ٹالنے کی عادت کا شکار۰۰۰۰
ذرا سی مشقت اور پریشانی اُٹھانے کو تیار نہیں ،،،روز ایک نئی پلاننگ۰۰۰۰۰۰مگر عمل؟؟؟؟
اپنی صحت سے لا پرواہ۰۰۰۰شایداُس دن کے انتظار میں جب بیماری ہمیں اپنے شکنجے میں آ جکڑے۰۰۰۰
عبادت کے لئے بھی آخری عمر کےانتظار میں ۰۰۰۰۰۰۰۰
پھر دنیا سے خالی ہاتھ۰۰۰۰۰۰
خالی کشکول لئے ہی چلا جاتا ہے۰۰۰۰۰۰

Posted in خالی کشکول | Leave a comment

فنا مقّدر ہے۰۰۰۰

سیڑھی اُترتے ہوئے میرے قدم لڑکھڑا گئے،میں گرتے گرتے بچا اور بامشکل تمام ریلنگ کو تھام سکا۔میری آنکھوں میں تیرتی نمی نے ویژن کو دھندلا دیا تھا۔میں نے شرٹ کی آستین سے آنکھیں رگڑ کر صاف کرنے کی ایک ناکام سی کوشش کی،،،مگر آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جو اُمنڈنے کو تیار تھا،،،،دل کے ساتھ ساتھ آنکھ بھی بھر آتی تھی۔
کمالِ ضبط سے کام لیتے ہوئے میں نے اپنے آپ کو سنبھالا،،،،،میرے اندر اِک جل تھل کاسا سماں تھا۔ایک بارش تھی جو برسے جا رہی تھی۔
میں اپنے ایک قریبی دوست کی عیادت کے لئیے ہسپتال میں موجود تھا،،،اُسے موت و زیست کی کیفیت میں مُبتلا دیکھ کر میرا دل بھر آیا تھا۔
چاروں طرف چاہنے والے،،،،،،پیار کرنے والے،،،،،جان چھڑکنے والوں کا ہجوم،،،،،مگر بےبس،،،،،،لاچار،،،،،بس ہاتھ مل رہے تھے اور اپنے پیارے کو جاتا دیکھ رہے تھے۔
کبھی کبھی انسان کتناکمزور اور مجبور۰۰۰۰۰بڑے بڑے دعوے۰۰۰۰اونچے خیالات۰۰۰۰صدیوں کی منصوبہ بندی۰۰۰۰مگردر حقیقت بالکل بے بس۰۰۰۰حالات کی اک ذرا سی ٹھوکر سے کچھ کا کچھ۰۰۰۰سب کچھ جوں کا توں دھرا رہ جائے۰۰۰۰پل بھر میں سارا منظر ہی تبدیل۰۰۰۰
میں دیوار کا سہارالئیے کھڑا تھا،،،،،سوچوں اور یادوں کا اِک اژدھام تھا جو جوق در جوق چلا آرہا تھا۔
مجھے اپنے دوست کی زندہ دلی یاد آئی،،،،اسکے زندگی سے بھرپور قہقہے،،،،،خوش مزاجی،،،،چٹکلے،،،،کیسے کیسے خواب،،،،کیا کیا پلاننگ۔
انسان کے کٹھن امتحانوں میں سے ایک امتحان،اپنے پیاروں کو تکلیف میں دیکھنا ہےاور کچھ نہ کر پانا ہے۔اپنی بے بسی کا احساس،،،،،کتنا حقیر،،،،کتنا کمزور۰۰۰۰
جتنا میں سوچتا جاتا میرا دل ڈوبتا جاتا۰۰۰۰۰
میں ہاتھ مل رہا تھا،،،،سب کی طرح بے بسی سے،،،،سہارا تھا
تو صرف ایک امُید اور دعا کا ۰۰۰۰
میں دکھی دل اور بوجھل قدموں سے ہسپتال سے باہر نکل آیا،،،،یہاں زندگی اپنی پوری آب و تاب سے جگمگا رہی تھی،،،،ہر طرف وہی گہماگہمی،،،،وہی رونق،،،،،
میں سر جھکائے بوجھل قدموں سے اپنے راستے پر چل پڑا۔

   (ابنِ آدم)

Posted in فنا مقّدر ہے | Leave a comment

سالِ نو

‎سمندر کی ننھی ننھی بوندیں دسمبر کی اوس میں مل کر ماحول کو اور بھی نم بنا رہی تھیں۔ہر طرف ایک خوشگوار سی خنکی چھائی ہوئی تھی۔دسمبر کے ڈھلتے سورج کی نارنجی کرنیں اسُکی اداسی کا بھید کھول رہی تھیں ۔میں سمندر کے کنارے ایک چٹان کی کوکھ سے بچھڑے پتھر پہ بیٹھا سورج کی اداسی کو محسوس کر رہا تھا۔
‎آج سال کا آخری دن ڈھلنے کے قریب تھا۰۰۰۰۰تھکا ماندہ سورج۰۰۰۰طویل مسافت کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے غروب ہونے کو تھا۰۰۰۰۰ساتھ ہی بہت سی یادیں اور باتیں۰۰۰۰۰۰
‎کتنے ہی انمول لمحات اور انمٹ نقوش ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے امر کر گیا تھا۔
‎اُسے جانا تھا اور کل اک جواں سورج،نئے امنگ اور ولولے کے ساتھ طلوع ہونے کو تیار تھا۰۰۰۰
‎یہی دستورِ کائنات اور یہی فلسفہ ء حیات۰۰۰۰۰
‎سب کو ڈھل جانا ہے ،،،ڈوب جانا ہے اور جگہ دینی ہے ،،،آنے والوں کو،،،،،
‎ہر ذی روح کا مقّدر فنا ہے،،،،اُسے ہو ہی جانا ہے۔
‎میں خاموشی سے بیٹھا ،ڈوبتے سورج کے غم میں شریک،،،اسُکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سوچ رہا تھا۔
‎کچھ دیر پہلے جب یہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا تو کون تھا جو اس سے آنکھ ملا سکے؟؟؟
‎اسکی طرف آنکھ بھر کر دیکھ سکے۔
‎مگر اب۰۰۰۰۰۰
‎بےشک ہر عروج کو زوال اور ہر ذی روح کو فنا ہے۔
‎گذرتے سال کا آخری پہر۰۰۰۰۰
‎کیا کھویا؟؟؟کیا پایا؟؟؟؟
‎وقت سے کچھ حاصل کر سکے؟؟یا صرف گذار دیا۰۰۰۰
‎میں ہمیشہ کی طرح اُداس تھا،،،،وہی افسوس اور پچھتاوے۰۰۰۰۰۰۰۰۰
‎گئے دنوں کا حساب کر رہا تھا،،،،،ہر طرف خسارہ ہی خسارہ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
‎زندگی کی مالا سے ایک اور موتی کم ہونے کو تھا،،،،کتنے موتی اور ہونگے نہیں معلوم۰۰۰۰۰۰
‎مگر وہی ایک اُمید ،اپنے رب سے،،،،پھر وہی کچھ حاصل کر نے اور پا لینے کی تمنا۰۰۰۰۰۰۰۰۰
‎ کچھ کر گذرنے کی لگن۰۰۰۰۰۰۰
‎بےشک وہ بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔
‎ایک نیا جوش،،،ایک نئی لگن۰۰۰
‎کہیں قریب سے میرے کانوں میں مغرب کی اذان کی صدا آنے لگی،میں یقینِ کامل سے اُٹھ کھڑا ہوا،،،،کل کے سورج کا استقبال کرنے۰۰۰۰۰

‎ (ابنِ آدم)

Posted in سالِ نو | Leave a comment

تم ۰۰۰میں ۰۰۰اور۰۰۰دسمبر

ہمارے قدموں تلے چرچراتے خشک پتے اس ویراں سڑک کی خاموشی توڑنےکی ناکام کوششوں میں مصروف تھے۔صبح کے اِس سمے ہر طرف گہری اور دبیز دھند کا راج تھا۔ایسا لگتا تھا کہ بادل فلک سےزمیں کو بوسہ دینے اُتر آئے ہوں،ہماری سانسیں باہر نکلتے ہی دھواں بن کر بادلوں میں گھل مل جا رہی تھیں۔
نمازِ فجر سے فارغ ہوکر ہم دونوں نکل کھڑے ہوئے تھے۔دسمبر کی پہلی صبح۰۰۰۰۰۰ہم اس حسیں صبح کو کسی صورت مِس نہیں کرنا چاہتے تھے۔
بہت دیر سے چپ چاپ،اپنی اپنی سوچ میں گم،،،اس سرد اور سنسان سمے کو محسوس کر رہے تھے۔اس خاموش سمے کی پُر اسراریت نے ہمارے وجود کو اپنے حصار میں جکڑا ہوا تھا۔
میرا۰۰۰۰۰اسُکا۰۰۰۰۰۰اور ہم سب کا دسمبر۰۰۰
اک عجب اداس سا بندھن۰۰۰اک نامعلوم سا تعلق۰۰۰۰اک تنہائی کا احساس۔
کسی کی یاد۰۰۰۰کوئی پرانا ساتھ۰۰۰۰کوئی کھویا ہوا پل۰۰۰۰۰
لگتا تھا سب کچھ لوٹ آتا ہے ۰۰۰۰دسمبر کے ساتھ
دیکھو۰۰۰۰۰
“دسمبر پھر آگیا”
اُس نے ایک عجب سی سرشاری سے کہا۔
“ہاں”،،،،میں نے مسکراتے ہوئے ،گرم شال سے جھانکتے اسُکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اسُکی روشن آنکھوں میں مجھے یادوں کے لا تعداد دئیے جلتے نظر آرہے تھے۰۰۰
پتہ نہیں کیوں دسمبر مجھے ہمیشہ اپنا اپنا سا لگتا ہے۔ جیسےمیرا اس سے کوئی خاص بندھن۰۰۰۰کوئی رشتہ۰۰۰۰کوئی اپنا پن۰۰۰۰بہت خاص۰۰۰۰بہت قریبی۰۰۰۰۰لیکن کچھ پُراسرار سا۰۰۰۰۰الجھا الُجھا سا۰۰۰۰۰
وہ بولتی جا رہی تھی۔
خشک پتوں سے گھری زمین۰۰۰۰سرد ہوا۰۰۰۰سنسان راستہ۰۰۰۰
میں اور وہ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
میں اسُکی بات سننے کے ساتھ ساتھ ان لمحات کی خنکی کو اپنے وجود میں جذب کرنے مصروف تھا۔
تمکو معلوم ہے نا یہ سب مجھے کتنا پسند۰۰۰۰۰
سرد ہوا۰۰۰۰خاموشی۰۰۰۰۰اور لمبی اُداس راتیں۰۰۰۰۰سب کے درمیاں ہوتے ہوئے بھی اکیلا پن۰۰۰۰
شاید یہی سب تومیرے اندر۰۰۰۰۰۰
“سنو،،،،کیا تم نے کبھی اپنے اندر کے دسمبر کو محسوس کیا ہے”؟
“کیا”؟؟؟؟
میں چونک اُٹھا ۔
“ہاں”، ہم سب کے اندر ایک دسمبر ہوتا ہے،،،،”سرد”۰۰۰۰”اداس”۰۰۰۰۰اور”تنہا”دسمبر۔
ضرورت صرف اسُکو ڈھونڈنے کی ہے۔دسمبر تو موجود ہوتا ہے۔
کبھی کسی اداس شام،کسی ویرانے میں،کسی خاموش ٹھہری جھیل کے کنارے ۰۰۰۰۰۰تنہائی میں اپنے اندر کے دسمبر کو آواز دینا۰۰۰۰وہ تمہیں مل جائے گا۰۰۰۰تم اُسے پا لو گے۔
میں اسُکی آنکھوں میں اک گہری جھیل سی گہرائی دیکھ سکتا تھا۰۰۰۰۰میرے وجود میں ایک سرد سی لہر دوڑ گئی۰۰۰۰شاید میرے اندر کا دسمبر جاگ رہا تھا۔
(ابنِ آدم)

Posted in تم،میں اور دسمبر | 3 Comments

ایک شام،ایک سوچ اور میں

میں نے کلائی پہ بندھی گھڑی پر نظر ڈالی۰۰۰مجھے واقعی گھبراہٹ ہونے لگی۰۰۰میں فلائٹ تقریباًمِس کر چکا تھا۰۰۰۰
میں ایک مختصر سے آفیشل ٹور کے بعد گھر کی طرف رواں دواں تھااور دوبئی کے مصروف ترین انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے میری پاکستان کےلئے کنیکٹنگ فلائٹ تھی۰ مجھے معلوم تھا کہ بورڈنگ کارڈ رکھنے کے باوجود فلائٹ کسی کے لئے لیٹ نہیں ہوتی ۔میں تیز تیز قدموں کے ساتھ تقریباً اپنے مطلوبہ گیٹ کی طرف دوڑ رہا تھا۔میرے داہنے کندھے پہ لیپ ٹاپ بیگ جھول رہا تھا اور بائیں ہاتھ سے پکڑا ہینڈ کیری کسی برق رفتار گاڑی کی طرح میری اسپیڈ کا ساتھ دینے پر مجبور تھا،اسکے وہیل ایئر پورٹ کے شفاف ماربل پر رگڑ کھا کر ایک بےتکا سا شور پیدا کر رہے تھے جو اس مصروف ترین ایئرپورٹ کےہنگامے میں کہیں گم ہورہا تھا۔میرا مطلوبہ گیٹ دوسرے سرے پر واقع تھا اور مجھے ایک لمبا فاصلہ طے کرنا تھا۔
بالآخر میں اپنے مطلوبہ گیٹ کاوئنٹر تک پہنچ گیا۔میں نے اپنی پھولی ہوئی سانسوں کو سنبھالتے ہوئےکاؤنٹر پر موجود خاتون سے امید بھرے لہجے میں اپنی فلائٹ کے متعلق دریافت کیا۔ خاتون نے ایک رسمی مسکراہٹ میرے پسینے سے شرابور چہرے پر ڈالی اور پیشہ ورانہ نرمی کے ساتھ مجھےمطلع کیا کہ میں اپنی فلائٹ مِس کر چکا ہوں اور مجھے اب دوسری فلائٹ سے تقریباً چھ گھنٹے بعد روانہ ہونا ہوگا۔
میں نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر اسکا مُسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور بادل ناخواہستہ آگے بڑھ گیا۔
قریب ہی موجود بالکونی نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کر لی اور میں ٹشو پیپر سے چہرہ صاف کرتے ہوئےبالکونی میں آ کھڑا ہوا۔
نیچے دوبئ کا مصروف ترین ایئر پورٹ میری نظروں کے سامنے تھا۔ ہر طرف اک بھاگ دوڑ۰۰۰ہر شخص اپنی دھن میں مگن۰۰۰۰۰۰اپنے آپ میں مست۰۰۰۰اپنی اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں۰۰۰۰ایک دوسرے کو ہٹاتےہوئے۰۰۰۰جلدی میں ایک دوسرے کو گراتے۰۰۰اُن سے آگے نکلنے کے چکر میں ۰۰۰انُکو سائیڈ پر کرتے لوگ۰۰۰۰۰
یہ اس ایئر پورٹ کی ہی نہیں دنیا کی بھی کیفیت ۰۰۰
ایک دوڑِ مسلسل۰۰۰۰
ایک دوسرےسے آگے نکل جانےکی ازلی خواہش۰۰۰۰
ایک دوسرے کو مات دینے کی چاہ ۰۰۰۰
سب کچھ پا لینےکی ھوس اورسب کچھ حاصل کرنے کی تمنا۔
“مگر”اس ایئرپورٹ اور دنیا میں صرف ایک بنیادی فرق تھا،یہاں لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ کہاں سے آئےہیں،،،کہاں اور کیوں جا رہے ہیں۔لیکن دنیا کے عام انسان مقصدِ حیات سے لاعلم۰۰۰۰
کہاں سے آیا؟؟؟
کیوں بھیجا گیا؟؟؟
اور واپس لوٹ کر کہاں جانا ہے؟؟؟؟
کچھ خبر نہیں؟
کیا کبھی ہم نے اپنے وجود کی آگہی کی کوشش کی؟؟؟
کیا ہم نے سوچا کہ اس مختصر سی حیات میں کیا کرنے کا وعدہ لے کر ہمیں یہاں بھیجا گیا۰۰۰۰ہمیں واپس جا کر جواب دینا ہوگا۰۰۰۰اپنے کئے پر “جزا”اور”سزا”
مجھے اپنے گذرے وقت پہ افسوس ہونے لگا۰۰۰۰ہم میں سے بیشتر افراد زندگی کے انمول لمحات کو صرف گذارنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔
ایک مست سی کیفیت ،،،،اپنے آپ میں سرشار
زندگی بے مقصد گذارنے میں مشغول ،،،صرف کھانا پینا،سونا اورتفریح۔
یہی انسان کی کُل کائنات اور اسکا حاصلِ زندگی
سفرِ آخرت پہ لے جانے والا ہینڈ کیری خالی۰۰۰۰
میری نظر اپنے سائیڈ پر رکھے ہینڈ کیری پر پڑی۔
میں نے ایک گہرا سانس لیا اور ایک نئے عزم سےچل پڑا۔
(ابنِ آدم)

Posted in ایک شام،ایک سوچ اور میں | Leave a comment

A long drive

اب اُٹھ بھی جائیے،،،بیگم نے تیسری بار کمرے میں آکر کہا۰۰۰۰چھٹی کا دن تھا اور ہمیشہ کی طرح ہم دونوں اپنے اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے تھے۰۰۰میری کوشش ہوتی کہ چھٹی کا دن گھر میں آرام و سکون سے گذارا جائے اور بیگم کی کوشش کہ آؤٹنگ کی جائے۰۰۰آج پھر اسی بات پر اپنی اپنی جدوجہد۰۰۰کبھی وہ جیت جاتی پر اکثر میں ہار جاتا۰۰۰۰
اس سے پہلے کہ مطلع مزید ابر آلود ہوتا میں نے اُٹھنے میں عافیت جانی،،،آج لانگ ڈرائیو کا موڈ تھا۰۰۰۰میرا نہیں اُسکا۔
گاڑی باہر نکال کر مجھے احساس ہوا کہ آج گھر سے نہ نکلتا تو بہت کچھ مِس کر جاتا۔سردیوں کی آمد آمد تھی اور شام کے اس پہر اِک میٹھی میٹھی نمی فضا کو معطر کر رہی تھی ۰۰۰۰ہلکی ہلکی خنک سی ہوا،خوامخواہ آپکو گنگنانے پر مجبور کر رہی تھی ۰۰۰میں نے گاڑی کا اے سی آف کر کے ونڈوگلاس نیچے کر دئیے۔میں اس حسین فضا کو بھرپور انجوائے کرنا چاہتا تھا۰۰۰مجھ پر چھائی سستی شاید کمرے کے بیڈ پر ہی وہ گئی تھی۔میں نے گاڑی کا ٹیپ آن کرلیا اور ہم دونوں دھیمی دھیمی میوزک سے لطف اندوز ہوتے ہوئے خنک ہوا کو اپنے سینے میں سمونے کی کوشش کرنے لگے۔
سڑکوں پر حسبِ معمول رش تھا،مین روڈ پر آتے ہی میرا موڈ چینچ ہونے لگا،،وہی افراتفری، بے قاعدگی اور بے ہنگم ٹریفک،،اللّہ کی پناہ ۰۰۰۰۰۰
گاڑی کا چلانا مشکل ہو رہا تھا اور مجھ پر جھنجھلاہٹ سوار ہونے لگی۔میری کوشش تھی کہ جلد از جلد ٹریفک کے اژدھام سے نکل کر مضافاتی علاقے میں پہنچا جائے تاکہ سکون کے ساتھ ڈرائیو اور موسم کو انجائے کیا جاسکے۔
اچانک سامنے والی گاڑی نے بریک لگائے اور میں کوشش کے باوجود اپنی گاڑی کو نہ روک سکا اور وہ آگے والی گاڑی کے بمپر سے ٹکرا گئی۔
آگے گاڑی سے ایک صاحب بہت غصے میں باہر آئے اور پہلے تو انہوں نے اپنی گاڑی کا جائزہ لیا اور پھر نہایت بدتمیزی سے انہوں نے مجھے گاڑی سے باہر آنے کا اشارہ کیا۔اُنکے اس انداز سے میں کھول اُٹھا،ابھی میں نکلنے ہی لگا تھا کہ میری مسزز نے میرا ہاتھ تھام لیا”ذرا آرام سے بات کیجئے گا”
میں نے اسُکی اُڑی ہوئی رنگت پر نظر ڈالی اور مُسکرا دیا۔
“اسلام و علیکم”،میں نے گاڑی سے نکلتے ہی اُن صاحب کو سلام کیا،،جسکا خاطر خواہ اثر ہوااور انہوں نے بادل نہ خواہستہ جواب دیا،،،اُنکی گاڑی کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تھا،میں نے معذرت کی اور انکو اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا”جو بھی اخراجات ہونگے ، میں ادا کروں گا”۔میرے اس طرزِ عمل سے انکا غصہ کسی حد تک رفوچکو ہو چکا تھا۰۰۰وہ بھی مُسکراتے ہوئے بولے”نہیں جناب،ایسا کوئی خاص خرچہ نہیں ،،اس افراتفری میں ہوجاتا ہے”اور معاملہ افہام و تفہیم سے رفع دفع ہوگیا۔
میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور مُسکراتے ہوئے بیگم کو دیکھا۔
“تم نے بروقت مجھے ٹھنڈاکردیا ورنہ اُن صاحب کا انداز”
وہ مُسکراتے ہوئے بولی۔
“دو میٹھے بول اور ذرا سی برداشت،،،بہت سارے مسائل کا حل ہے۔
برائی کا جواب برائی سے دینا۔
اینٹ کے جواب میں پتھر کھینچ مارناسب سے آسان کام۔
دنیا کے اکثر لوگ یہی تو کرتے ہیں بلکہ پتھر کے جواب میں اینٹ مارنے کو فخر سمجھتے ہیں اور یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ۔
غصہ ہمارے مزاجوں میں شامل ہو گیا ہے ۔کیا یہی ہےہمارے دین کی تعلیمات؟
انسان کو محبت کی مٹی سے بنایا گیا ہے اور محبت اس پر اثر کرتی ہے،،،دیر سے کرے مگر کرتی ضرور ہے۔
ہمیں محبتیں بانٹتیے رہنا چاہئے۰۰۰پانی کا ایک قطرہ اگر مسلسل سخت ترین پتھر پر بھی گرتا رہے تواس پر بھی اثرات اور انمٹ نشانات چھوڑ جاتا ہے۔
سمندر کی ایک نرم سی دستکِ مسلسل بلند و بالا چٹانوں پر اثرانداز ہوتی ہےاور اسکی جہدِ مسلسل کے نتیجے میں سخت سے سخت چٹان بھی سمندر کو اپنے وجود میں شگاف کرکے رستہ دینے پر مجبور ہوجاتی ہے۔”
وہ مسلسل بولے جا رہی تھی،،میں نے آہستہ سے ٹیپ بند کردیا۔
“باتیں اثر کرتیں ہیں ،،بشرطِ کہ صدقِ دل اور یقین کامل سے کی جائیں ۔اپنا ۱۰۰% دیتے جاؤ،بنا لالچ بنا کسی بدلے کے۔باقی اللّہ پر چھوڑ دو ،کوئی شک نہیں تم ایک نہ ایک دن تم کامیاب ہوگے”
اُسکی آنکھوں میں ایمان و یقین کی چمک تھی۔
میرا موڈ پھر سے رومینٹک ہونے لگا۔”میرے خیال میں باقی بھاشن گھر جا کر دے دینا۔”میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ جیسے کسی خواب سی جاگی،چونک کر مجھے دیکھا اور اسُکی شرمندہ سی ہنسی میرے دل کو معطر کر گئی۔
(ابنِ آدم)

Posted in A long drive | 1 Comment

تنہائی کا دکھ گہرا تھا

اُس نے دونوں ہاتھوں سے منہ دبا کر کھانسی کی آواز دبانےکی ناکام کوشش کی مگر اس کوشش میں اُسکا دم گھُٹنے لگا اور وہ بری طرح ہانپنے لگی۔ساتھ کے کمرے سے بہو ،بیٹے کے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھیں۔اُسکی نظریں سامنے ٹیبل پر رکھے پانی کے گلاس پہ تھیں ،مگر اُٹھنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی ،،،،بدلتے موسم کےیہ دن ہمیشہ اُس جیسے عمر رسیدہ افراد کے لئیےعذاب سے کم نہیں ہوتے۔رات کا دوسرا پہر تھا،،،،کروٹیں بدل بدل کر سونے کی ناکام کوششوں سے اسکا بدن بری طرح دُکھ رہا تھا،،،،اُسکا دل چاہ رہا تھا کہ کوئی اسکے پاؤں کو زور زور سے دبا دے،،،کچھ سکون دے دے ،،،،مگر،،،،
عمر کے آخری لمحات میں تنہائی۰۰۰۰
ایک مسّلمہ حقیقت اور شاید سب کا مقّدر۰۰۰۰
شوہر کی وفات کے بعد وہ جیسے زندگی جی نہیں رہی تھی بلکہ موت کا انتظار کر رہی ہو،،،، کبھی کبھی اُسے ایسا لگتا کہ اُس کے ہونے نہ ہونے سے اس بھری دنیا میں کسی کو کوئی فرق نہ پڑتا ہو۰۰۰۰۰
جیسے اسُکی اپنی اولاد دنیا دکھاوا کر رہی ہو۰۰۰۰فرض نبھانے کی ناکام کوشش کر رہی ہو۰۰۰۰جیسے وہ اپنی بےزاری چُھپانے کی خاطر مُسکرا مُسکرا کر آتے جاتے ” چند لمحے”رک کر اسُکی خیریت معلوم کرتے ہوں۔
اُسے اپنےدونوں بیٹوں اور بہوؤں سے کوئی شکایت نہ تھی۰۰۰۰پابندی سے دو وقت کا کھانا۰۰۰۰دوا دارو اوراسُکی ضروریات کا خیال۰۰۰۰مگر اُنکے پاس اسُکے لئیے ٹائم نہیں تھا۔
سب اپنی اپنی زندگی میں مگن۰۰۰۰۰
کھانسی کا دورہ پھر سے پڑ گیا تھا،اُس نے پھر سے آواز دبانے کی ناکام کوشش شروع کر دی اور بلآخر پانی کا گلاس اُٹھانے میں کامیاب ہو گئی،،،،وہ بری طرح ہلکان ہو رہی تھی ،،،،،اسُکی نظریں وال کلاک پر جم گئیں،،،،ابھی صبح ہونے میں بہت دیر باقی تھی،،،،کمرے میں پھیلا ہو گہرا سکوت،،،،اسُکا دل بھر آیا۔
اس گھر میں کتنی چہل پہل تھی۰۰۰۰ہر طرف شور۰۰۰۰صبح ہوتے ہی کاموں کا انبار۰۰۰۰وہ دن بھر بھاگ بھاگ کر نہ تھکتی تھی۰۰۰۰بچوں کے کام۰۰۰۰شوہر کی فرمائشیں ۰۰۰۰آنے جانے والوں کی ریل پیل۰۰۰۰۰اسُکا گھرانہ خاندان بھر میں پسند کیا جاتا تھا۰۰۰نفیس شوہر،تمیزدار بچے،اور سب سے بڑھ کر وہ خود،،ملنسار اور سلیقہ شعار
ایک زمانہ اسُکا گرویدہ۰۰۰مگر اسُکے پاس فرصت کہاں تھی۰۰۰ان سب باتوں کو انجوائے کرنے کی۰۰۰۰وہ تو ایک مشین کی مانند۰۰۰۰وقت کی چکی میں گھومتی رہی۰۰۰۰گھومتی رہی اور گھومتے گھومتے۰۰۰۰۰ آج۰۰۰۰۰۰
اور اب ہر طرف ہو کا عالم۰۰۰مگر اب آرام کر کر کے وہ بری طرح تھک جاتی تھی۰۰۰۰۰
انسان کی زندگی میں ایک باب۰۰۰۰”بابِ تنہائی” بھی ہے۰۰۰شاید اسُکی زندگی کا مشکل ترین دور۰۰۰۰
انسان اس دنیا میں تنہا آیا ہے اور تنہا چلا جائے گا مگر تنہا زندگی گذارنا ناممکن۰۰۰۰
تنہائی بڑی ظالم شے ہے۰۰۰۰یہ انسان کو کھا جاتی ہے۰۰۰۰اسُکے جذبات کو۰۰۰۰احساسات کو۰۰۰۰اسُکی اُمنگوں کو۰۰۰۰یہاں تک کہ اسُکی زندگی کو۰۰۰۰۰
ہر انسان کی کتابِ زندگی میں اِک” بابِ تنہائی” کو آنا ہے۰۰۰۰جہاں صرف وہ ہوگا اور یادیں۰۰۰۰
اِس بابِ تنہائی میں وہ اپنے گذرے لمحات کو یاد کر کے کبھی خوش ہوگا تو کبھی پچھتاوے کا احساس۔
وہ سوچتی چلی گئی۰۰۰۰۰اسکی أنکھوں سے آنسو بہہ بہہ کر اسُکے جھریوں بھرے چہرے کی جھریوں سے ندی کی طرح راستہ بناتے ہوئے اسکے دوپٹے میں جذب ہوتے رہے۰۰۰۰یہاں تک کہ باہر سے آذان کی آوازیں اس سکوت کا سینہ چاک کرنے لگیں ۰۰۰۰۰۰اللّہ اکبر۰۰۰ اللّہ اکبر۰۰۰۰
بےشک اللّہ ہی سب سے بڑا ہے۰۰۰۰وہ ہی سب کے ساتھ۔
(ابنِ آدم)

Posted in تنہائی کا دکھ گہرا تھا | 1 Comment

بے لوث محبتیں

اچانک آہٹ کی آواز سے میری آنکھ کُھل گئی۰۰۰۰کمرے میں گھُپ اندھیرا تھا۰۰۰۰کوئی باہر گیا تھا۰۰۰۰یہ میرے ابو تھے جو اےسی کی کولنگ کم کر کے نکلے تھے۰۰۰۰چند دنوں سے میری طبیعت کچھ ناساز تھی۰۰۰مگر میں اپنی عادت سے مجبور جب تک فُل اےسی نہ چلا لوں ۰۰۰میرے لئیے سونا مشکل تھا۰۰۰۰۰
والد صاحب دیر تک جاگتے اور میرے سونے کا انتظار کرتے تاکہ اےسی کی کولنگ کم کرسکیں ۰۰۰۰نومبر کی شروعات تھی اور رات کے آخری پہر خنکی بڑھ جاتی تھی جو میری طبعیت کے لئیے یقیناً نامناسب تھی۔
میں نے ایک گہری سانس لی۰۰۰۰میں جانتا تھا کہ ابو علی الصبح نماز کے لئیے اُٹھتے ہیں ۰۰۰۰اتنی دیر تک جاگنا ۰۰۰۰میری وجہ سے۰۰۰۰؟
میں شرمندہ ہونے لگا۰۰۰۰۰۰
کیا کوئی انسان ماں باپ سے زیادہ محبت کر سکتا ہے؟؟؟؟
میں سوچتا چلا گیا۰۰۰۰میری نظروں میں بے شمار واقعات اور مثالیں گھومنا شروع ہو گئیں۔
نہیں۰۰۰۰کوئی انسان ماں باپ سےزیادہ محبت تو کیا ۰۰۰۰اُنکی محبت کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۰۰۰۰
یہ کیسا رشتہ؟؟؟
یہ کیسے لوگ؟؟؟
انسانی عقل حیران ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں؟؟؟
جو خود کو دکھ دے کر ہماری مسرتوں کا سامان۰۰۰
ہمارے کل کے لئیے اپنا آج قربان۰۰۰۰
جو اپنی تمام خوشیاں اور خواہشات ہماری ایک خوشی کے لئیے ختم کر دیں ۰۰۰جنُکے لئیے ہم ہی سب کچھ ہوں۰۰۰۰۰
خود بھوکے رہ کر ہمیں کھِلائیں اور خوشی سے بے حال۰۰۰
راتوں کو جاگ جاگ کر ہمیں سلائیں اور ہماری اک ذرا سی خوشی کے لئیے اپنی ساری رات قربان۰۰۰ماتھے پہ اک بل نہیں۰۰۰۰زباں پہ اک شکوہ نہیں ۰۰۰۰کسی انعام کا لالچ۰۰۰۰نہ پرواہ۰۰۰۰نہ خیال
اے خدا میں سوچتا چلا گیا۰۰۰۰۰۰۰
راہِ زندگی کی تمام آفتوں اور مصائب کو برداشت کریں۰۰۰۰مگر ہم پرایک آنچ نہ آنے دیں۰۰۰۰ہماری طرف اُٹھنے والے ہر طوفان کے آگے ڈھال۰۰۰۰ہماری طرف اُٹھنے والی ہر میلی آنکھ اور ہر ہاتھ کے آگے سینہ سپر۔
جو رو رو کر دعائیں کریں مگر اپنے لئیے نہیں ۰۰۰۰ہمارے لئیے۰۰۰۰
کیا کوئی اور ہو سکتا ہے ایسا؟؟؟؟
نہیں ۰۰۰۰ہرگز نہیں۰۰۰۰کبھی نہیں۰۰۰۰کہیں بھی نہیں۰۰۰۰
کمرے میں گرمی بڑھ گئی تھی۰۰۰۰میں نے ایک نظر اےسی اور پھر دروازے پر ڈالی۰۰۰۰میرے چہرے پہ مُسکراہٹ آگئی ۰۰۰۰میں نے کروٹ لی اور سونے کی کوششوں میں مصروف ہوگیا۔
(ابنِ آدم)

Posted in بے لوث محبتیں | Leave a comment

چُنے ہوئے لوگ

میں نے زور سے ہارن پر ہاتھ رکھا اورمسلسل بجاتا ہی چلا گیا۰۰۰۰گاڑی کے سامنے موٹر سائیکل سوار سامنے سے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۰۰۰۰مجھ پر جھنجھلاہٹ سوار ہونے لگی۰۰۰بالآخر موٹر سائیکل سوار مجھے بری طرح گھورتا ہوا ایک سائیڈ پر ہوگیا۔
آج پھر میں لیٹ ہوگیا تھا،پیر کی صبح اور سڑک پر ہر طرف اِک افراتفری ۰۰۰۰۰۰
مجھے ایسا لگ رہا تھا میں روڈ پر گاڑی چلانے نہیں بلکہ گاڑی بچانےنکلا ہوں۰۰۰۰۰
صبح ہی صبح لائٹ چلی گئی اور مجھے ہر کام میں دیر۰۰۰اور اب ٹریفک کا بےقابو اژدھام۰۰۰۰۰میرے خدا۰۰۰۰۰
میرا آفس شہر کے وسط میں گنجان جگہ پر تھا۰۰۰۰جتنا میں لیٹ ہوتا،اُتنا ہی پارکنگ کا مسئلہ شدید۰۰۰۰
میں جلد از جلد آفس پہچنے کی کوشش میں رف ڈرائیونگ کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ ہر دوسری گاڑی پر میرا غصہ۰۰۰۰۰
آخر وہی ہوا۰۰۰لمبی خواری کے بعد ۰۰۰۰میں بامشکل تمام آفس سے بہت دور گاڑی پارک کرنے میں کامیاب ہوا اور اب لمبے لمبے ڈگ بھرتاہوا آفس کی جانب گامزن بلکہ تقریباً دوڑ رہا تھا۰۰۰
بیٹا کچھ کھانے کو دے سکو گے؟؟؟؟؟
اچانک ایک آواز نے میرے قدم جکڑ لئیے۰۰۰۰میں پیچھے مڑا اور کہنا چاہتا تھا کہ “معاف کرو بابا”۰۰۰۰مگر
وہ ایک خستہ حال شخص تھا۰۰۰بے ترتیب داڑھی۰۰۰کمزور،لاغر
مگر جس چیز نے میری زبان روک دی تھی وہ اسُکی چمکدار آنکھیں۰۰۰۰۰۰
میں نے اپنی ساری زندگی میں اتنی روشن آنکھیں نہیں دیکھیں تھیں،،اسکی آنکھیں اُسکے باقی جسم کا ساتھ نہیں دے پا رہیں تھیں۰۰۰۰
مجھے پیسے نہیں چاہئیے،کچھ کھلا دو بیٹا۰۰۰۰۰اُس نے میرا ہاتھ جیب میں جاتا دیکھ کر کہا۰۰۰۰۰
میں نہ چاہتے ہوئے بھی رکنے پر مجبور تھا۰۰۰میں نے اطراف کا جائزہ لیا تو دور مجھے ایک چائے خانہ نظر آیا۰۰۰۰۰
“ابھی آیا بابا”،میں اُس سے کہتے ہوئے چائے خانے کی طرف چل پڑا۰۰۰۰۰۰۰
چائے کے ساتھ کچھ لوازمات وغیرہ بھی لے آیا جو میں نے آہستگی سے اسکے سامنے رکھ دئیےاور خود اسُکے برابرفٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۰۰۰۰۰۰
اُس نے جھپٹ کر ٹرے اپنے آگے سرکائی اور چیزوں پر ہاتھ صاف کرنے لگ گیا۰۰۰۰وہ بہت بھوکا معلوم ہو رہا تھا۰۰۰۰
مجھے نہ جانے کیوں اسمیں ایک عجیب سی پُر اسراریت محسوس ہو رہی تھی۰۰۰۰کچھ تھا جو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۰۰۰۰کچھ نا معلوم سا احساس۰۰۰۰۰
میں خاموش بیٹھا اُسے کھاتے دیکھتا رہا۰۰۰۰
اللّہ تمہارا بھلا کرے بیٹا اوراللّہ تمکو حقوق العباد ادا کرنے کی ہمت عطا فرمائے،اُس نے کھانے کے بعد دعا دیتے ہوئے کہا۔
میں نے تعجب سے پوچھا۰۰۰بابا ہمت سے کیا مراد ہے؟؟؟؟
بابا نے مُسکراتے ہوئے کہا۰۰۰۰۰بیٹا حقوق اللّہ کی توفیق عطا ہوتی ہےمگر حقوق العباد ادا کرنے کیلئے توفیق کے ساتھ ہمت کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔
برداشت کی ہمت۰۰۰۰اک دوسرے کو درگذر کرنے کی ہمت۰۰۰۰۰کسی کا حق ادا کرنے کیلئے اپنےآپ کو مشکل میں ڈالنے کی ہمت۰۰۰۰۰۰
ہم جب تک اپنے آپ پر جبر نہ کریں حقوق العباد ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔
میرے نزدیک حقوق اللّہ ادا کرنا آسان مگر حقوق العباد ادا کرنا ایک مشکل کام ہے۔شاید اللّہ کچھ بندوں کو چُنتا ہے۰۰۰اُن میں کچھ خاص بات کہ اللّہ اُنکو حقوق العباد ادا کرنے کا فریضہ سونپ دیتا ہے۰۰۰۰۰
حقوق اللّہ میں کمی۰۰۰۰۰۰۰اللّہ معاف کرنے والا ہے،مہربان ہے۔
مگر ۰۰۰۰حقوق العباد کی ذرا سی بھی کوتاہی بندے برداشت نہیں کر پاتے۰۰۰مجھے اسُکی روشن آنکھوں میں نمی تیرتی محسوس ہوئی۔
میں نے اُسکی جانب خالی نظروں سے دیکھتےہوئے اُٹھ کھڑاہوا ۔
(ابنِ آدم)

Posted in چُنے ہوئے لوگ | Leave a comment

حاصلِ زیست

اُس نے دھواں اُڑاتی کافی کا ایک گہرا سِپ لیا اور اپنے خوبصورت ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے مجھے مُسکرا کر دیکھا۰۰۰میں نے بھی جواباً اپنے ہونٹوں کو پھیلا کر اسُکی حسین مُسکراہٹ کا خندہ پیشانی سے خیر مقدم کیا۔
پچھلے کئی دنوں سے سردی اپنے عروج پر تھی۰دسمبر کی سرمئی شام کے اس پہر ہر طرف گہری دھند کا راج تھا۰۰۰لوگ سرِ شام ہی اپنے گھروں کی طرف رواں دواں تھے۔سڑکوں پر زندگی بڑی حد تک کم اور ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔
مگر شہر کے اس مشہور کافی ہاؤس میں زندگی اپنی پوری آب و تاب سے جگمگا رہی تھی۔ہر طرف لوگ خوش گپیوں میں مصروف موسم کے اس سرد انگ کو انجوائے کر رہے تھے۔کافی دنوں کی انتھک محنت اور جہدِ مسلسل کے بعد وہ میرے سامنے کرسی پر بیٹھی میری اندرونی کیفیت اور جذبات سے بے خبر کافی کی چُسکیاں لینے میں مشغول تھی ۰۰۰۰میں جانتا تھا کہ وہ محض پرانی دوستی کا بھرم رکھنے کو میرے بےحد اصرار پر چلی آئی تھی۰۰۰۰۰۰۰یک طرفہ محبت بھی بالکل اک اگربتی کی مانند ۰۰۰۰انسان لوگوں کے لئیے چہکتا،مہکتا،خوشبویں بکھیرتا۰۰۰۰مگر اپنے آپ میں سُلگ سُلگ کر فنا اور پھر راکھ کا ڈھیر۰۰۰۰۰
اُس کو سامنے پا کر میری کیفیت بیاں سے باہر تھی۰۰۰میں بار بار اس بات کا یقیں کرنے میں مصروف تھا کہ یہ خواب نہیں اک حقیقت ہے۔میں اس انمول پل کو اپنی یاداشت میں مقید کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا۔ہر اک ساعت سے اسکا حسن نچوڑنا چاہتا تھا ۰۰۰ہر ایک لمحے کو اسکی رعنائیوں اور سرور کے ساتھ جینا چاہتا تھا۰۰۰۰میں چاہتا تھا کہ وقت تھم جائے۰۰۰۰۰یہ لمحات ٹھہر جائیں۔
کچھ لمحات زندگی کا حاصل ہوتے ہیں ۰۰۰۰ہم اُن لمحات کے گذر جانے کے باوجود بار بار اُنہی لمحوں میں جی رہے ہوتے ہیں ۰۰۰۰۰ہم چاہتے ہیں کہ یہ لمحات کبھی بھی ختم نہ ہوں ۰۰۰۰ہم چاہتے ہیں کہ یہ لمحات لوٹ آئیں ۰۰۰۰ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہم اپنی تمام زندگی انہی لمحات میں گذار دیں۔
مگر۰۰۰۰۰۰
وقت کسی کے لئے نہ ٹھہرا ہے نہ کبھی ٹھہرے گا۰۰۰۰۰ہر لمحے کی زندگی میں فنا ہونا لکھا ہےاور اسکو فنا ہوجانا ہے ،وقت کے ساتھ گذر جانا ہے۰۰۰۰کبھی لوٹ کے نہ آنے کے لئیے ۰۰۰۰چاہے کوئی اپنا سب کچھ دے کہ بھی اُسے روکنا چاہے،وہ نہیں رکتا۔
اور جب یہ لمحات گذر جائیں تو ہمیشہ کے لئیے ہماری یادوں میں امر۰۰۰۰ہماری تنہائیوں کو جگمگاتے ہیں ۰۰۰ہماری سوچوں کو مہکاتے ہیں ۰۰۰۰ہم اُنکا سرور،اُنکا لمس بار بار محسوس کر کے جئیے جا رہے ہوتے ہیں ۰۰۰۰۰یہی ہماری زندگی کا حاصل۰۰۰۰یہی سرمایہ ء حیات۔
ہیلو۰۰۰۰
اُس نے مسکراتے ہوئے مجھے پُکارا۰۰۰لگتا ہے آج بہت گہری سوچ میں ہو۔میں نے اُسے چونک کر دیکھا اور پھر کافی ہاؤس کی فضا ہمارے قہقہے سے گونج اُٹھی۔
میں کافی کی بھینی بھینی خوشبو کے ساتھ اسُکی لازوال ہنسی کی کھنک اپنی یاداشت میں محفوظ کرنےکی کوشش میں مصروف ہوگیا۔
(ابنِ آدم)

Posted in حاصلِ زیست | 2 Comments

بےنام تعلق

ایک سرد ہوا کا جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا اور میں چونک کر اپنے خیالات کی دنیا سے باہر آگیا۰۰۰۰پتہ نہیں میں کب سے اپنی سوچوں میں گم تھا۰۰۰۰۰میرے سامنے رکھی چائے سرد ہوچکی تھی ۰۰۰۰شام کے سائے گہرے ہو چلے تھے اور پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف رواں دواں !!
دسمبر کی یخ بستہ شام اور اُسکا سحر اپنے جوبن پر تھا۰۰۰۰میں چلتے چلتے بہت دور نکل آیا تھا اور سستانے کو سڑک کے کنارے بنے چائے کے ایک چھوٹے سےکیبن پر رک گیا تھا۰۰۰۰۰چائے کا آڈر دے کر خیالات میں ایسا کھویا کہ کب چائے آئی اور کب ٹھنڈی ہوئی کچھ خبر نہ رہی۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا، جب جب میں اسکے متعلق سوچتا میری یہی کیفیت۰۰۰۰۰دنیا سے لاتعلق۰۰۰اپنے آپ میں مگن ،اپنے اطراف سے بےگانہ۰۰۰۰بس اسکی یادیں اور اُسکی باتیں ۰۰۰۰اسکے ساتھ گذارے ہوئے لمحات۰۰۰۰۰۰میں گُم ہوجاتا۰۰۰۰کھو جاتا۔
اُسکے ساتھ اپنے تعلق کو میں آج تک کوئی نام نہ دے پایا تھاکچھ باتیں اور کچھ تعلق ہماری سوچ سے بالاتر ہوتے ہیں۔ہماری سوچوں کی پرواز اُن حدود سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہےجن کے پار شاید ہماری سوالوں کے جواب موجود ہوں۰۰۰۰۰۰
میں آج تک سمجھ نہیں پایا تھا کہ میرا اُس سے کیا رشتہ ؟؟؟؟؟مگر جو بھی تھا بہت گہرا۰۰۰۰۰میری روح تک سرایت کر گیا تھا۰۰۰۰۰
کبھی نہ چاہتے ہوئے بھی ہم وقت کے دھارے میں کسی کے ساتھ بہتے بہتے اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ واپسی ناممکن!اگر ایک جانا بھی چاہے توکوئی راستہ نہیں۰۰۰
رشتوں کو کئی نام دئیےجا سکتے ہیں ۰۰۰دل کے رشتے،خون کے رشتے،دوستی کے رشتے،محبت اور خلوص کے رشتےوغیرہ۰۰۰مگر میں اپنے اس رشتے کو کوئی نام نہ دے سکا تھا۰۰۰۰ایک عجب سی پُراسراریت ۰۰۰۰۰اک لگاؤ۰۰۰۰۰ایک نامعلوم سی کشش جیسے کوئی نور کا ہیولہ جس نے میرے وجود کو گھیراہوا ہو۰۰۰ایک میٹھا میٹھا سا احساسِ وابستگی۰۰۰۰شاید یہ روح سے روح کا رشتہ؟؟؟؟
مجھے ہر دفعہ اُس سے مل کر ایک نیا سرور جو میری روح تک کو معّطر کردے۰۰۰۰مجھے ایسا لگتا کہ ہماری روحوں کا آپس میں کوئی پرانا سمبندھ؟؟؟؟؟
میں سوچتا چلا گیا اوراُلجھتا چلا گیا۰۰۰۰۰۰۰
میں نے اک سرد آہ بھری جو دسمبر کی یخ بستہ شام میں کہیں گم ہوگئی۔
میں نے ایک نظر چائے کے ٹھنڈے کپ پر ڈالی اور گھر کی طرف چل پڑا۰۰۰۰۰
(ابنِ آدم)

Posted in بےنام تعلق | 1 Comment

“شہرِ خموشاں”

“شہرِ خموشاں”

قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد میں ہاتھ جھاڑتے جھاڑتے رُک گیا،مجھے کہیں پڑھی ہوئی عبارت یاد آگئی۰۰۰۰”دیکھ انسان تیری اوقات،،،لوگ تجھ پر مٹی ڈالنے کے بعد،،،ہاتھ بھی تجھ پہ جھاڑیں گے۰۰۰۰۰۰”
ایک لمحے کے لیئے میں کانپ اُٹھا،،،میں نے آہستگی سے اپنے ہاتھ پر لگی مٹی صاف کی اور کنارے لگے ایک درخت کے سائے تلے آ کھڑا ہوا۔
میں ایک تدفین میں شامل تھا ،،، شام کے سائے گہرے ہورہے تھے اور نارنجی روشنی شہرِ خموشاں کی پرُاسرایت میں اضافہ کر رہی تھی،،،میرے چاروں طرف قطار در قطار قبریں پھیلی ہوئی تھیں ۰۰۰۰۰انسان کی بے بسی اور لاچاری کی تصویر۔
میں دیکھ سکتا تھا اُن سورماؤں کو جو اپنے تمام رعب و دبدبے کے ساتھ منوں مٹی تلے سو رہے تھے۰۰۰۰اُن حسیناؤں کو جنکے حسن و رعنایت کا ایک زمانہ مداح تھا۔اُن دانشوروں کو،جنکی عقل و فراست کی ہر طرف دھوم تھی۰۰۰۰۰اُن بادشاہوں کو جنکے جاہ و جلال کے آگے ایک دنیا سر بسجود تھی۰۰۰۰اُن جوانوں کو جو چلتے تھے تو لگتا تھا کہ قدموں تلے زمین کو پھاڑ ڈالیں گے۰۰۰۰مگر!
سب کی آخری منزل یہیں تھی،،،،کون آنا چاہتا تھا؟؟
مگر سب کو یہاں آنا پڑا۰۰۰۰پھر!
میں سوچتا چلا گیا۰۰۰کس نے انکا ساتھ دیا،،،کون انکو بچا پایا؟؟؟
وہ کیا کیا ساتھ لائے۰۰۰۰کچھ تیاری کی تھی؟؟؟کچھ سامانِ آخرت؟؟؟؟
مال و اسباب،،،اولاد،،،،جاہ و جلال،،،،حسن،،،،سب رہ گیا۰۰۰۰۰
“خالی ہاتھ”
سسکیوں کی آواز نے مجھےچونکا دیااور میں اُس کیفیت سے باہر نکل آیا،،،مرحوم کا جواں سالہ بیٹا کسی اپنے کے گلے لگے سسک رہا تھا،،،میں نے اُسکے کاندھے پر ہاتھ رکھا،،،،،اسُ نے میری طرف خالی نظروں سے دیکھا،،،اسکی آنکھوں میں چھُپے سوالات کا میرے پاس جواب نہ تھا،،،،میں نظریں جھُکائے بوجھل قدموں سے قبرستان کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
(ابنِ آدم)

Posted in شہرِ خموشاں | Leave a comment

توبہ

اِک سرد ہوا کا جھونکا میرے آنسوؤں سے شرابور چہرے سے ٹکرایا اور مجھے اس فانی دنیا میں واپس لے آیا۰۰۰۰
میں مسجد کے ستون سے ٹکا بیٹھا تھا۰۰۰۰۰رمضان کی ستائیسویں شب اور ختمِ قرآن کی دل افروز محفل کے بعد رقت آمیز دعا۰۰۰۰سبحان اللّہ۰۰۰۰۰
میرا دل بھر آیا۰۰۰۰اپنی نافرمانیوں پر۰۰۰۰اپنے گناہوں پر۰۰۰۰اپنے اعمال پر۰۰۰۰۰اللّہ ربُ العزت کی نعمتوں پر۰۰۰۰اُس ربِ ذوالجلال کی نوازشوں پر۰۰۰۰اُس پاک پروردگار کی عنایات پر۰۰۰۰۰جو اس گناہ گار و سیاہ کار کو مسلسل نوازے جا رہا ہے۰۰۰اور ایک میں ہوں ۰۰۰ گناہ در گناہ۰۰۰۰۰۰
مگر اسکی نعمتوں کی کمی نہیں۰۰۰۰۰احساسِ ندامت۰۰۰۰میری ہچکیاں بندھ گئیں۰۰۰۰۰۰وہی تو ہے جو اس گناہگار کی عزت کا بھرم قائم و دائم رکھے ہوئے ہے۰۰۰۰
اپنے اعمال یاد کر کے سر اُٹھانے کی ہمت نہیں۰۰۰۰۰۰
فلسفہ ء زندگی کیا ہے؟؟؟؟
صرف یہی نا کہ اس دنیا میں بندگی کے لئے اُتارے گئے ہیں اور واپس جا کر اعمال کا حساب دینا ہے۰۰۰۰۰۰
میرا دل ڈوبنے لگا۰۰۰کیا منہ دکھاؤں گا۰۰۰۰ایسے اعمال۰۰۰۰۰
میں زاروقطار رو رہا تھا۰۰۰۰اپنے ماحول سے بیگانہ۰۰۰احساسِ ندامت سے چکنا چور۰۰۰۰
اِک غنودگی کی کیفیت۰۰۰۰یا اللّہ۰۰۰۰یا میرے مالک۰۰۰۰یا رحمان۰۰۰۰یا کریم۰۰۰یا ربُ العالمین۰۰۰۰
شاید اُس رحمان و رحیم کو رحم آیا۰۰۰اِک روشنی کی کرن۰۰۰توبہ کا راستہ۰۰۰۰۰ہاں توبہ ہی تو ہے۰۰۰۰۰اک آخری اُمید۰۰۰۰۰
میں بلک اُٹھا۰۰۰۰گڑگڑا پڑا۰۰۰۰معافی کا طلبگار۰۰۰۰۰
مجھے اپنے بِکھرے اعصاب بحال ہوتے محسوس ہوئے۰۰۰۰اک لگن ۰۰۰اک امید کے ساتھ اُٹھ کھڑا ہوا۰۰۰۰۰اِک جہدِ مسلسل کے آغاز کیلئے۰۰۰اِک جنگ ۰۰۰۰اپنی نفس سے۰۰۰۰اپنے آپ سے۰۰۰۰۰۰۰
(ابنِ آدم)

Posted in توبہ قبول ہو۰۰۰۰ | Leave a comment

کھل جا سِم سِم

برداشت ایک طلسماتی طاقت۰۰۰۰۰ایک دیومالائی جذبہ۰۰۰۰۰۰اک ایسا جادو جو ہمیشہ سر چھڑ کر بولتا ہے۰۰۰۰۰ایک ایسامنتر جو کھل جا سِم سِم کی طرح ہمارے لئیے محبتوں اور چاہتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۰۰۰۰۰۰ہمارے تمام مسائل اور مشکلات کا حل۰۰۰۰۰ایک ایسا ہنر جس سے بڑے بڑے سورماؤں کو رام کیا جا سکتا ہے۰۰۰۰۰۰
برداشت ہی دراصل وہ “دھاگہ” ہے جس نے تمام رشتوں اور ناتوں کو محبت کی مالا کا روپ دے رکھا ہے۰۰۰۰۰
دھاگہ نہ ہو تو مالا کا ہر ایک موتی الگ الگ۰۰۰۰۰اپنے آپ میں مست اور دوسرے موتیوں سے لاتعلق۰۰۰۰۰۰
جہاں برداشت نہ ہو ،وہاں سب کچھ بھسم۰۰۰۰۰یہاں تک کہ خون اور پیار کے رشتے بھی۰۰۰۰۰
کسی طاقتور کی بات سہہ جانا کمال نہیں۰۰۰۰دراصل کسی کمزور کی غلط بات کو سہہ جانا۰۰۰۰۰۰دلیل ہوتے ہوئے بھی چپ رہنا اور محبتوں کو قائم و دائم رکھنا ہی اصل برداشت ہے۰۰۰۰۰
(ابنِ آدم)

Posted in برداشت ایک طلسماتی طاقت | Leave a comment

احساس کے رشتے

تمام دن کا تھکا ہارا سورج،اپنا جاہ و جلال لٹانے کے بعد،اختتامِ سفر پر گامزن۰۰۰میرے چاروں طرف اک عجب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۰۰۰میرے پیروں تلے سمندر کی نرم و گیلی ریت،اک عجب سا سرور دے رہی تھی۰۰۰تازگی کا احساس جو میرے پیروں کے راستے تمام جسم میں سرائیت کر رہا تھا۰۰۰۰میری روح کو معطر کر گیا۰۰۰مجھے اپنا وجود ہلکا پھلکا محسوس ہونے لگا۰۰۰۰۰مجھ پر چھائی افسردگی آہستہ آہستہ دم توڑ رہی تھی اور میں اُس جمود کی کیفیت سے باہر آ رہا تھا،جس نے میرے پورے وجود کو پچھلے کئی دنوں سے اپنے حصار میں مقّید کیا ہوا تھا۰۰۰۰۰۰۰۰۰
وجہ وہی۰۰۰اپنے کی بےرخی اور سرد رویہ۰۰۰۰۰
میں رشتوں کی اصلیت اور انکی بنیاد پر سوچ رہا تھا۰۰۰جتنا میں سوچتا جاتا مجھ پر آگہی کی پرتیں کھلتی چلی جا رہی تھیں۰۰۰۰۰
رشتوں کی بنیاد کیا ہے؟؟؟؟؟؟
میں نے اپنے آپ سے سوال کیا؟؟؟؟؟؟
خون کے رشتے،،،رشتہ داریاں،،،،،دوستی کے بندھن یا تعلق۰۰۰۰۰۰
نہیں۰۰۰۰
اصل رشتے دراصل احساس کے رشتے ہیں۰۰۰۰۰بندھن کوئی بھی ہو۰۰۰۰۰اگر احساس نہیں تو کچھ بھی نہیں۰۰۰۰۰۰۰۰
یہ احساس ہی تو ہے جو اپنوں کو غیر اور غیروں کو اپنا کر دیتا ہے۰۰۰۰
دوسروں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں،ضرورتوں اور چاہتوں کا احساس ہی دراصل تا حیات قائم و دائم رہنے والے رشتوں کا ستون ہے۰۰۰۰۰۰۰۰۰
(ابنِ آدم)

Posted in احساس کے رشتے | 4 Comments

ہر پل ہے زندگی

میری سمجھ میں نہیں آتا۰۰۰۰۰آخر زندگی ہے کیا؟؟؟؟
میں نے اُلجھے اُلجھے لہجے میں اُسکی طرف دیکھ کر کہا۰۰۰
وہ چائے کی پیالی میں چینی ملاتے ملاتے رُک گئی۰۰۰۰۰
مجھ پر گہری نظر ڈالی اور آہستہ سے بولی۰۰۰۰۰
زندگی کا مفہوم ہر ایک کے لئیے الگ الگ۰۰۰۰۰
میرے نزدیک زندگی دراصل اُس ایک پل کا نام ہے جس میں ہم جی رہے ہوتے ہیں۰۰۰۰۰بس وہی ایک لمحہ زندگی ہے۰۰۰۰۰۰
اور اگلے ہی لمحے وہ پل ہماری گذشتہ زندگی۰۰۰۰ماضی بن جاتا ہے۰۰۰۰۰
اور آنے والا ہر پل اگر ہم جی سکے۰۰۰۰ہماری زندگی میں شامل۰۰۰۰۰۰۰
اُس نے چائے کا ایک سِپ لیا اور کچھ دیر خاموشی چھا گئی۰۰۰۰۰۰
سُنو!
پل پل مل کر زندگی بناتے ہیں اور ہر ایک پل ہی اصل میں زندگی۰۰۰۰۰۰
ہر ایک پل کو جی لو۰۰۰۰۰ہر ایک پل میں جی لو۰۰۰۰۰۰
اپنے حصے کی خوشیاں پل پل سے وصول کر لو اور ہر پل میں شامل دوسروں کا حصہ ۰۰۰۰۰انُکی خوشیاں انُکو دیتے جاؤ۰۰۰۰۰۰
ہر پل سے مقصدِ حیات حاصل کر لو اور ہر پل میں حقِ بندگی ادا کرتے جاؤ۰۰۰۰۰
بس یہی ہے زندگی اور یہی فلسفہء حیات۰۰۰۰۰۰
وہ بولتی چلی جا رہی تھی اور میں اُسے تکتارہا۰۰۰۰شاید زندگی کے اس پل سے خوشیاں سمیٹنا چاہتا تھا۰۰۰۰۰۰
تمہاری چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے، میں نے خاموشی کو توڑا۰۰۰۰۰
اُس نے اک بے ساختہ قہقہہ لگایا اور زندگی کے اس پل میں کئی رنگ بھر دئیے۰۰۰۰۰
جو میری زندگی کے اس پل کو امر کر گئے۰۰۰۰۰۰۰۰
(ابنِ آدم)

Posted in ہر پل ہے زندگی | 1 Comment

“کیا اور کیوں”

کیا اور کیوں؟؟؟؟؟
یہ تین اور چار حروفی چھوٹے چھوٹے لفظ ہی ہماری زندگی میں بہت بڑی اہمیت کے حامل!
اگر ہم ہر کام کرنے سے پہلے اور یہاں تک کہ کرنے کے بعد بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرلیں کہ میں کیا اور کیوں کرنے جا رہا ہوں ؟؟؟
یا میں نےآخر کیا کیا اور کیوں کیا؟؟؟
تو یقیناً ہم بہت سے گناہوں اور برائیوں سے بچ سکیں!
کیا ہم نے کبھی رات کو سونے سے پہلے اپنا محاسبہ کیا ہے؟؟؟
سارا دن کیا کیا اور کیوں کیا؟؟؟
وقت کہاں اور کن کاموں میں گذارا؟؟؟
عبادت نہ کی تو کیوں نہ کی؟؟؟
اور آخر وہ کون سے اہم کام اورمصروفیات تھیں جو عبادت سے بڑھ کر ؟؟
غرض یہ سوال “کیا اور کیوں “ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دے گا اور شاید ہمارے اعمال کی درستگی میں معاون ہو سکیں!
(ابنِ آدم)

Posted in کیا اور کیوں | Leave a comment

“دکھاوا”

بعض اوقات ہم نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے عمل اور باتوں سے دوسروں کی دل آزاری اور تکلیف کا باعث بن رہے ہوتے ہیں اور ہمیں اسکا گماں بھی نہیں ہوتا۰۰۰۰۰۰
دکھاوا اور شو بازی۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ہمارے معاشرے میں سرائیت کر چکا ہےاور آجکل سوشل میڈیا کے ذریعے یہ اپنے عروج پر ہے۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اک اسٹیٹس کی جنگ ہے جو ہر کوئی ہر قیمت پر جیتنا چاہتا ہے۰۰۰۰۰۰۰
کیا ہم نے کبھی اپنی معمولی معمولی (activities)ایکٹیویٹیز کو فیس بک اور واٹس ایپ پر لوڈ کرتے سوچا ہےکہ اس عمل کے پیچھے ہمارا مقصد کیا ہے؟؟؟؟
ہم لوگوں کو کیا بتانااور دکھانا چاہ رہے ہیں؟؟؟؟
کہیں ہم گناہ کے مرتکب تو نہیں ہورہے؟؟؟؟؟
کہیں ہم دوسروں کو دکھ تو نہیں دے رہے؟؟؟؟
کہیں ہم دوسروں کی محرومیوں کو اجُاگر تو نہیں کر رہے؟؟؟؟؟؟
ہم جو کچھ دکھا اور بتا رہے ہیں یہ ضروری ہے؟؟؟؟
جو کچھ ہم پوسٹ کر رہے ہیں کیا یہ سچ ہے؟؟؟؟؟؟
کیا جتنی محبت ہم سوشل میڈیا پر دکھاتے ہیں ۰۰۰کیا اصل میں بھی ایک دوسرے سے کرتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟

(ابنِ آدم)

Posted in دکھاوا | 4 Comments

“انا”

” انا ”
صرف تین حروف مگر انکا اثر۰۰۰۰۰انکی طاقت کا اندازہ لگانا بہت مشکل۰۰۰۰بڑے سے بڑے رشتے اور گہرے ناتے۰۰۰۰اس ایک جذبے کے آگے ریت کی دیوار۰۰۰۰جہاں یہ پروان چڑھ جائے۰۰۰وہاں سب کچھ تباہ۰۰۰۰برسوں کی محبتیں اور پیار لمحوں میں دم توڑ جائے۰۰۰۰۰۰۰۰
اسکا اثر کتنا گہرا۰۰۰۰۰کہاں تک۰۰۰۰
اسکا وار۰۰۰۰۰کتنا کاری۰۰۰۰کتنا شدید!
یہ کتنا طاقتور۰۰۰۰انسان اسکے آگے بے بس اور مجبور۰۰۰۰
خود اپنے روئیے سے اپنے پیاروں کو دکھ۰۰۰۰انکو تڑپتا دیکھ کر بھی پتھر۰۰۰۰۰اندر سے نا چاہتے ہوئے بھی باہر سے بے حس۰۰۰۰سنگدل۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اگر ہم اس ایک جذبے کو اپنی ذات سے کھرچ کر پھینک دیں۰۰۰۰اسکو مات دے دیں تو پیار اور محبت کے بندھن ہمیشہ قائم۰۰۰۰۰ہمیشہ کے لئے اٹوٹ۰۰۰۰۰۰۰

ابنِ آدم

Posted in موم دل۰۰۰پتھر لوگ | Leave a comment

“چند اندھیرے لمحات”

میں ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا،،،،،،ہر طرف گھپ اندھیرا تھا اور مجھے کچھ سُجائی نہیں دے رہا تھا،،،،،،میں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کی،،،،،مگر گھپ اندھیرے میں روشنی کی ہلکی سی رمق بھی نظر نہ آئی،،،،،مجھے اپنی سانس سینے میں گھٹی محسوس ہوئی،،،،،میرا دل چاہا کہ زور زور سے چلاؤں،،،،اپنے پیاروں کو مدد کے لئے بلاؤں،،،،،مگر
اچانک کمرہ روشنی سے جگمگا اُٹھا ،،،،،،شاید بجلی آ چکی تھی،،،،، میں اپنے بستر سے اٹھ کھڑا ہوا،،،،،، سامنے لگے آئینے میں مجھے اپنا چہرہ پسینے سے شرابور نظر آیا،،،،،”اُن چند اندھیرے لمحات” نےمجھے بے حال کر دیا تھا
مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا،،،،،،
میں سوچتا چلا گیا،،،،، مجھے قبر کے اندھیرے کا خیال آیا،،،،،،میرا دل ڈوبنے لگا،،،،،،
کیا ہوگا؟؟؟؟؟
انسانی عقل کی پرواز کی حد مقرر ہے،،،،،ہماری سوچیں اُس قائم کی ہوئی حدوں سے ٹکرا کر واپس ہو جاتیں ہیں اور ہم بے بسی کی تصویر بنےاس فانی دنیا میں واپس،،،،،،،
میں سوچتا چلا گیا،،،،کیا ہوگا،،،،،پر جواب نہیں مل سکا،،،،میری سوچوں کی پرتیں کھلتی چلی گئیں،،،،
کیا ہوگا؟؟
نہیں معلوم،،،،،
مگر کیا کرنا ہے،،،یہ تو معلوم ہے،،،،،کیا کرنا ہے سب بتا دیا گیا ہے،،،،
کیسے کرنا ہے،،،، سب سکھا دیا گیا ہے،،،،،،سمجھا دیا گیا ہے،،،،،
کیا میں اس پر عمل کر رہا ہوں ،،،میرا دم گُٹھنے لگا،،،،ایک بار پھر قبر کے اندھیرے کا خیال،،،،،
اپنی زندگی ایک فلم کی طرح میری نظروں میں گھومنے لگی،،،،،،
ہم عارضی لذّتوں اور آسائشوں کے فریب میں مبتلاء،،،،،
ساری زندگی انکے پیچھے بھاگنے میں ضائع کر دیتے ہیں،،،،،،
ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارا مقصدِ حیات کیا ہے؟
اور
ہم کیا کئے جارہے ہیں؟؟؟؟
قرآن کے فرمان ،حضورِ پاک صلی الله عليه وسلم کی تعلیمات،ساتھ ساتھ میرے اعمال،،،،،بلا کا تضاد،،،،
دورِ جدید کےشیاطین(انٹرنیٹ،سمارٹ فون،کیبل اور ٹی وی)میری نظروں کے سامنے رقص کرنے لگے،،،،،
کیا ہم اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ صرف اپنے ہاتھوں میں ہر وقت پکڑے موبائل فون کو تسبیح میں تبدیل کر سکیں؟؟؟؟؟
ہم اپنی زندگیوں کے قیمتی لمحات انٹرنیٹ،سمارٹ فون اور ٹی وی کی نظر کرتے جا رہےہیں ،،،،،
کیا دنیا کا کوئی سمارٹ فون اتناایڈوانس ہے کہ ہماری قبر کی تاریکی دور کر سکے؟؟؟؟؟؟
میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے،،،،،
میں سوچتا رہا اور دل ڈوبتا رہا،،،،،،،
(ابنِ آدم)

Posted in چند اندھیرے لمحات | Leave a comment

“محبت آگہی ہے”

مجھے تم اور تمہاری محبت پر واقعی حیرت ہے۰۰۰۰وہ مجھے دیکھتے ہوئے بولی۰
مجھےاسکی سرمئی آنکھوں میں اپنے لئے رحم اور پریشانی کے ملے جلے جذبات نظر آئے۰۰۰
میں دھیرے سے مسکرا دیا…..
محبت صرف پا لینے کا ہی تو نام نہیں۰۰۰۰۰؟
میں نے سوالیہ نظروں سے اسکو دیکھا۰۰۰۰مگر وہ خاموش ۰۰۰خالی خالی نظروں سے مجھے دیکھتی رہی۰۰۰۰
محبت کو منزل کر پرواہ کب۰۰۰۰۰۰عشق کا انجام کب اور کس نے سوچا۰۰۰۰۰؟
مقدر میں انگارے ہیں یا پھول۰۰۰کس کو خبر۰۰۰؟
میرا یقین ہے کہ محبت کے لئے کچھ خاص دلوں کو چنا گیا ہے
اسکا بوجھ اُٹھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۰۰۰۰
یہ کی نہیں جاتی ۰۰۰۰ ہو جاتی ہے۰۰۰کسی بھی حال میں۰۰۰کسی بھی موڑ پہ۰۰۰۰کسی بھی شخص سے۰۰۰۰
ہم سوچتے ہی رہ جاتے ہیں اور یہ ہماری سوچوں سے بھی زیادہ تیز رفتار۰۰۰۰
نہ چاہتے ہوئے بھی کوئی ہمارے دل و دماغ میں آ بستا ہےاور ہم محبت کا شکار۰۰۰۰
محبت تو نام ہی فنا ہو جانے کا۰۰۰ایک دوسرے میں سما جانے کا۰۰۰۰۰دو قلب مگر ایک جاں۰۰۰۰۰
ایک دوسرے کی قربت میں گم۰۰۰۰سرشار۰۰۰۰مگن۰۰۰۰اپنے ارد گرد سے بےگانہ۰۰۰۰بے پرواہ
محبوب کی ہر ادا سے پیار
ہمیں کام اپنے کام سے
محبوب سے۰۰اسکے نام سے
اسکے حال سے۰۰۰اسکی چال سے
عشق اسکے رنگ سے۰۰۰۰اسکے ڈھنگ سے۰۰۰انگ انگ سے
اسکے قدموں کو چھو لینے والے سنگ سے
اسکے پاس سے آنے والی ہوائیں بھی ہمیں سرور بخشتی ہیں
میں اپنے دھن میں بولے چلا جارہا تھا
اس نے بی بسی سے میری طرف دیکھا اور یک ٹک دیکھتی رہ گئی۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in "محبت آگہی ہے" | Leave a comment

اپنوں کا درد

وہ دونوں بہت دیر سے خاموش تھے۰۰۰۰ایک ساتھ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے بہت دور۰۰۰۰۰
بعض اوقات انسان ساتھ ہوتے ہوئے بھی دور اور بعض اوقات دوریاں بھی کوئی معنی نہیں رکھتیں ۰۰۰۰دور ہوکر بھی اک دوسرے سے بہت قریب!
فرق صرف چاہتوں کی سچائی اور محبتوں کی شّدت کا ہے!
اُس نے ایک گہری نظر مجھ پر ڈالی اور دھیرے سے بولا!
سنو!
میں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا۰۰۰۰اسکی آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح بلا کی گہرائی تھی۰۰۰۰۰وہ بولا۰۰
درد دو طرح کے ہوتے ہیں ۰۰۰ہمارے اپنے درد اور ہمارے اپنوں کے درد!
درد اور اپنوں کا بہت گہرا تعلق۰۰۰۰اپنے ہی درد کا سبب اور اپنوں کے ساتھ ہی درد سہے جاتے ہیں۰۰۰
کسی بھی درد کو سہنے کے لئے ہمیں اپنوں کی رفاقت کی ضرورت۰۰۰۰
مگر جب درد میں اپنے ہی ساتھ چھوڑ جائیں؟؟؟
انسان دو لوگوں کو کبھی نہیں بھولتا۰۰ایک وہ جس نے درد دیا ہو اور دوسرا وہ جس نے درد میں ساتھ دیا ہو۰۰۰حوصلہ دیا ہو!
تمہیں معلوم ہے اپنے درد سے بھی بڑا اک درد!
ہمارے اپنوں کا درد!
اپنے پیاروں کو درد میں دیکھنا۰۰۰اُن کو بےبسی سے تڑپتا دیکھنا۰۰میرے نزدیک انسان کی اس سے بڑی کوئی آزمائش نہیں !
جب اسُکو احساس۰۰اپنی بےچارگی کا۰۰۰بے بسی کا۰۰۰۰۰۰
درد کے سمندر میں تنکوں کے سہاروں کا متلاشی۰۰۰۰مگر اسکو تنکا بھی میسر نہیں
تب اسکو صرف اللّہ کا سہارا۰۰۰۰اوپر اللّہ اور نیچے وہ۰۰۰۰۰۰اسکو آگاہی کہ صرف اللّہ ہی تو اسکے ساتھ۰۰۰۰
جو بے شک ہر چیز پر قادر!
صرف آنسو ۰۰۰۰صبر اور دعا۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in اپنوں کا درد | 1 Comment

“ان کہی باتیں”

کچھ باتیں ان کہی رہنے دو……
کچھ باتیں ان کہی ان سنی اچھی!
اُنکا حسن،انکا طلسم،انُکے نہ کہنے میں ہی پوشیدہ!
اگر کہہ دیا جائے تو انُکا طلسم ٹوٹ جاتا ہےاور سننے والا جادوئی دنیا سے باہر آجاتا ہے،جس میں جی رہا ہوتا ہے۰
ہم اکثر ان کہی باتوں کے سحر میں گرفتار ہو کے اپنی ایک دیومالائی دنیا تخلیق کر لیتے ہیں اوراُس طلسم ہوش ربا سے باہر آنا بھی نہیں چاہتے۰۰۰۰ہم کسی کے طرزِعمل سے اپنے اپنے مطلب کا مفہوم اَخذ کر لیتے ہیں اور اُسی خیالی دنیا میں جینا چاہتے ہیں!
بعض اوقات ہم چاھتے ہوئے بھی دوسروں کو اپنے جذبات و احساسات بیاں نہیں کر پاتے۰
انسانی جذبات بھی عجب شے ہیں ۰۰۰۰۰جذبات کو انکی اصل روح اور شدت کے ساتھ بیان کرنا ناممکن!
اگر کوئی بیاں کرنے کی کوشش بھی کرے تو دوسرے کے لئیے ان جذبات کو سمجھنا انتہائی مشکل کام!
اصل میں دوسرے کے جذبات کو سمجھنے کے لئے احساسات کی اصل بلندی کو چھونا لازمی !
سچے جذبوں اور ان کہی باتوں کو سمجھنے کے لئے دماغ کی نہیں دل کی ضرورت ہوتی ہے،ایک ایسا دل جو دیکھ سکے۰۰۰۰۰جان سکے۰۰۰۰۰ اور احساسات کو پہچان سکے۰۰۰۰۰۰بنا کسی کے بولے سُن سکےاور شاید بول بھی سکے۰۰۰۰۰۰۰۰!
(ابنِ آدم)

Posted in ان کہی باتیں | 1 Comment

لوگ محبت کرنے والے”

اُس نے ترکش کافی کا تلخ گھونٹ حلق سے اُتارا اور بولا۰۰۰
بعض اوقات ہم اپنے ارد گرد سے بے خبر۰۰۰نا آشنا۰۰۰۰بےگانے
اپنی زندگی میں مست۰۰۰اپنے آپ میں گم
ہمیں اپنے اردگرد کے لوگ نظر ہی نہیں آتے۰۰۰ہم انکی چاہتوں کو۰۰۰انکی باتوں کوسمجھ نہیں پاتے یا شاید سمجھنا ہی نہیں چاہتے؟
ہم یہ دیکھ ہی نہیں پاتے کہ ہمارے روّیوں کے نشتر ہمارے اپنوں کے دلوں پر کس طرح ،کیسی کاری ضربیں لگا رہے ہیں۰۰۰۰۰
ہم شاید اپنے آپ میں اتنے مگن کہ ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہوتااپنوں کو سننے کا۰۰۰انُ کو سمجھنے کا۰۰۰ انکے احساسات اور جذبات کو محسوس کرنے کا۰۰۰۰انکی بات سننے اور اپنی بات کہنے کا۰۰۰
مگر!
جب وہ ہم سے دور چلے جاتے ہیں،ہمیں چھوڑ جاتے ہیں تب ہمیں انکی اہمیت کا احساس۰۰۰اندازہ انُکی چاہتوں اور محبتوں کا۰۰۰۰انکی چھوٹی چھوٹی باتوں کی یاد!
تو ہمکو احساس کہ دراصل وہی تو ہمارےلئے سبھی کچھ تھے۰۰۰۰انکا وجود۰۰ انکا ہونا۰۰۰ہماری زندگی سے عبارت تھا۰۰۰شاید وہی ہماری زندگی!
مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے،پچھتاوے ہمارا مقدر!
دل انکو تنہایوں میں ڈھونڈتا ہے۰۰۰آوازیں دیتا ہےچیخ چیخ کر پکارتا ہے ہم انکو بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں ان سے کتنی محبت ۰۰۰وہ ہمارے لئےکتنے اہم ۰۰۰ہمارے وجود کا حصہ ۰۰۰مگر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہےتب صرف پچھتاوا اور افسوس!
مگر جانے والے کب کسی کی بات سنتے ہیں ۰۰شاید وہ چاہتے ہوئے بھی آنے سے قاصر۰۰ یہی زندگی ہےاور یہی قانونِ قدرت!
وقت انسان کو سکھاتا ہے مگر جب انسان سیکھتا ہے تب وقت بہت آگے نکل چکا ہوتا ہے۰
یہی انسانی فطرت اور یہی زندگی!
(ابنِ آدم)

Posted in لوگ محبت کرنے والے | 7 Comments

اکِ جنوں بے معنی،اِک یقیں لا حاصل

زندگی کے ہر گذرتے پل کے ساتھ تشنگی بڑھتی ہی جارہی ہے،،ایک احساسِ لاحاصلیت”،،،سوچتا ہوں مقصدِ حیات کیا ہے اور کیا کرتا جاتا ہوں!
انسانوں کے سمندر میں ایک قطرے کی مانند۰۰۰۰جو بہاؤ کے ساتھ بہنے پر مجبور ۰۰۰۰چاہتے ہوئے بھی سمندر کی طوفانی موجوں کے خلاف نہیں جا سکتا۰۰۰۰۰ہر لمحہ اسکو فنا کی طرف لئے جا رہا ہےاور آخرکار فنا ہی اسکا مقدر۰۰۰۰۰۰!
زندگی کی ہر صبح مجھے ایک مخصوص دائرے میں بھاگنے پر مجبور کر دیتی ہے اور دن بھر دوڑتے دوڑتے تھک کر رات گئے نیند کی آغوش میں پناہ پاتا ہوں۰۰۰۰۰۰۰۰۰اگلے دن پھر اسی دائرے میں بھاگنے کو تیار!!!!!
اپنے اندر بہت بےچینی اور بے قراری محسوس ہوتی ہے۰۰۰کچھ کر گذرنے کی چاہت۰۰۰کچھ حاصل کرنے کی لگن۰۰۰۰اور کچھ کہنے کی آرزو!
یہ بے قراری بیاں سے باھر۰۰۰شاید ہی کسی زباں میں وہ الفاظ ہوں کہ انسانی جذبات کو اسُکی اصل روح کے ساتھ بیان کر سکیں؟؟؟
پھربھی ایک ناکام سی کوشش۰۰۰۰کہ اس بے کلی کی کلیوں کو لفظوں کے دھاگے میں پرو کر مالا کا روپ دے سکوں!!!!!
(ابنِ آدم)

Posted in میں کیا سوچتا ہوں | 3 Comments