بارش میں گُھلتے آنسو

دل دہلانے والی آواز کے ساتھ بجلی چمکی اور میرے سامنے کا منظر منّور ہوگیا۔ میں دیکھ سکتا تھا ،آسمان سے تیزی سے ایک کے پیچھے ایک گرتی بارش کی بوندیں ۰۰۰۰۰
جیسےکسی ٹوٹی مالا کے موتی۰۰۰۰۰
ایک ساتھ گر کر فنا ہونا منظور۰۰۰۰۰
مگر ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑنا گوارا نہیں!
میں نے چہرے پہ بہتےبارش کے پانی کو اپنی بھیگی آستین سے صاف کرنے کی ناکام سی کوشش کی۔میں کافی دیر سے ٹیرس پہ بیٹھا بارانِ رحمت میں تِتر بِتر تھا۔
کل شام سے جیسے آسمان والے کوبنجر زمین کی سسکیوں اور خشک ہوتے ہوئے پیڑوں کی آہ پر ترس آگیا تھا اور اُس نے اپنے ابرِ رحمت کے در کھول دئیے تھے،،،پانی تھا کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا،،،،نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔وہ لوگ جو کل بارانِ رحمت کے لئیے دعاگو تھے،آج بارش رکنے کی دعائیں کر رہے تھے۔
“واہ رے انسان کبھی خوش نہ ہونا۰۰۰۰۰”
میرے ذہن میں جھماکے ہونے لگے۰۰۰۰کسی کی یاد کی گھٹا ان الفاظ کے ساتھ اُمنڈ آئی اور میرے آنسو بارش کے پانی میں اضافہ کرنے لگے۔
انسان بھی کتنا عجیب ہے،کبھی کبھی تو ہزاروں کے مجمع میں تنہا اور کبھی کسی ایک کے ساتھ اتنا مگن کہ ہزاروں کے ہونے کی پرواہ نہیں۰۰۰۰۰
کچھ ایسا ہی ساتھ میرا اور اُسکا بھی تھا،،،،پہروں ہم اک دوسرے کے ساتھ گذار دیتے،،،گھنٹوں باتیں کرنے کے بعد بھی جب میں اپنی تشنگی کا اظہار کرتا تو وہ شکایتی لہجے میں کہتی”کبھی خوش نہ ہونا” اور میں مُسکرا دیتا۔ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ عزیز تھا،جتنا بھی،،،،جہاں تک ممکن۔
کہتے ہیں وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا،،،،ہر ملن کا مقدر جدائی ہے ،،،انسان ہار جاتا ہے،،،،کھو دیتا ہے،،،،،اپنوں کو،،،،،اپنے پیاروں کو
مجبور۰۰۰۰۰بے بس۰۰۰۰
کبھی حالات سے۰۰۰۰۰
کبھی قدرت کے ہاتھوں۰۰۰۰
اور کبھی کسی کے پیار میں اُسکو چھوڑ دینا بہتر۰۰۰
ایک رُک جاتا ہے اور دوسرا آگے بڑھ جاتا ہے،،،قدم بقدم دوری۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
سو میں بھی رُک گیا تھا اور آج بھی اُسی پل میں جی رہا تھا،،،،وہی لمحات،،،،وہی حاصل ِ زیست
میں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے،بادش کی بوندوں کو فنا ہوتے دیکھ رہا تھا ،،،،،رشک کر رہا تھا
کاش ہم بھی کسی مالا کے موتی ۰۰۰۰کسی بارش کی بوندیں ہوتے
ایک ساتھ۰۰۰۰۰
ساتھ ساتھ۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

 

Posted in بارش میں گُھلتے آنسو | 6 Comments

محبت ہمسفر میری

آسمان کی وسعتوں میں اُڑتے آوارہ بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کرتا چاند،کبھی کسی بادل کے پیچھے چھپ جاتا اور کبھی کسی بادل کے دامن سے جھانکتا۰۰۰اسُکی اس حرکت سے جیسے یادوں کےدریچے کُھلتے جا رہے تھے۰۰۰۰کسی کی شوخ و چنچل ہنسی اور میری نوجوانی کے دن۰۰۰۰ چاند کی چمک ماندپڑ گئی اور چاندنی دھندلا سی گئی۰۰۰میں نےدونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کی مدد سے ،آنکھوں میں چھائی نمی صاف کرنے کی ناکام کوشش کی،مگر دل جیسے بھر آیا تھااور آنسوؤں کا سیلاب ضبط کےتمام بند توڑنے کو بےتاب تھا۔
میں مغرب کے بعد چھت پر لیٹا ،آسمان کی وسعتوں پہ نگاہیں جمائے،چاند سے آنکھیں ملائے،،،جیسے اُسے ڈھونڈنے میں مصروف تھا۔کبھی کبھی کسی کی یاد،سارے بند توڑ کر،کسی بچھڑی ہوئی موج کی مانند آپ کے وجود کو بہا لے جاتی ہےاور آپ ہزار ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود،خود کو یادوں کے سمندر میں ڈوبنے سے نہیں بچا پاتے۔
کچھ ایسا ہی آج میرے ساتھ ہوا۰۰۰۰سرِ شام ہی دل پر اک اداسی،اک سوگواری کی دبیز چادر آن گری تھی جس نے میرے سارے وجود کو سوگواری کے اتھاہ غار میں دھکیل دیا تھا۰۰۰۰اک بوجھل بوجھل سا احساس۰۰۰۰۰۰۰
اک کھوئی ہوئی سی یاد۰۰۰۰۰
زندگی کا اک سنہرا باب۰۰۰۰۰۰
بھولی بسری اک کہانی۰۰۰۰۰۰
اک ان کہی،ان سنی داستاں ۰۰۰۰۰
وہ میری زندگی میں اک خواب کی مانند تھی۰۰۰۰آئی۰۰۰۰۰چھائی۰۰۰۰۰اور گذر گئی۰۰۰۰۰مگر ہمیشہ قائم رہنے والے انمٹ نقوش۰۰۰۰۰ہر پل یاد۰۰۰۰۰ہر پل کا ساتھ۰۰۰۰۰
یہ کسی کی چاہ ہی تو ہے جو ہماری تنہائیوں کو مہکاتی ہے،ہماری راتوں کو جگمگاتی ہے۰۰۰۰۰ہجوم میں ۰۰۰۰۰محفلوں میں ۰۰۰۰۰ہمیں تنہا بناتی ہے۰۰۰۰۰سوچ کی رہگذر پہ دور تک بھگاتی ہے اور مسلسل آگے بڑھتے رہنے پر اُکساتی ہے،اور پھر تھکاتھکا کر آرزوؤں کے نرم بستر پر تھپک تھپک کر سُلاتی ہے۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں خوشبو کی مانند آتے ہیں ،انکے وجود کو محسوس توکیا جا سکتا ہے۔
ایک لطافت۰۰۰۰۰ایک طمانیت کااحساس۰۰۰۰۰ایک راحت ایک سرور کی کیفیت۰۰۰۰۰مگر اُنکو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔بس ایک مہکا مہکا ساایک پاکیزہ سا احساسِ وابستگی۰۰۰۰اُن کے پاس ہونے کی طمانیت۔
میرا بھی اُس کے ساتھ بس اتنا ہی تعلق تھا۰۰۰۰۰خیالوں کا۰۰۰۰۰خوابوں کا۰۰۰۰۰اسُکا وجود میرے لئیے اک “گوہرِ نایاب ” کی مانند تھا۔
“میرے دل کی سیپ میں بند اک انمول موتی”۰۰۰۰۰نہ کبھی اظہارِ محبت کی خواہش ہوئی اور نہ کرنے کی تمنا۰۰۰۰۰
کسی کو طلب کے بغیر چاہنا ہی اصل محبت ۰۰۰۰بس دور دور سے اسکے پاس ہونے کا احساس،اُس سے رابطے کا اطمینان۰۰۰۰اور اپنی چاہت پر ناز۰۰۰۰یہی میری کُل کائناتِ حیات۰۰۰۰۰
میرے نزدیک محبت کو پا لینا دراصل محبت کھو جانے کے مترادف ہے،محبت تو بس ایک احساسِ وابستگی ہے،،،،ایک جذبہ ء لازوال،،،جسکی اصل روح دراصل” لا حاصلیت” ہے۔

(ابنِ آدم)

Posted in محبت ہمسفر میری | 5 Comments

سفرِ رائیگاں

تالیوں کی تیز آواز میری سماعت پہ ہتھوڑوں کی طرح برس رہی تھی,مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سب لوگ مجھ پہ قہقہے لگا رہے ہوں، میں آنکھوں میں نمی لئیے،اپنے ساتھیوں کی پذیرائی بھری گفتگو سُن رہا تھا مگر سمجھنے سے قاصر تھا۔ یہ سب ایک خواب کی مانند لگ رہا تھا،مجھے یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ آج میرا آفس میں آخری دن ہےاور مجھے یہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے رخصت کیا جا رہا ہے۔
عمرِ عزیز کے پینتیس سے زائد برس گذارنے کے بعد آج ریٹائرڈ ہو رہا تھا،میری سروس ایکسٹینشن کی درخواست مسترد ہو گئی تھی اور مجھے بتایا جا رہا تھا کہ آپ نے تمام زندگی بہت محنت اور ایمانداری سے کام کیا

………Weldone……

مگر اب آپ کام کے قابل نہیں لہٰذا

…..you may go now……
بامشکل تمام میں نے آنکھ میں بھرے آنسوؤں کو گرنے سے بچا رکھا تھا۔
بوجھل قدموں اور ڈوبتے دل کے ساتھ میں دونوں ہاتھوں میں تحفے اور تعریفی اسناد تھامے آفس کے زینے سے نیچے اُتر رہا تھا۔
مجھے پینتیس برس پہلے کا زمانہ یاد آرہا تھا ، جیسے کل کی بات ہو۰۰۰۰میں ایک بھرپور نوجوان۰۰۰۰دو چار جست میں زینہ طے۰۰۰۰منٹ میں اوُپر اور اگلے منٹ نیچے۰۰۰۰مگر
آج یہی زینہ برسوں کی مُسافت معلوم ہو رہا تھا۔
کیا کھویا۰۰۰؟
کیا پایا۰۰۰؟
ایک چھوٹا سا گھر۰۰۰بچے تعلیم پا گئے۰۰۰۰اپنے اپنے کاموں میں مگن۰۰۰۰۰اللّہ نے عزت سے گذار دی۰۰۰۰میری چھوٹی سی فیملی۰۰۰۰۰
میری بیوی۰۰۰۰مجھے اُسکے شکوے یاد آرہے تھے
۰۰۰۰۰۰کبھی تو جلدی گھر آجایا کریں
۰۰۰۰۰ارے اپنی صحت کی فکر ہے آپکو
بچے آپکو یاد کرتے کرتے آج بھی سو گئے
اُسکے فون۰۰۰۰حالات خراب ہیں ،،،دیکھ بھال کر آئیے گا،،،،مجھے فکر ہو رہی ہے
آج جلدی آجائیں،،،،بہت اچھا موسم ہے،،،،،اِس ویک اینڈ پر کہیں چلتے ہیں مزہ آئے گا
مگر ۰۰۰۰میں کمپنی کا وفادار۰۰۰۰اپنی کام میں مگن۰۰۰۰ایک ذمہ دار فرد۰۰۰۰کام کا بوجھ۰۰۰۰روز ایک نئی جنگ۰۰۰۰روز ارجنٹ کام
سوری آج مشکل ہے ، نہیں آپاؤں گا۰۰۰۰چلیں گے کبھی فرصت سے۰۰۰۰
مگر ۰۰۰۰وہ فرصت کے لمحات کبھی نہیں آئے۰۰۰
اور آج کے بعد فرصت ہی فرصت ۰۰۰۰
میرے قدم ڈگمگا گئے۰۰۰۰میں نے ریلنگ کا سہارا لیا اور بامشکل تمام خود کو گرنے سے بچایا۰۰۰۰
وقت بھی بہت ظالم ہے۰۰۰۰اب نہ جسم میں جان رہی
اور نہ دل میں اُمنگ۰۰۰۰
مجھے بچوں کی باتیں یاد آنے لگیں ۰۰۰۰۰
پاپا، آپ نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟؟؟؟
کیا کیا ہے ہمارے لئیے؟؟؟؟
آپکو بس اپنی جاب سے پیار ہے۰۰۰میرا دل بھر آیا۔
تمام عمر دوسروں کو اچھی زندگی دینے کی جد و جہد میں،،،کیا ہارا؟۰۰۰۰کیا جیتا؟
کہاں کہاں غلط کیا؟؟؟کیا صحیح تھا؟؟
میں اب بھی سمجھنے سے قاصر تھا۰۰۰
شاید اپنی زندگی اور جوانی لُٹانے کے باوجود بھی کچھ حاصل نہ کر پایا۰۰۰
آج بھی خالی ہاتھ۰۰۰۰۰
بہت دیر سے روکے ہوئے آنسو میرے چہرے کی جھریوں سے ہوتے ہوئے۰۰۰۰آفس کی آخری سیڑھی پر گر کر کہیں گُم ہوگئے۔
(ابنِ آدم)

Posted in سفرِ رائیگاں | 1 Comment

خالی کشکوم

بہت دیرسے میں ،اُس پارک میں درخت سے ٹیک لگائےاسکےسائےکو بڑھتےدیکھ رہا تھا۔
میرے دیکھتے ہی دیکھتے سورج لمبی مُسافت طے کرکےتیزی کےساتھ غروب ہونے کو بےتاب تھا۔پرندے دن بھر کی تگ و دو کے بعداپنے اپنے گھونسلوں کی طرف رواں دواں تھے۔
صبح سے شام اور شام سے صبح۰۰۰
دن کسی تیز رفتار ٹرین کے ڈبوں کی مانند،اِک جھلک دیکھا کر اوجھل ہوتے جاتے ہیں ،،جیسے ٹوٹی مالا کے موتی۰۰۰ایک ایک کر کے گرتے جاتے ہوں اور بالآخر ٹرین نے گذر جانا اور مالا نے فنا ہو جانا ہے۔
اور ہم انسان ہر کام اور عمل کل پر ٹالنے کی عادت کا شکار۰۰۰۰
ذرا سی مشقت اور پریشانی اُٹھانے کو تیار نہیں ،،،روز ایک نئی پلاننگ۰۰۰۰۰۰مگر عمل؟؟؟؟
اپنی صحت سے لا پرواہ۰۰۰۰شایداُس دن کے انتظار میں جب بیماری ہمیں اپنے شکنجے میں آ جکڑے۰۰۰۰
عبادت کے لئے بھی آخری عمر کےانتظار میں ۰۰۰۰۰۰۰۰
پھر دنیا سے خالی ہاتھ۰۰۰۰۰۰
خالی کشکول لئے ہی چلا جاتا ہے۰۰۰۰۰۰

Posted in خالی کشکول | Leave a comment

فنا مقّدر ہے۰۰۰۰

سیڑھی اُترتے ہوئے میرے قدم لڑکھڑا گئے،میں گرتے گرتے بچا اور بامشکل تمام ریلنگ کو تھام سکا۔میری آنکھوں میں تیرتی نمی نے ویژن کو دھندلا دیا تھا۔میں نے شرٹ کی آستین سے آنکھیں رگڑ کر صاف کرنے کی ایک ناکام سی کوشش کی،،،مگر آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جو اُمنڈنے کو تیار تھا،،،،دل کے ساتھ ساتھ آنکھ بھی بھر آتی تھی۔
کمالِ ضبط سے کام لیتے ہوئے میں نے اپنے آپ کو سنبھالا،،،،،میرے اندر اِک جل تھل کاسا سماں تھا۔ایک بارش تھی جو برسے جا رہی تھی۔
میں اپنے ایک قریبی دوست کی عیادت کے لئیے ہسپتال میں موجود تھا،،،اُسے موت و زیست کی کیفیت میں مُبتلا دیکھ کر میرا دل بھر آیا تھا۔
چاروں طرف چاہنے والے،،،،،،پیار کرنے والے،،،،،جان چھڑکنے والوں کا ہجوم،،،،،مگر بےبس،،،،،،لاچار،،،،،بس ہاتھ مل رہے تھے اور اپنے پیارے کو جاتا دیکھ رہے تھے۔
کبھی کبھی انسان کتناکمزور اور مجبور۰۰۰۰۰بڑے بڑے دعوے۰۰۰۰اونچے خیالات۰۰۰۰صدیوں کی منصوبہ بندی۰۰۰۰مگردر حقیقت بالکل بے بس۰۰۰۰حالات کی اک ذرا سی ٹھوکر سے کچھ کا کچھ۰۰۰۰سب کچھ جوں کا توں دھرا رہ جائے۰۰۰۰پل بھر میں سارا منظر ہی تبدیل۰۰۰۰
میں دیوار کا سہارالئیے کھڑا تھا،،،،،سوچوں اور یادوں کا اِک اژدھام تھا جو جوق در جوق چلا آرہا تھا۔
مجھے اپنے دوست کی زندہ دلی یاد آئی،،،،اسکے زندگی سے بھرپور قہقہے،،،،،خوش مزاجی،،،،چٹکلے،،،،کیسے کیسے خواب،،،،کیا کیا پلاننگ۔
انسان کے کٹھن امتحانوں میں سے ایک امتحان،اپنے پیاروں کو تکلیف میں دیکھنا ہےاور کچھ نہ کر پانا ہے۔اپنی بے بسی کا احساس،،،،،کتنا حقیر،،،،کتنا کمزور۰۰۰۰
جتنا میں سوچتا جاتا میرا دل ڈوبتا جاتا۰۰۰۰۰
میں ہاتھ مل رہا تھا،،،،سب کی طرح بے بسی سے،،،،سہارا تھا
تو صرف ایک امُید اور دعا کا ۰۰۰۰
میں دکھی دل اور بوجھل قدموں سے ہسپتال سے باہر نکل آیا،،،،یہاں زندگی اپنی پوری آب و تاب سے جگمگا رہی تھی،،،،ہر طرف وہی گہماگہمی،،،،وہی رونق،،،،،
میں سر جھکائے بوجھل قدموں سے اپنے راستے پر چل پڑا۔

   (ابنِ آدم)

Posted in Uncategorized, فنا مقّدر ہے | Leave a comment

سالِ نو

‎سمندر کی ننھی ننھی بوندیں دسمبر کی اوس میں مل کر ماحول کو اور بھی نم بنا رہی تھیں۔ہر طرف ایک خوشگوار سی خنکی چھائی ہوئی تھی۔دسمبر کے ڈھلتے سورج کی نارنجی کرنیں اسُکی اداسی کا بھید کھول رہی تھیں ۔میں سمندر کے کنارے ایک چٹان کی کوکھ سے بچھڑے پتھر پہ بیٹھا سورج کی اداسی کو محسوس کر رہا تھا۔
‎آج سال کا آخری دن ڈھلنے کے قریب تھا۰۰۰۰۰تھکا ماندہ سورج۰۰۰۰طویل مسافت کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے غروب ہونے کو تھا۰۰۰۰۰ساتھ ہی بہت سی یادیں اور باتیں۰۰۰۰۰۰
‎کتنے ہی انمول لمحات اور انمٹ نقوش ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے امر کر گیا تھا۔
‎اُسے جانا تھا اور کل اک جواں سورج،نئے امنگ اور ولولے کے ساتھ طلوع ہونے کو تیار تھا۰۰۰۰
‎یہی دستورِ کائنات اور یہی فلسفہ ء حیات۰۰۰۰۰
‎سب کو ڈھل جانا ہے ،،،ڈوب جانا ہے اور جگہ دینی ہے ،،،آنے والوں کو،،،،،
‎ہر ذی روح کا مقّدر فنا ہے،،،،اُسے ہو ہی جانا ہے۔
‎میں خاموشی سے بیٹھا ،ڈوبتے سورج کے غم میں شریک،،،اسُکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سوچ رہا تھا۔
‎کچھ دیر پہلے جب یہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا تو کون تھا جو اس سے آنکھ ملا سکے؟؟؟
‎اسکی طرف آنکھ بھر کر دیکھ سکے۔
‎مگر اب۰۰۰۰۰۰
‎بےشک ہر عروج کو زوال اور ہر ذی روح کو فنا ہے۔
‎گذرتے سال کا آخری پہر۰۰۰۰۰
‎کیا کھویا؟؟؟کیا پایا؟؟؟؟
‎وقت سے کچھ حاصل کر سکے؟؟یا صرف گذار دیا۰۰۰۰
‎میں ہمیشہ کی طرح اُداس تھا،،،،وہی افسوس اور پچھتاوے۰۰۰۰۰۰۰۰۰
‎گئے دنوں کا حساب کر رہا تھا،،،،،ہر طرف خسارہ ہی خسارہ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
‎زندگی کی مالا سے ایک اور موتی کم ہونے کو تھا،،،،کتنے موتی اور ہونگے نہیں معلوم۰۰۰۰۰۰
‎مگر وہی ایک اُمید ،اپنے رب سے،،،،پھر وہی کچھ حاصل کر نے اور پا لینے کی تمنا۰۰۰۰۰۰۰۰۰
‎ کچھ کر گذرنے کی لگن۰۰۰۰۰۰۰
‎بےشک وہ بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔
‎ایک نیا جوش،،،ایک نئی لگن۰۰۰
‎کہیں قریب سے میرے کانوں میں مغرب کی اذان کی صدا آنے لگی،میں یقینِ کامل سے اُٹھ کھڑا ہوا،،،،کل کے سورج کا استقبال کرنے۰۰۰۰۰

‎ (ابنِ آدم)

Posted in Uncategorized, سالِ نو | Leave a comment

تم ۰۰۰میں ۰۰۰اور۰۰۰دسمبر

ہمارے قدموں تلے چرچراتے خشک پتے اس ویراں سڑک کی خاموشی توڑنےکی ناکام کوششوں میں مصروف تھے۔صبح کے اِس سمے ہر طرف گہری اور دبیز دھند کا راج تھا۔ایسا لگتا تھا کہ بادل فلک سےزمیں کو بوسہ دینے اُتر آئے ہوں،ہماری سانسیں باہر نکلتے ہی دھواں بن کر بادلوں میں گھل مل جا رہی تھیں۔
نمازِ فجر سے فارغ ہوکر ہم دونوں نکل کھڑے ہوئے تھے۔دسمبر کی پہلی صبح۰۰۰۰۰۰ہم اس حسیں صبح کو کسی صورت مِس نہیں کرنا چاہتے تھے۔
بہت دیر سے چپ چاپ،اپنی اپنی سوچ میں گم،،،اس سرد اور سنسان سمے کو محسوس کر رہے تھے۔اس خاموش سمے کی پُر اسراریت نے ہمارے وجود کو اپنے حصار میں جکڑا ہوا تھا۔
میرا۰۰۰۰۰اسُکا۰۰۰۰۰۰اور ہم سب کا دسمبر۰۰۰
اک عجب اداس سا بندھن۰۰۰اک نامعلوم سا تعلق۰۰۰۰اک تنہائی کا احساس۔
کسی کی یاد۰۰۰۰کوئی پرانا ساتھ۰۰۰۰کوئی کھویا ہوا پل۰۰۰۰۰
لگتا تھا سب کچھ لوٹ آتا ہے ۰۰۰۰دسمبر کے ساتھ
دیکھو۰۰۰۰۰
“دسمبر پھر آگیا”
اُس نے ایک عجب سی سرشاری سے کہا۔
“ہاں”،،،،میں نے مسکراتے ہوئے ،گرم شال سے جھانکتے اسُکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اسُکی روشن آنکھوں میں مجھے یادوں کے لا تعداد دئیے جلتے نظر آرہے تھے۰۰۰
پتہ نہیں کیوں دسمبر مجھے ہمیشہ اپنا اپنا سا لگتا ہے۔ جیسےمیرا اس سے کوئی خاص بندھن۰۰۰۰کوئی رشتہ۰۰۰۰کوئی اپنا پن۰۰۰۰بہت خاص۰۰۰۰بہت قریبی۰۰۰۰۰لیکن کچھ پُراسرار سا۰۰۰۰۰الجھا الُجھا سا۰۰۰۰۰
وہ بولتی جا رہی تھی۔
خشک پتوں سے گھری زمین۰۰۰۰سرد ہوا۰۰۰۰سنسان راستہ۰۰۰۰
میں اور وہ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
میں اسُکی بات سننے کے ساتھ ساتھ ان لمحات کی خنکی کو اپنے وجود میں جذب کرنے مصروف تھا۔
تمکو معلوم ہے نا یہ سب مجھے کتنا پسند۰۰۰۰۰
سرد ہوا۰۰۰۰خاموشی۰۰۰۰۰اور لمبی اُداس راتیں۰۰۰۰۰سب کے درمیاں ہوتے ہوئے بھی اکیلا پن۰۰۰۰
شاید یہی سب تومیرے اندر۰۰۰۰۰۰
“سنو،،،،کیا تم نے کبھی اپنے اندر کے دسمبر کو محسوس کیا ہے”؟
“کیا”؟؟؟؟
میں چونک اُٹھا ۔
“ہاں”، ہم سب کے اندر ایک دسمبر ہوتا ہے،،،،”سرد”۰۰۰۰”اداس”۰۰۰۰۰اور”تنہا”دسمبر۔
ضرورت صرف اسُکو ڈھونڈنے کی ہے۔دسمبر تو موجود ہوتا ہے۔
کبھی کسی اداس شام،کسی ویرانے میں،کسی خاموش ٹھہری جھیل کے کنارے ۰۰۰۰۰۰تنہائی میں اپنے اندر کے دسمبر کو آواز دینا۰۰۰۰وہ تمہیں مل جائے گا۰۰۰۰تم اُسے پا لو گے۔
میں اسُکی آنکھوں میں اک گہری جھیل سی گہرائی دیکھ سکتا تھا۰۰۰۰۰میرے وجود میں ایک سرد سی لہر دوڑ گئی۰۰۰۰شاید میرے اندر کا دسمبر جاگ رہا تھا۔
(ابنِ آدم)

Posted in تم،میں اور دسمبر | 3 Comments