الفاظ زباں نہیں مگر بے زباں نہیں

کسی نےپوچھامجھ سےکہ”اےابنِ آدم،تم اتنی گہرائی میں کیسےلکھ لیتےہو؟؟؟”                                                                                                                               میں سوچ میں پڑگیا،کیاواقعی میراکچھ لکھاکسی پراثرکرتاہو 

گا؟؟

اگریہ صحیح ہےتو مقصد پورا۰۰۰۰۰۰۰۰

اگرہماری ذراسی کوشش سےکوئی اچھا کرےیاکرنےکی کوشش کرےتوسمجھو مقصدِحیات پورا۰۰۰۰۰۰۰۰۰

‎کبھی کوئی اچھاشعرہمارےرگ وپےمیں اک طوفان  برپا  کردیتاہےاورہم پہروں اسکےسحرسےنہیں نکل پاتے،،،،کبھی کوئی اچھی تحریر،کوئی اچھاپیرا،ہمیں سوچ کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیتاہے،ہمیں لگتاہےکہ یہ ہمارےاندرکی آوازہے، یہی تووہ بات ہےجوہم کہناچاہ رہےتھے۰۰۰جوہمارےوجودمیں ناجانےکبسےفشاربرپاکیےتھی اورہم اُسے کہنےاورسوچنےسےقاصرتھے۔

‎اصل بات محسوسات کی ہوتی ہے،،،لکھاری بھی ایک عام انسان اوروہی کچھ محسوس جو دوسرےکرتےہیں،،،فرق صرف اتناکہ شاعراورلکھاری اپنےمحسوسات کوکاغذپر منتقل کرسکتےہیں اوراپنےجذبات،،،احساسات کوالفاظ کاجامہ پہناکرکاغذپربکھیردیتےہیں،،ایکاچھامصنف دراصل کاغذپربکھرےلفظوں کوایک درست ترتیب دینےکےحسن سےواقف ہوتاہے۔ایسی ترتیب کہ جس سےوجودمیں آنےوالےجملےانسان کےدل پراثرکرنےکی صلاحیت سےمالامال ہوں۔

‎میرایقین کامل ہےکہ اللہ نےاپنےہربندےکوکسی نہ کسی کام کےلیےچن رکھا ہے،جوبھی ذی روح اس دنیامیں ہے،،کسی نہ کسی مقصد

سےہے۰۰۰۰۰۰

‎بس اسکومحسوس صرف وہی شخص کرسکتاہےجسکےاندرکاانسان زندہ ہو،،،جودوسروں کادرد محسوس کرے،،،جسکےآنسودوسرےکی تکلیف میں

نکل سکیں،،،، ورنہ توبہت سےلوگوں کےلئیےیہ صرف کہانی یاکاغذکاٹکڑا ہے۔

‎مگرکچھ ایسےبھی ہوتےہیں جوکاغذپہ بکھرےلفظوں کادکھ دیکھ سکتےہیں،،،محسوس کرسکتے ہیں،،،یہاں تک کہ روبھی سکتےہیں۔

ابنِ آدم

Advertisements
Posted in ‎الفاظ زباں نہیں، پر بے زباں نہیں | Leave a comment

سرد کافی

543F6F73-1975-447F-BEA2-42CE35DD986A

 

آج موسم کے تیور صبح ہی سے بہت برہم تھے،،،،،تیز موسلہ دھار بارش کے بعد ہر طرف جل تھل ہو رہا تھا۔مسلسل وقفے وقفے سے بجلی کی کڑک کہ گویا آسمان سر پر آن گرا ہو!!!

میں شہر کے اس نسبتاً سنسان کافی شاپ میں ،اُسکے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔میز پر پڑی کافی اپنی بھینی بھینی مہک فضاؤں میں بکھیرنے کے بعد ہمارے روًیوں سے مایوس ہو کر سرد ہو چلی تھی۔

صرف خاموش بیٹھے رہو گے یا کچھ بولو گے بھی؟؟؟؟؟؟؟؟؟آخر تمُ میری بات کیوں نہیں سمجھتے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟کیوں اپنی زندگی خراب کر رہے ہو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟   تم جانتے ہو کہ میں اب کسی اور کی ہونے  والی  ہوں۰۰۰۰۰۰۰۰بھول کیوں نہیں جاتے مجھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اُس نے خاموشی کی دبیز چادر کو چاک کرتے ہوئے ایک سانس میں سارے الفاظ ادا کر دئیے۔ میں اک مُسکراہٹ کے ساتھ اسُکی حسین آنکھوں میں چھائی نمی کو دیکھتے ہوئے بولا۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

تم کیا سمجھتی ہو کہ کیا محبت کا مقصدصرف پا لینا ہے؟؟؟؟ کسی کو حاصل کر لینا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

نہیں  ہرگز نہیں۰۰۰۰۰بلکہ جو چیز حاصل ہو جائے وہ اپنی قدر و قیمت کھو دیتی ہے۔

محبت انجام کب سوچتی ہے؟؟؟؟؟

قسمت میں پھول ہیں کہ کانٹے،،،،کس کو پرواہ ۰۰۰

محبت تو بس ہوجاتی ہے، کسی بھی انجام سے لاپرواہ

میں نے ایک گہری نظر اسُکےحسین سراپے پر ڈالی،،تم مجھے کوئی ایک جگہ اس دنیا میں بتا دو جہاں مجھے تمہاری یاد نہ آئے

جہاں کی ہوا میں تمہارے وجود کی خوشبو بسی نہ ہو۰۰۰۰۰۰۰کوئی ایسی جگہ جہاں کا ذرہ ذرہ تمہیں پُکار نہ رہا ہو۰۰۰۰۰۰کوئی ایک ایسا ٹکڑا ء خاک جہاں میں سو سکوں ،،،،اور تمہاری یاد نہ آسکے۰۰۰۰۰سورج کی پہلی کرن میں تم جھلکتی ہو۰۰۰۰چاند کو دیکھوں تو تمہارا چہرہ۰۰۰۰۰ستارے ہیں  کہ تمہاری آنکھیں ۰۰۰۰۰۰۰میری ایک ایک سانس۰۰۰۰۰لہو کی اک اک بوند ۰۰۰۰۰تمہارے نام سے رواں دواں۰۰۰۰۰۰آنکھ کھولتا ہوں تو تمُ نظر آتی ہو۰۰۰۰۰آنکھ موندتا ہوں تو تمہارا چہرہ سامنے۰۰۰۰۰تمُ بتاؤ کہ میں کس چیز کو نہ دیکھوں؟؟

یہ آسمان،،،،، یہ بادل،،،،،،یہ بارش،،،،،،  یہ ہوا،،،،،،  یہ سمندر،،،،،،، یہ پانی ،،،،،،، یہ جگنو،،،،،، یہ تارے،،،،،، سب کے سب تمہارے

یہ پھول،،،،، یہ شبنم ،،،،،، یہ ہوا کی سرسراہٹ،،،،،، یہ پرنوں کی چہچہاہٹ ،،،،،،، ہر اک شے میں تم دکھتی ہو۰۰۰۰ہر اکِ چیز میں تم جھلکتی ہو۰۰۰۰۰ میں چاہوں بھی تو تمکو ایک پل کے لئیے اپنی زندگی سے نہیں نکال سکتا۔

تم میری ایک ایک سانس میں شامل ہو،،،،اصل میں تم میری زندگی ہو۔ وہ مبہوت سی میرے وحشت بھرے چہرے کو تکے جا رہی تھی۰۰۰۰۰۰اُسے میری آنکھوں میں چاہت کے سچے دیپ نظر آرہے تھے۔ وہ چاہتے ہوئے بھی مزید کچھ نہ بول سکی،،،نم آنکھوں کے ساتھ میز پہ رکھی سرد کافی کی پیالی اُٹھائی اور اہنے یاقوتی لبوں سے لگا لی۔ میں چپ چاہ سر جھکائے اپنے خالی ہاتھوں کو تک رہا تھا۔ بادل ایک بار پھر زور سے کڑکے مگر میرے اندر کی خاموشی کو توڑنے سے قاصر تھے۔

(ابنِ آدم)

Posted in سرد کافی | 1 Comment

اِک انتظارِ مسلسل

      

ٹرن۰۰۰ٹرن۰۰۰ٹرن،،،،،

موبائل فون کی گھنٹی سُنتے ہی وہدیوانوں کی طرح فون کی جانب لپکی!

جلدیمیںاسُکا گھٹنا بیڈ کےکونےسےٹکرایااوراسکےناتواںبوڑھےجسم میں

 جیسے اک آگ سی بھرگئی

اُسنےبامشکل تمام اپنی چیخ دبائیاورسسکی لیتےہوئے

ہونٹ سختی سےبھینچ لئیے،،،،

درد پرقابو پانےکی کوشش کرتے ہوئے موبائل فون

 اُٹھایا مگرلائنکٹ چکی تھیاُسنے بےچینی سےکاللاگ

 چیک کیاورایک ٹھنڈا سانس لیتےہوئےموبائلاک طرف رکھ دیا،،،

فونکمپنیکیجانبسےشایدکوئیپروموشنکالتھی

                پچھلےکئی دنوں سے اُسےاپنی بیٹی کےفون کا شدت سےانتظار تھا

ویسےہی عید میں چند دن باقی تھےاورآخری عشرےکی

 عبادات میں وہ اُسےبہت یاد کررہی تھی

نہجانےوہاگلا رمضان دیکھ پائےیا نہیں؟

بہت روئی تھی وہ اس بار۰۰۰۰۰

   آج وہ سحری کے بعد سےلال آنکھیں لئیےجاگ رہی تھی

تین گھنٹے پہلے،ٹائم کاحساب کرتےہوئےاُسنےاپنی

 بیٹی کو فون کیا تو وہبہت مصروفتھی،،،،

ویسےبھی دوسرے ممالک میں رمضان کا کوئیخاصاہتمام نہیںہوتا،

اُسکاخاوندآفس جارہاتھااوربچےاسکول کی تیاری میں مصروف،،،،

امی میںآپکوکچھدیرمیں فونکرتیہوں،،،،،”

بس جب سےہی وہانتظارمیں ٹہل ٹہل کرہلکان ہو رہی تھی

بےچاری میری بچی،،،کتناکام کا لوڈاسپر،،،

میاں،،،،بچے،،،ساس،،،سسر،،،،

یقیناً تھک کراسکیآنکھلگ گئیہوگی،اُسنے

اپنےآپ کوتسلیدینےکیکوششکی،،،،

بہت صبح جواُٹھنا پڑتا ہےاسے،،،کتنی چورتھی وہاُٹھنےکی،،،،

میںاُٹھااُٹھاکرتھک جاتی مگرمجال ہےجو بیڈ چھوڑ دے،،،،

یادوںکےدریچےکھلتےچلےگئے،،،،

اُسکےجھریوںبھرےچہرےپرمُسکراہٹ بکھرگئی،،،،

کتناشورتھااُسکےگھرمیں،،،صبح توجیسےایک جنگ 

چل رہی ہو،اسکامرحوم شوہر۰۰۰۰

وہ توجیسےساراگھرسرپہاُٹھالیتے،ڈیوٹی نہ ہوئی 

شیطان کیآنت،،،جو کبھی ختم ہی نہ ہو کےدی،،،

کسی کی پرواہ نہ تھیانہیں،بس ڈیوٹی

عزیزتھی،،اسنےخفگیسےسوچا،،،،،،

مرحوم شوہرکاچہرہآنکھوں کےسامنےگھوم گیا،،،،

ایک آنسواُسکیآنکھسےٹپکااورچہرےکیجھریوں

سےہوتاہوادوپٹےمیںگم ہوگیا،،،،،

وہسوچتیچلیگئی۰۰۰۰۰۰۰

اُسکےدونوںشریربچے،،،،،دونوںبہنبھائیکتنالڑتےتھے،،،،

مجال ہےجو اک پل سکونسےبیٹھجائیں،،،،

پوراگھراُلٹ پلٹ کردیتےاورانکیفرمائشیں،،،،

جوکبھیختم نہہونےکاناملیتیں،،،آج یہ کھاناہے،،،،،،

آج وہبنادیں،،،،توبہ تھیاُن سے،،،اُسکادل محبت سےبھرگیا

ماشاءالّلہ دونوںبچےملک سےباہراپنےگھروںمیں خوشتھے-

بیٹاباہرپڑھنےگیاتھااوروہیںسیٹ ہوگیاتھا،،،،

اورکیاکرتابیچارہ،یہاںرکھاہیکیاہے؟

صحیح کہتا ہےوہبھی یہاں کا سسٹم ہی خراب ہے،،اب وہ وہاں کتناخوش ہے،

اکثرتصویریںبھیجتا ہے،اسکابیٹابھی بہت پیاراہے،

بالکل باپ پہگیا ہے،،،اسکیآنکھوںمیںمحبت کے

دیئےروشنتھےکتنادلچاہتااپنےپوتےکوپیارکرنےکو،،،،

کب سےکہہ رہا ہےکہامی آؤنگااُسکا

پوتا پورے پانچ سال کاہوگیاایک تو وہ 

بھی ڈیوٹی کےمعاملےاپنےباپ پرگیا ہے،،

مجال ہے کہ کوئی کام چھوڑ کر ماں کے پاس چلا آئے

اُسےغصہآنےلگا،،،پرپھریہاںآنےکاخرچہ بھی تو بہت ہے

آخری بار

جب وہآیا تھاتو کتناخرچہہوگیاتھااُسکا،،،،

اُسنےاثبات میں سر ہلایا ،،،، ٹھیک کرتا ہے جو 

نہیںآتا،،،کچھ پیسےبچائےگاجو 

آگےاولادکےکامآئیںگےنہ۰۰۰۰۰۰۰۰۰

ہےتومیراہیبیٹا،،،،،اُسنےفخرسےسوچا۰۰۰۰۰۰۰

کیسےکیسےپیٹ کاٹ کراُس نےاوراُس کےشوہر

نےکچھپراپرٹی بنائیتھی،

جوآخرکاربیٹےکیتعلیماوربیٹیکیشادیپرکامآئی،،،،

اگرنہہوتیتوکیاآجدونوںباہرہوتے؟؟؟؟

کتناخیال رکھتا

 ہےمیرابیٹا،،،،یہاتنااچھافلیٹ،،،کام کرنے

والینوکرانی،،،سب کچھ تو ہےمیرےپاس،،،،،،

پتہ نہیں یہ کام والیکہاں رہگئی؟؟؟

اسنےچاروںطرف نظردوڑائی،،،اِک سناٹا،،،،،اِک ُ

ہوکاعالم۰۰۰۰۰۰۰۰

اُسنےآہستگی سےاپنےدکھتےگھٹنےکوسہلایا,,

اک سسکی نکل گئی،،،

نیل پڑگیاتھا،،،تکلیف بڑھتی جارہیتھی،،،

اب کام والیآئےتوسب سےپہلےگھٹنے

کامساج کرواؤنگی،،،اسنےسوچا۰۰۰۰۰۰۰۰

اُسکی نظر کھڑکی کےباہرچڑھتےسورج پرپڑی،

فون نہیں آیاابھی تک۰۰۰۰۰۰

اُسےفکر ہونےلگی،،،،اُس نےفون کرنے کےارادے

 سے فون اُٹھایا،،،،،

اسُکی نظرسامنےلگے وال کلاک پرپڑی،،،،اوہ۰۰۰۰

اب توبچوں کےاسکول سےآنےکا ٹائم ہوگیا تھا،،،

وہ یقیناًکچنمیںمصروفہوگی،،،،،،،،،

ویسے بھی اسکےساس سسر  دوپہر میں جلدی 

کھانا کھا کر قیلولہکےعادیہیں۔

اُسےیادآیاایک باراسکی بیٹی نےبتایاتھاکہ

امیاسٹائم سب سو رہےہوتےہیں،،،فون نہ کیاکریں۔

اُسنےفونایک سائیڈ پہ رکھ دیا اور بیڈ

 کےسرہانے سےسر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۰۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِآدم)

1D1FE5CE-E1AC-445D-BD68-6B5C7911C802.jpeg

Posted in اِک انتظارِ مسلسل | Leave a comment

پھول،بارش اور سمندر

     ڈھلتے سورج کی کرنیں مانند سی پڑ گئی تھیں،ہر طرف نارنجی روشنی کا ڈیرہ تھا۰ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا،جیسے وجود کو ایک توانائی بخش رہی تھی۰میں چُپ چاپ بیٹھا کافی دیر سے اُسے سمندر کی نرم ریت پر خوشی سےنہال،اُچھلتے ،کودتے،دوڑتے، بھاگتے،لہروں سےاٹھکھیلیاں کرتے دیکھ دیکھ کر مسرور ہو رہا تھا-

وہ تھی ہی ایسی۰۰۰۰۰فرشتوں کی سی معصومیت،،،،،،

سمندر۰۰۰بارش اور پھول،،،سب اسکی کمزوری،،،،

بارش ہوتی تو لگتا جیسے صدیوں کی پیاس ہو،،،سارا سارا دن پانی میں شرابور۰۰۰۰بھیگ بھیگ کر سرشار۰۰۰۰مجال ہے جو تھک جائے،،،،ذرا بیٹھ جائے۰۰۰۰۰

پھولوں سے جیسے اُسے عشق،،،کوئی بھی پھول ہو،،کسی بھی رنگ ونسل کا،،،دیکھتی تو خود بھی پھولوں کی طرح کھلِ اُٹھتی،،،،دیر تک تکتی رہتی،،،سونگھتی رہتی اور سنبھال سنبھال کر رکھتی۰۰۰۰جب کبھی کسی پھول کو پڑا دیکھتی تو ایسے اداس ہوجاتی ، جیسے پھول میں اُسکی جان ہو،،جیسے وہ پھولوں کا درد محسوس کر سکتی ہو۰۰۰۰پھولوں کے قدموں تلے روندے جانے کا غم اُسے پہروں اداس رکھتا،،اور کچھ ایسا ہی ربط اُسے سمندر اور ساحل سے بھی تھا-جب سمندر پر آتی تو خوشی جیسے اسکے انگ انگ سے پھوٹی پڑتی،،،،آتی جاتی لہروں سے اٹھکھیلیاں کرتی،،،کبھی دور تک پانی کے ساتھ دوڑتی چلی جاتی اور کبھی چپ چاپ دیر تک سمندر کو دیکھتی رہتی،،،جیسے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں کو اپنی نظروں سے ناپ رہی ہو۔جیسے اسکی وسعتوں کا اندازہ کر رہی ہو،،،،جیسے سمندر سے اسکا کوئی بندھن،،،کوئی ناتا ہو۰۰۰۰۰۰۰۰

      میں ڈوبتے سورج کی کرنوں میں سنہری ہوتے اسکے دلکش وجود کو دیکھ دیکھ کر اپنی قسمت پر نازاں تھا۔وہ ساحل کی گیلی ریت پر خراماں خراماں آگے بڑھ رہی تھی، اور میں اُسکے نقشِ پا پہ اپنے قدم رکھے،جیسے سمندر کی ٹھنڈک کے ساتھ ساتھ اسکے وجود کے لمس کو اپنی روح کی گہرائیوں میں منتقل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔میں اس احساسِ وابستگی کو اپنے وجود میں مقید کرنا چاہتا تھا۔

اُسے میرے پیچھے ہونے کا احساس ہوا،،،اُس نے رک کر ہمیشہ کی طرح مجھے مُسکرا کر دیکھا،،،وہ رک کر میرا انتظار کر رہی تھی۔اسکی آنکھوں میں بسا پیار مجھے مبہوت کر رہا تھا،،،میں اسکے قدموں کے نشان پر چلتا،اسکے پاس پہنچ گیا۔ہم دونوں ایک ساتھ خاموش کھڑے ،ایک دوسرے کے وجود کو محسوس کر رہے تھے۔ڈوبتے سورج کا نظارا ماحول میں ایک رومانیت گھول رہا تھا،،کائنات کے کتنے ہی سربستہ راز،ہماری سوچ کی پروازوں سےکہیں آگے۰۰۰۰۰۰

   اُس نے آہستگی سے میرا ہاتھ تھام لیا،،،،میرے وجود میں ایک طمانیت سی چھا گئی۔وہ بہت خوش تھی اور میں اسے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا۔

محبت کا ایک روپ اپنے پیاروں کی خوشی میں پنہاں ہے،،ہم انکو خوشی دینے کی خاطر دن و رات تگ و دو میں لگے رہتے ہیں ،ہماری ساری کوششوں اور جدوجہد کا محور دراصل ہمارے اپنوں کی راحت اور خوشی میں پوشیدہ ہے۔

اپنے منہ کا نوالہ،،کسی اپنے کو کھلانے میں جو سواد ہے،،وہ خود کھانے میں کہاں۰۰۰۰۰۰

محبت دراصل قربانی ہی ہے،،،خود کو فنا کرنے کا نام،،،مصیبتوں اور پریشانیوں کو اپنی ذات پر جھیل کر ،،،اپنے پیاروں کو خوشیاں دینے کا نام۰۰۰۰۰۰۰

سورج کائنات کی وسعتوں میں گم ہو چکا تھا،،،سنہری روشنی تاریکی میں تبدیل ہو چکی تھی۔ہر سورج کے مقدر میں غروب ہونا  اور ہر روشنی کو بالآخر تاریکی میں ڈھل جانا ہے،،،ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے سمندر کی گیلی ریت کے گداز کو محسوس کرتے ہوئے آہستگی سے گھر کی جانب چل پڑے۔

(ابنِ آدم)

   

Posted in پھول،بارش اور سمندر | 2 Comments

جدائی

        خاموشی اکثر کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے۔ ہم دونوں بڑی دیر سےخاموش پارک کی اس بنچ پر بیٹھے ایک دوسرےسے نظریں چُرائے اپنے اپنے خیالوں میں گُم تھے۔میں اُس کے اس طرح بلانے پر ایک عجب خوف اور وسوسے کا شکار تھا۔

وہ بہت دیر سے خاموش تھی،،جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہو،،بہت بڑی بات!میں بھی اندر سےڈرا ہوا تھا،،،پوچھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا،،

“اب ہم کبھی نہیں ملیں گے”اس نے خاموشی توڑی،،،گویا ہزاروں من کا پہاڑ مجھ پر آ گرا،،میرا ڈر سچ ثابت ہوا،،میرا وجود مجھے گہرائیوں میں گرتا محسوس ہوا،،ریزہ ریزہ،،،،

اُس نے نم آنکھوں سے میرے دھواں دھواں چہرے پہ ایک آخری نظر ڈالی،میرے لاتعداد ان کہے سوالوں کے جواب اُسکے چہرے اور آنکھوں میں چھپی بےبسی اور کرب میں پنہا تھے۔

            وہ آہستگی سے مڑی اور پارک کے دروازے کی طرف دھیرے دھیرےچل پڑی،،بنا مجھ سے نظر ملائے،،میں اسکو دیکھتا رہ گیا،،اک ٹک،،،

یہ جداہونے کے لمحات بڑے ظالم ہوتے ہیں شاید جدائی سے بھی زیادہ،،اسکا سارا وجود اسکو روکنے پر مضر،مگر قدم آگے بڑھنے پر مجبور،،،اُسےمحسوس ہو رہا تھا کہ اسکے قدموں کے نیچے نرم گھاس نہیں انگارے ہوں،،،جیسے سارا راستہ کانٹے بچھے ہوں،،چھوٹا سا راستہ،،،میلوں کا سفر لگ رہا تھا،،وہ چاہنے کے باوجود،،پیچھے مڑ کےنہیں دیکھنا چاہتی تھی،،اُسے معلوم تھا اگر اُس نے مُڑ کر دیکھا تو”پتھر”ہو جائے گی،کبھی نہ جا پائے گی۰۰۰۰۰۰۰

               “محبت” بڑی عجیب شےہے،اس کو دیکھنے کے لئےآنکھیں لازمی نہیں ،،دل کی آنکھوں کا ہونا ضروری ہے،،،”بصارت” نہیں “بصیرت” چاہئیے،،،بعض اوقات ہم محبت کو دیکھ نہیں پاتے،،سمجھ نہیں پاتے،،،جب میّسر ہو تو اہمیت کا احساس تک نہیں ہوتا،،،مگر جب ہم سے دور ہو جائے،،روٹھ جائے ،چھن جائے اور چھین لی جائے تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نےکیا کچھ کھو دیا۔

آنے والا ایک ایک لمحہ ایک ایک پل ہمیں یادوں کے اتھاہ سمندر کی تہہ میں اُ تارتا چلاجاتا ہے،،،،

محبت اپنے ساتھ ہمارا سب کچھ لے جاتی ہے۰۰۰

نہ دل میں اُمنگ،نہ چہرے پہ خوشی،نہ جذبے اور نہ ہی کوئی لگن،،،،نہ کچھ کھونے کا دکھ،نہ پانے کی مسرت۰۰۰۰

ہمارے اندر کا موسمِ بہار سب لے جاتی ہے!

اور ہم خالی ہاتھ!

جیسے جسم سے روح پرواز کر جائے،،موت سے پہلے موت،،،

ہم اپنا سب کچھ لٹا کر محبت کو پھر سے حاصل کرنا چاہتے ہیں ،،،،ہم چاہتے ہیں کہ وہ حسیں لمحات پھر سے لوٹ آئیں ،،،وقت پلٹ جائے،،،ہم پھر سے اُن لمحات میں جی سکیں مگر اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے،،،،وقت کسی کےلئیے پلٹا ہے نہ پلٹے گا!!!

(ابنِ آدم)

Posted in جدائی | 3 Comments

اُداسیوں کے رنگ

       ڈھلتی جنوری کی اس سرد صبح میں بارش کے بعد جیسے موسم میں اک سحر سا پھونک دیا گیا تھا،ہر طرف اک لطیف سی خنکی جیسے کسی نے کاندھوں پر برف کے گالے رکھ دئیے ہوں۔ہر سو اک دلفریب سی مہک،جو لوگوں کے موڈ کو خوشگوار کئیے جا رہی تھی-

جیسا موڈ ہو ایسا ہی منظر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

       میں قدرت کے ان تمام حسین نظاروں ،دلفریب موسم اور خوشگوار مہک سے بے نیاز پچھلے پندرہ بیس منٹ سے شہر کے اس مصروف ہسپتال کی پارکنگ میں گاڑی پارک کرنے کی ناکام جد و جہد میں مصروف تھا-بڑھتی ہوئی آبادی اور ناقص منصوبہ بندی ،،،،،شہر میں ہر طرف مسائل کے انبار تھے-

بالآخر کافی کوششوں کے بعد پارکنگ مل گئی اور میں لمبے لمبے ڈگ پھرتا اُس وارڈ کی جانب گامزن تھا جہاں میں کسی عزیز کی عیادت کو آیا تھا۔

وارڈ میں ہر طرف میڈیسن کی مہک،متفکر چہرے،اداس آنکھیں اور بوجھل فضا  نے یہاں کا ماحول یکسر مختلف بنا دیا تھا۔میں سر جھکائے اپنے عزیز کی والدہ کے تاثرات سن رہا تھا اور اپنی کھوکھلی آواز میں ساتھ ساتھ تسلیاں دینے کی اپنی سی تگ و دو میں مصروف تھا۔میں اُن سے نظر چُرا رہا تھا،میں اُن آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا،جہاں دنیا جہان کا دکھ جیسے سمٹ آیا ہو،،،اتنا غم،،،،اتنی بے بسی۰۰۰۰۰۰

       بعض اوقات انسان کتنا بےبس،کتنا لاچار،،،،کہ نا چاہتے ہوئے بھی کسی کے لئے کچھ نہ کر پائے،،،،ہمارا دل چاہتا ہے کہ کاش ہمارے پاس کوئی ایسی طاقت،کوئی ایسا جادو ہوتا،ہم کچھ کرشمہ ساز ہوتے کہ پل بھر میں جہاں بھر کو رنج و الم،دکھوں سے نجات دلا سکتے-ہم چاہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ان غموں کے سمندر سے نکال سکیں،اُداسی کو خوشی میں بدلنے کا ہنر جان سکیں،،،،ہم انکی آنکھوں میں چھپے ان گنت سوالوں کا جواب دے سکیں،،،،اُن کے غموں کا مداوا کرسکیں،،،اے کاش کچھ کر سکیں۰۰۰۰۰۰کچھ تو۰۰۰۰۰۰!

           کم از کم ہم انہیں بتا سکیں کہ ہم انُکے دکھ دردمیں شریک ہیں،،ہم وہ الفاظ ادا کر سکیں جوکسی کے غم کا مرہم ہوں۔ کسی کے چہرے پہ مُسکراہٹ کا سبب۰۰۰۰

مگر شاید دکھ نہ ہوتے تو خوشی کا وجود بھی نہ ہوتا،،،،اللّہ کا کوئی بھی کام مصلحت سے خالی نہیں،،،،کبھی تو دکھ دے کر امتحان،،،تو کبھی خوشی دے کر آزماتا ہے،،،فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری ناقص عقل اسکی مصلحت کو سمجھنے سے قاصر۰۰۰۰۰۰

      بس یہاں آکر انسان کو اپنی اوقات کا پتہ،،،،وہ کتنا حقیر،،،،کتنا مجبور،،،،

تب وہ وقت اُسے اپنے خالق حقیقی سے اور قریب کر دیتا ہے،،،وہ جان جاتا ہے کہ زندگی کتنی حقیر اور وہ کتنا بے اختیار۰۰۰۰اُسکو بس ایک ہی آسرا،،،دعا۰۰۰دعا اور دعا۰۰۰۰۰۰۰

دل سے پُکارو 

اور گڑگڑاؤ تو۰۰۰۰۰

یقینِ کامل۰۰۰۰۰۰

ایک بس پُکار۰۰۰۰۰

ایک آنسو و ندامت۰۰۰۰۰

بس بیڑا پار۰۰۰۰۰۰۰۰

ایک لمحے میں کایا پلٹ جاتی ہے۰۰۰۰

منٹوں میں منظر بدل جاتا ہے۰۰۰۰۰

بےشک وہ ہر اک شے پہ قادر ہے۰۰۰۰۰۰

قریب سے آتی سسکیوں کی آواز ،،،مجھے خیالات کی دنیا سے باہر لے آئی،،،نزدیکی بیڈ کے کنارے کو پکڑے اک خاتون زار و قطار سسک رہی تھی،،،بلک رہی تھی،،،آس پاس کا اسٹاف انہیں سنبھالنے کی کوششوں میں مصروف۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

ماحول پر اک سوگوار سی چادر آن گری تھی۔ہر آنکھ پُرنم اور ہر دل بوجھل۰۰۰۰۰۰

میں خالی ذہن کے ساتھ بیٹھا اُن کے دکھ کو محسوس کر رہا تھا۔کچھ دیر بعد وہ پلٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے باہر نکل گئیں-وارڈ کا ماحول انتہائی دل سوز ہو چکا تھا۔ان خاتون کا جواں سالہ بیٹا پچھلے ہفتے اس بیڈ پہ زندگی کی جنگ ہار چکا تھا،،،آج جب وہ معاملات مکمل کرنے آئیں تو بے اختیار اس طرف کھنچی چلی آئیں اور اپنے لختِ جگرکے آخری لمحات کا کرب یاد کر کے آبدیدہ ہوگئیں،،،،،،وہ بیڈ کے کناروں پہ ہاتھ پھیر پھیر کر اُس کے لمس کو محسوس کر رہی تھیں،،،،اک اک چیز سے اسکی یاد کو تازہ کر رہی تھیں۰۰۰۰۰۰۰

اُس ماں کے کرب کو محسوس کرنا میرے بس کی بات نہ تھی،،،مگر پھر بھی میرا وجود پارہ پارہ ہوئے جا رہا تھا،،،،دل تھا کہ ڈوب ساگیا تھا۔ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہو،،،،،کچھ بھی نہ بچا ہو۰۰۰۰۰۰وارڈ کی فضا اچانک ایک ہلکے سے قہقہے سے معطر ہوگئی،میڈیکل کے اسٹوڈنٹ کا گروپ تمام اداسی اور سوگوارفضا سے بے نیاز ،پیشہ ورانہ مسکراہٹ لئیے اندر داخل ہورہا تھا۔

میں اُنکی آنکھوں میں سجے امید کے روشن دئیے اور مستقبل کے خواب دیکھ سکتا تھا۔

بےشک الّلہ پہ بھروسہ اور اُمید،،،یہی وہ عمل ہیں جن پہ دنیا قائم ہے ورنہ یہاں اتنے غم کہ کوئی مُسکرا ہی نہ سکے۔

میرے دل میں یقینِ کامل اُتر آیا،،،اسکی قدرت سے اچھے کی اُمیداور میں اپنے غموں کو بھول کر مُسکرا دیا۰۰۰

آج موسم بہت اچھا ہے،ایک چائے نہ ہو جائے،،،میں نے اپنے عزیز سے مُسکرا کر کہا،،،،اُسے معلوم تھا کہ ابھی وہ باہر جانے سے قاصر  ہے،،،مگر وہ ہنس دیا،،،،

یس وائے ناٹ۰۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in اُداسیوں کے رنگ | 2 Comments

محبت جیت جاتی ہے

ہلکی ہلکی بوندا باندی نے جنوری کی اس سردصبح میں کچھ اور خنکی گھول دی تھی-ہر طرف گہری دُھند کا راج تھا-سورج لاکھ کوششوں کے باوجود اس دبیز دھند کا پردہ چاک کر اپنا جاہ و جلال دکھانے سے قاصر تھا-اور بالآخر اس نے سرمئی بادلوں کے پیچھے منہ چھپانا غنیمت جانا-

ہم کافی دیر سے ساتھ ساتھ چل رہے تھے،ہر طرف اک خوشگوار سی مہک چھائی ہوئی تھی-ہمارے اطراف میں دلفریب ہریالی اور قریب ہی اک چھوٹی سی جھیل میں سرگوشیاں کرتے پرندے ،،،ماحول کی رومانیت میں اضافہ کر رہے تھے-

مگر میں ہر طرف سے لاتعلق،سر جھکائے اسکے حسین قدموں پر نظر جمائے،خاموشی سے قدم بہ قدم اسکے ساتھ چل رہا تھا اور ساتھ ساتھ اسکے وجود کی مہک اپنی سانسوں بسانے کی تگ و دو میں مصروف تھا-میں چاہتا تھا کہ ان حسین لمحات کے حسن کا اک اک قطرہ آبِ حیات کی مانند پی جاؤں۔

           میں اس پل میں مکمل جینا چاہتا تھا،ہر اک پل سے اسکی وابستگی کا احساس چرانا چاہتا تھا-میں اُس اطمینان کو محسوس کرنا چاہتا تھا جو اسکے وجود کے میرے ساتھ ہونے سے مجھے مل رہا تھا-

بعض اوقات ہماری زندگی میں کسی ایک کا ہونا بہت اہمیت رکھتا ہے،،،کوئی ایک جو بہت اپنا ہو،،،جس سے ہم اپنا ہر دکھ درد شیئر کرسکیں،،،جس پر ہمیں خود سے زیادہ بھروسہ ہو،،،،ہم سمجھتے ہوں کہ وہ ایک ہمارے ہر درد کا مداوا ہے-ہماری ہر مصیبت کے آگے کسی دیوار کی مانند کھڑا ہے،،،جب تک وہ ہے،ہمیں زندگی کے کسی موڑ پر نہ بکھرنے دے گا اور نہ گرنے دے گا-کچھ ایسا ہی مجھے اسکے ساتھ سے محسوس ہو رہا تھا،،،اگر وہ ساتھ ہے تو سب کچھ ہے،،،،ورنہ کچھ بھی تو نہیں۰۰۰۰۰۰

    ہم کافی دور نکل آئے تھے،مجھے معلوم تھا کہ دیر ہوچکی ہے اور اسکو یقیناً چائے کی طلب ہوگی،کبھی کبھی انسان محبت میں خودغرض ہوجاتا ہے اور میں بھی شاید ان لمحات کو زیادہ سے زیادہ طول دینا چاہتا تھا،مگر محبت خودغرضی پہ غالب آجاتی ہے،،،،،

میرے خیال میں چائے پی لینی چاہئیے،،،

میں نے خاموشی کا سحر نہ چاہتے ہوئے بھی توڑتے ہوئے کہا،،،

جواباٗ اس نے اپنی حسین آنکھوں سے اثبات میں اشارہ کرتے ہوئے مجھے مُسکرا کے دیکھا،،،جیسے کہہ رہی ہو

دیکھو محبت جیت گئی نا

میں بھی بے ساختہ مُسکرا پڑا اور ہمارے قدم کینٹین کی جانب بڑھنے لگے۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in محبت جیت جاتی ہے | 5 Comments