جگر گوشے

ویڑرز نے کھانے کی ڈشزز کے کور ایک زوردار آواز کے ساتھ ہٹائے،یہ گویا کھانا شروع ہونے کا عندیہ تھا۰تمام لوگ تیزی سے کھانے کی جانب لپکے،جیسے ایک لمحے کی کوتاہی انہیں مالِ غنیمت سے محروم کر دے گی۔ایک عجیب افراتفری کا سماں تھا،سوٹڈ بوٹڈ لوگ کچھ دیر کے لئے آدابِ محفل سے غافل نظر آرہے تھے۰ویٹرز دوڑ دوڑ کر ڈشزز کو دوبارا بھرنے میں مصروف تھے۔
میں اپنے آفس کولیگ کی بیٹی کی رخصتی میں مدعو تھا،تنہا آنے کی وجہ سے ایک کارنر ٹیبل پر بیٹھا رش چھٹنے کا منتظر تھا۰مجھے معلوم تھا کہ کھانا وافر مقدار میں موجود ہےاور کچھ دیر بعد میں سکون سے لے سکوں گا۔میری نظریں اسٹیج پہ بیٹھی دلہن پہ جمی ہوئیں تھیں جو کافی دیر سے سر جھکائے آنسو بہانے میں مصروف تھی۔اسُکی آنکھوں میں جیسے برسات کی جھڑی لگی تھی،ہچکیاں تھیں کہ تھم کر ہی نہیں دے رہیں تھیں ،ماں ،بہن اور چھوٹا بھائی نم آنکھوں سے اُسے چپ کرانے اور تسلی دینے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھے-میرا کولیگ اُفسردہ چہرہ لئیےمہمانوں کو کھانے پر مدعو کرنے اور سسرال والوں کی نازبرداریوں میں لگا ہوا تھا۰کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے،کوئی ناراض نہ ہو جائے،کسی کو کوئی بات بری نہ لگ جائے،،،،،ویٹر یہاں گرم روٹی لاؤ جلدی،،،،،،اُس نے بھاگتے ہوئے ویٹر سے کہا۔
کیا نظامِ قدرت اور کیا نظامِ زمانہ ہے،،،،
ہم اپنے باغ کی ننھی ننھی کونپلوں کو اپنا خونِ جگر دے کر بڑا کریں اور پھر اُنہیں کسی اور کا چمن مہکانے کے لئیے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے رخصت کر دیں ۔ہمارے آنگن کی چڑیائیں کسی اور کے صحن میں چہچہاہیں،،،،ہمارے گھروں کو سُونا کر کے کسی اور کے دریچوں کی رونقیں بڑھائیں ،،،،ہمارے دلوں کے گوشے،،،،ہمارے چمن کے پھول کسی اور کے آشیانوں کو مہکائیں اور خوشیوں سے آراستہ کریں !!!!!
یار بریانی تو صرف مٹن کی ہی اچھی بنتی ہے،میرے سامنے بیٹھے صاحب نے چکن لیگ پیس پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے اپنے ساتھی سے فرمایا۔جسکی انکے ساتھی نے سر ہلا کر تائید کی۔
میں نے ایک افسوسانہ نظر اُن پہ ڈالی اور پلیٹ اُٹھا کر ٹیبل کی جانب بڑھ گیا۔ٹائم کافی ہو گیا تھا اور اپنی بیٹی کی فرمائش پہ مجھے آئسکریم لے کے گھر جانا تھا۔مجھے معلوم تھا کہ وہ میرے انتظار میں جاگ رہی ہوگی۔اُسکا خیال آتے ہی میرے چہرے پہ مُسکراہٹ بکھر گئی،،،الله تمام بچیوں کا نصیب اچھا کرے،،،میرے کانوں میں ایک صاحب کی آواز آئی،،،میں زیرِ لب آمین کہتا آگے بڑھ گیا۔
(ابنِ آدم)

Advertisements
Posted in جگر گوشے | Leave a comment

اُڑے جاتے ہیں لمحے زندگی کے۰۰۰۰

کہیں خوشی،کہیں غم،،یہ دنیا کا دستور ہے۰کوئی شادیانے بجا رہا ہوتا ہے توکوئی آنسو چُھپا رہا ہوتا ہے۔زمانے کے چکر میں کوئی پہیے کے اوپر خوشی سے نہال ہو رہا ہوتا ہے اور کوئی اِسی پہیے کے نیچے دبا زندگی کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔
میرے کانوں میں دھماکوں کی آوازیں گونج رہیں تھیں۔سال کا آخری سورج غروب ہورہا تھا اور کچھ منچلے خوشیاں منانے میں مصروف تھے۔میں ساحلِ سمندر پہ بیٹھا ،لوگوں کو سال کے آخری “ڈوبتے سورج” کے ساتھ سیلفیاں بناتا دیکھ رہا تھا۰ہر ایک شخص مسرور نظر آرہا تھا۔وہ اس نارنجی روشنی میں نہائے منظر کو اپنے سیل فون کے کیمروں میں مقّید کرنا چاہتے تھے۰ایک خلقت تھی جو ساحلِ سمندر پر اُمڈ آئی تھی۔
میں ایک ٹوٹے ہوئے ہٹ کی آخری دیوار سے ٹکِا ڈوبتے سورج کے کرب کو محسوس کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۰۰۰۰اپنے آس پاس سے بیگانہ۰۰۰۰اک اداسی کا احساس جو کسی اپنے کو رخصت کرکے ہوتا ہے۔میں سوچ رہا تھا کہ آج کے بعد میں اپنی زندگی میں اس سورج کو پھر نہیں دیکھ پاؤں گا،اور بہت سے سورج ہونگے،،،،روشن ،،،شاداب مگر ۲۰۱۷ کا یہ آخری سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے کائنات کی وسعتوں میں کھونے جا رہا تھا۔
زندگی کا ایک اور سال تمام ہوا۰۰۰۰کیا کھویا۰۰۰کیا پایا؟ عمرِ عزیز کے زینے کا ایک اور اسٹیپ طے ہوگیا،ایک قدم اور آگے فنا کی جانب۰۰۰۰۰کتنے اسٹیپ باقی ہیں؟
کب آخری اسٹیپ آجائے،کس کو پتہ؟
میں نے سوچوں میں گُم ہو کر ریت اپنی مٹھی میں بند کی،مگر اُسے گرفت کرنے سے قاصر تھا۰۰۰زندگی بھی بند مٹھی کی ریت کی طرح ہمارے ہاتھوں سے پھسلتی جاتی ہے۰۰۰۰ایک سفر ہے جو جاری و ساری رہنا ہے،ابھی تو بہت کام ہیں جو کرنے ہیں۰۰۰۰۰
کیا ہم سفرِ آخرت کے لئیے تیار ہیں؟”نہیں” ہم میں سے کوئی بھی تیار نہیں۰۰۰اور نہ ہی جانا چاہتا ہے۔ہم کسی کو جب جاتا دیکھتے ہیں تو لگتا ہے بس اسی کو جانا تھا،،،،،،، اور ہمیں؟؟؟؟؟؟
سورج کی نارنجی روشنی،سیاہی میں تبدیل ہو چکی تھی،آس پاس کے لوگ اسکے دکھ سے بے خبر اپنی موج و مستی منا کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر جانےکی تیاری کر رہے تھے۔میں بوجھل قدموں سے چلتا ہوا سمندر کی لہروں میں آن کھڑا ہوا،،،سمندر کی ٹھنڈک میرے پیروں سے ہوتی ہوئی میرے وجود کو ایک نئی لگن بخشنے لگی۰۰۰۰میں نے آنکھیں بند کر لیں اور آنے والی صبح کے تصور میں گُم ہوگیا۰۰۰۰۰
اک نئی صبح،،،،،اک نئی اُمید
(ابنِ آدم)

Posted in اُڑے جاتے ہیں لمحے زندگی کے | Leave a comment

ہوا نصیب بنایا،سفرلکھااُس نے

میں نے کمرے میں پھیلی نائٹ بلب کی ہلکی سبز روشنی میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر گھڑی کی سوئیاں دیکھنے کی کوشش کی۔صبح کے چار بجنے والے تھے اور میری روانگی میں تقریباً چار گھنٹے اور باقی تھے۔نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی،میں نے آہستگی سے کروٹ لیتے ہوئے پرانے بیڈ کی چُرچُراہٹ کو دبانے کی ناکام کوشش کی۔مریم ابھی کچھ دیر پہلے روتے روتے سوئی تھی۔ہم دونوں کے درمیان ہماری تین سالہ ننھی پری ہماری ذہنی حالت سے بے خبر ایک معصوم مُسکراہٹ لئیے سو رہی تھی۔
مجھے چھٹیوں پہ آئے آج آخری دن تھا اور علی الصبح میری روانگی تھی،مجھے اپنوں کو چھوڑ کر جانا تھا،،،،پورے ایک اور سال کے لئیے،،،،،ہمیشہ کی طرح ہم دونوں ہی اُداس تھے،،،،جدائی کا ایک اور سال،اپنی پوری وحشت اور ہولناکیوں کے ساتھ تیار کھڑا تھا۔
پھر وہی ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ،،،،کام،کام اور پھر لمبی تنہا راتیں ۔شروع سال ہی سے آنے والے دنوں کا انتظار،،،اک اک کر کے دن گننا اور جب اپنے ملک آنا تو گویا وقت کو پر لگ گئے ہوں ،،،،دوڑ بھاگ،،،یہ کام،،،وہ کام۔اس سے ملنا،،،اُس کے پاس جانا اور پھر واپسی کا وقت
میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بیڈ کی پشت سے ٹک کر بیٹھ گیا۔میں نے اپنے ہاتھ کی اُنگلی اپنی سوئی ہوئی معصوم کلی کے ہاتھ میں تھمائی جسے اُس نے مضبوطی سے تھام لیا۔میں اور میرے اپنے،،،،،سب ایک دوسرے سے جدا،،،ایک دوسرے کے لئے تڑپتے رہتے،،،یہ کیسی مجبوری،،،،،نا چاہتے ہوئے بھی خود ساختہ جدائی۔ہم کو جدا ہونا ہی تھا،مجھے جانا ہی تھا،اپنوں کو چھوڑ کر،اپنوں کی خاطر۰۰۰۰۰
آج سرِ شام ہی سے مریم کی آنکھوں میں جیسے جھڑی سی لگ گئی ہو۔اُس نے رو رو کراپنی آنکھیں سُجالی تھیں ۔
سنیں ،،،آپ نا جائیں؟؟؟میں کم میں بھی گذارا کر لونگی،،،ہم روکھی سوکھی کھا لیں گے۔
میں اُسے سمجھا سمجھا کر تھک گیا کہ بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے،ہم روز چیٹ کریں گے اور فون بھی۔
میں جانتا تھا بھوکا پیٹ اور تنگدستی،،،بڑی سے بڑی محبتوں میں دڑاڑ ڈال دیتی ہے۔یہی سچ ہے،،،کڑوا سچ ۔
میں ڈگریوں کابوجھ اُٹھائے دربدر کی خاک چھان چکا تھا،،جان چکا تھا کہ یہ کاغذ کے ٹکڑے بغیر کسی سہارے کے نہیں اُڑ سکتے،،،اِنکو حاصل کر کے اُونچا اُڑنے کے خواب دیکھنے والے اکثر منہ کے بل گرتے ہیں ،،،کرچی کرچی ہوجاتے ہیں ،،،اُن کا وجود لہولہان اور ریزہ ریزہ
دن بھر کے رکےآنسو میری بے خواب آنکھوں میں اُمڈ آئے،،،میں نے اپنے بکھرتے وجود کو بامشکل سمیٹا،،،،اپنی معصوم پری کے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے آہستگی کے ساتھ اُس کے نازک ہاتھ میں دبی اپنی انگلی چھڑائی اور مریم پہ ایک نظر ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا،،،،فلائٹ کا ٹائم ہو چکا تھا،،،،ایک جدائی بھرے نئے سال کا آغاز۔

ہوا نصیب بنایا سفر لکھا اُس نے
تمام عمر پھروں دربدر لکھا اُس نے
سُلگتی دھوپ کی مانند زیست دی لیکن
نا سائباں،نہ کوئی شجر لکھا اُس نے

(ابنِ آدم)

Posted in ہوا نصیب بنایا، سفر لکھا اُس نے | 2 Comments

“یہ گذرتے پل”

شام کے سائے گہرے ہوچلے تھے،دن بھر کا تھکاماندہ سورج اپنی آب و تاب دکھانے کے بعد گھنے درختوں کے پیچھے ڈوبنے کو تیار تھا۔گذرتے وقت کا ہر اک پل اُسکی رعنائی اور جاہ و جلال میں کمی کر رہا تھا۔ہر سو چھائی ہوئی نارنجی روشنی اک سوگواری کی سی کیفیت پھیلا رہی تھی،پرندے تیزی سے اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف رواں دواں تھے۔جیسے وہ ڈوبتے سورج کی بےبسی دیکھنے کی تاب نہ رکھتے ہوں اور اس منظر سے آنکھیں چُرا کر بھاگ رہے ہوں۔
میں سیاہ سڑک پر تیزی سے فراٹے بھرتی ہوئی کار کی پچھلی نشست سے سر ٹکائے اس منظر کو دیکھنے میں محو تھا۔سڑک کے کنارے لگےدرخت ایک کے پیچھے بھاگتے جا رہے تھے۔مناظر اس تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے کہ آنکھ اُن سے لطف لینے سے قاصر اور عقل انہیں ٹھیک سے سمجھنے سے مجبور تھی۔
میں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھاکہ جب ہم آگے جارہے ہوتے ہیں تواپنے پیچھے کیا کچھ چھوڑ جاتے ہیں؟؟؟؟
کتنے ہی حسیں لمحات ہم مِس کر جاتے ہیں ،،،،،کتنے ہی بیش بہا قیمتی پل ہم گذارے بغیر ہی ضائع کر جاتے ہیں،،،،،سرابوں کے پیچھے اک نا ختم ہونے والی دوڑ۰۰۰۰۰۰
ایک کے بعد ایک حسیں سراب،جنہیں پانے کی جستجو میں ہم اپنی رفتار بڑھاتے چلے جاتے ہیں،،،،،تیز اور تیز
اور اس تیز رفتاری میں اپنے قدموں تلے،اپنے چاہنے والوں کی خوشیاں روندتے چلے جاتے ہیں،کچلے جاتے ہیں۔اُن مسرتوں کو جو اُنہوں نے ہم سے،ہماری ذات سے وابستہ کر رکھی ہوتیں ہیں۔
ہم رُکنا نہیں چاہتے اور بلآخر اس تیزرفتاری میں دوڑتے دوڑتے ایک دن منہ کے بل گرتے ہیں،،،،کبھی نہ اُٹھنے کے لئیے،،،،،،
اُس وقت ہم مڑ کر دیکھتے ہیں تو سوائے پچھتاؤں کے کچھ بھی نظر نہیں آتا۔
میں نے نم آنکھوں سے سورج کی بےبسی کو دیکھا،آخری سانسوں کے ساتھ ساتھ دم توڑتی روشنی ،اندھیروں میں تبدیل ہوتی جا رہی تھی،،،میں نے منظر کی تاب نہ لاتے ہوئے دھیرے سے سیٹ کی پشت سرٹکاتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔
(ابنِ آدم)

 

Posted in یہ گذرتے پل | Leave a comment

اپنا اپنا سفر۰۰۰۰اپنی اپنی جستجو

میں اوندھے منہ صوفہ پر پڑا،سنڈے مورنگ سے لطف اندوز ہونے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھا۔رات کو دیر تک جاگنے اور ویک اینڈ انجوائے کرنے کے باعث تمام اہلِ خانہ نیند کی مہربان دیوی کی آغوش میں خواب و خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف تھے،اور ادھر میں اکِ بدزوق اپنی سویرے اٹھنے کی عادت سے مجبور ۰۰۰۰۰۰نمازِ فجر کے بعد بستر پہ تا دیر کسی سیخ کباب کی مانند لوٹ پوٹ ہونے اور جسم کے جوڑ دُکھانے کےبعد لاؤنج میں چلا آیا تھا۔ویسے بھی دوسری تمام دیویوں کی طرح نیند کی دیوی بھی مجھ پر کم کم ہی مہربان ہوتی تھی،لہٰذا اب صوفے پر اُلٹا پڑا اپنی دانست میں سنڈے مارننگ انجوائے کرنے میں مصروف تھا۔
بیزار ہوکر میں بالکونی میں آن کھڑا ہوا،،،،ہر طرف ایک سکوت کی سی کیفیت طاری تھی،گلی تا حدِ نظر سُنسان پڑی تھی۔اچانک میری نظر ایک سائیکل سوار بزرگ پر پڑی جو اپنی جھولی میں کپڑے کا تھیلا اُٹھائے سامنے والے گھر کے باہر لگے جنگلی پھولوں کو درخت سے توڑ توڑ کر اپنے تھیلے میں ڈال رہے تھے۔پہلے تو میں انکو حیرت سے دیکھتا رہا پھر مجھے اُنکی شکل جانی پہچانی سی لگی۰۰۰۰۰۰
ارے یہ تو وہی تھے جو شام کو سگنل پہ پھولوں کے کنگن بیچتے ہیں،میری سمجھ میں سارا معاملہ آگیا۔
وہ صبح سویرے گلی محلوں کے درختوں سے پھول جمع کر کے کنگن بناتے اور شام کو سگنل پر بیچتے تھے۔
میں گہری سوچ میں ڈوبا انکو جاتا دیکھتا رہا۰۰۰ابھی کچھ ہی ٹائم گذرا تھا کہ سامنے سے اک آٹھ دس سال کا بچہ بڑا سا تھیلا اپنی پیٹھ پر اُٹھائے آرہا تھا اور تمام گھروں کے آگے رکھے کچرے کے ڈسٹ بنوں سے پلاسٹک کی بوتلیں اور دوسرا سامان چُن چُن کر اپنے تھیلے میں ڈالا اور آگے بڑھ گیا۔اُسکی رفتار کی تیزی بتا رہی تھی کہ وہ کچرا اُٹھانے والوں سے پہلے تمام ڈسٹ بنوں تک پہچنا چاہتا ہے۔
کچھ دیر بعد اخبار والا گلی میں داخل ہوا اور گھروں میں پھینکتا ہوا گذر گیا۔
واہ ری دنیا۰۰۰۰۰۰۰
میری سوچ کی پرتیں کھلنے لگیں،اللّہ نے کس کس کا رزق کس کس طرح لکھا ہے،ہر شخص اپنے اپنے نصیب کے مطابق عمل کر رہا ہے۔کوئی خواب و خرگوش کے مزے لےرہا ہےتو کوئی بوڑھا گلی گلی مارا مارا پھر رہا ہے،اک اک پھول کوچُنتا ہوا۰۰۰۰۰۰
کوئی بچہ اپنی نیند قربان کر کے کچرے دانوں سے اپنا رزق سمیٹ رہا ہے تو کوئی صوفہ پہ اُوندھا پڑا ہے اور اسکے باوجود تھک رہا ہے۰۰۰۰۰
توکوئی سورج نکلنے سے پہلے اخبار کے بنڈل بنا بنا کر گھر گھر جا رہا ہی۔
بے شک کائنات اِک سربستہ راز اور اُس کے خالق کے ہر کام میں مصلحت پوشیدہ ہے۔میں آہستہ آہستہ قدموں سے لاؤنج میں لوٹ آیا اور صوفہ کی پشت سے سر ٹکا دیا۔
(ابنِ آدم)

 

 

 

Posted in اپنا اپنا سفر۰۰۰اپنی اپنی جستجو | Leave a comment

بارش میں گُھلتے آنسو

دل دہلانے والی آواز کے ساتھ بجلی چمکی اور میرے سامنے کا منظر منّور ہوگیا۔ میں دیکھ سکتا تھا ،آسمان سے تیزی سے ایک کے پیچھے ایک گرتی بارش کی بوندیں ۰۰۰۰۰
جیسےکسی ٹوٹی مالا کے موتی۰۰۰۰۰
ایک ساتھ گر کر فنا ہونا منظور۰۰۰۰۰
مگر ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑنا گوارا نہیں!
میں نے چہرے پہ بہتےبارش کے پانی کو اپنی بھیگی آستین سے صاف کرنے کی ناکام سی کوشش کی۔میں کافی دیر سے ٹیرس پہ بیٹھا بارانِ رحمت میں تِتر بِتر تھا۔
کل شام سے جیسے آسمان والے کوبنجر زمین کی سسکیوں اور خشک ہوتے ہوئے پیڑوں کی آہ پر ترس آگیا تھا اور اُس نے اپنے ابرِ رحمت کے در کھول دئیے تھے،،،پانی تھا کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا،،،،نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔وہ لوگ جو کل بارانِ رحمت کے لئیے دعاگو تھے،آج بارش رکنے کی دعائیں کر رہے تھے۔
“واہ رے انسان کبھی خوش نہ ہونا۰۰۰۰۰”
میرے ذہن میں جھماکے ہونے لگے۰۰۰۰کسی کی یاد کی گھٹا ان الفاظ کے ساتھ اُمنڈ آئی اور میرے آنسو بارش کے پانی میں اضافہ کرنے لگے۔
انسان بھی کتنا عجیب ہے،کبھی کبھی تو ہزاروں کے مجمع میں تنہا اور کبھی کسی ایک کے ساتھ اتنا مگن کہ ہزاروں کے ہونے کی پرواہ نہیں۰۰۰۰۰
کچھ ایسا ہی ساتھ میرا اور اُسکا بھی تھا،،،،پہروں ہم اک دوسرے کے ساتھ گذار دیتے،،،گھنٹوں باتیں کرنے کے بعد بھی جب میں اپنی تشنگی کا اظہار کرتا تو وہ شکایتی لہجے میں کہتی”کبھی خوش نہ ہونا” اور میں مُسکرا دیتا۔ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ عزیز تھا،جتنا بھی،،،،جہاں تک ممکن۔
کہتے ہیں وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا،،،،ہر ملن کا مقدر جدائی ہے ،،،انسان ہار جاتا ہے،،،،کھو دیتا ہے،،،،،اپنوں کو،،،،،اپنے پیاروں کو
مجبور۰۰۰۰۰بے بس۰۰۰۰
کبھی حالات سے۰۰۰۰۰
کبھی قدرت کے ہاتھوں۰۰۰۰
اور کبھی کسی کے پیار میں اُسکو چھوڑ دینا بہتر۰۰۰
ایک رُک جاتا ہے اور دوسرا آگے بڑھ جاتا ہے،،،قدم بقدم دوری۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
سو میں بھی رُک گیا تھا اور آج بھی اُسی پل میں جی رہا تھا،،،،وہی لمحات،،،،وہی حاصل ِ زیست
میں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے،بادش کی بوندوں کو فنا ہوتے دیکھ رہا تھا ،،،،،رشک کر رہا تھا
کاش ہم بھی کسی مالا کے موتی ۰۰۰۰کسی بارش کی بوندیں ہوتے
ایک ساتھ۰۰۰۰۰
ساتھ ساتھ۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

 

Posted in بارش میں گُھلتے آنسو | 7 Comments

محبت ہمسفر میری

آسمان کی وسعتوں میں اُڑتے آوارہ بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کرتا چاند،کبھی کسی بادل کے پیچھے چھپ جاتا اور کبھی کسی بادل کے دامن سے جھانکتا۰۰۰اسُکی اس حرکت سے جیسے یادوں کےدریچے کُھلتے جا رہے تھے۰۰۰۰کسی کی شوخ و چنچل ہنسی اور میری نوجوانی کے دن۰۰۰۰ چاند کی چمک ماندپڑ گئی اور چاندنی دھندلا سی گئی۰۰۰میں نےدونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کی مدد سے ،آنکھوں میں چھائی نمی صاف کرنے کی ناکام کوشش کی،مگر دل جیسے بھر آیا تھااور آنسوؤں کا سیلاب ضبط کےتمام بند توڑنے کو بےتاب تھا۔
میں مغرب کے بعد چھت پر لیٹا ،آسمان کی وسعتوں پہ نگاہیں جمائے،چاند سے آنکھیں ملائے،،،جیسے اُسے ڈھونڈنے میں مصروف تھا۔کبھی کبھی کسی کی یاد،سارے بند توڑ کر،کسی بچھڑی ہوئی موج کی مانند آپ کے وجود کو بہا لے جاتی ہےاور آپ ہزار ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود،خود کو یادوں کے سمندر میں ڈوبنے سے نہیں بچا پاتے۔
کچھ ایسا ہی آج میرے ساتھ ہوا۰۰۰۰سرِ شام ہی دل پر اک اداسی،اک سوگواری کی دبیز چادر آن گری تھی جس نے میرے سارے وجود کو سوگواری کے اتھاہ غار میں دھکیل دیا تھا۰۰۰۰اک بوجھل بوجھل سا احساس۰۰۰۰۰۰۰
اک کھوئی ہوئی سی یاد۰۰۰۰۰
زندگی کا اک سنہرا باب۰۰۰۰۰۰
بھولی بسری اک کہانی۰۰۰۰۰۰
اک ان کہی،ان سنی داستاں ۰۰۰۰۰
وہ میری زندگی میں اک خواب کی مانند تھی۰۰۰۰آئی۰۰۰۰۰چھائی۰۰۰۰۰اور گذر گئی۰۰۰۰۰مگر ہمیشہ قائم رہنے والے انمٹ نقوش۰۰۰۰۰ہر پل یاد۰۰۰۰۰ہر پل کا ساتھ۰۰۰۰۰
یہ کسی کی چاہ ہی تو ہے جو ہماری تنہائیوں کو مہکاتی ہے،ہماری راتوں کو جگمگاتی ہے۰۰۰۰۰ہجوم میں ۰۰۰۰۰محفلوں میں ۰۰۰۰۰ہمیں تنہا بناتی ہے۰۰۰۰۰سوچ کی رہگذر پہ دور تک بھگاتی ہے اور مسلسل آگے بڑھتے رہنے پر اُکساتی ہے،اور پھر تھکاتھکا کر آرزوؤں کے نرم بستر پر تھپک تھپک کر سُلاتی ہے۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں خوشبو کی مانند آتے ہیں ،انکے وجود کو محسوس توکیا جا سکتا ہے۔
ایک لطافت۰۰۰۰۰ایک طمانیت کااحساس۰۰۰۰۰ایک راحت ایک سرور کی کیفیت۰۰۰۰۰مگر اُنکو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔بس ایک مہکا مہکا ساایک پاکیزہ سا احساسِ وابستگی۰۰۰۰اُن کے پاس ہونے کی طمانیت۔
میرا بھی اُس کے ساتھ بس اتنا ہی تعلق تھا۰۰۰۰۰خیالوں کا۰۰۰۰۰خوابوں کا۰۰۰۰۰اسُکا وجود میرے لئیے اک “گوہرِ نایاب ” کی مانند تھا۔
“میرے دل کی سیپ میں بند اک انمول موتی”۰۰۰۰۰نہ کبھی اظہارِ محبت کی خواہش ہوئی اور نہ کرنے کی تمنا۰۰۰۰۰
کسی کو طلب کے بغیر چاہنا ہی اصل محبت ۰۰۰۰بس دور دور سے اسکے پاس ہونے کا احساس،اُس سے رابطے کا اطمینان۰۰۰۰اور اپنی چاہت پر ناز۰۰۰۰یہی میری کُل کائناتِ حیات۰۰۰۰۰
میرے نزدیک محبت کو پا لینا دراصل محبت کھو جانے کے مترادف ہے،محبت تو بس ایک احساسِ وابستگی ہے،،،،ایک جذبہ ء لازوال،،،جسکی اصل روح دراصل” لا حاصلیت” ہے۔

(ابنِ آدم)

Posted in محبت ہمسفر میری | 5 Comments