ہوا نصیب بنایا،سفرلکھااُس نے

میں نے کمرے میں پھیلی نائٹ بلب کی ہلکی سبز روشنی میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر گھڑی کی سوئیاں دیکھنے کی کوشش کی۔صبح کے چار بجنے والے تھے اور میری روانگی میں تقریباً چار گھنٹے اور باقی تھے۔نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی،میں نے آہستگی سے کروٹ لیتے ہوئے پرانے بیڈ کی چُرچُراہٹ کو دبانے کی ناکام کوشش کی۔مریم ابھی کچھ دیر پہلے روتے روتے سوئی تھی۔ہم دونوں کے درمیان ہماری تین سالہ ننھی پری ہماری ذہنی حالت سے بے خبر ایک معصوم مُسکراہٹ لئیے سو رہی تھی۔
مجھے چھٹیوں پہ آئے آج آخری دن تھا اور علی الصبح میری روانگی تھی،مجھے اپنوں کو چھوڑ کر جانا تھا،،،،پورے ایک اور سال کے لئیے،،،،،ہمیشہ کی طرح ہم دونوں ہی اُداس تھے،،،،جدائی کا ایک اور سال،اپنی پوری وحشت اور ہولناکیوں کے ساتھ تیار کھڑا تھا۔
پھر وہی ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ،،،،کام،کام اور پھر لمبی تنہا راتیں ۔شروع سال ہی سے آنے والے دنوں کا انتظار،،،اک اک کر کے دن گننا اور جب اپنے ملک آنا تو گویا وقت کو پر لگ گئے ہوں ،،،،دوڑ بھاگ،،،یہ کام،،،وہ کام۔اس سے ملنا،،،اُس کے پاس جانا اور پھر واپسی کا وقت
میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بیڈ کی پشت سے ٹک کر بیٹھ گیا۔میں نے اپنے ہاتھ کی اُنگلی اپنی سوئی ہوئی معصوم کلی کے ہاتھ میں تھمائی جسے اُس نے مضبوطی سے تھام لیا۔میں اور میرے اپنے،،،،،سب ایک دوسرے سے جدا،،،ایک دوسرے کے لئے تڑپتے رہتے،،،یہ کیسی مجبوری،،،،،نا چاہتے ہوئے بھی خود ساختہ جدائی۔ہم کو جدا ہونا ہی تھا،مجھے جانا ہی تھا،اپنوں کو چھوڑ کر،اپنوں کی خاطر۰۰۰۰۰
آج سرِ شام ہی سے مریم کی آنکھوں میں جیسے جھڑی سی لگ گئی ہو۔اُس نے رو رو کراپنی آنکھیں سُجالی تھیں ۔
سنیں ،،،آپ نا جائیں؟؟؟میں کم میں بھی گذارا کر لونگی،،،ہم روکھی سوکھی کھا لیں گے۔
میں اُسے سمجھا سمجھا کر تھک گیا کہ بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے،ہم روز چیٹ کریں گے اور فون بھی۔
میں جانتا تھا بھوکا پیٹ اور تنگدستی،،،بڑی سے بڑی محبتوں میں دڑاڑ ڈال دیتی ہے۔یہی سچ ہے،،،کڑوا سچ ۔
میں ڈگریوں کابوجھ اُٹھائے دربدر کی خاک چھان چکا تھا،،جان چکا تھا کہ یہ کاغذ کے ٹکڑے بغیر کسی سہارے کے نہیں اُڑ سکتے،،،اِنکو حاصل کر کے اُونچا اُڑنے کے خواب دیکھنے والے اکثر منہ کے بل گرتے ہیں ،،،کرچی کرچی ہوجاتے ہیں ،،،اُن کا وجود لہولہان اور ریزہ ریزہ
دن بھر کے رکےآنسو میری بے خواب آنکھوں میں اُمڈ آئے،،،میں نے اپنے بکھرتے وجود کو بامشکل سمیٹا،،،،اپنی معصوم پری کے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے آہستگی کے ساتھ اُس کے نازک ہاتھ میں دبی اپنی انگلی چھڑائی اور مریم پہ ایک نظر ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا،،،،فلائٹ کا ٹائم ہو چکا تھا،،،،ایک جدائی بھرے نئے سال کا آغاز۔

ہوا نصیب بنایا سفر لکھا اُس نے
تمام عمر پھروں دربدر لکھا اُس نے
سُلگتی دھوپ کی مانند زیست دی لیکن
نا سائباں،نہ کوئی شجر لکھا اُس نے

(ابنِ آدم)

Advertisements
Posted in ہوا نصیب بنایا، سفر لکھا اُس نے | 1 Comment

“یہ گذرتے پل”

شام کے سائے گہرے ہوچلے تھے،دن بھر کا تھکاماندہ سورج اپنی آب و تاب دکھانے کے بعد گھنے درختوں کے پیچھے ڈوبنے کو تیار تھا۔گذرتے وقت کا ہر اک پل اُسکی رعنائی اور جاہ و جلال میں کمی کر رہا تھا۔ہر سو چھائی ہوئی نارنجی روشنی اک سوگواری کی سی کیفیت پھیلا رہی تھی،پرندے تیزی سے اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف رواں دواں تھے۔جیسے وہ ڈوبتے سورج کی بےبسی دیکھنے کی تاب نہ رکھتے ہوں اور اس منظر سے آنکھیں چُرا کر بھاگ رہے ہوں۔
میں سیاہ سڑک پر تیزی سے فراٹے بھرتی ہوئی کار کی پچھلی نشست سے سر ٹکائے اس منظر کو دیکھنے میں محو تھا۔سڑک کے کنارے لگےدرخت ایک کے پیچھے بھاگتے جا رہے تھے۔مناظر اس تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے کہ آنکھ اُن سے لطف لینے سے قاصر اور عقل انہیں ٹھیک سے سمجھنے سے مجبور تھی۔
میں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھاکہ جب ہم آگے جارہے ہوتے ہیں تواپنے پیچھے کیا کچھ چھوڑ جاتے ہیں؟؟؟؟
کتنے ہی حسیں لمحات ہم مِس کر جاتے ہیں ،،،،،کتنے ہی بیش بہا قیمتی پل ہم گذارے بغیر ہی ضائع کر جاتے ہیں،،،،،سرابوں کے پیچھے اک نا ختم ہونے والی دوڑ۰۰۰۰۰۰
ایک کے بعد ایک حسیں سراب،جنہیں پانے کی جستجو میں ہم اپنی رفتار بڑھاتے چلے جاتے ہیں،،،،،تیز اور تیز
اور اس تیز رفتاری میں اپنے قدموں تلے،اپنے چاہنے والوں کی خوشیاں روندتے چلے جاتے ہیں،کچلے جاتے ہیں۔اُن مسرتوں کو جو اُنہوں نے ہم سے،ہماری ذات سے وابستہ کر رکھی ہوتیں ہیں۔
ہم رُکنا نہیں چاہتے اور بلآخر اس تیزرفتاری میں دوڑتے دوڑتے ایک دن منہ کے بل گرتے ہیں،،،،کبھی نہ اُٹھنے کے لئیے،،،،،،
اُس وقت ہم مڑ کر دیکھتے ہیں تو سوائے پچھتاؤں کے کچھ بھی نظر نہیں آتا۔
میں نے نم آنکھوں سے سورج کی بےبسی کو دیکھا،آخری سانسوں کے ساتھ ساتھ دم توڑتی روشنی ،اندھیروں میں تبدیل ہوتی جا رہی تھی،،،میں نے منظر کی تاب نہ لاتے ہوئے دھیرے سے سیٹ کی پشت سرٹکاتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔
(ابنِ آدم)

 

Posted in یہ گذرتے پل | Leave a comment

اپنا اپنا سفر۰۰۰۰اپنی اپنی جستجو

میں اوندھے منہ صوفہ پر پڑا،سنڈے مورنگ سے لطف اندوز ہونے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھا۔رات کو دیر تک جاگنے اور ویک اینڈ انجوائے کرنے کے باعث تمام اہلِ خانہ نیند کی مہربان دیوی کی آغوش میں خواب و خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف تھے،اور ادھر میں اکِ بدزوق اپنی سویرے اٹھنے کی عادت سے مجبور ۰۰۰۰۰۰نمازِ فجر کے بعد بستر پہ تا دیر کسی سیخ کباب کی مانند لوٹ پوٹ ہونے اور جسم کے جوڑ دُکھانے کےبعد لاؤنج میں چلا آیا تھا۔ویسے بھی دوسری تمام دیویوں کی طرح نیند کی دیوی بھی مجھ پر کم کم ہی مہربان ہوتی تھی،لہٰذا اب صوفے پر اُلٹا پڑا اپنی دانست میں سنڈے مارننگ انجوائے کرنے میں مصروف تھا۔
بیزار ہوکر میں بالکونی میں آن کھڑا ہوا،،،،ہر طرف ایک سکوت کی سی کیفیت طاری تھی،گلی تا حدِ نظر سُنسان پڑی تھی۔اچانک میری نظر ایک سائیکل سوار بزرگ پر پڑی جو اپنی جھولی میں کپڑے کا تھیلا اُٹھائے سامنے والے گھر کے باہر لگے جنگلی پھولوں کو درخت سے توڑ توڑ کر اپنے تھیلے میں ڈال رہے تھے۔پہلے تو میں انکو حیرت سے دیکھتا رہا پھر مجھے اُنکی شکل جانی پہچانی سی لگی۰۰۰۰۰۰
ارے یہ تو وہی تھے جو شام کو سگنل پہ پھولوں کے کنگن بیچتے ہیں،میری سمجھ میں سارا معاملہ آگیا۔
وہ صبح سویرے گلی محلوں کے درختوں سے پھول جمع کر کے کنگن بناتے اور شام کو سگنل پر بیچتے تھے۔
میں گہری سوچ میں ڈوبا انکو جاتا دیکھتا رہا۰۰۰ابھی کچھ ہی ٹائم گذرا تھا کہ سامنے سے اک آٹھ دس سال کا بچہ بڑا سا تھیلا اپنی پیٹھ پر اُٹھائے آرہا تھا اور تمام گھروں کے آگے رکھے کچرے کے ڈسٹ بنوں سے پلاسٹک کی بوتلیں اور دوسرا سامان چُن چُن کر اپنے تھیلے میں ڈالا اور آگے بڑھ گیا۔اُسکی رفتار کی تیزی بتا رہی تھی کہ وہ کچرا اُٹھانے والوں سے پہلے تمام ڈسٹ بنوں تک پہچنا چاہتا ہے۔
کچھ دیر بعد اخبار والا گلی میں داخل ہوا اور گھروں میں پھینکتا ہوا گذر گیا۔
واہ ری دنیا۰۰۰۰۰۰۰
میری سوچ کی پرتیں کھلنے لگیں،اللّہ نے کس کس کا رزق کس کس طرح لکھا ہے،ہر شخص اپنے اپنے نصیب کے مطابق عمل کر رہا ہے۔کوئی خواب و خرگوش کے مزے لےرہا ہےتو کوئی بوڑھا گلی گلی مارا مارا پھر رہا ہے،اک اک پھول کوچُنتا ہوا۰۰۰۰۰۰
کوئی بچہ اپنی نیند قربان کر کے کچرے دانوں سے اپنا رزق سمیٹ رہا ہے تو کوئی صوفہ پہ اُوندھا پڑا ہے اور اسکے باوجود تھک رہا ہے۰۰۰۰۰
توکوئی سورج نکلنے سے پہلے اخبار کے بنڈل بنا بنا کر گھر گھر جا رہا ہی۔
بے شک کائنات اِک سربستہ راز اور اُس کے خالق کے ہر کام میں مصلحت پوشیدہ ہے۔میں آہستہ آہستہ قدموں سے لاؤنج میں لوٹ آیا اور صوفہ کی پشت سے سر ٹکا دیا۔
(ابنِ آدم)

 

 

 

Posted in اپنا اپنا سفر۰۰۰اپنی اپنی جستجو | Leave a comment

بارش میں گُھلتے آنسو

دل دہلانے والی آواز کے ساتھ بجلی چمکی اور میرے سامنے کا منظر منّور ہوگیا۔ میں دیکھ سکتا تھا ،آسمان سے تیزی سے ایک کے پیچھے ایک گرتی بارش کی بوندیں ۰۰۰۰۰
جیسےکسی ٹوٹی مالا کے موتی۰۰۰۰۰
ایک ساتھ گر کر فنا ہونا منظور۰۰۰۰۰
مگر ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑنا گوارا نہیں!
میں نے چہرے پہ بہتےبارش کے پانی کو اپنی بھیگی آستین سے صاف کرنے کی ناکام سی کوشش کی۔میں کافی دیر سے ٹیرس پہ بیٹھا بارانِ رحمت میں تِتر بِتر تھا۔
کل شام سے جیسے آسمان والے کوبنجر زمین کی سسکیوں اور خشک ہوتے ہوئے پیڑوں کی آہ پر ترس آگیا تھا اور اُس نے اپنے ابرِ رحمت کے در کھول دئیے تھے،،،پانی تھا کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا،،،،نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔وہ لوگ جو کل بارانِ رحمت کے لئیے دعاگو تھے،آج بارش رکنے کی دعائیں کر رہے تھے۔
“واہ رے انسان کبھی خوش نہ ہونا۰۰۰۰۰”
میرے ذہن میں جھماکے ہونے لگے۰۰۰۰کسی کی یاد کی گھٹا ان الفاظ کے ساتھ اُمنڈ آئی اور میرے آنسو بارش کے پانی میں اضافہ کرنے لگے۔
انسان بھی کتنا عجیب ہے،کبھی کبھی تو ہزاروں کے مجمع میں تنہا اور کبھی کسی ایک کے ساتھ اتنا مگن کہ ہزاروں کے ہونے کی پرواہ نہیں۰۰۰۰۰
کچھ ایسا ہی ساتھ میرا اور اُسکا بھی تھا،،،،پہروں ہم اک دوسرے کے ساتھ گذار دیتے،،،گھنٹوں باتیں کرنے کے بعد بھی جب میں اپنی تشنگی کا اظہار کرتا تو وہ شکایتی لہجے میں کہتی”کبھی خوش نہ ہونا” اور میں مُسکرا دیتا۔ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ عزیز تھا،جتنا بھی،،،،جہاں تک ممکن۔
کہتے ہیں وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا،،،،ہر ملن کا مقدر جدائی ہے ،،،انسان ہار جاتا ہے،،،،کھو دیتا ہے،،،،،اپنوں کو،،،،،اپنے پیاروں کو
مجبور۰۰۰۰۰بے بس۰۰۰۰
کبھی حالات سے۰۰۰۰۰
کبھی قدرت کے ہاتھوں۰۰۰۰
اور کبھی کسی کے پیار میں اُسکو چھوڑ دینا بہتر۰۰۰
ایک رُک جاتا ہے اور دوسرا آگے بڑھ جاتا ہے،،،قدم بقدم دوری۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
سو میں بھی رُک گیا تھا اور آج بھی اُسی پل میں جی رہا تھا،،،،وہی لمحات،،،،وہی حاصل ِ زیست
میں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے،بادش کی بوندوں کو فنا ہوتے دیکھ رہا تھا ،،،،،رشک کر رہا تھا
کاش ہم بھی کسی مالا کے موتی ۰۰۰۰کسی بارش کی بوندیں ہوتے
ایک ساتھ۰۰۰۰۰
ساتھ ساتھ۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

 

Posted in بارش میں گُھلتے آنسو | 7 Comments

محبت ہمسفر میری

آسمان کی وسعتوں میں اُڑتے آوارہ بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کرتا چاند،کبھی کسی بادل کے پیچھے چھپ جاتا اور کبھی کسی بادل کے دامن سے جھانکتا۰۰۰اسُکی اس حرکت سے جیسے یادوں کےدریچے کُھلتے جا رہے تھے۰۰۰۰کسی کی شوخ و چنچل ہنسی اور میری نوجوانی کے دن۰۰۰۰ چاند کی چمک ماندپڑ گئی اور چاندنی دھندلا سی گئی۰۰۰میں نےدونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کی مدد سے ،آنکھوں میں چھائی نمی صاف کرنے کی ناکام کوشش کی،مگر دل جیسے بھر آیا تھااور آنسوؤں کا سیلاب ضبط کےتمام بند توڑنے کو بےتاب تھا۔
میں مغرب کے بعد چھت پر لیٹا ،آسمان کی وسعتوں پہ نگاہیں جمائے،چاند سے آنکھیں ملائے،،،جیسے اُسے ڈھونڈنے میں مصروف تھا۔کبھی کبھی کسی کی یاد،سارے بند توڑ کر،کسی بچھڑی ہوئی موج کی مانند آپ کے وجود کو بہا لے جاتی ہےاور آپ ہزار ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود،خود کو یادوں کے سمندر میں ڈوبنے سے نہیں بچا پاتے۔
کچھ ایسا ہی آج میرے ساتھ ہوا۰۰۰۰سرِ شام ہی دل پر اک اداسی،اک سوگواری کی دبیز چادر آن گری تھی جس نے میرے سارے وجود کو سوگواری کے اتھاہ غار میں دھکیل دیا تھا۰۰۰۰اک بوجھل بوجھل سا احساس۰۰۰۰۰۰۰
اک کھوئی ہوئی سی یاد۰۰۰۰۰
زندگی کا اک سنہرا باب۰۰۰۰۰۰
بھولی بسری اک کہانی۰۰۰۰۰۰
اک ان کہی،ان سنی داستاں ۰۰۰۰۰
وہ میری زندگی میں اک خواب کی مانند تھی۰۰۰۰آئی۰۰۰۰۰چھائی۰۰۰۰۰اور گذر گئی۰۰۰۰۰مگر ہمیشہ قائم رہنے والے انمٹ نقوش۰۰۰۰۰ہر پل یاد۰۰۰۰۰ہر پل کا ساتھ۰۰۰۰۰
یہ کسی کی چاہ ہی تو ہے جو ہماری تنہائیوں کو مہکاتی ہے،ہماری راتوں کو جگمگاتی ہے۰۰۰۰۰ہجوم میں ۰۰۰۰۰محفلوں میں ۰۰۰۰۰ہمیں تنہا بناتی ہے۰۰۰۰۰سوچ کی رہگذر پہ دور تک بھگاتی ہے اور مسلسل آگے بڑھتے رہنے پر اُکساتی ہے،اور پھر تھکاتھکا کر آرزوؤں کے نرم بستر پر تھپک تھپک کر سُلاتی ہے۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں خوشبو کی مانند آتے ہیں ،انکے وجود کو محسوس توکیا جا سکتا ہے۔
ایک لطافت۰۰۰۰۰ایک طمانیت کااحساس۰۰۰۰۰ایک راحت ایک سرور کی کیفیت۰۰۰۰۰مگر اُنکو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔بس ایک مہکا مہکا ساایک پاکیزہ سا احساسِ وابستگی۰۰۰۰اُن کے پاس ہونے کی طمانیت۔
میرا بھی اُس کے ساتھ بس اتنا ہی تعلق تھا۰۰۰۰۰خیالوں کا۰۰۰۰۰خوابوں کا۰۰۰۰۰اسُکا وجود میرے لئیے اک “گوہرِ نایاب ” کی مانند تھا۔
“میرے دل کی سیپ میں بند اک انمول موتی”۰۰۰۰۰نہ کبھی اظہارِ محبت کی خواہش ہوئی اور نہ کرنے کی تمنا۰۰۰۰۰
کسی کو طلب کے بغیر چاہنا ہی اصل محبت ۰۰۰۰بس دور دور سے اسکے پاس ہونے کا احساس،اُس سے رابطے کا اطمینان۰۰۰۰اور اپنی چاہت پر ناز۰۰۰۰یہی میری کُل کائناتِ حیات۰۰۰۰۰
میرے نزدیک محبت کو پا لینا دراصل محبت کھو جانے کے مترادف ہے،محبت تو بس ایک احساسِ وابستگی ہے،،،،ایک جذبہ ء لازوال،،،جسکی اصل روح دراصل” لا حاصلیت” ہے۔

(ابنِ آدم)

Posted in محبت ہمسفر میری | 5 Comments

سفرِ رائیگاں

تالیوں کی تیز آواز میری سماعت پہ ہتھوڑوں کی طرح برس رہی تھی,مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سب لوگ مجھ پہ قہقہے لگا رہے ہوں، میں آنکھوں میں نمی لئیے،اپنے ساتھیوں کی پذیرائی بھری گفتگو سُن رہا تھا مگر سمجھنے سے قاصر تھا۔ یہ سب ایک خواب کی مانند لگ رہا تھا،مجھے یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ آج میرا آفس میں آخری دن ہےاور مجھے یہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے رخصت کیا جا رہا ہے۔
عمرِ عزیز کے پینتیس سے زائد برس گذارنے کے بعد آج ریٹائرڈ ہو رہا تھا،میری سروس ایکسٹینشن کی درخواست مسترد ہو گئی تھی اور مجھے بتایا جا رہا تھا کہ آپ نے تمام زندگی بہت محنت اور ایمانداری سے کام کیا

………Weldone……

مگر اب آپ کام کے قابل نہیں لہٰذا

…..you may go now……
بامشکل تمام میں نے آنکھ میں بھرے آنسوؤں کو گرنے سے بچا رکھا تھا۔
بوجھل قدموں اور ڈوبتے دل کے ساتھ میں دونوں ہاتھوں میں تحفے اور تعریفی اسناد تھامے آفس کے زینے سے نیچے اُتر رہا تھا۔
مجھے پینتیس برس پہلے کا زمانہ یاد آرہا تھا ، جیسے کل کی بات ہو۰۰۰۰میں ایک بھرپور نوجوان۰۰۰۰دو چار جست میں زینہ طے۰۰۰۰منٹ میں اوُپر اور اگلے منٹ نیچے۰۰۰۰مگر
آج یہی زینہ برسوں کی مُسافت معلوم ہو رہا تھا۔
کیا کھویا۰۰۰؟
کیا پایا۰۰۰؟
ایک چھوٹا سا گھر۰۰۰بچے تعلیم پا گئے۰۰۰۰اپنے اپنے کاموں میں مگن۰۰۰۰۰اللّہ نے عزت سے گذار دی۰۰۰۰میری چھوٹی سی فیملی۰۰۰۰۰
میری بیوی۰۰۰۰مجھے اُسکے شکوے یاد آرہے تھے
۰۰۰۰۰۰کبھی تو جلدی گھر آجایا کریں
۰۰۰۰۰ارے اپنی صحت کی فکر ہے آپکو
بچے آپکو یاد کرتے کرتے آج بھی سو گئے
اُسکے فون۰۰۰۰حالات خراب ہیں ،،،دیکھ بھال کر آئیے گا،،،،مجھے فکر ہو رہی ہے
آج جلدی آجائیں،،،،بہت اچھا موسم ہے،،،،،اِس ویک اینڈ پر کہیں چلتے ہیں مزہ آئے گا
مگر ۰۰۰۰میں کمپنی کا وفادار۰۰۰۰اپنی کام میں مگن۰۰۰۰ایک ذمہ دار فرد۰۰۰۰کام کا بوجھ۰۰۰۰روز ایک نئی جنگ۰۰۰۰روز ارجنٹ کام
سوری آج مشکل ہے ، نہیں آپاؤں گا۰۰۰۰چلیں گے کبھی فرصت سے۰۰۰۰
مگر ۰۰۰۰وہ فرصت کے لمحات کبھی نہیں آئے۰۰۰
اور آج کے بعد فرصت ہی فرصت ۰۰۰۰
میرے قدم ڈگمگا گئے۰۰۰۰میں نے ریلنگ کا سہارا لیا اور بامشکل تمام خود کو گرنے سے بچایا۰۰۰۰
وقت بھی بہت ظالم ہے۰۰۰۰اب نہ جسم میں جان رہی
اور نہ دل میں اُمنگ۰۰۰۰
مجھے بچوں کی باتیں یاد آنے لگیں ۰۰۰۰۰
پاپا، آپ نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟؟؟؟
کیا کیا ہے ہمارے لئیے؟؟؟؟
آپکو بس اپنی جاب سے پیار ہے۰۰۰میرا دل بھر آیا۔
تمام عمر دوسروں کو اچھی زندگی دینے کی جد و جہد میں،،،کیا ہارا؟۰۰۰۰کیا جیتا؟
کہاں کہاں غلط کیا؟؟؟کیا صحیح تھا؟؟
میں اب بھی سمجھنے سے قاصر تھا۰۰۰
شاید اپنی زندگی اور جوانی لُٹانے کے باوجود بھی کچھ حاصل نہ کر پایا۰۰۰
آج بھی خالی ہاتھ۰۰۰۰۰
بہت دیر سے روکے ہوئے آنسو میرے چہرے کی جھریوں سے ہوتے ہوئے۰۰۰۰آفس کی آخری سیڑھی پر گر کر کہیں گُم ہوگئے۔
(ابنِ آدم)

Posted in سفرِ رائیگاں | 1 Comment

خالی کشکوم

بہت دیرسے میں ،اُس پارک میں درخت سے ٹیک لگائےاسکےسائےکو بڑھتےدیکھ رہا تھا۔
میرے دیکھتے ہی دیکھتے سورج لمبی مُسافت طے کرکےتیزی کےساتھ غروب ہونے کو بےتاب تھا۔پرندے دن بھر کی تگ و دو کے بعداپنے اپنے گھونسلوں کی طرف رواں دواں تھے۔
صبح سے شام اور شام سے صبح۰۰۰
دن کسی تیز رفتار ٹرین کے ڈبوں کی مانند،اِک جھلک دیکھا کر اوجھل ہوتے جاتے ہیں ،،جیسے ٹوٹی مالا کے موتی۰۰۰ایک ایک کر کے گرتے جاتے ہوں اور بالآخر ٹرین نے گذر جانا اور مالا نے فنا ہو جانا ہے۔
اور ہم انسان ہر کام اور عمل کل پر ٹالنے کی عادت کا شکار۰۰۰۰
ذرا سی مشقت اور پریشانی اُٹھانے کو تیار نہیں ،،،روز ایک نئی پلاننگ۰۰۰۰۰۰مگر عمل؟؟؟؟
اپنی صحت سے لا پرواہ۰۰۰۰شایداُس دن کے انتظار میں جب بیماری ہمیں اپنے شکنجے میں آ جکڑے۰۰۰۰
عبادت کے لئے بھی آخری عمر کےانتظار میں ۰۰۰۰۰۰۰۰
پھر دنیا سے خالی ہاتھ۰۰۰۰۰۰
خالی کشکول لئے ہی چلا جاتا ہے۰۰۰۰۰۰

Posted in خالی کشکول | Leave a comment