“فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان”

میں نے چُندھائی ہوئی آنکھوں سے سورج کی سمت دیکھنے کی ناکام کوشش کی،،،مجھے لگ رہا تھا کہ سورج زمین کے قریب آگیا ہے،،،،،اتنی گرمی!
ہر طرف آگ لگی ہوئی تھی،ہر ایک شخص بلبلایا سا پھر رہا تھا۔میں بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا اپنے آفس کی طرف دوڑ پڑا،،،میں سورج کی وحشت سے خود کو بچانا چاہ رہا تھا۔
اپنے روم میں آکر میں نے سُکھ کا سانس لیا،اےسی کی کولنگ میرے وجود کو سکون بخش رہی تھی۔کچھ دیر ریلکس ہونے کے بعد میں نے کھڑکی کا پردہ ذرا ہٹایا اور باہر کی طرف نظر ڈالی۔سوئپر ہاتھ میں جھاڑو پکڑے پارکنگ ایریا کی صفائی میں مصروف تھا،اُسکی شرٹ پسینے میں شرابور تھی،پھر میری نظر گیٹ پر کھڑے گارڈ پہ پڑی،،،اتنی گرمی میں وہ موٹے کپڑے کی وردی،موٹے جراب اور بھاری بھرکم جوتے پہنے چاک و چوبند انداز میں کھڑے سورج کی شعاعوں کو اپنے سپاٹ چہرے پہ برداشت کر رہے تھے۔
اُس سے ہٹ کر میری نظر باہر سڑک پہ پڑی،،،زندگی رواں دواں تھی،مسافر،خوانچہ فروش،فقیر،ٹریفک کانسٹیبل ہر کوئی اپنے کام میں مگن،گرمی،سردی،بارش ،طوفان سے بےنیاز اپنے پیاروں کے لئے رزق کی تگ و دو میں مصروف،،،،،
مجھے ان تمام افراد کے کاندھوں پر ایک نہ نظر آنے والی ضرورتوں کے پہاڑ کے ہونے کا احساس ہوا۔یہ کارخانہ ء خدا ہے،،،،ایک شخص سخت گرمی میں پسینے سے بے حال اور دوسرا ٹھنڈے کمرے میں ،آرام دہ کرسی پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھے براجمان۔دونوں کا مقصد ایک،،،،دونوں کی لگن ایک،،،،اپنے اپنے اہل و عیال کے لئے رزق کی فراہمی،مگر دونوں کی قسمت مختلف۔
میری آنکھوں میں تشکر کے آنسو آگئے،کتنے نا شکرے ہیں ہم انسان،،،سب کچھ پا کر بھی شکوے، شکایتوں کے انبار،،،،
بے اختیار میرے لبوں سے الّلہ کے شکر کے الفاظ نکلنے لگے،،،”اور ہم الله کی کون کون سی نعمتوں کو جُھٹلائیں گے”
“فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان”
(ابنِ آدم)

Advertisements
Posted in Uncategorized | Leave a comment

پھسلتے لمحے

میں بستر پہ لیٹا بڑی دیر سے کروٹیں بدل بدل کر سونے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھا۔جسم کا جوڑ جوڑ دُکھ رہا تھا اور نیند تھی کہ جیسے روٹھ ہی گئی ہو۔
آج کا دن بہت مصروف تھا،میں دن بھر مختلف کاموں میں بھاگتا رہا،،،ادِھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر،،،ایک پل بھی چین نہ مل سکا۔رات دیر سے گھر لوٹا توتمام اہلِ خانہ سو چکے تھے اور اب میں بستر پہ پڑا نیند کی مہربان دیوی کا منتظر تھا مگر۰۰۰۰۰۰۰
کبھی کبھی ہم اپنے پیاروں کو سب کچھ دینے کی چاہ میں اتنا تیز دوڑ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے اپنے بھی ہماری تیز رفتاری کا ساتھ نہیں دے پاتے اور ہمارے اور اُنکے درمیاں فاصلہ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ہم اُن سے اور وہ ہم سےدور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
اور جب ہم زندگی کی دوڑ میں دوڑتے دوڑتے تھک کر رک جاتے ہیں تو ہمیں اپنے پیاروں کی یاد اور انکی ضرورت،،،،مگر اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے،،،ہم اور ہمارے اپنے چاہتے ہوئے بھی اُن فاصلوں کو سمیٹنے میں ناکام رہتے ہیں۔وہ چاہتے ہوئے بھی دوری کی اس فصیل کو پار نہیں کر پاتے جو ہم نے خود اپنے درمیاں حائل کی ہوئی ہے۔
میں سوچتا جا رہا تھا،،،مجھے یاد نہیں آرہا تھا کہ آخری بار میں نے اپنی فیملی کے ساتھ ڈنر کب کیا تھا،،،،،مجھے یاد آیا کہ مجھے اپنے بچوں سے باتیں کئیے زمانہ گذر گیا ہے۔ہم کب آخری بار آؤٹنگ پر گئے تھے؟
میں دل ہی دل میں نادم ہوتا رہا،،،ایک بوجھ سا میرے سارے وجود پہ جیسے آگرا ہو۰۰۰۰
اِک آگہی کا عذاب جس میں جل اُٹھا تھا،،،مجھے احساسِ ندامت مارے جا رہا تھا۔
میں نے کروٹ بدل کر اپنے دُکھتے جسم کو آرام دینے کی کوشش کی،،،کیا کرونگا اتنا مال کما کر،،،،؟یہ کیسی دولت ہے جس سے ہماری خوشیاں ،،،،،نہیں ،نہیں،،،،،،،
میں دل ہی دل میں فیصلہ کر رہا تھا،کل سے جلد گھر لوٹ آنے کا،،،،،،
(ابنِ آدم)

 

Posted in پھِسلتے لمحے | 1 Comment

گہرے روگ،سنہرے لوگ

اپنا ہونے کے لئیے ساتھ ہونا ضروری نہیں۰۰۰
بعض اوقات تمام عمر ساتھ ساتھ چلنے والے،ایک ساتھ رہنے والے ،،،دراصل میں ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے ہیں کہ تمام عمر وہ ایک دوسرے کو سمجھ ہی نہیں پاتے  ،،،،،،
وہ جان ہی نہیں پاتے کہ انکے پہلو میں بیٹھے شخص کے پہلو میں دھڑکنے والا دل کیا پُکار رہا ہے۔
وہ ریل کی اس پٹری کی مانند ہوتے ہیں جو ساتھ ساتھ تو ہے
مگر کہیں ایک نہیں ہوسکتی۔
اور کبھی کہیں کوسوں دور بیٹھا شخص ہماری شہہ رگ سے بھی قریب ۰۰۰۰۰
ہم اپنے ہر دکھ درد میں اسکا ہاتھ اپنی بنض پر محسوس  کرتے ہیں۰۰۰۰
کہ وہ ہزاروں میل دور سے ہماری آواز کا درد اور ہماری سانسوں کی لرزش محسوس کر سکتا ہے۔ شاید یہی لوگ ہمارے اپنے ہوتے ہیں ۰۰۰۰
ہمارے دلوں میں بسنے والے سنہرے لوگ۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Posted in گہرے روگ،سنہرے لوگ | 1 Comment

جگر گوشے

ویڑرز نے کھانے کی ڈشزز کے کور ایک زوردار آواز کے ساتھ ہٹائے،یہ گویا کھانا شروع ہونے کا عندیہ تھا۰تمام لوگ تیزی سے کھانے کی جانب لپکے،جیسے ایک لمحے کی کوتاہی انہیں مالِ غنیمت سے محروم کر دے گی۔ایک عجیب افراتفری کا سماں تھا،سوٹڈ بوٹڈ لوگ کچھ دیر کے لئے آدابِ محفل سے غافل نظر آرہے تھے۰ویٹرز دوڑ دوڑ کر ڈشزز کو دوبارا بھرنے میں مصروف تھے۔
میں اپنے آفس کولیگ کی بیٹی کی رخصتی میں مدعو تھا،تنہا آنے کی وجہ سے ایک کارنر ٹیبل پر بیٹھا رش چھٹنے کا منتظر تھا۰مجھے معلوم تھا کہ کھانا وافر مقدار میں موجود ہےاور کچھ دیر بعد میں سکون سے لے سکوں گا۔میری نظریں اسٹیج پہ بیٹھی دلہن پہ جمی ہوئیں تھیں جو کافی دیر سے سر جھکائے آنسو بہانے میں مصروف تھی۔اسُکی آنکھوں میں جیسے برسات کی جھڑی لگی تھی،ہچکیاں تھیں کہ تھم کر ہی نہیں دے رہیں تھیں ،ماں ،بہن اور چھوٹا بھائی نم آنکھوں سے اُسے چپ کرانے اور تسلی دینے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھے-میرا کولیگ اُفسردہ چہرہ لئیےمہمانوں کو کھانے پر مدعو کرنے اور سسرال والوں کی نازبرداریوں میں لگا ہوا تھا۰کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے،کوئی ناراض نہ ہو جائے،کسی کو کوئی بات بری نہ لگ جائے،،،،،ویٹر یہاں گرم روٹی لاؤ جلدی،،،،،،اُس نے بھاگتے ہوئے ویٹر سے کہا۔
کیا نظامِ قدرت اور کیا نظامِ زمانہ ہے،،،،
ہم اپنے باغ کی ننھی ننھی کونپلوں کو اپنا خونِ جگر دے کر بڑا کریں اور پھر اُنہیں کسی اور کا چمن مہکانے کے لئیے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے رخصت کر دیں ۔ہمارے آنگن کی چڑیائیں کسی اور کے صحن میں چہچہاہیں،،،،ہمارے گھروں کو سُونا کر کے کسی اور کے دریچوں کی رونقیں بڑھائیں ،،،،ہمارے دلوں کے گوشے،،،،ہمارے چمن کے پھول کسی اور کے آشیانوں کو مہکائیں اور خوشیوں سے آراستہ کریں !!!!!
یار بریانی تو صرف مٹن کی ہی اچھی بنتی ہے،میرے سامنے بیٹھے صاحب نے چکن لیگ پیس پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے اپنے ساتھی سے فرمایا۔جسکی انکے ساتھی نے سر ہلا کر تائید کی۔
میں نے ایک افسوسانہ نظر اُن پہ ڈالی اور پلیٹ اُٹھا کر ٹیبل کی جانب بڑھ گیا۔ٹائم کافی ہو گیا تھا اور اپنی بیٹی کی فرمائش پہ مجھے آئسکریم لے کے گھر جانا تھا۔مجھے معلوم تھا کہ وہ میرے انتظار میں جاگ رہی ہوگی۔اُسکا خیال آتے ہی میرے چہرے پہ مُسکراہٹ بکھر گئی،،،الله تمام بچیوں کا نصیب اچھا کرے،،،میرے کانوں میں ایک صاحب کی آواز آئی،،،میں زیرِ لب آمین کہتا آگے بڑھ گیا۔
(ابنِ آدم)

Posted in جگر گوشے | Leave a comment

اُڑے جاتے ہیں لمحے زندگی کے۰۰۰۰

کہیں خوشی،کہیں غم،،یہ دنیا کا دستور ہے۰کوئی شادیانے بجا رہا ہوتا ہے توکوئی آنسو چُھپا رہا ہوتا ہے۔زمانے کے چکر میں کوئی پہیے کے اوپر خوشی سے نہال ہو رہا ہوتا ہے اور کوئی اِسی پہیے کے نیچے دبا زندگی کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔
میرے کانوں میں دھماکوں کی آوازیں گونج رہیں تھیں۔سال کا آخری سورج غروب ہورہا تھا اور کچھ منچلے خوشیاں منانے میں مصروف تھے۔میں ساحلِ سمندر پہ بیٹھا ،لوگوں کو سال کے آخری “ڈوبتے سورج” کے ساتھ سیلفیاں بناتا دیکھ رہا تھا۰ہر ایک شخص مسرور نظر آرہا تھا۔وہ اس نارنجی روشنی میں نہائے منظر کو اپنے سیل فون کے کیمروں میں مقّید کرنا چاہتے تھے۰ایک خلقت تھی جو ساحلِ سمندر پر اُمڈ آئی تھی۔
میں ایک ٹوٹے ہوئے ہٹ کی آخری دیوار سے ٹکِا ڈوبتے سورج کے کرب کو محسوس کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۰۰۰۰اپنے آس پاس سے بیگانہ۰۰۰۰اک اداسی کا احساس جو کسی اپنے کو رخصت کرکے ہوتا ہے۔میں سوچ رہا تھا کہ آج کے بعد میں اپنی زندگی میں اس سورج کو پھر نہیں دیکھ پاؤں گا،اور بہت سے سورج ہونگے،،،،روشن ،،،شاداب مگر ۲۰۱۷ کا یہ آخری سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے کائنات کی وسعتوں میں کھونے جا رہا تھا۔
زندگی کا ایک اور سال تمام ہوا۰۰۰۰کیا کھویا۰۰۰کیا پایا؟ عمرِ عزیز کے زینے کا ایک اور اسٹیپ طے ہوگیا،ایک قدم اور آگے فنا کی جانب۰۰۰۰۰کتنے اسٹیپ باقی ہیں؟
کب آخری اسٹیپ آجائے،کس کو پتہ؟
میں نے سوچوں میں گُم ہو کر ریت اپنی مٹھی میں بند کی،مگر اُسے گرفت کرنے سے قاصر تھا۰۰۰زندگی بھی بند مٹھی کی ریت کی طرح ہمارے ہاتھوں سے پھسلتی جاتی ہے۰۰۰۰ایک سفر ہے جو جاری و ساری رہنا ہے،ابھی تو بہت کام ہیں جو کرنے ہیں۰۰۰۰۰
کیا ہم سفرِ آخرت کے لئیے تیار ہیں؟”نہیں” ہم میں سے کوئی بھی تیار نہیں۰۰۰اور نہ ہی جانا چاہتا ہے۔ہم کسی کو جب جاتا دیکھتے ہیں تو لگتا ہے بس اسی کو جانا تھا،،،،،،، اور ہمیں؟؟؟؟؟؟
سورج کی نارنجی روشنی،سیاہی میں تبدیل ہو چکی تھی،آس پاس کے لوگ اسکے دکھ سے بے خبر اپنی موج و مستی منا کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر جانےکی تیاری کر رہے تھے۔میں بوجھل قدموں سے چلتا ہوا سمندر کی لہروں میں آن کھڑا ہوا،،،سمندر کی ٹھنڈک میرے پیروں سے ہوتی ہوئی میرے وجود کو ایک نئی لگن بخشنے لگی۰۰۰۰میں نے آنکھیں بند کر لیں اور آنے والی صبح کے تصور میں گُم ہوگیا۰۰۰۰۰
اک نئی صبح،،،،،اک نئی اُمید
(ابنِ آدم)

Posted in اُڑے جاتے ہیں لمحے زندگی کے | Leave a comment

ہوا نصیب بنایا،سفرلکھااُس نے

میں نے کمرے میں پھیلی نائٹ بلب کی ہلکی سبز روشنی میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر گھڑی کی سوئیاں دیکھنے کی کوشش کی۔صبح کے چار بجنے والے تھے اور میری روانگی میں تقریباً چار گھنٹے اور باقی تھے۔نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی،میں نے آہستگی سے کروٹ لیتے ہوئے پرانے بیڈ کی چُرچُراہٹ کو دبانے کی ناکام کوشش کی۔مریم ابھی کچھ دیر پہلے روتے روتے سوئی تھی۔ہم دونوں کے درمیان ہماری تین سالہ ننھی پری ہماری ذہنی حالت سے بے خبر ایک معصوم مُسکراہٹ لئیے سو رہی تھی۔
مجھے چھٹیوں پہ آئے آج آخری دن تھا اور علی الصبح میری روانگی تھی،مجھے اپنوں کو چھوڑ کر جانا تھا،،،،پورے ایک اور سال کے لئیے،،،،،ہمیشہ کی طرح ہم دونوں ہی اُداس تھے،،،،جدائی کا ایک اور سال،اپنی پوری وحشت اور ہولناکیوں کے ساتھ تیار کھڑا تھا۔
پھر وہی ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ،،،،کام،کام اور پھر لمبی تنہا راتیں ۔شروع سال ہی سے آنے والے دنوں کا انتظار،،،اک اک کر کے دن گننا اور جب اپنے ملک آنا تو گویا وقت کو پر لگ گئے ہوں ،،،،دوڑ بھاگ،،،یہ کام،،،وہ کام۔اس سے ملنا،،،اُس کے پاس جانا اور پھر واپسی کا وقت
میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بیڈ کی پشت سے ٹک کر بیٹھ گیا۔میں نے اپنے ہاتھ کی اُنگلی اپنی سوئی ہوئی معصوم کلی کے ہاتھ میں تھمائی جسے اُس نے مضبوطی سے تھام لیا۔میں اور میرے اپنے،،،،،سب ایک دوسرے سے جدا،،،ایک دوسرے کے لئے تڑپتے رہتے،،،یہ کیسی مجبوری،،،،،نا چاہتے ہوئے بھی خود ساختہ جدائی۔ہم کو جدا ہونا ہی تھا،مجھے جانا ہی تھا،اپنوں کو چھوڑ کر،اپنوں کی خاطر۰۰۰۰۰
آج سرِ شام ہی سے مریم کی آنکھوں میں جیسے جھڑی سی لگ گئی ہو۔اُس نے رو رو کراپنی آنکھیں سُجالی تھیں ۔
سنیں ،،،آپ نا جائیں؟؟؟میں کم میں بھی گذارا کر لونگی،،،ہم روکھی سوکھی کھا لیں گے۔
میں اُسے سمجھا سمجھا کر تھک گیا کہ بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے،ہم روز چیٹ کریں گے اور فون بھی۔
میں جانتا تھا بھوکا پیٹ اور تنگدستی،،،بڑی سے بڑی محبتوں میں دڑاڑ ڈال دیتی ہے۔یہی سچ ہے،،،کڑوا سچ ۔
میں ڈگریوں کابوجھ اُٹھائے دربدر کی خاک چھان چکا تھا،،جان چکا تھا کہ یہ کاغذ کے ٹکڑے بغیر کسی سہارے کے نہیں اُڑ سکتے،،،اِنکو حاصل کر کے اُونچا اُڑنے کے خواب دیکھنے والے اکثر منہ کے بل گرتے ہیں ،،،کرچی کرچی ہوجاتے ہیں ،،،اُن کا وجود لہولہان اور ریزہ ریزہ
دن بھر کے رکےآنسو میری بے خواب آنکھوں میں اُمڈ آئے،،،میں نے اپنے بکھرتے وجود کو بامشکل سمیٹا،،،،اپنی معصوم پری کے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے آہستگی کے ساتھ اُس کے نازک ہاتھ میں دبی اپنی انگلی چھڑائی اور مریم پہ ایک نظر ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا،،،،فلائٹ کا ٹائم ہو چکا تھا،،،،ایک جدائی بھرے نئے سال کا آغاز۔

ہوا نصیب بنایا سفر لکھا اُس نے
تمام عمر پھروں دربدر لکھا اُس نے
سُلگتی دھوپ کی مانند زیست دی لیکن
نا سائباں،نہ کوئی شجر لکھا اُس نے

(ابنِ آدم)

Posted in ہوا نصیب بنایا، سفر لکھا اُس نے | 2 Comments

“یہ گذرتے پل”

شام کے سائے گہرے ہوچلے تھے،دن بھر کا تھکاماندہ سورج اپنی آب و تاب دکھانے کے بعد گھنے درختوں کے پیچھے ڈوبنے کو تیار تھا۔گذرتے وقت کا ہر اک پل اُسکی رعنائی اور جاہ و جلال میں کمی کر رہا تھا۔ہر سو چھائی ہوئی نارنجی روشنی اک سوگواری کی سی کیفیت پھیلا رہی تھی،پرندے تیزی سے اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف رواں دواں تھے۔جیسے وہ ڈوبتے سورج کی بےبسی دیکھنے کی تاب نہ رکھتے ہوں اور اس منظر سے آنکھیں چُرا کر بھاگ رہے ہوں۔
میں سیاہ سڑک پر تیزی سے فراٹے بھرتی ہوئی کار کی پچھلی نشست سے سر ٹکائے اس منظر کو دیکھنے میں محو تھا۔سڑک کے کنارے لگےدرخت ایک کے پیچھے بھاگتے جا رہے تھے۔مناظر اس تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے کہ آنکھ اُن سے لطف لینے سے قاصر اور عقل انہیں ٹھیک سے سمجھنے سے مجبور تھی۔
میں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھاکہ جب ہم آگے جارہے ہوتے ہیں تواپنے پیچھے کیا کچھ چھوڑ جاتے ہیں؟؟؟؟
کتنے ہی حسیں لمحات ہم مِس کر جاتے ہیں ،،،،،کتنے ہی بیش بہا قیمتی پل ہم گذارے بغیر ہی ضائع کر جاتے ہیں،،،،،سرابوں کے پیچھے اک نا ختم ہونے والی دوڑ۰۰۰۰۰۰
ایک کے بعد ایک حسیں سراب،جنہیں پانے کی جستجو میں ہم اپنی رفتار بڑھاتے چلے جاتے ہیں،،،،،تیز اور تیز
اور اس تیز رفتاری میں اپنے قدموں تلے،اپنے چاہنے والوں کی خوشیاں روندتے چلے جاتے ہیں،کچلے جاتے ہیں۔اُن مسرتوں کو جو اُنہوں نے ہم سے،ہماری ذات سے وابستہ کر رکھی ہوتیں ہیں۔
ہم رُکنا نہیں چاہتے اور بلآخر اس تیزرفتاری میں دوڑتے دوڑتے ایک دن منہ کے بل گرتے ہیں،،،،کبھی نہ اُٹھنے کے لئیے،،،،،،
اُس وقت ہم مڑ کر دیکھتے ہیں تو سوائے پچھتاؤں کے کچھ بھی نظر نہیں آتا۔
میں نے نم آنکھوں سے سورج کی بےبسی کو دیکھا،آخری سانسوں کے ساتھ ساتھ دم توڑتی روشنی ،اندھیروں میں تبدیل ہوتی جا رہی تھی،،،میں نے منظر کی تاب نہ لاتے ہوئے دھیرے سے سیٹ کی پشت سرٹکاتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔
(ابنِ آدم)

 

Posted in یہ گذرتے پل | Leave a comment