اکِ جنوں بے معنی،اِک یقیں لا حاصل

زندگی کے ہر گذرتے پل کے ساتھ تشنگی بڑھتی ہی جارہی ہے،،ایک احساسِ لاحاصلیت”،،،سوچتا ہوں مقصدِ حیات کیا ہے اور کیا کرتا جاتا ہوں!
انسانوں کے سمندر میں ایک قطرے کی مانند۰۰۰۰جو بہاؤ کے ساتھ بہنے پر مجبور ۰۰۰۰چاہتے ہوئے بھی سمندر کی طوفانی موجوں کے خلاف نہیں جا سکتا۰۰۰۰۰ہر لمحہ اسکو فنا کی طرف لئے جا رہا ہےاور آخرکار فنا ہی اسکا مقدر۰۰۰۰۰۰!
زندگی کی ہر صبح مجھے ایک مخصوص دائرے میں بھاگنے پر مجبور کر دیتی ہے اور دن بھر دوڑتے دوڑتے تھک کر رات گئے نیند کی آغوش میں پناہ پاتا ہوں۰۰۰۰۰۰۰۰۰اگلے دن پھر اسی دائرے میں بھاگنے کو تیار!!!!!
اپنے اندر بہت بےچینی اور بے قراری محسوس ہوتی ہے۰۰۰کچھ کر گذرنے کی چاہت۰۰۰کچھ حاصل کرنے کی لگن۰۰۰۰اور کچھ کہنے کی آرزو!
یہ بے قراری بیاں سے باھر۰۰۰شاید ہی کسی زباں میں وہ الفاظ ہوں کہ انسانی جذبات کو اسُکی اصل روح کے ساتھ بیان کر سکیں؟؟؟
پھربھی ایک ناکام سی کوشش۰۰۰۰کہ اس بے کلی کی کلیوں کو لفظوں کے دھاگے میں پرو کر مالا کا روپ دے سکوں!!!!!
(ابنِ آدم)

Advertisements
This entry was posted in میں کیا سوچتا ہوں. Bookmark the permalink.

5 Responses to اکِ جنوں بے معنی،اِک یقیں لا حاصل

  1. Mona says:

    It’s worthwhile, like a mirror one could see himself in it.

    Liked by 1 person

  2. huma says:

    Shayd zindgi issi ka nam hy.kbhi hm khud bhi smjh nahi paty k hm kya chahty hn aur q?

    Like

  3. Anonymous says:

    very true….very nice!

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s