“جدائی”

وہ بہت دیر سے خاموش تھی،،جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہو،،بہت بڑی بات!میں بھی اندر سےڈرا ہوا تھا،،،پوچھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا،،
“اب ہم کبھی نہیں ملیں گے”اس نے خاموشی توڑی،،،گویا ہزاروں من کا پہاڑ مجھ پر آ گرا،،میرا ڈر سچ ثابت ہوا،،میرا وجود مجھے گہرائیوں میں گرتا محسوس ہوا،،ریزہ ریزہ،،،،
وہ آہستگی سے مڑی اور پارک کے دروازے کی طرف دھیرے دھیرےچل پڑی،،بنا مجھ سے نظر ملائے،،میں اسکو دیکھتا رہ گیا،،اک ٹک،،،
یہ جداہونے کے لمحات بڑے ظالم ہوتے ہیں شاید جدائی سے بھی زیادہ،،اسکا سارا وجود اسکو روکنے پر مضر،مگر قدم آگے بڑھنے پر مجبور،،،اُسےمحسوس ہو رہا تھا کہ اسکے قدموں کے نیچے نرم گھاس نہیں انگارے ہوں،،،جیسے سارا راستہ کانٹے بچھے ہوں،،چھوٹا سا راستہ،،،میلوں کا سفر لگ رہا تھا،،وہ چاہنے کے باوجود،،پیچھے مڑ کےنہیں دیکھنا چاہتی تھی،،اُسے معلوم تھا اگر اُس نے مُڑ کر دیکھا تو”پتھر”ہو جائے گی،کبھی نہ جا پائے گی۰۰۰۰۰۰۰
“محبت” بڑی عجیب شےہے،اس کو دیکھنے کے لئےآنکھیں لازمی نہیں ،،دل کی آنکھوں کا ہونا ضروری ہے،،،”بصارت” نہیں “بصیرت” چاہئیے،،،بعض اوقات ہم محبت کو دیکھ نہیں پاتے،،سمجھ نہیں پاتے،،،جب میّسر ہو تو اہمیت کا احساس تک نہیں ہوتا،،،مگر جب ہم سے دور ہو جائے،،روٹھ جائے تو،،جیسے سب کچھ وہی تھی،،،محبت اپنے ساتھ،ہماری ساری خوشیاں،،اُمنگیں،جذبات،،ہمارے اندر کا موسمِ بہار سب لے جاتی ہے!
اور ہم خالی ہاتھ!
جیسے جسم سے روح پرواز کر جائے،،موت سے پہلے موت!
مگر اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے،،ہماری خواہش ہوتی ہے کہ وقت پلٹ جائے مگر وقت کسی کےلئیے پلٹا ہے نہ پلٹے گا!!!
         (ابنِ آدم)

Advertisements
This entry was posted in جدائی. Bookmark the permalink.

One Response to “جدائی”

  1. bintehawwaa says:

    Marvellous👍🏻

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s