“دکھاوا”

بعض اوقات ہم نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے عمل اور باتوں سے دوسروں کی دل آزاری اور تکلیف کا باعث بن رہے ہوتے ہیں اور ہمیں اسکا گماں بھی نہیں ہوتا۰۰۰۰۰۰
دکھاوا اور شو بازی۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ہمارے معاشرے میں سرائیت کر چکا ہےاور آجکل سوشل میڈیا کے ذریعے یہ اپنے عروج پر ہے۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اک اسٹیٹس کی جنگ ہے جو ہر کوئی ہر قیمت پر جیتنا چاہتا ہے۰۰۰۰۰۰۰
کیا ہم نے کبھی اپنی معمولی معمولی (activities)ایکٹیویٹیز کو فیس بک اور واٹس ایپ پر لوڈ کرتے سوچا ہےکہ اس عمل کے پیچھے ہمارا مقصد کیا ہے؟؟؟؟
ہم لوگوں کو کیا بتانااور دکھانا چاہ رہے ہیں؟؟؟؟
کہیں ہم گناہ کے مرتکب تو نہیں ہورہے؟؟؟؟؟
کہیں ہم دوسروں کو دکھ تو نہیں دے رہے؟؟؟؟
کہیں ہم دوسروں کی محرومیوں کو اجُاگر تو نہیں کر رہے؟؟؟؟؟؟
ہم جو کچھ دکھا اور بتا رہے ہیں یہ ضروری ہے؟؟؟؟
جو کچھ ہم پوسٹ کر رہے ہیں کیا یہ سچ ہے؟؟؟؟؟؟
کیا جتنی محبت ہم سوشل میڈیا پر دکھاتے ہیں ۰۰۰کیا اصل میں بھی ایک دوسرے سے کرتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟

(ابنِ آدم)

Advertisements
This entry was posted in دکھاوا. Bookmark the permalink.

4 Responses to “دکھاوا”

  1. Anonymous says:

    Well said

    Like

  2. Samia says:

    Well said ibneadam.. Allah hum sub ko dekhawa kr k dusro ka dil dukhane jese gunnah say bachaey.

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s