چُنے ہوئے لوگ

میں نے زور سے ہارن پر ہاتھ رکھا اورمسلسل بجاتا ہی چلا گیا۰۰۰۰گاڑی کے سامنے موٹر سائیکل سوار سامنے سے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۰۰۰۰مجھ پر جھنجھلاہٹ سوار ہونے لگی۰۰۰بالآخر موٹر سائیکل سوار مجھے بری طرح گھورتا ہوا ایک سائیڈ پر ہوگیا۔
آج پھر میں لیٹ ہوگیا تھا،پیر کی صبح اور سڑک پر ہر طرف اِک افراتفری ۰۰۰۰۰۰
مجھے ایسا لگ رہا تھا میں روڈ پر گاڑی چلانے نہیں بلکہ گاڑی بچانےنکلا ہوں۰۰۰۰۰
صبح ہی صبح لائٹ چلی گئی اور مجھے ہر کام میں دیر۰۰۰اور اب ٹریفک کا بےقابو اژدھام۰۰۰۰۰میرے خدا۰۰۰۰۰
میرا آفس شہر کے وسط میں گنجان جگہ پر تھا۰۰۰۰جتنا میں لیٹ ہوتا،اُتنا ہی پارکنگ کا مسئلہ شدید۰۰۰۰
میں جلد از جلد آفس پہچنے کی کوشش میں رف ڈرائیونگ کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ ہر دوسری گاڑی پر میرا غصہ۰۰۰۰۰
آخر وہی ہوا۰۰۰لمبی خواری کے بعد ۰۰۰۰میں بامشکل تمام آفس سے بہت دور گاڑی پارک کرنے میں کامیاب ہوا اور اب لمبے لمبے ڈگ بھرتاہوا آفس کی جانب گامزن بلکہ تقریباً دوڑ رہا تھا۰۰۰
بیٹا کچھ کھانے کو دے سکو گے؟؟؟؟؟
اچانک ایک آواز نے میرے قدم جکڑ لئیے۰۰۰۰میں پیچھے مڑا اور کہنا چاہتا تھا کہ “معاف کرو بابا”۰۰۰۰مگر
وہ ایک خستہ حال شخص تھا۰۰۰بے ترتیب داڑھی۰۰۰کمزور،لاغر
مگر جس چیز نے میری زبان روک دی تھی وہ اسُکی چمکدار آنکھیں۰۰۰۰۰۰
میں نے اپنی ساری زندگی میں اتنی روشن آنکھیں نہیں دیکھیں تھیں،،اسکی آنکھیں اُسکے باقی جسم کا ساتھ نہیں دے پا رہیں تھیں۰۰۰۰
مجھے پیسے نہیں چاہئیے،کچھ کھلا دو بیٹا۰۰۰۰۰اُس نے میرا ہاتھ جیب میں جاتا دیکھ کر کہا۰۰۰۰۰
میں نہ چاہتے ہوئے بھی رکنے پر مجبور تھا۰۰۰میں نے اطراف کا جائزہ لیا تو دور مجھے ایک چائے خانہ نظر آیا۰۰۰۰۰
“ابھی آیا بابا”،میں اُس سے کہتے ہوئے چائے خانے کی طرف چل پڑا۰۰۰۰۰۰۰
چائے کے ساتھ کچھ لوازمات وغیرہ بھی لے آیا جو میں نے آہستگی سے اسکے سامنے رکھ دئیےاور خود اسُکے برابرفٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۰۰۰۰۰۰
اُس نے جھپٹ کر ٹرے اپنے آگے سرکائی اور چیزوں پر ہاتھ صاف کرنے لگ گیا۰۰۰۰وہ بہت بھوکا معلوم ہو رہا تھا۰۰۰۰
مجھے نہ جانے کیوں اسمیں ایک عجیب سی پُر اسراریت محسوس ہو رہی تھی۰۰۰۰کچھ تھا جو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۰۰۰۰کچھ نا معلوم سا احساس۰۰۰۰۰
میں خاموش بیٹھا اُسے کھاتے دیکھتا رہا۰۰۰۰
اللّہ تمہارا بھلا کرے بیٹا اوراللّہ تمکو حقوق العباد ادا کرنے کی ہمت عطا فرمائے،اُس نے کھانے کے بعد دعا دیتے ہوئے کہا۔
میں نے تعجب سے پوچھا۰۰۰بابا ہمت سے کیا مراد ہے؟؟؟؟
بابا نے مُسکراتے ہوئے کہا۰۰۰۰۰بیٹا حقوق اللّہ کی توفیق عطا ہوتی ہےمگر حقوق العباد ادا کرنے کیلئے توفیق کے ساتھ ہمت کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔
برداشت کی ہمت۰۰۰۰اک دوسرے کو درگذر کرنے کی ہمت۰۰۰۰۰کسی کا حق ادا کرنے کیلئے اپنےآپ کو مشکل میں ڈالنے کی ہمت۰۰۰۰۰۰
ہم جب تک اپنے آپ پر جبر نہ کریں حقوق العباد ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔
میرے نزدیک حقوق اللّہ ادا کرنا آسان مگر حقوق العباد ادا کرنا ایک مشکل کام ہے۔شاید اللّہ کچھ بندوں کو چُنتا ہے۰۰۰اُن میں کچھ خاص بات کہ اللّہ اُنکو حقوق العباد ادا کرنے کا فریضہ سونپ دیتا ہے۰۰۰۰۰
حقوق اللّہ میں کمی۰۰۰۰۰۰۰اللّہ معاف کرنے والا ہے،مہربان ہے۔
مگر ۰۰۰۰حقوق العباد کی ذرا سی بھی کوتاہی بندے برداشت نہیں کر پاتے۰۰۰مجھے اسُکی روشن آنکھوں میں نمی تیرتی محسوس ہوئی۔
میں نے اُسکی جانب خالی نظروں سے دیکھتےہوئے اُٹھ کھڑاہوا ۔
(ابنِ آدم)

Advertisements
This entry was posted in چُنے ہوئے لوگ. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s