بے لوث محبتیں

اچانک آہٹ کی آواز سے میری آنکھ کُھل گئی۰۰۰۰کمرے میں گھُپ اندھیرا تھا۰۰۰۰کوئی باہر گیا تھا۰۰۰۰یہ میرے ابو تھے جو اےسی کی کولنگ کم کر کے نکلے تھے۰۰۰۰چند دنوں سے میری طبیعت کچھ ناساز تھی۰۰۰مگر میں اپنی عادت سے مجبور جب تک فُل اےسی نہ چلا لوں ۰۰۰میرے لئیے سونا مشکل تھا۰۰۰۰۰
والد صاحب دیر تک جاگتے اور میرے سونے کا انتظار کرتے تاکہ اےسی کی کولنگ کم کرسکیں ۰۰۰۰نومبر کی شروعات تھی اور رات کے آخری پہر خنکی بڑھ جاتی تھی جو میری طبعیت کے لئیے یقیناً نامناسب تھی۔
میں نے ایک گہری سانس لی۰۰۰۰میں جانتا تھا کہ ابو علی الصبح نماز کے لئیے اُٹھتے ہیں ۰۰۰۰اتنی دیر تک جاگنا ۰۰۰۰میری وجہ سے۰۰۰۰؟
میں شرمندہ ہونے لگا۰۰۰۰۰۰
کیا کوئی انسان ماں باپ سے زیادہ محبت کر سکتا ہے؟؟؟؟
میں سوچتا چلا گیا۰۰۰۰میری نظروں میں بے شمار واقعات اور مثالیں گھومنا شروع ہو گئیں۔
نہیں۰۰۰۰کوئی انسان ماں باپ سےزیادہ محبت تو کیا ۰۰۰۰اُنکی محبت کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۰۰۰۰
یہ کیسا رشتہ؟؟؟
یہ کیسے لوگ؟؟؟
انسانی عقل حیران ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں؟؟؟
جو خود کو دکھ دے کر ہماری مسرتوں کا سامان۰۰۰
ہمارے کل کے لئیے اپنا آج قربان۰۰۰۰
جو اپنی تمام خوشیاں اور خواہشات ہماری ایک خوشی کے لئیے ختم کر دیں ۰۰۰جنُکے لئیے ہم ہی سب کچھ ہوں۰۰۰۰۰
خود بھوکے رہ کر ہمیں کھِلائیں اور خوشی سے بے حال۰۰۰
راتوں کو جاگ جاگ کر ہمیں سلائیں اور ہماری اک ذرا سی خوشی کے لئیے اپنی ساری رات قربان۰۰۰ماتھے پہ اک بل نہیں۰۰۰۰زباں پہ اک شکوہ نہیں ۰۰۰۰کسی انعام کا لالچ۰۰۰۰نہ پرواہ۰۰۰۰نہ خیال
اے خدا میں سوچتا چلا گیا۰۰۰۰۰۰۰
راہِ زندگی کی تمام آفتوں اور مصائب کو برداشت کریں۰۰۰۰مگر ہم پرایک آنچ نہ آنے دیں۰۰۰۰ہماری طرف اُٹھنے والے ہر طوفان کے آگے ڈھال۰۰۰۰ہماری طرف اُٹھنے والی ہر میلی آنکھ اور ہر ہاتھ کے آگے سینہ سپر۔
جو رو رو کر دعائیں کریں مگر اپنے لئیے نہیں ۰۰۰۰ہمارے لئیے۰۰۰۰
کیا کوئی اور ہو سکتا ہے ایسا؟؟؟؟
نہیں ۰۰۰۰ہرگز نہیں۰۰۰۰کبھی نہیں۰۰۰۰کہیں بھی نہیں۰۰۰۰
کمرے میں گرمی بڑھ گئی تھی۰۰۰۰میں نے ایک نظر اےسی اور پھر دروازے پر ڈالی۰۰۰۰میرے چہرے پہ مُسکراہٹ آگئی ۰۰۰۰میں نے کروٹ لی اور سونے کی کوششوں میں مصروف ہوگیا۔
(ابنِ آدم)

Advertisements
This entry was posted in بے لوث محبتیں. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s