تنہائی کا دکھ گہرا تھا

اُس نے دونوں ہاتھوں سے منہ دبا کر کھانسی کی آواز دبانےکی ناکام کوشش کی مگر اس کوشش میں اُسکا دم گھُٹنے لگا اور وہ بری طرح ہانپنے لگی۔ساتھ کے کمرے سے بہو ،بیٹے کے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھیں۔اُسکی نظریں سامنے ٹیبل پر رکھے پانی کے گلاس پہ تھیں ،مگر اُٹھنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی ،،،،بدلتے موسم کےیہ دن ہمیشہ اُس جیسے عمر رسیدہ افراد کے لئیےعذاب سے کم نہیں ہوتے۔رات کا دوسرا پہر تھا،،،،کروٹیں بدل بدل کر سونے کی ناکام کوششوں سے اسکا بدن بری طرح دُکھ رہا تھا،،،،اُسکا دل چاہ رہا تھا کہ کوئی اسکے پاؤں کو زور زور سے دبا دے،،،کچھ سکون دے دے ،،،،مگر،،،،
عمر کے آخری لمحات میں تنہائی۰۰۰۰
ایک مسّلمہ حقیقت اور شاید سب کا مقّدر۰۰۰۰
شوہر کی وفات کے بعد وہ جیسے زندگی جی نہیں رہی تھی بلکہ موت کا انتظار کر رہی ہو،،،، کبھی کبھی اُسے ایسا لگتا کہ اُس کے ہونے نہ ہونے سے اس بھری دنیا میں کسی کو کوئی فرق نہ پڑتا ہو۰۰۰۰۰
جیسے اسُکی اپنی اولاد دنیا دکھاوا کر رہی ہو۰۰۰۰فرض نبھانے کی ناکام کوشش کر رہی ہو۰۰۰۰جیسے وہ اپنی بےزاری چُھپانے کی خاطر مُسکرا مُسکرا کر آتے جاتے ” چند لمحے”رک کر اسُکی خیریت معلوم کرتے ہوں۔
اُسے اپنےدونوں بیٹوں اور بہوؤں سے کوئی شکایت نہ تھی۰۰۰۰پابندی سے دو وقت کا کھانا۰۰۰۰دوا دارو اوراسُکی ضروریات کا خیال۰۰۰۰مگر اُنکے پاس اسُکے لئیے ٹائم نہیں تھا۔
سب اپنی اپنی زندگی میں مگن۰۰۰۰۰
کھانسی کا دورہ پھر سے پڑ گیا تھا،اُس نے پھر سے آواز دبانے کی ناکام کوشش شروع کر دی اور بلآخر پانی کا گلاس اُٹھانے میں کامیاب ہو گئی،،،،وہ بری طرح ہلکان ہو رہی تھی ،،،،،اسُکی نظریں وال کلاک پر جم گئیں،،،،ابھی صبح ہونے میں بہت دیر باقی تھی،،،،کمرے میں پھیلا ہو گہرا سکوت،،،،اسُکا دل بھر آیا۔
اس گھر میں کتنی چہل پہل تھی۰۰۰۰ہر طرف شور۰۰۰۰صبح ہوتے ہی کاموں کا انبار۰۰۰۰وہ دن بھر بھاگ بھاگ کر نہ تھکتی تھی۰۰۰۰بچوں کے کام۰۰۰۰شوہر کی فرمائشیں ۰۰۰۰آنے جانے والوں کی ریل پیل۰۰۰۰۰اسُکا گھرانہ خاندان بھر میں پسند کیا جاتا تھا۰۰۰نفیس شوہر،تمیزدار بچے،اور سب سے بڑھ کر وہ خود،،ملنسار اور سلیقہ شعار
ایک زمانہ اسُکا گرویدہ۰۰۰مگر اسُکے پاس فرصت کہاں تھی۰۰۰ان سب باتوں کو انجوائے کرنے کی۰۰۰۰وہ تو ایک مشین کی مانند۰۰۰۰وقت کی چکی میں گھومتی رہی۰۰۰۰گھومتی رہی اور گھومتے گھومتے۰۰۰۰۰ آج۰۰۰۰۰۰
اور اب ہر طرف ہو کا عالم۰۰۰مگر اب آرام کر کر کے وہ بری طرح تھک جاتی تھی۰۰۰۰۰
انسان کی زندگی میں ایک باب۰۰۰۰”بابِ تنہائی” بھی ہے۰۰۰شاید اسُکی زندگی کا مشکل ترین دور۰۰۰۰
انسان اس دنیا میں تنہا آیا ہے اور تنہا چلا جائے گا مگر تنہا زندگی گذارنا ناممکن۰۰۰۰
تنہائی بڑی ظالم شے ہے۰۰۰۰یہ انسان کو کھا جاتی ہے۰۰۰۰اسُکے جذبات کو۰۰۰۰احساسات کو۰۰۰۰اسُکی اُمنگوں کو۰۰۰۰یہاں تک کہ اسُکی زندگی کو۰۰۰۰۰
ہر انسان کی کتابِ زندگی میں اِک” بابِ تنہائی” کو آنا ہے۰۰۰۰جہاں صرف وہ ہوگا اور یادیں۰۰۰۰
اِس بابِ تنہائی میں وہ اپنے گذرے لمحات کو یاد کر کے کبھی خوش ہوگا تو کبھی پچھتاوے کا احساس۔
وہ سوچتی چلی گئی۰۰۰۰۰اسکی أنکھوں سے آنسو بہہ بہہ کر اسُکے جھریوں بھرے چہرے کی جھریوں سے ندی کی طرح راستہ بناتے ہوئے اسکے دوپٹے میں جذب ہوتے رہے۰۰۰۰یہاں تک کہ باہر سے آذان کی آوازیں اس سکوت کا سینہ چاک کرنے لگیں ۰۰۰۰۰۰اللّہ اکبر۰۰۰ اللّہ اکبر۰۰۰۰
بےشک اللّہ ہی سب سے بڑا ہے۰۰۰۰وہ ہی سب کے ساتھ۔
(ابنِ آدم)

Advertisements
This entry was posted in تنہائی کا دکھ گہرا تھا. Bookmark the permalink.

One Response to تنہائی کا دکھ گہرا تھا

  1. Anonymous says:

    Heart touching….

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s