A long drive

اب اُٹھ بھی جائیے،،،بیگم نے تیسری بار کمرے میں آکر کہا۰۰۰۰چھٹی کا دن تھا اور ہمیشہ کی طرح ہم دونوں اپنے اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے تھے۰۰۰میری کوشش ہوتی کہ چھٹی کا دن گھر میں آرام و سکون سے گذارا جائے اور بیگم کی کوشش کہ آؤٹنگ کی جائے۰۰۰آج پھر اسی بات پر اپنی اپنی جدوجہد۰۰۰کبھی وہ جیت جاتی پر اکثر میں ہار جاتا۰۰۰۰
اس سے پہلے کہ مطلع مزید ابر آلود ہوتا میں نے اُٹھنے میں عافیت جانی،،،آج لانگ ڈرائیو کا موڈ تھا۰۰۰۰میرا نہیں اُسکا۔
گاڑی باہر نکال کر مجھے احساس ہوا کہ آج گھر سے نہ نکلتا تو بہت کچھ مِس کر جاتا۔سردیوں کی آمد آمد تھی اور شام کے اس پہر اِک میٹھی میٹھی نمی فضا کو معطر کر رہی تھی ۰۰۰۰ہلکی ہلکی خنک سی ہوا،خوامخواہ آپکو گنگنانے پر مجبور کر رہی تھی ۰۰۰میں نے گاڑی کا اے سی آف کر کے ونڈوگلاس نیچے کر دئیے۔میں اس حسین فضا کو بھرپور انجوائے کرنا چاہتا تھا۰۰۰مجھ پر چھائی سستی شاید کمرے کے بیڈ پر ہی وہ گئی تھی۔میں نے گاڑی کا ٹیپ آن کرلیا اور ہم دونوں دھیمی دھیمی میوزک سے لطف اندوز ہوتے ہوئے خنک ہوا کو اپنے سینے میں سمونے کی کوشش کرنے لگے۔
سڑکوں پر حسبِ معمول رش تھا،مین روڈ پر آتے ہی میرا موڈ چینچ ہونے لگا،،وہی افراتفری، بے قاعدگی اور بے ہنگم ٹریفک،،اللّہ کی پناہ ۰۰۰۰۰۰
گاڑی کا چلانا مشکل ہو رہا تھا اور مجھ پر جھنجھلاہٹ سوار ہونے لگی۔میری کوشش تھی کہ جلد از جلد ٹریفک کے اژدھام سے نکل کر مضافاتی علاقے میں پہنچا جائے تاکہ سکون کے ساتھ ڈرائیو اور موسم کو انجائے کیا جاسکے۔
اچانک سامنے والی گاڑی نے بریک لگائے اور میں کوشش کے باوجود اپنی گاڑی کو نہ روک سکا اور وہ آگے والی گاڑی کے بمپر سے ٹکرا گئی۔
آگے گاڑی سے ایک صاحب بہت غصے میں باہر آئے اور پہلے تو انہوں نے اپنی گاڑی کا جائزہ لیا اور پھر نہایت بدتمیزی سے انہوں نے مجھے گاڑی سے باہر آنے کا اشارہ کیا۔اُنکے اس انداز سے میں کھول اُٹھا،ابھی میں نکلنے ہی لگا تھا کہ میری مسزز نے میرا ہاتھ تھام لیا”ذرا آرام سے بات کیجئے گا”
میں نے اسُکی اُڑی ہوئی رنگت پر نظر ڈالی اور مُسکرا دیا۔
“اسلام و علیکم”،میں نے گاڑی سے نکلتے ہی اُن صاحب کو سلام کیا،،جسکا خاطر خواہ اثر ہوااور انہوں نے بادل نہ خواہستہ جواب دیا،،،اُنکی گاڑی کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تھا،میں نے معذرت کی اور انکو اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا”جو بھی اخراجات ہونگے ، میں ادا کروں گا”۔میرے اس طرزِ عمل سے انکا غصہ کسی حد تک رفوچکو ہو چکا تھا۰۰۰وہ بھی مُسکراتے ہوئے بولے”نہیں جناب،ایسا کوئی خاص خرچہ نہیں ،،اس افراتفری میں ہوجاتا ہے”اور معاملہ افہام و تفہیم سے رفع دفع ہوگیا۔
میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور مُسکراتے ہوئے بیگم کو دیکھا۔
“تم نے بروقت مجھے ٹھنڈاکردیا ورنہ اُن صاحب کا انداز”
وہ مُسکراتے ہوئے بولی۔
“دو میٹھے بول اور ذرا سی برداشت،،،بہت سارے مسائل کا حل ہے۔
برائی کا جواب برائی سے دینا۔
اینٹ کے جواب میں پتھر کھینچ مارناسب سے آسان کام۔
دنیا کے اکثر لوگ یہی تو کرتے ہیں بلکہ پتھر کے جواب میں اینٹ مارنے کو فخر سمجھتے ہیں اور یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ۔
غصہ ہمارے مزاجوں میں شامل ہو گیا ہے ۔کیا یہی ہےہمارے دین کی تعلیمات؟
انسان کو محبت کی مٹی سے بنایا گیا ہے اور محبت اس پر اثر کرتی ہے،،،دیر سے کرے مگر کرتی ضرور ہے۔
ہمیں محبتیں بانٹتیے رہنا چاہئے۰۰۰پانی کا ایک قطرہ اگر مسلسل سخت ترین پتھر پر بھی گرتا رہے تواس پر بھی اثرات اور انمٹ نشانات چھوڑ جاتا ہے۔
سمندر کی ایک نرم سی دستکِ مسلسل بلند و بالا چٹانوں پر اثرانداز ہوتی ہےاور اسکی جہدِ مسلسل کے نتیجے میں سخت سے سخت چٹان بھی سمندر کو اپنے وجود میں شگاف کرکے رستہ دینے پر مجبور ہوجاتی ہے۔”
وہ مسلسل بولے جا رہی تھی،،میں نے آہستہ سے ٹیپ بند کردیا۔
“باتیں اثر کرتیں ہیں ،،بشرطِ کہ صدقِ دل اور یقین کامل سے کی جائیں ۔اپنا ۱۰۰% دیتے جاؤ،بنا لالچ بنا کسی بدلے کے۔باقی اللّہ پر چھوڑ دو ،کوئی شک نہیں تم ایک نہ ایک دن تم کامیاب ہوگے”
اُسکی آنکھوں میں ایمان و یقین کی چمک تھی۔
میرا موڈ پھر سے رومینٹک ہونے لگا۔”میرے خیال میں باقی بھاشن گھر جا کر دے دینا۔”میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ جیسے کسی خواب سی جاگی،چونک کر مجھے دیکھا اور اسُکی شرمندہ سی ہنسی میرے دل کو معطر کر گئی۔
(ابنِ آدم)

Advertisements
This entry was posted in A long drive. Bookmark the permalink.

One Response to A long drive

  1. Anonymous says:

    Nice one with good lesson….

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s