ایک شام،ایک سوچ اور میں

میں نے کلائی پہ بندھی گھڑی پر نظر ڈالی۰۰۰مجھے واقعی گھبراہٹ ہونے لگی۰۰۰میں فلائٹ تقریباًمِس کر چکا تھا۰۰۰۰
میں ایک مختصر سے آفیشل ٹور کے بعد گھر کی طرف رواں دواں تھااور دوبئی کے مصروف ترین انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے میری پاکستان کےلئے کنیکٹنگ فلائٹ تھی۰ مجھے معلوم تھا کہ بورڈنگ کارڈ رکھنے کے باوجود فلائٹ کسی کے لئے لیٹ نہیں ہوتی ۔میں تیز تیز قدموں کے ساتھ تقریباً اپنے مطلوبہ گیٹ کی طرف دوڑ رہا تھا۔میرے داہنے کندھے پہ لیپ ٹاپ بیگ جھول رہا تھا اور بائیں ہاتھ سے پکڑا ہینڈ کیری کسی برق رفتار گاڑی کی طرح میری اسپیڈ کا ساتھ دینے پر مجبور تھا،اسکے وہیل ایئر پورٹ کے شفاف ماربل پر رگڑ کھا کر ایک بےتکا سا شور پیدا کر رہے تھے جو اس مصروف ترین ایئرپورٹ کےہنگامے میں کہیں گم ہورہا تھا۔میرا مطلوبہ گیٹ دوسرے سرے پر واقع تھا اور مجھے ایک لمبا فاصلہ طے کرنا تھا۔
بالآخر میں اپنے مطلوبہ گیٹ کاوئنٹر تک پہنچ گیا۔میں نے اپنی پھولی ہوئی سانسوں کو سنبھالتے ہوئےکاؤنٹر پر موجود خاتون سے امید بھرے لہجے میں اپنی فلائٹ کے متعلق دریافت کیا۔ خاتون نے ایک رسمی مسکراہٹ میرے پسینے سے شرابور چہرے پر ڈالی اور پیشہ ورانہ نرمی کے ساتھ مجھےمطلع کیا کہ میں اپنی فلائٹ مِس کر چکا ہوں اور مجھے اب دوسری فلائٹ سے تقریباً چھ گھنٹے بعد روانہ ہونا ہوگا۔
میں نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر اسکا مُسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور بادل ناخواہستہ آگے بڑھ گیا۔
قریب ہی موجود بالکونی نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کر لی اور میں ٹشو پیپر سے چہرہ صاف کرتے ہوئےبالکونی میں آ کھڑا ہوا۔
نیچے دوبئ کا مصروف ترین ایئر پورٹ میری نظروں کے سامنے تھا۔ ہر طرف اک بھاگ دوڑ۰۰۰ہر شخص اپنی دھن میں مگن۰۰۰۰۰۰اپنے آپ میں مست۰۰۰۰اپنی اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں۰۰۰۰ایک دوسرے کو ہٹاتےہوئے۰۰۰۰جلدی میں ایک دوسرے کو گراتے۰۰۰اُن سے آگے نکلنے کے چکر میں ۰۰۰انُکو سائیڈ پر کرتے لوگ۰۰۰۰۰
یہ اس ایئر پورٹ کی ہی نہیں دنیا کی بھی کیفیت ۰۰۰
ایک دوڑِ مسلسل۰۰۰۰
ایک دوسرےسے آگے نکل جانےکی ازلی خواہش۰۰۰۰
ایک دوسرے کو مات دینے کی چاہ ۰۰۰۰
سب کچھ پا لینےکی ھوس اورسب کچھ حاصل کرنے کی تمنا۔
“مگر”اس ایئرپورٹ اور دنیا میں صرف ایک بنیادی فرق تھا،یہاں لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ کہاں سے آئےہیں،،،کہاں اور کیوں جا رہے ہیں۔لیکن دنیا کے عام انسان مقصدِ حیات سے لاعلم۰۰۰۰
کہاں سے آیا؟؟؟
کیوں بھیجا گیا؟؟؟
اور واپس لوٹ کر کہاں جانا ہے؟؟؟؟
کچھ خبر نہیں؟
کیا کبھی ہم نے اپنے وجود کی آگہی کی کوشش کی؟؟؟
کیا ہم نے سوچا کہ اس مختصر سی حیات میں کیا کرنے کا وعدہ لے کر ہمیں یہاں بھیجا گیا۰۰۰۰ہمیں واپس جا کر جواب دینا ہوگا۰۰۰۰اپنے کئے پر “جزا”اور”سزا”
مجھے اپنے گذرے وقت پہ افسوس ہونے لگا۰۰۰۰ہم میں سے بیشتر افراد زندگی کے انمول لمحات کو صرف گذارنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔
ایک مست سی کیفیت ،،،،اپنے آپ میں سرشار
زندگی بے مقصد گذارنے میں مشغول ،،،صرف کھانا پینا،سونا اورتفریح۔
یہی انسان کی کُل کائنات اور اسکا حاصلِ زندگی
سفرِ آخرت پہ لے جانے والا ہینڈ کیری خالی۰۰۰۰
میری نظر اپنے سائیڈ پر رکھے ہینڈ کیری پر پڑی۔
میں نے ایک گہرا سانس لیا اور ایک نئے عزم سےچل پڑا۔
(ابنِ آدم)

Advertisements
This entry was posted in ایک شام،ایک سوچ اور میں. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s