خالی کشکوم

بہت دیرسے میں ،اُس پارک میں درخت سے ٹیک لگائےاسکےسائےکو بڑھتےدیکھ رہا تھا۔
میرے دیکھتے ہی دیکھتے سورج لمبی مُسافت طے کرکےتیزی کےساتھ غروب ہونے کو بےتاب تھا۔پرندے دن بھر کی تگ و دو کے بعداپنے اپنے گھونسلوں کی طرف رواں دواں تھے۔
صبح سے شام اور شام سے صبح۰۰۰
دن کسی تیز رفتار ٹرین کے ڈبوں کی مانند،اِک جھلک دیکھا کر اوجھل ہوتے جاتے ہیں ،،جیسے ٹوٹی مالا کے موتی۰۰۰ایک ایک کر کے گرتے جاتے ہوں اور بالآخر ٹرین نے گذر جانا اور مالا نے فنا ہو جانا ہے۔
اور ہم انسان ہر کام اور عمل کل پر ٹالنے کی عادت کا شکار۰۰۰۰
ذرا سی مشقت اور پریشانی اُٹھانے کو تیار نہیں ،،،روز ایک نئی پلاننگ۰۰۰۰۰۰مگر عمل؟؟؟؟
اپنی صحت سے لا پرواہ۰۰۰۰شایداُس دن کے انتظار میں جب بیماری ہمیں اپنے شکنجے میں آ جکڑے۰۰۰۰
عبادت کے لئے بھی آخری عمر کےانتظار میں ۰۰۰۰۰۰۰۰
پھر دنیا سے خالی ہاتھ۰۰۰۰۰۰
خالی کشکول لئے ہی چلا جاتا ہے۰۰۰۰۰۰

Advertisements
This entry was posted in خالی کشکول. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s