سفرِ رائیگاں

تالیوں کی تیز آواز میری سماعت پہ ہتھوڑوں کی طرح برس رہی تھی,مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سب لوگ مجھ پہ قہقہے لگا رہے ہوں، میں آنکھوں میں نمی لئیے،اپنے ساتھیوں کی پذیرائی بھری گفتگو سُن رہا تھا مگر سمجھنے سے قاصر تھا۔ یہ سب ایک خواب کی مانند لگ رہا تھا،مجھے یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ آج میرا آفس میں آخری دن ہےاور مجھے یہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے رخصت کیا جا رہا ہے۔
عمرِ عزیز کے پینتیس سے زائد برس گذارنے کے بعد آج ریٹائرڈ ہو رہا تھا،میری سروس ایکسٹینشن کی درخواست مسترد ہو گئی تھی اور مجھے بتایا جا رہا تھا کہ آپ نے تمام زندگی بہت محنت اور ایمانداری سے کام کیا

………Weldone……

مگر اب آپ کام کے قابل نہیں لہٰذا

…..you may go now……
بامشکل تمام میں نے آنکھ میں بھرے آنسوؤں کو گرنے سے بچا رکھا تھا۔
بوجھل قدموں اور ڈوبتے دل کے ساتھ میں دونوں ہاتھوں میں تحفے اور تعریفی اسناد تھامے آفس کے زینے سے نیچے اُتر رہا تھا۔
مجھے پینتیس برس پہلے کا زمانہ یاد آرہا تھا ، جیسے کل کی بات ہو۰۰۰۰میں ایک بھرپور نوجوان۰۰۰۰دو چار جست میں زینہ طے۰۰۰۰منٹ میں اوُپر اور اگلے منٹ نیچے۰۰۰۰مگر
آج یہی زینہ برسوں کی مُسافت معلوم ہو رہا تھا۔
کیا کھویا۰۰۰؟
کیا پایا۰۰۰؟
ایک چھوٹا سا گھر۰۰۰بچے تعلیم پا گئے۰۰۰۰اپنے اپنے کاموں میں مگن۰۰۰۰۰اللّہ نے عزت سے گذار دی۰۰۰۰میری چھوٹی سی فیملی۰۰۰۰۰
میری بیوی۰۰۰۰مجھے اُسکے شکوے یاد آرہے تھے
۰۰۰۰۰۰کبھی تو جلدی گھر آجایا کریں
۰۰۰۰۰ارے اپنی صحت کی فکر ہے آپکو
بچے آپکو یاد کرتے کرتے آج بھی سو گئے
اُسکے فون۰۰۰۰حالات خراب ہیں ،،،دیکھ بھال کر آئیے گا،،،،مجھے فکر ہو رہی ہے
آج جلدی آجائیں،،،،بہت اچھا موسم ہے،،،،،اِس ویک اینڈ پر کہیں چلتے ہیں مزہ آئے گا
مگر ۰۰۰۰میں کمپنی کا وفادار۰۰۰۰اپنی کام میں مگن۰۰۰۰ایک ذمہ دار فرد۰۰۰۰کام کا بوجھ۰۰۰۰روز ایک نئی جنگ۰۰۰۰روز ارجنٹ کام
سوری آج مشکل ہے ، نہیں آپاؤں گا۰۰۰۰چلیں گے کبھی فرصت سے۰۰۰۰
مگر ۰۰۰۰وہ فرصت کے لمحات کبھی نہیں آئے۰۰۰
اور آج کے بعد فرصت ہی فرصت ۰۰۰۰
میرے قدم ڈگمگا گئے۰۰۰۰میں نے ریلنگ کا سہارا لیا اور بامشکل تمام خود کو گرنے سے بچایا۰۰۰۰
وقت بھی بہت ظالم ہے۰۰۰۰اب نہ جسم میں جان رہی
اور نہ دل میں اُمنگ۰۰۰۰
مجھے بچوں کی باتیں یاد آنے لگیں ۰۰۰۰۰
پاپا، آپ نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟؟؟؟
کیا کیا ہے ہمارے لئیے؟؟؟؟
آپکو بس اپنی جاب سے پیار ہے۰۰۰میرا دل بھر آیا۔
تمام عمر دوسروں کو اچھی زندگی دینے کی جد و جہد میں،،،کیا ہارا؟۰۰۰۰کیا جیتا؟
کہاں کہاں غلط کیا؟؟؟کیا صحیح تھا؟؟
میں اب بھی سمجھنے سے قاصر تھا۰۰۰
شاید اپنی زندگی اور جوانی لُٹانے کے باوجود بھی کچھ حاصل نہ کر پایا۰۰۰
آج بھی خالی ہاتھ۰۰۰۰۰
بہت دیر سے روکے ہوئے آنسو میرے چہرے کی جھریوں سے ہوتے ہوئے۰۰۰۰آفس کی آخری سیڑھی پر گر کر کہیں گُم ہوگئے۔
(ابنِ آدم)

Advertisements
This entry was posted in سفرِ رائیگاں. Bookmark the permalink.

One Response to سفرِ رائیگاں

  1. Anonymous says:

    Very Touchy and true.

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s