اُڑے جاتے ہیں لمحے زندگی کے۰۰۰۰

کہیں خوشی،کہیں غم،،یہ دنیا کا دستور ہے۰کوئی شادیانے بجا رہا ہوتا ہے توکوئی آنسو چُھپا رہا ہوتا ہے۔زمانے کے چکر میں کوئی پہیے کے اوپر خوشی سے نہال ہو رہا ہوتا ہے اور کوئی اِسی پہیے کے نیچے دبا زندگی کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔
میرے کانوں میں دھماکوں کی آوازیں گونج رہیں تھیں۔سال کا آخری سورج غروب ہورہا تھا اور کچھ منچلے خوشیاں منانے میں مصروف تھے۔میں ساحلِ سمندر پہ بیٹھا ،لوگوں کو سال کے آخری “ڈوبتے سورج” کے ساتھ سیلفیاں بناتا دیکھ رہا تھا۰ہر ایک شخص مسرور نظر آرہا تھا۔وہ اس نارنجی روشنی میں نہائے منظر کو اپنے سیل فون کے کیمروں میں مقّید کرنا چاہتے تھے۰ایک خلقت تھی جو ساحلِ سمندر پر اُمڈ آئی تھی۔
میں ایک ٹوٹے ہوئے ہٹ کی آخری دیوار سے ٹکِا ڈوبتے سورج کے کرب کو محسوس کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۰۰۰۰اپنے آس پاس سے بیگانہ۰۰۰۰اک اداسی کا احساس جو کسی اپنے کو رخصت کرکے ہوتا ہے۔میں سوچ رہا تھا کہ آج کے بعد میں اپنی زندگی میں اس سورج کو پھر نہیں دیکھ پاؤں گا،اور بہت سے سورج ہونگے،،،،روشن ،،،شاداب مگر ۲۰۱۷ کا یہ آخری سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے کائنات کی وسعتوں میں کھونے جا رہا تھا۔
زندگی کا ایک اور سال تمام ہوا۰۰۰۰کیا کھویا۰۰۰کیا پایا؟ عمرِ عزیز کے زینے کا ایک اور اسٹیپ طے ہوگیا،ایک قدم اور آگے فنا کی جانب۰۰۰۰۰کتنے اسٹیپ باقی ہیں؟
کب آخری اسٹیپ آجائے،کس کو پتہ؟
میں نے سوچوں میں گُم ہو کر ریت اپنی مٹھی میں بند کی،مگر اُسے گرفت کرنے سے قاصر تھا۰۰۰زندگی بھی بند مٹھی کی ریت کی طرح ہمارے ہاتھوں سے پھسلتی جاتی ہے۰۰۰۰ایک سفر ہے جو جاری و ساری رہنا ہے،ابھی تو بہت کام ہیں جو کرنے ہیں۰۰۰۰۰
کیا ہم سفرِ آخرت کے لئیے تیار ہیں؟”نہیں” ہم میں سے کوئی بھی تیار نہیں۰۰۰اور نہ ہی جانا چاہتا ہے۔ہم کسی کو جب جاتا دیکھتے ہیں تو لگتا ہے بس اسی کو جانا تھا،،،،،،، اور ہمیں؟؟؟؟؟؟
سورج کی نارنجی روشنی،سیاہی میں تبدیل ہو چکی تھی،آس پاس کے لوگ اسکے دکھ سے بے خبر اپنی موج و مستی منا کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر جانےکی تیاری کر رہے تھے۔میں بوجھل قدموں سے چلتا ہوا سمندر کی لہروں میں آن کھڑا ہوا،،،سمندر کی ٹھنڈک میرے پیروں سے ہوتی ہوئی میرے وجود کو ایک نئی لگن بخشنے لگی۰۰۰۰میں نے آنکھیں بند کر لیں اور آنے والی صبح کے تصور میں گُم ہوگیا۰۰۰۰۰
اک نئی صبح،،،،،اک نئی اُمید
(ابنِ آدم)

Advertisements
This entry was posted in اُڑے جاتے ہیں لمحے زندگی کے. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s