پانی

               میں نے ہتھیلی کی مدد سے اپنی پیشانی پر موجود پسینے کو صاف کیا،،ایک نظر آسمان کی طرف ڈالی اور پھر سے چل پڑا-پچھلے کئی دنوں سے موسم کے تیور غضبناک تھے-آسمان سے جیسے آگ برس رہی ہو،ہر ذی روح بلبلا رہا تھا اور ہلکان ہوئے جا رہا تھا۔لوگ اپنے اپنے گھروں میں مقیّد ہو کر رہ گئے تھے۔

مجھے جون کی اس چلچلاتی دوپہر میں ایک ضروری کام سے نکلنا پڑا تھا،،،پچھلے کئی گھنٹوں سے میں اس تپتی دوپہر میں سورج کے رحم وکرم پہ تھا۔میرا حلق خشک ہو رہا تھا،،،میں نے پانی کی تلاش میں نظریں دوڑائیں،،،دور ایک درخت تلے بنا ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ مجھے صحرا میں نخلستان لگا۔میں تیز قدموں سے اسکی طرف چل پڑا۔

ہاتھ میں منرل واٹر کی بوتل تھامے،میں درخت کے سائے تلے پڑی لکڑی کی ایک بینچ پر آن بیٹھا۰۰۰۰۰۰

پانی کا پہلا گھونٹ جیسے آبِ حیات تھا،،،،ایک سرور کی سی لہر میرے سارے وجود کو جِلا بخش گئی۔

“تم پانی کی طرح ہو”

مجھے کوئی یاد آگیا۰۰۰

وہ ہمیشہ مجھ سے کہتی تھی کہ “ تم میری زندگی میں پانی کی طرح ہو”

میں پوچھتا کیسے؟

تو وہ ہنس کر ٹال دیتی تھی

ایک دن میں ضد پر اڑ گیا کہ بتاؤ؟؟؟؟؟

میری سماعت میں آج تک اس کے پُر اثر لہجے میں کہے لازوال الفاظ گونج رہے ہیں،،،،،ایک انمول لمحہ۰۰۰۰۰۰۰۰

وہ اپنی گہری سیاہ آنکھیں میرے چہرے پہ جمائے بولی

“ہم پانی سے کبھی نہیں اُکتاتے،ایک ہی ذائقہ ہونے کے باوجود ،ہمیشہ ہمارے بدن کو اک نیا سرور،اک نئی جِلا بخشتا ہے،ہم پانی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔

پانی ہماری زندگی کی ضمانت،،،شاید قدرت کی چند بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت،،،،ایک انمول شے،،،،جسکی ضرورت زندگی کے پہلے پل سے آخری پل تک کبھی کم نہیں ہوتی۰۰۰۰۰”

میں ایک ٹک اُسے دیکھ رہا تھا۰۰۰۰

“تم بھی میری زندگی میں پانی کی مانند ہو،،،،تمہارا ساتھ مجھے زندگی کے آخری پل تک چاہئیے،،،،تم میری زندگی ہو،،،،تمہارے ساتھ گذارا ہر اک پل میری زندگی کو ایک نئی جِلا بخشتا ہے،ہر بار زندگی کے ایک نئے احساس سے ہمکنار کرتا ہے،،بےشک تمُ میرے لئیے قدرت کی ایک انمول نعمت ہو۔”

میں پلک جھپکائے بغیر،،، مبہوت سا اُسے ایک ٹک دیکھے جا رہا تھا،،،،مجھے اُس کے چہرے پہ چھائی سچائی اور جذبوں کے رنگ صاف دکھائی دے رہے تھے۰۰۰۰۰۰

میں سمجھ سکتا تھا،محسوس کر سکتا تھا،،،،میں جان گیا تھا کہ میں اسکے لئیے آبِ حیات کی مانند تھا،،،،،

پانی کی طرح،،،،،

ایک عجیب سا احساسِ وابستگی،،،،،ایک عجیب سی سرشاری

کچھ پا لینے کی خوشی،،،،،کسی کا ہو جانے کی تمنا

جذبے تھے کہ اُمڈ اُمڈ کر آ رہے تھے،،،،ایک احساسات کی بارش،،،جس میں میرا سارا وجود تتر بتر ہو رہا تھا،،،،جیسے بارش کا پانی،،،،،،،،

روڈ پر گذرتی گاڑی کے تیز ہارن کی آواز مجھے واپس اُسی تپتی دوپہر میں لے آئی،،،،میں نے بوتل میں موجود پانی کا آخری گھونٹ اپنے حلق میں انڈیلا،،،،اپنی نم ہوتی ہوئی آنکھ کو صاف کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

 

This entry was posted in پانی. Bookmark the permalink.

1 Response to پانی

  1. Anonymous says:

    Wonderful love to read it.it expresses whatever we feel when we miss someone who is most wanted in life

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s