اُداسیوں کے رنگ

       ڈھلتی جنوری کی اس سرد صبح میں بارش کے بعد جیسے موسم میں اک سحر سا پھونک دیا گیا تھا،ہر طرف اک لطیف سی خنکی جیسے کسی نے کاندھوں پر برف کے گالے رکھ دئیے ہوں۔ہر سو اک دلفریب سی مہک،جو لوگوں کے موڈ کو خوشگوار کئیے جا رہی تھی-

جیسا موڈ ہو ایسا ہی منظر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

       میں قدرت کے ان تمام حسین نظاروں ،دلفریب موسم اور خوشگوار مہک سے بے نیاز پچھلے پندرہ بیس منٹ سے شہر کے اس مصروف ہسپتال کی پارکنگ میں گاڑی پارک کرنے کی ناکام جد و جہد میں مصروف تھا-بڑھتی ہوئی آبادی اور ناقص منصوبہ بندی ،،،،،شہر میں ہر طرف مسائل کے انبار تھے-

بالآخر کافی کوششوں کے بعد پارکنگ مل گئی اور میں لمبے لمبے ڈگ پھرتا اُس وارڈ کی جانب گامزن تھا جہاں میں کسی عزیز کی عیادت کو آیا تھا۔

وارڈ میں ہر طرف میڈیسن کی مہک،متفکر چہرے،اداس آنکھیں اور بوجھل فضا  نے یہاں کا ماحول یکسر مختلف بنا دیا تھا۔میں سر جھکائے اپنے عزیز کی والدہ کے تاثرات سن رہا تھا اور اپنی کھوکھلی آواز میں ساتھ ساتھ تسلیاں دینے کی اپنی سی تگ و دو میں مصروف تھا۔میں اُن سے نظر چُرا رہا تھا،میں اُن آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا،جہاں دنیا جہان کا دکھ جیسے سمٹ آیا ہو،،،اتنا غم،،،،اتنی بے بسی۰۰۰۰۰۰

       بعض اوقات انسان کتنا بےبس،کتنا لاچار،،،،کہ نا چاہتے ہوئے بھی کسی کے لئے کچھ نہ کر پائے،،،،ہمارا دل چاہتا ہے کہ کاش ہمارے پاس کوئی ایسی طاقت،کوئی ایسا جادو ہوتا،ہم کچھ کرشمہ ساز ہوتے کہ پل بھر میں جہاں بھر کو رنج و الم،دکھوں سے نجات دلا سکتے-ہم چاہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ان غموں کے سمندر سے نکال سکیں،اُداسی کو خوشی میں بدلنے کا ہنر جان سکیں،،،،ہم انکی آنکھوں میں چھپے ان گنت سوالوں کا جواب دے سکیں،،،،اُن کے غموں کا مداوا کرسکیں،،،اے کاش کچھ کر سکیں۰۰۰۰۰۰کچھ تو۰۰۰۰۰۰!

           کم از کم ہم انہیں بتا سکیں کہ ہم انُکے دکھ دردمیں شریک ہیں،،ہم وہ الفاظ ادا کر سکیں جوکسی کے غم کا مرہم ہوں۔ کسی کے چہرے پہ مُسکراہٹ کا سبب۰۰۰۰

مگر شاید دکھ نہ ہوتے تو خوشی کا وجود بھی نہ ہوتا،،،،اللّہ کا کوئی بھی کام مصلحت سے خالی نہیں،،،،کبھی تو دکھ دے کر امتحان،،،تو کبھی خوشی دے کر آزماتا ہے،،،فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری ناقص عقل اسکی مصلحت کو سمجھنے سے قاصر۰۰۰۰۰۰

      بس یہاں آکر انسان کو اپنی اوقات کا پتہ،،،،وہ کتنا حقیر،،،،کتنا مجبور،،،،

تب وہ وقت اُسے اپنے خالق حقیقی سے اور قریب کر دیتا ہے،،،وہ جان جاتا ہے کہ زندگی کتنی حقیر اور وہ کتنا بے اختیار۰۰۰۰اُسکو بس ایک ہی آسرا،،،دعا۰۰۰دعا اور دعا۰۰۰۰۰۰۰

دل سے پُکارو 

اور گڑگڑاؤ تو۰۰۰۰۰

یقینِ کامل۰۰۰۰۰۰

ایک بس پُکار۰۰۰۰۰

ایک آنسو و ندامت۰۰۰۰۰

بس بیڑا پار۰۰۰۰۰۰۰۰

ایک لمحے میں کایا پلٹ جاتی ہے۰۰۰۰

منٹوں میں منظر بدل جاتا ہے۰۰۰۰۰

بےشک وہ ہر اک شے پہ قادر ہے۰۰۰۰۰۰

قریب سے آتی سسکیوں کی آواز ،،،مجھے خیالات کی دنیا سے باہر لے آئی،،،نزدیکی بیڈ کے کنارے کو پکڑے اک خاتون زار و قطار سسک رہی تھی،،،بلک رہی تھی،،،آس پاس کا اسٹاف انہیں سنبھالنے کی کوششوں میں مصروف۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

ماحول پر اک سوگوار سی چادر آن گری تھی۔ہر آنکھ پُرنم اور ہر دل بوجھل۰۰۰۰۰۰

میں خالی ذہن کے ساتھ بیٹھا اُن کے دکھ کو محسوس کر رہا تھا۔کچھ دیر بعد وہ پلٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے باہر نکل گئیں-وارڈ کا ماحول انتہائی دل سوز ہو چکا تھا۔ان خاتون کا جواں سالہ بیٹا پچھلے ہفتے اس بیڈ پہ زندگی کی جنگ ہار چکا تھا،،،آج جب وہ معاملات مکمل کرنے آئیں تو بے اختیار اس طرف کھنچی چلی آئیں اور اپنے لختِ جگرکے آخری لمحات کا کرب یاد کر کے آبدیدہ ہوگئیں،،،،،،وہ بیڈ کے کناروں پہ ہاتھ پھیر پھیر کر اُس کے لمس کو محسوس کر رہی تھیں،،،،اک اک چیز سے اسکی یاد کو تازہ کر رہی تھیں۰۰۰۰۰۰۰

اُس ماں کے کرب کو محسوس کرنا میرے بس کی بات نہ تھی،،،مگر پھر بھی میرا وجود پارہ پارہ ہوئے جا رہا تھا،،،،دل تھا کہ ڈوب ساگیا تھا۔ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہو،،،،،کچھ بھی نہ بچا ہو۰۰۰۰۰۰وارڈ کی فضا اچانک ایک ہلکے سے قہقہے سے معطر ہوگئی،میڈیکل کے اسٹوڈنٹ کا گروپ تمام اداسی اور سوگوارفضا سے بے نیاز ،پیشہ ورانہ مسکراہٹ لئیے اندر داخل ہورہا تھا۔

میں اُنکی آنکھوں میں سجے امید کے روشن دئیے اور مستقبل کے خواب دیکھ سکتا تھا۔

بےشک الّلہ پہ بھروسہ اور اُمید،،،یہی وہ عمل ہیں جن پہ دنیا قائم ہے ورنہ یہاں اتنے غم کہ کوئی مُسکرا ہی نہ سکے۔

میرے دل میں یقینِ کامل اُتر آیا،،،اسکی قدرت سے اچھے کی اُمیداور میں اپنے غموں کو بھول کر مُسکرا دیا۰۰۰

آج موسم بہت اچھا ہے،ایک چائے نہ ہو جائے،،،میں نے اپنے عزیز سے مُسکرا کر کہا،،،،اُسے معلوم تھا کہ ابھی وہ باہر جانے سے قاصر  ہے،،،مگر وہ ہنس دیا،،،،

یس وائے ناٹ۰۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

Advertisements
This entry was posted in اُداسیوں کے رنگ. Bookmark the permalink.

2 Responses to اُداسیوں کے رنگ

  1. Zehra says:

    Reality of life…kahein khushi, kahein gham..zindagi chalti rehti hy…once again nice post…

    Like

  2. Anonymous says:

    Yeh zindagi hy nice selection of words.mger kbhi ESA bhi hota hy k kch log jo hmary ghmo ko bhulany mai hamara sath dety hn Jenny ki wajah dety hn wo log damin churra kr jb chly jaty hn tw zindagi us sy bhi ziada worst ho jati hy bs phr dukh ..gehra ghm…Santa…afsos

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s