جدائی

        خاموشی اکثر کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے۔ ہم دونوں بڑی دیر سےخاموش پارک کی اس بنچ پر بیٹھے ایک دوسرےسے نظریں چُرائے اپنے اپنے خیالوں میں گُم تھے۔میں اُس کے اس طرح بلانے پر ایک عجب خوف اور وسوسے کا شکار تھا۔

وہ بہت دیر سے خاموش تھی،،جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہو،،بہت بڑی بات!میں بھی اندر سےڈرا ہوا تھا،،،پوچھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا،،

“اب ہم کبھی نہیں ملیں گے”اس نے خاموشی توڑی،،،گویا ہزاروں من کا پہاڑ مجھ پر آ گرا،،میرا ڈر سچ ثابت ہوا،،میرا وجود مجھے گہرائیوں میں گرتا محسوس ہوا،،ریزہ ریزہ،،،،

اُس نے نم آنکھوں سے میرے دھواں دھواں چہرے پہ ایک آخری نظر ڈالی،میرے لاتعداد ان کہے سوالوں کے جواب اُسکے چہرے اور آنکھوں میں چھپی بےبسی اور کرب میں پنہا تھے۔

            وہ آہستگی سے مڑی اور پارک کے دروازے کی طرف دھیرے دھیرےچل پڑی،،بنا مجھ سے نظر ملائے،،میں اسکو دیکھتا رہ گیا،،اک ٹک،،،

یہ جداہونے کے لمحات بڑے ظالم ہوتے ہیں شاید جدائی سے بھی زیادہ،،اسکا سارا وجود اسکو روکنے پر مضر،مگر قدم آگے بڑھنے پر مجبور،،،اُسےمحسوس ہو رہا تھا کہ اسکے قدموں کے نیچے نرم گھاس نہیں انگارے ہوں،،،جیسے سارا راستہ کانٹے بچھے ہوں،،چھوٹا سا راستہ،،،میلوں کا سفر لگ رہا تھا،،وہ چاہنے کے باوجود،،پیچھے مڑ کےنہیں دیکھنا چاہتی تھی،،اُسے معلوم تھا اگر اُس نے مُڑ کر دیکھا تو”پتھر”ہو جائے گی،کبھی نہ جا پائے گی۰۰۰۰۰۰۰

               “محبت” بڑی عجیب شےہے،اس کو دیکھنے کے لئےآنکھیں لازمی نہیں ،،دل کی آنکھوں کا ہونا ضروری ہے،،،”بصارت” نہیں “بصیرت” چاہئیے،،،بعض اوقات ہم محبت کو دیکھ نہیں پاتے،،سمجھ نہیں پاتے،،،جب میّسر ہو تو اہمیت کا احساس تک نہیں ہوتا،،،مگر جب ہم سے دور ہو جائے،،روٹھ جائے ،چھن جائے اور چھین لی جائے تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نےکیا کچھ کھو دیا۔

آنے والا ایک ایک لمحہ ایک ایک پل ہمیں یادوں کے اتھاہ سمندر کی تہہ میں اُ تارتا چلاجاتا ہے،،،،

محبت اپنے ساتھ ہمارا سب کچھ لے جاتی ہے۰۰۰

نہ دل میں اُمنگ،نہ چہرے پہ خوشی،نہ جذبے اور نہ ہی کوئی لگن،،،،نہ کچھ کھونے کا دکھ،نہ پانے کی مسرت۰۰۰۰

ہمارے اندر کا موسمِ بہار سب لے جاتی ہے!

اور ہم خالی ہاتھ!

جیسے جسم سے روح پرواز کر جائے،،موت سے پہلے موت،،،

ہم اپنا سب کچھ لٹا کر محبت کو پھر سے حاصل کرنا چاہتے ہیں ،،،،ہم چاہتے ہیں کہ وہ حسیں لمحات پھر سے لوٹ آئیں ،،،وقت پلٹ جائے،،،ہم پھر سے اُن لمحات میں جی سکیں مگر اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے،،،،وقت کسی کےلئیے پلٹا ہے نہ پلٹے گا!!!

(ابنِ آدم)

Advertisements
This entry was posted in جدائی. Bookmark the permalink.

3 Responses to جدائی

  1. Anonymous says:

    Hm tw issi waqt smjh jaty hn k Judai k lmhat shoro hn jb apko Jis p maan ho.wo apko smjhny k bjy jhrk dy.mjhy ajj bhi usky alfaz yad hn usny jb boht skti sy kaha tha k.mjh sy bulls hit batain krny ki zarort nahi……….bs phr dil tot gaya dil ghayal.roh zakhmi.na jany zindagi mai wo log q milty hn jin ki nazar main hamari qadar nahi hoti . Kash kbhi ussy bhi ehsas ho .kashhhhhh….

    Like

  2. Anonymous says:

    The fear of parting is well expressed,reader can feel the pain.

    Like

  3. Anonymous says:

    Ussy ab tk khayal hy mera
    Kya Latifa hy roz hansta hn

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s