پھول،بارش اور سمندر

     ڈھلتے سورج کی کرنیں مانند سی پڑ گئی تھیں،ہر طرف نارنجی روشنی کا ڈیرہ تھا۰ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا،جیسے وجود کو ایک توانائی بخش رہی تھی۰میں چُپ چاپ بیٹھا کافی دیر سے اُسے سمندر کی نرم ریت پر خوشی سےنہال،اُچھلتے ،کودتے،دوڑتے، بھاگتے،لہروں سےاٹھکھیلیاں کرتے دیکھ دیکھ کر مسرور ہو رہا تھا-

وہ تھی ہی ایسی۰۰۰۰۰فرشتوں کی سی معصومیت،،،،،،

سمندر۰۰۰بارش اور پھول،،،سب اسکی کمزوری،،،،

بارش ہوتی تو لگتا جیسے صدیوں کی پیاس ہو،،،سارا سارا دن پانی میں شرابور۰۰۰۰بھیگ بھیگ کر سرشار۰۰۰۰مجال ہے جو تھک جائے،،،،ذرا بیٹھ جائے۰۰۰۰۰

پھولوں سے جیسے اُسے عشق،،،کوئی بھی پھول ہو،،کسی بھی رنگ ونسل کا،،،دیکھتی تو خود بھی پھولوں کی طرح کھلِ اُٹھتی،،،،دیر تک تکتی رہتی،،،سونگھتی رہتی اور سنبھال سنبھال کر رکھتی۰۰۰۰جب کبھی کسی پھول کو پڑا دیکھتی تو ایسے اداس ہوجاتی ، جیسے پھول میں اُسکی جان ہو،،جیسے وہ پھولوں کا درد محسوس کر سکتی ہو۰۰۰۰پھولوں کے قدموں تلے روندے جانے کا غم اُسے پہروں اداس رکھتا،،اور کچھ ایسا ہی ربط اُسے سمندر اور ساحل سے بھی تھا-جب سمندر پر آتی تو خوشی جیسے اسکے انگ انگ سے پھوٹی پڑتی،،،،آتی جاتی لہروں سے اٹھکھیلیاں کرتی،،،کبھی دور تک پانی کے ساتھ دوڑتی چلی جاتی اور کبھی چپ چاپ دیر تک سمندر کو دیکھتی رہتی،،،جیسے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں کو اپنی نظروں سے ناپ رہی ہو۔جیسے اسکی وسعتوں کا اندازہ کر رہی ہو،،،،جیسے سمندر سے اسکا کوئی بندھن،،،کوئی ناتا ہو۰۰۰۰۰۰۰۰

      میں ڈوبتے سورج کی کرنوں میں سنہری ہوتے اسکے دلکش وجود کو دیکھ دیکھ کر اپنی قسمت پر نازاں تھا۔وہ ساحل کی گیلی ریت پر خراماں خراماں آگے بڑھ رہی تھی، اور میں اُسکے نقشِ پا پہ اپنے قدم رکھے،جیسے سمندر کی ٹھنڈک کے ساتھ ساتھ اسکے وجود کے لمس کو اپنی روح کی گہرائیوں میں منتقل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔میں اس احساسِ وابستگی کو اپنے وجود میں مقید کرنا چاہتا تھا۔

اُسے میرے پیچھے ہونے کا احساس ہوا،،،اُس نے رک کر ہمیشہ کی طرح مجھے مُسکرا کر دیکھا،،،وہ رک کر میرا انتظار کر رہی تھی۔اسکی آنکھوں میں بسا پیار مجھے مبہوت کر رہا تھا،،،میں اسکے قدموں کے نشان پر چلتا،اسکے پاس پہنچ گیا۔ہم دونوں ایک ساتھ خاموش کھڑے ،ایک دوسرے کے وجود کو محسوس کر رہے تھے۔ڈوبتے سورج کا نظارا ماحول میں ایک رومانیت گھول رہا تھا،،کائنات کے کتنے ہی سربستہ راز،ہماری سوچ کی پروازوں سےکہیں آگے۰۰۰۰۰۰

   اُس نے آہستگی سے میرا ہاتھ تھام لیا،،،،میرے وجود میں ایک طمانیت سی چھا گئی۔وہ بہت خوش تھی اور میں اسے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا۔

محبت کا ایک روپ اپنے پیاروں کی خوشی میں پنہاں ہے،،ہم انکو خوشی دینے کی خاطر دن و رات تگ و دو میں لگے رہتے ہیں ،ہماری ساری کوششوں اور جدوجہد کا محور دراصل ہمارے اپنوں کی راحت اور خوشی میں پوشیدہ ہے۔

اپنے منہ کا نوالہ،،کسی اپنے کو کھلانے میں جو سواد ہے،،وہ خود کھانے میں کہاں۰۰۰۰۰۰

محبت دراصل قربانی ہی ہے،،،خود کو فنا کرنے کا نام،،،مصیبتوں اور پریشانیوں کو اپنی ذات پر جھیل کر ،،،اپنے پیاروں کو خوشیاں دینے کا نام۰۰۰۰۰۰۰

سورج کائنات کی وسعتوں میں گم ہو چکا تھا،،،سنہری روشنی تاریکی میں تبدیل ہو چکی تھی۔ہر سورج کے مقدر میں غروب ہونا  اور ہر روشنی کو بالآخر تاریکی میں ڈھل جانا ہے،،،ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے سمندر کی گیلی ریت کے گداز کو محسوس کرتے ہوئے آہستگی سے گھر کی جانب چل پڑے۔

(ابنِ آدم)

   

Advertisements
This entry was posted in پھول،بارش اور سمندر. Bookmark the permalink.

1 Response to پھول،بارش اور سمندر

  1. Dost says:

    Ye Sach h;
    hamary ibneadam her nasar do nali qalam c likhty hn

    1 simt koey yaar ki trf

    Dosri soey Dar nishana liye rehti h

    Dono nishany billkul durust aur shayan e shaan e MOHABBAT.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s