سرد کافی

543F6F73-1975-447F-BEA2-42CE35DD986A

 

آج موسم کے تیور صبح ہی سے بہت برہم تھے،،،،،تیز موسلہ دھار بارش کے بعد ہر طرف جل تھل ہو رہا تھا۔مسلسل وقفے وقفے سے بجلی کی کڑک کہ گویا آسمان سر پر آن گرا ہو!!!

میں شہر کے اس نسبتاً سنسان کافی شاپ میں ،اُسکے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔میز پر پڑی کافی اپنی بھینی بھینی مہک فضاؤں میں بکھیرنے کے بعد ہمارے روًیوں سے مایوس ہو کر سرد ہو چلی تھی۔

صرف خاموش بیٹھے رہو گے یا کچھ بولو گے بھی؟؟؟؟؟؟؟؟؟آخر تمُ میری بات کیوں نہیں سمجھتے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟کیوں اپنی زندگی خراب کر رہے ہو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟   تم جانتے ہو کہ میں اب کسی اور کی ہونے  والی  ہوں۰۰۰۰۰۰۰۰بھول کیوں نہیں جاتے مجھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اُس نے خاموشی کی دبیز چادر کو چاک کرتے ہوئے ایک سانس میں سارے الفاظ ادا کر دئیے۔ میں اک مُسکراہٹ کے ساتھ اسُکی حسین آنکھوں میں چھائی نمی کو دیکھتے ہوئے بولا۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

تم کیا سمجھتی ہو کہ کیا محبت کا مقصدصرف پا لینا ہے؟؟؟؟ کسی کو حاصل کر لینا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

نہیں  ہرگز نہیں۰۰۰۰۰بلکہ جو چیز حاصل ہو جائے وہ اپنی قدر و قیمت کھو دیتی ہے۔

محبت انجام کب سوچتی ہے؟؟؟؟؟

قسمت میں پھول ہیں کہ کانٹے،،،،کس کو پرواہ ۰۰۰

محبت تو بس ہوجاتی ہے، کسی بھی انجام سے لاپرواہ

میں نے ایک گہری نظر اسُکےحسین سراپے پر ڈالی،،تم مجھے کوئی ایک جگہ اس دنیا میں بتا دو جہاں مجھے تمہاری یاد نہ آئے

جہاں کی ہوا میں تمہارے وجود کی خوشبو بسی نہ ہو۰۰۰۰۰۰۰کوئی ایسی جگہ جہاں کا ذرہ ذرہ تمہیں پُکار نہ رہا ہو۰۰۰۰۰۰کوئی ایک ایسا ٹکڑا ء خاک جہاں میں سو سکوں ،،،،اور تمہاری یاد نہ آسکے۰۰۰۰۰سورج کی پہلی کرن میں تم جھلکتی ہو۰۰۰۰چاند کو دیکھوں تو تمہارا چہرہ۰۰۰۰۰ستارے ہیں  کہ تمہاری آنکھیں ۰۰۰۰۰۰۰میری ایک ایک سانس۰۰۰۰۰لہو کی اک اک بوند ۰۰۰۰۰تمہارے نام سے رواں دواں۰۰۰۰۰۰آنکھ کھولتا ہوں تو تمُ نظر آتی ہو۰۰۰۰۰آنکھ موندتا ہوں تو تمہارا چہرہ سامنے۰۰۰۰۰تمُ بتاؤ کہ میں کس چیز کو نہ دیکھوں؟؟

یہ آسمان،،،،، یہ بادل،،،،،،یہ بارش،،،،،،  یہ ہوا،،،،،،  یہ سمندر،،،،،،، یہ پانی ،،،،،،، یہ جگنو،،،،،، یہ تارے،،،،،، سب کے سب تمہارے

یہ پھول،،،،، یہ شبنم ،،،،،، یہ ہوا کی سرسراہٹ،،،،،، یہ پرنوں کی چہچہاہٹ ،،،،،،، ہر اک شے میں تم دکھتی ہو۰۰۰۰ہر اکِ چیز میں تم جھلکتی ہو۰۰۰۰۰ میں چاہوں بھی تو تمکو ایک پل کے لئیے اپنی زندگی سے نہیں نکال سکتا۔

تم میری ایک ایک سانس میں شامل ہو،،،،اصل میں تم میری زندگی ہو۔ وہ مبہوت سی میرے وحشت بھرے چہرے کو تکے جا رہی تھی۰۰۰۰۰۰اُسے میری آنکھوں میں چاہت کے سچے دیپ نظر آرہے تھے۔ وہ چاہتے ہوئے بھی مزید کچھ نہ بول سکی،،،نم آنکھوں کے ساتھ میز پہ رکھی سرد کافی کی پیالی اُٹھائی اور اہنے یاقوتی لبوں سے لگا لی۔ میں چپ چاہ سر جھکائے اپنے خالی ہاتھوں کو تک رہا تھا۔ بادل ایک بار پھر زور سے کڑکے مگر میرے اندر کی خاموشی کو توڑنے سے قاصر تھے۔

(ابنِ آدم)

Advertisements
This entry was posted in سرد کافی. Bookmark the permalink.

1 Response to سرد کافی

  1. Anonymous says:

    Miraculously words sound like Melody they poses feelings and emotions as I am watching them both beside.
    Love what u write.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s