کوئی ایک۰۰۰۰۰۰

نومبر کے اوائل کی ٹھنڈی سرد ہوا جیسے میرے تھکے ہوئے وجود کو جِلا بخش رہی تھی۔ہر طرف ایک خاموشی،،،،ایک سکون،،،،، پتوں کی سرسراہٹ بھی صاف سنی جارہی تھی،،،،،صاف نیلا آسمان، جیسے کسی ماں کا آنچل جس کی چھاؤں نے لمحہ بھر کے لئیے تمام مصیبتوں اور پریشانیوں سے آزاد کر دیا ہو،،،،ایک طمانیت کا احساس جو آپ ہی آپ مسرور کئے دے رہا ہو۔

میری نظریں قریبی درخت پہ بیٹھے پرندوں کے جوڑے پر مرکوز تھیں۔میں کافی دیر سے اُنہیں دیکھے جا رہا تھا،جو اپنے اطراف سے بیگانہ آپس میں چونچیں لڑانے میں مصروف تھے۔اُنکی خوشی کی چہچہاہٹ فضا کی نغمگی میں اضافہ کر رہی تھی۔

میں شہر کی گردآلود فضا سے گھبرا کر شام کے اس پچھلے پہر ایک دور اور نسبتاً سنسان باغ میں چلا آیا تھا ۔،جہاں شہر کی ہنگامہ خیزی کا دور دور شائبہ تک نہ تھا۔شہر سے دور ہونے کی وجہ سے لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔ اور اب میں بہت دیر سے گھاس پہ لیٹا قدرت کی صناعی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ،پرندوں کے اُس جوڑے پہ نظریں جمائے مسرور ہو رہا تھا

واہ ری قدرت اور اللٌہ کی صناعی،،،کوئی بھی کام مصلحت سے خالی نہیں،،،،جاندار کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا اور انکے دل میں ایک دوسرے کی محبت ڈالی۔ایک دوسرے کے بغیر ادھورے،داستانِ حیات نامکمل۰۰۰۰۰۰۰۰

تنہائی سے بڑا کوئی عذاب نہیں،،،اسکے کرب اور دکھ کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو کبھی تنہا رہے ہوں یا تنہا ہوں۰۰۰۰۰۰۰تنہائی انسان کو نگل جاتی ہے،،کھا جاتی ہے،،،،اسکے اندر جینے کی آخری رمق تک جلا ڈالتی ہے،،،،اسکے وجود کو بھسم کردیتی ہے،،،،انسان جیتے جی زندہ درگور،،،،نہ جیتوں میں ہوتا ہے نہ ہی مردوں میں۰۰۰۰۰۰۰۰۰

میں سوچتا چلا گیا،،،،، ہمارے لئیے کسی ایک کا ہونا کتنا ضروری،،،،کوئی ایک جو ہمارا اپنا ہو،،،ہمارا ہمدرد،،،ہمارا ساتھی،،،،،ہمارا رازداں۰۰۰۰۰

ہمارے دکھ درد میں شریک،،جو ہمکو، ہم سے زیادہ جانتا ہو،،،جو ہمکو، ہم سے زیادہ چاہتا ہو،،،،جو ہمارے دکھوں میں، ہم سے زیادہ دکھی ،،،جو ہمارے سکھوں میں ، ہم سے زیادہ خوش،،،،کوئی ایسا ایک جو ہماری بات بغیر کہے سمجھ سکے۔

کوئی ایک جو ہمارے مصائب کے آگے ڈھال ہو،،،،ہمارا حوصلہ ہو،،جس پہ ہم فخر کر سکیں۔جو ہمارے تمام دکھوں کا مداوا ہو۔

کوئی ایک جس کے ساتھ ہم گھنٹوں خاموش بیٹھ کر بھی خوش رہیں،،،کوئی ایک جس کے ساتھ ہم گھنٹوں بلا تکان بول سکیں،،،،اسکی سُن سکیں اور اپنی سُنا سکیں،،،،بغیر کسی جھجھک کے اپنی بات کہہ سکیں،،،بغیر کسی خوف کے اپنی ہر چیز شیئر کر سکیں۰۰۰۰۰۰

کوئی ایک جو ہمارا اپنا ہو۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

کوئی ایک جو ہمارا مان ہو۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

(ابنِ آدم)

This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s