ایک دن سب نے داستان ہو جانا ہے

قبر پہ مٹی ڈال کر میں ہاتھ جھاڑتا ہوا ذرا فاصلہ پہ چلا آیا۔جنازے میں کافی لوگ شامل تھے۔کچھ خاموش،افسردہ کھڑے مرحوم کو یاد کر رہے تھے۔کچھ دبی آواز میں فیملی مسائل پہ بات کر رہے تھےاور کچھ آس پاس کے ماحول سے بے بہرہ زور زور سے حکومت کی نااہلی کا رونا رو رہے تھے۔ مرحوم کا جواں سالہ بیٹا آنکھوں میں آنسو بھرے سسکیاں لے رہا تھا۔میں اپنے قریبی رفیق کے جنازے میں شریک تھا اور خاموش کھڑا دکھی دل کے ساتھ اپنی اُن مصروفیات کو یاد کر رہا تھا جن کے سبب میں پچھلے چار دن سے موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا اُن عزیز کی عیادت کو نہ جا سکا تھا۔

جتنا جتنا میں سوچتا جاتا اتنا ہی میرا وجود شرم سے زمین میں دھنستا جا رہا تھا، جسے ایک دن اسی قبرستان کی مٹی تلے دفن ہونا تھا ،،،مٹی میں مل جانا تھا۔بعض اوقات ہم اپنی خود ساختہ مصروفیات میں ، اپنی زندگی میں ، اپنے آپ میں اتنے گم ہوتے ہیں کہ دوسروں کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں ،،،ہمیں انکی محبت ،خلوص اور چاہت کا احساس ہی نہیں ہوتا اور جب وہ ہم میں نہ ہوں ،،،ہم سے دور چلے جائیں تو ہم پہروں اُن کو یاد کر کے آنسو بہاتے ہیں اور پشیمان ہوتے ہیں۔

لوگ آہستہ آہستہ قبرستان کے خارجی دروازے کی طرف بڑھنے لگے ، میں ایک آخری نظر مرحوم کی ابدی آرامگاہ پر ڈالتا ہوا بوجھل قدموں سے واپسی کے راستے پہ چل پڑا،،،میں سوچ رہا تھا کہ ایک دن مجھے یہاں آنا ہے ،،کبھی نہ جانے کے لئیے۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

بیشتر لوگ تدفین سے فارغ ہو کر مرحوم کے گھر میں جمع تھے۔ میں بھی اُن میں شامل تھا ، میں بامشکل جنازے میں شامل ہو پایا تھااور چاہتا تھامرحوم کے لواحقین کے ساتھ کچھ لمحات گذار سکوں۔ کچھ نہ کر سکتا تھا مگردو تسلی کے بول کہہ کر اُنکے دکھ پر کچھ مرہم رکھ سکوں۔ اسی لمحے مرحوم کے عزیزوں نے دسترخوان بچھا دیا۔ لوگوں کی جلدی دیکھ کر مجھے لگا کہ شاید بہت ے لوگ اسی لئیے واپس آئے ہیں۔ آناً فاناً فضا دیگ کی آوازوں سے گونج اُٹھی۔ ہر سو بریانی کی مہک چھا گئی۔ لوگ پلیٹیں بھر بھر بوٹیوں پہ ہاتھ صاف کرنے میں مصروف ہوگئےتھے۔ چند لمحے قبل کی اداسی کی فضا کہیں گُم ہو چلی تھی،زندگی اپنا سب سے ضروری کام۰۰۰۰۰پیٹ بھرنے میں مگن تھی۔ مرحوم کے رفقاء دوڑ دوڑ کے ڈشزز فل کرنے میں مصروف تھے،،، ان میں مرحوم کا جواں سالہ بیٹا بھی شامل تھا جو آنکھوں میں آنسو لئیے لوگوں کی مدارات میں مصروف تھا۰۰۰۰۰۰انکل ٹھیک سے ڈالیں،،،،، بھائی گرم لے لو۔ مجھے دور کھڑا دیکھ کر میرے پاس آیا ،،،، بھائی آئیے نا،، اس نے مجھے دعوت ِ بریانی دی،،میں نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا کہ “ معذرت قبول کریں، میرے حلق سے ایک لقمہ بھی نہیں اُترے گا،انشاء اللہ کسی اچھے وقت میں تمہارے یہاں کھانا کھاؤں گا” ۔ اس نے ایک اُفسردہ نظر مجھ پہ ڈالی اور میرے شانے سے لگ کر سسک پڑا۔ تمہارے ابو ایک عظیم انسان تھے اور مجھے یقین ہے وہ بہت اچھی جگہ ہونگے۔میں نے اسکی کمر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے، رسمِ زمانہ ادا کی اور پلٹ گیا۔

(ابنِ آدم)

This entry was posted in ایک دن سب نے داستاں ہو جانا ہے, ایک دن سب نے داستاں ہوجانا ہے. Bookmark the permalink.

2 Responses to ایک دن سب نے داستان ہو جانا ہے

  1. Anonymous says:

    Logon ka mrna hi dastan nahi hota.kch relation zinda hoty hoey dastan hojaty hn

    Like

  2. Samia says:

    Jin k father dunia say chale jatay Hain un ki betiya her Roz unhe utna he yaad krti Hain jitna k tadfeen k din dunya yaad krti hai.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s