لفظ تھے کہ نشتر

رات کے اس پچھلے پہر نیند جیسے اسکی آنکھوں سے روٹھ گئی ہو۔کسی پل اُسے چین نہیں آرہا تھا،اک بےکلی،اک بے چینی جس میں اسکا وجود نڈھال ہوا جا رہا تھا۔سر بوجھ سے پھٹا جا رہا تھا۰۰۰۰۰آنکھیں تھیں کہ جیسے آگ کا گولہ،،،، اسکا دل چاہ رہا تھا کہ پھوٹ پھوٹ کر روئے،چلا چلا کر اپنا درد دنیا کو بتائے۰۰۰۰۰زمانے کو دکھائے کہ جب مان ٹوٹتا ہے تو انسان کیسے ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔جب انسان اعتماد کی بلندیوں سے گرتا ہے تو بچ نہیں پاتا۰۰۰جب صدیوں کا بھروسہ ٹوٹتا ہے تو کچھ نہیں باقی بچتا۰۰۰۰۰۰۰

ایساہی کچھ اسکے ساتھ ہوا تھا،،،،ایک اعتماد کا رشتہ،،ایک مان،،،بھروسہ جو خود سے زیادہ کسی پر تھا،،،،وقت کی ایک ٹھوکر نے سب پاش پاش کر دیا تھا۔کیا ہوا تھا ؟؟؟؟صرف الفاظ ہی تو تھے۰۰۰۰۰۰۰۰۰وہ الفاظ کے وار ہی تو تھے جنہیں وہ سہہ نہیں پا رہا تھا۔ٹوٹ گیا تھا،،،،،،ہار گیا تھا۔

اس نےکہیں سنا تھا کہ الفاظ کے دانت ہوتے ہیں ۰۰۰۰وہ کاٹ لیتےہیں مگر آج اُس نے دیکھا ،الفاظ کے ہاتھوں میں من بھر کا ہتھوڑا ہوتا ہے جسکی ایک کاری ضرب برسوں کے رشتے،پیار ،بھرم،اعتماد اور مان کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔انُ الفاظ کے ہاتھ میں تیز دھار خنجر ہوتے ہیں جو آپ کے وجود کو لہولہان کر دیتے ہیں ۔الفاظ کے ہاتھوں میں وہ دودھاری تلوار ہوتی ہے ،جسکی ایک کاٹ آپ کے دل پر اتنا گہرہ گھاؤ ڈالتی ہے کہ ساری زندگی آپکے دل سے خون رِس رِس کر آنکھوں کے راستے ،،،آنسو بن کر بہتا رہتا ہے۔

لہو کا ایک سیلاب تھا جو اسکے وجود کو بہائے لے جارہا تھا۔آنسوؤں کی برسات تھی جو گرج چمک کے ساتھ برسے ہی جارہی تھی۔ایک ایک لفظ کی گونج اسکی سماعت میں ہیجان پیدا کر رہی تھی۔رنج و الم کا ایک طوفان تھا جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔سسکیاں تھیں جو رک کر نہیں دے رہی تھیں۔یا اللہ یہ کیسے کیسے لفظ اس دنیا میں پیدا کئیے،،،نشتر سے زیادہ کاری وارکرتے ہیں،،،،جن کا نشانہ ہمارا دل جو کبھی خطا نہ ہوتا۰۰۰۰۰۰۰جو ہماری سماعتوں کے راستے سیدھے ہمارے دل میں پیوست ہوجاتے،،،،وہ سوچ میں ڈوب گیا۔

لفظ تو بےجان ہوتے،،،،،،انکے تو خالی ہاتھ ہوتے،،،،انکو کیا پتہ کہاں وار کرنا ہے۔مان اور بھروسہ۰۰۰۰۰۰۰دراصل اس انسان سے منسوب ہوتا ہے جو وہ الفاظ ادا کر رہا ہوتا ہے۔لفظوں کو تاثیر تو ادا کرنے والا دیتا ہے۰۰۰۰۰اُن کے ہاتھوں میں پھول تھمانا ہے یا خنجر ،،،،وہ تو ادا کرنے والے کا کام۰۰۰۰۰۰وہ لفظ چاہیں تو خوشی بن کر آپکے وجود کو معطر کردیں یا چاہیں تو دودھاری تلوار کی مانند آپکے جستِ خاکی کو لہولہان کردیں۔

دو آنسو اسکی حسرت زدہ آنکھوں سےنکل کر اسکے ویران گالوں سے ہوتے ہوئے اُسکے دہکتے سینے پہ گر کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے فنا ہوگئے۰۰۰۰۰اُسے لگا یہ آنسو نہیں تھے یہ وہ بھرم تھا ۰۰۰۰مان تھا جو آنسوؤں کی صورت میں نکل رہا ہے۰۰۰۰۰اب چاہے وقت کتنا ہی مرہم لگائے ۰۰۰۰۰پشیمانی کے کتنے ہی الفاظ ادا کئیے جائیں ۰۰۰۰معافیاں مانگی جائیں۰۰۰۰۰معاف کر بھی دیا جائے ۰۰۰۰پر جو مان ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا۰۰۰۰۰۰ہم لاکھ چاہیں بھی تو اُسے جوڑ نہیں سکتے۰۰۰۰جو بھرم اُٹھ گیا سو اُٹھ گیا۰۰۰۰۰شاید یہی لفظوں کی کاٹ ہے۰۰۰۰اُنکی مار ہے۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

ابنِ آدم

This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

1 Response to لفظ تھے کہ نشتر

  1. Anonymous says:

    Behtreen. Ehsas ko aljaz mai dhalna .yeh bhi aik talent hy.Allah SB ka maan bros daim rkhy.q k jb rishty tot ty hai insane Anderson sy Mr jata hy

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s