حاصل زیست

آج بھی میں پتھر ہوئی آنکھیں لیئے بستر پہ لیٹا کروٹیں بدل رہا تھا ، نیند جیسے روٹھ سی گئی تھی، بہت جتن کئیے پر نیند کی دیوی کو منا لینا جیسے اب میرے بس میں نہیں تھا۔ رات کے اس پچھلے پہر چُپ چاپ لیٹا تنہائی کے اس کرب کو محسوس کر رہا تھا جو کسی کے پاس نہ ہونے سے اب میرا مقدر تھا ، ظالم وقت کی ایک تیز لہر اسے بہا کر مجھ سے بہت دور لے گئی تھی ۔ سناٹا اتنا گہرا تھا کہ دل کی دھڑکن گویا گھڑیال کی طرح بج رہی ہو۔ دھڑکنوں کی دھک دھک میرے ٹوٹے وجود کو جھنجوڑ جھنجوڑ ڈال رہی تھی ۔ کسی کے اپنا ہونے کا طمانیت بھرا احساس،،،،ساتھ ہی دوری کا غم،،،،ایک لازوال دکھ،،،،،رب سے ایک شکوہ۔ قسمت سے شکایت۰۰۰۰۰؟ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا نصیب کا شکر ادا کروں کہ وہ مجھے مل گیا یا اسکی دوری پہ ربِ کائنات سے شکوہ کروں؟

ایک گو مگو کی کیفیت۰۰۰۰۰۰ایک دکھ۰۰۰۰۰ایک اطمینان۰۰۰۰۰۰سیل فون کی میسج ٹون پہ میں دیوانہ وار اسکی طرف لپکا،،،مجھے لگا کہ اس نے مجھے یاد کیا مگرہمیشہ کی طرح میری اُمیدیں دم توڑگئیں۔ وہ مجھے انتظار کی سولی پہ لٹکا کہ کہیں گم ہو گیا تھا۰۰۰۰ وقت، حالات اور زمانے کے اصولوں نے اس کو اَن دیکھی زنجیروں میں جکژ لیا تھا۔۔وہ چاہتے ہوے بھی آزاد ہونے سے قاصرتھا۔۔شاید تھک گیا تھا ، ہار گیا تھا۔۔۔ محبت کو ہار ہی جانا ہوتا ہے، کبھی وقت سے، کبھی حالات سے اور کھی خود کو مٹا کر کسی کی خوشی کے خاطر ، محبت ہار جاتی ہے۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

محبت بڑی عجیب شے ہے ، ہمیشہ غلط وقت پہ۰۰۰۰کسی ایسے شخص سے ہوتی ہے جس پہ آپکو اختیار ہی نہیں ،،،،،،،جسے اپنا آپ مٹا کر بھی آپ حاصل نہیں کر سکتے، ، مگر محبت سوچ سمجھ کر کب کی جاتی ہے؟ قسمت میں کانٹے ہیں کہ پھول کس نے سوچا،،،،انجام کی کس کو پرواہ۰۰۰۰۰۰محبت میں تو محبوب کا چہرہ اسکا وجود ہی نظر آتا ہے،،، اسکے وجود کے آگے کوئی دیکھنا بھی چاہے تو دیکھ نہیں پاتا۰۰۰۰۰۰۰کچھ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا تھا ، وہ میری زندگی میں آیا تو تھا کہ میں مکمل ہو گیا ۰۰۰۰۰جیسے وہ میرے وجود کا ۰۰۰۰۰میرے دل کا گمشدہ حصہ ہو۰۰۰۰جسکے بغیر میں ادھورا تھا۰۰۰۰۰۰ جیسے میری صدیوں کی بے قراری ،،،، بے کلی صرف اسی کے لئیے تھی۔ میرے ویران دل کو اسی کی تلاش تھی ۔ اس سے مل کر مجھے لگا میرا دل اس پزل کی مانند ہے جسکا ایک حصہ کھو گیا ہو،،، وہ نامکمل ہو،،،،،،،۔اُسے پا کر میرے دل کا پزل مکمل ہو گیاہو۔ اُسے رنگ مل گئے ہوں اور اُسے ایک شکل مل گئی ہو۔وہ ملا تو جیسے زندگی میں ٹھہراؤ آگیا ہو،،،ایک تلاشِ مسلسل تھی جو ختم ہوگئی ۔اس کے ہونے کے بعد اب کوئی آرزو نہ رہی،،،،اک اطمینان،،،اک طمانیت،،،،اک سرور،،،،،،وہ مل گیا تو گویا جہان مل گیا۰۰۰۰۰۰

مجھے اپنا آپ ہمیشہ ادھورا لگا،،،، سب کچھ ہوتے ہوئے بھی میرے اندر ایک کمی ۰۰۰۰میں ہنستا تھا،،،کھلکھلاتا تھا ۰۰۰۰مگر میرے اندرایک گہری خاموشی تھی،،،،ایک کربِ مسلسل تھا۔مجھے نہیں پتا تھا کہ میری زندگی میں کیا کمی ہے۰۰۰۰؟ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی میرے اندر اتنا دکھ۰۰۰۰ ۰۰۰ ۰۰۰۰۰اتنا سناٹا۰۰۰۰۰اتنی اداسی۰۰۰۰۰۰کیوں؟؟؟؟؟ اسے دیکھا تو بس جیسے میری آنکھیں تھم سی گئیں ،،،میرے دل نے پکار پکار کر کہا کہ یہی میرا حاصلِ تلاش ہے،،، مجھے لگا میں تو اُسے صدیوں سے جانتا ہوں ،، جیسے جنم جنم کا ساتھ ہو،،،،،،، ہم تو ہمیشہ سے ایک ساتھ تھے،،، ازل سے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ دیئے۰۰۰۰ساتھ ساتھ،،،، ایک ساتھ۰۰۰۰۰۰ ربِ کائنات نے جب حضرت آدم کی تخلیق کی تھی تو انکی پشت سے دنیا میں آنے والی تمام ارواح کو نکالا گیا۔ تمام روحیں عالمِ ارواح میں ایک ساتھ تھیں تاکہ اپنےاپنے وقتِ مقررہ پہ جسموں میں داخل کر کے اس عالمِ فانی میں بھیجی جا سکیں۔عالم ارواح میں روحیں ایک لشکر کی صورت میں ایک ساتھ ہوتی ہیں ، چنانچہ جسموں میں داخل ہونے سے پہلے جو روحیں ایک دوسرے سے محبت و یگانگت رکھتی ہیں وہ جسموں میں داخل ہونے کے بعد بھی ایک دوسرے سے محبت اور الفت رکھتی ہیں۔اُسے پاکر مجھے لگا کہ میرا اسکا بھی صدیوں کا ساتھ،،،، ہماری روحیں پہلے سے ایک دوسرے سے متعارف،،،، سو ایک دوسرے کی تلاش میں بھٹک رہی تھیں،،،،،ایک دوسرے کی کھوج میں سرگرداں ۰۰۰۰۰۰۰ایک جہدِ مسلسل دوسرے کو پانے کی ،،اس دنیا فانی میں ہمارا قیام مختصر۰۰۰۰۰۰۰۰ پھر جب ہم اس خاک کی قید سے آزاد تو ہمیں ایک ہو جانا ہے،،،،کبھی نہ بچھڑنے کےلئیے،،،،ابدی ملن۰۰۰۰۰۰۰۰

مجھے پتہ چل چکا تھا کہ میری بےچین روح کو دراصل اس ساتھی روح کی تلاش تھی، جسے میرا دل۰۰۰۰ میری کم عقلی سمجھنے سے قاصر تھی۔اُسے پایا تو گویا تلاش ختم،،، کوئی آرزو رہی ،،،، نہ طلب،،،، نہ جستجو ۰۰۰۰۰ اُسے پا کر میرا وجود روشن ہو گیا ،،،، میرے دل کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ، اسکے وجود کے ساحل سے ٹکرا کر تھم گیا۔وہیں رک گیا،،،کہیں نہ جانے کے لیئے،،،کچھ اور نہ پانے کے لیئے۰۰۰۰۰۰

مگر محبت لاحاصلیت سے جڑی ہے ۰۰۰۰۰حاصل ہو جائےتو شاید انسان محبت کی بلندیوں کو نہیں چھو سکتا۔ میں نے زندگی میں بہت سی محبتوں کو حاصل ہونے کے بعد اپنی موت آپ مرتے دیکھا ہے۔ میرے لیئے محبت کو حاصل کرنا محبت کی معراج نہیں ہے۔ محبت تو ایک خوشبو ہے جو دور سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ کسی کا اپنا ہونے کا احساس۰۰۰۰۰کسی کو پہروں سوچنا۰۰۰۰۰اسکے ساتھ گھنٹوں خوابوں اور خیالوں میں باتیں کرنا۰۰۰۰۰ایک سایہ جو دن رات آپکے وجود کے ساتھ رہتا ہو۰۰۰۰۰۰ایک گمان جو حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا۰۰۰۰۰ایک تعلق جو احساسات کی ڈور سے بندھا ہو۰۰۰۰کسی پہ خود سے زیادہ یقیں۰۰۰۰کسے کے ہونے کا بھرم جو آپ ہی آپ مغرور کیئے دے رہا ہو۰۰۰۰۰کسی کی چاہ میں آسمانوں کی بلندیوں پہ پرواز۰۰۰۰۰۰اتنا سرور ہو کہ قدم زمین پہ پڑتے ہی نہ ہوں۰۰۰۰محبت ایک احساس ہی تو ہے۰۰۰۰ایک خیال۰۰۰۰۰کسی کی چاہ میں۰۰۰۰کسی کی راہ میں۰۰۰۰۰آنکھیں بچھائے۰۰۰۰جنم جنم کا انتظار۰۰۰۰۰۰۰

میں نے کروٹ بدل کر سیل فون کی طرف امید بھی نظروں سے دیکھا۔۔۔ مجھے خود سے زیادہ اس پر یقین تھا۔۔ مجھے پتہ تھا کے اک موج بے رحم نے ہمیں جدا کر دیا ہے، مگر دور اس وقت کے سمندر میں، اللہ کی طرف سے اک موج ہماری بھی ہے۔۔۔ دنیا نہ بھی چاہے، وقت ساتھ ہو یا نہ ہو۔۔۔اس موج کے طوفاں نے آنا ہے اور وقت کے منہ زور تھپیڑوں سے ہمیں بچا کر۔۔۔ہمیں اٹھا کر اک بار پھر سے دور بہت دور اک خوشبو سے جزیرے پر لے جانا ہے۔۔۔۔

اور اب میں انتظار کی سولی پہ چڑھا۔۔ دھڑکتے دل اور لرزتے وجود کے ساتھ اس موجِ موافق کے انتظار میں تھا۰۰۰۰۰۰ جسے آنا ہی تھا۰۰۰۰۰ مجھے یقین تھا ہمارا وقت آئےگا۰۰۰۰۰وہ لوٹ کر آئے گا۰۰۰۰۰۰۰اسے آنا ہی ہوگا۰۰۰۰۰

میں نے آہستگی سے آنکھیں  موندھ  لیں۔۔۔۔۔۔۔دو آنسو دھیرے سے پھسل کر میری بےخواب آنکھوں سے گر کر تکیہ میں جذب ہو گئے۔۔۔


(ابنِ آدم)

This entry was posted in حاصلِ زیست. Bookmark the permalink.

1 Response to حاصل زیست

  1. Anonymous says:

    Mohabbatein jazba e ehsas hoti Hein . hasilyat aur wujood ki qaid c Azad . bohot khoobsurat aur Dil c likha apne.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s