Author Archives: ابنِ آدم

“یہ گذرتے پل”

شام کے سائے گہرے ہوچلے تھے،دن بھر کا تھکاماندہ سورج اپنی آب و تاب دکھانے کے بعد گھنے درختوں کے پیچھے ڈوبنے کو تیار تھا۔گذرتے وقت کا ہر اک پل اُسکی رعنائی اور جاہ و جلال میں کمی کر رہا … Continue reading

Posted in یہ گذرتے پل | Leave a comment

اپنا اپنا سفر۰۰۰۰اپنی اپنی جستجو

میں اوندھے منہ صوفہ پر پڑا،سنڈے مورنگ سے لطف اندوز ہونے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھا۔رات کو دیر تک جاگنے اور ویک اینڈ انجوائے کرنے کے باعث تمام اہلِ خانہ نیند کی مہربان دیوی کی آغوش میں خواب و … Continue reading

Posted in اپنا اپنا سفر۰۰۰اپنی اپنی جستجو | 1 Comment

بارش میں گُھلتے آنسو

دل دہلانے والی آواز کے ساتھ بجلی چمکی اور میرے سامنے کا منظر منّور ہوگیا۔ میں دیکھ سکتا تھا ،آسمان سے تیزی سے ایک کے پیچھے ایک گرتی بارش کی بوندیں ۰۰۰۰۰ جیسےکسی ٹوٹی مالا کے موتی۰۰۰۰۰ ایک ساتھ گر … Continue reading

Posted in بارش میں گُھلتے آنسو | 7 Comments

محبت ہمسفر میری

آسمان کی وسعتوں میں اُڑتے آوارہ بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کرتا چاند،کبھی کسی بادل کے پیچھے چھپ جاتا اور کبھی کسی بادل کے دامن سے جھانکتا۰۰۰اسُکی اس حرکت سے جیسے یادوں کےدریچے کُھلتے جا رہے تھے۰۰۰۰کسی کی شوخ و … Continue reading

Posted in محبت ہمسفر میری | 5 Comments

سفرِ رائیگاں

تالیوں کی تیز آواز میری سماعت پہ ہتھوڑوں کی طرح برس رہی تھی,مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سب لوگ مجھ پہ قہقہے لگا رہے ہوں، میں آنکھوں میں نمی لئیے،اپنے ساتھیوں کی پذیرائی بھری گفتگو سُن رہا تھا … Continue reading

Posted in سفرِ رائیگاں | 1 Comment

خالی کشکوم

بہت دیرسے میں ،اُس پارک میں درخت سے ٹیک لگائےاسکےسائےکو بڑھتےدیکھ رہا تھا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے سورج لمبی مُسافت طے کرکےتیزی کےساتھ غروب ہونے کو بےتاب تھا۔پرندے دن بھر کی تگ و دو کے بعداپنے اپنے گھونسلوں کی طرف … Continue reading

Posted in خالی کشکول | Leave a comment

فنا مقّدر ہے۰۰۰۰

سیڑھی اُترتے ہوئے میرے قدم لڑکھڑا گئے،میں گرتے گرتے بچا اور بامشکل تمام ریلنگ کو تھام سکا۔میری آنکھوں میں تیرتی نمی نے ویژن کو دھندلا دیا تھا۔میں نے شرٹ کی آستین سے آنکھیں رگڑ کر صاف کرنے کی ایک ناکام … Continue reading

Posted in Uncategorized, فنا مقّدر ہے | Leave a comment