سالِ نو

‎سمندر کی ننھی ننھی بوندیں دسمبر کی اوس میں مل کر ماحول کو اور بھی نم بنا رہی تھیں۔ہر طرف ایک خوشگوار سی خنکی چھائی ہوئی تھی۔دسمبر کے ڈھلتے سورج کی نارنجی کرنیں اسُکی اداسی کا بھید کھول رہی تھیں ۔میں سمندر کے کنارے ایک چٹان کی کوکھ سے بچھڑے پتھر پہ بیٹھا سورج کی اداسی کو محسوس کر رہا تھا۔
‎آج سال کا آخری دن ڈھلنے کے قریب تھا۰۰۰۰۰تھکا ماندہ سورج۰۰۰۰طویل مسافت کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے غروب ہونے کو تھا۰۰۰۰۰ساتھ ہی بہت سی یادیں اور باتیں۰۰۰۰۰۰
‎کتنے ہی انمول لمحات اور انمٹ نقوش ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے امر کر گیا تھا۔
‎اُسے جانا تھا اور کل اک جواں سورج،نئے امنگ اور ولولے کے ساتھ طلوع ہونے کو تیار تھا۰۰۰۰
‎یہی دستورِ کائنات اور یہی فلسفہ ء حیات۰۰۰۰۰
‎سب کو ڈھل جانا ہے ،،،ڈوب جانا ہے اور جگہ دینی ہے ،،،آنے والوں کو،،،،،
‎ہر ذی روح کا مقّدر فنا ہے،،،،اُسے ہو ہی جانا ہے۔
‎میں خاموشی سے بیٹھا ،ڈوبتے سورج کے غم میں شریک،،،اسُکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سوچ رہا تھا۔
‎کچھ دیر پہلے جب یہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا تو کون تھا جو اس سے آنکھ ملا سکے؟؟؟
‎اسکی طرف آنکھ بھر کر دیکھ سکے۔
‎مگر اب۰۰۰۰۰۰
‎بےشک ہر عروج کو زوال اور ہر ذی روح کو فنا ہے۔
‎گذرتے سال کا آخری پہر۰۰۰۰۰
‎کیا کھویا؟؟؟کیا پایا؟؟؟؟
‎وقت سے کچھ حاصل کر سکے؟؟یا صرف گذار دیا۰۰۰۰
‎میں ہمیشہ کی طرح اُداس تھا،،،،وہی افسوس اور پچھتاوے۰۰۰۰۰۰۰۰۰
‎گئے دنوں کا حساب کر رہا تھا،،،،،ہر طرف خسارہ ہی خسارہ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
‎زندگی کی مالا سے ایک اور موتی کم ہونے کو تھا،،،،کتنے موتی اور ہونگے نہیں معلوم۰۰۰۰۰۰
‎مگر وہی ایک اُمید ،اپنے رب سے،،،،پھر وہی کچھ حاصل کر نے اور پا لینے کی تمنا۰۰۰۰۰۰۰۰۰
‎ کچھ کر گذرنے کی لگن۰۰۰۰۰۰۰
‎بےشک وہ بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔
‎ایک نیا جوش،،،ایک نئی لگن۰۰۰
‎کہیں قریب سے میرے کانوں میں مغرب کی اذان کی صدا آنے لگی،میں یقینِ کامل سے اُٹھ کھڑا ہوا،،،،کل کے سورج کا استقبال کرنے۰۰۰۰۰

‎ (ابنِ آدم)

Advertisements
Posted in Uncategorized, سالِ نو | Leave a comment

تم ۰۰۰میں ۰۰۰اور۰۰۰دسمبر

ہمارے قدموں تلے چرچراتے خشک پتے اس ویراں سڑک کی خاموشی توڑنےکی ناکام کوششوں میں مصروف تھے۔صبح کے اِس سمے ہر طرف گہری اور دبیز دھند کا راج تھا۔ایسا لگتا تھا کہ بادل فلک سےزمیں کو بوسہ دینے اُتر آئے ہوں،ہماری سانسیں باہر نکلتے ہی دھواں بن کر بادلوں میں گھل مل جا رہی تھیں۔
نمازِ فجر سے فارغ ہوکر ہم دونوں نکل کھڑے ہوئے تھے۔دسمبر کی پہلی صبح۰۰۰۰۰۰ہم اس حسیں صبح کو کسی صورت مِس نہیں کرنا چاہتے تھے۔
بہت دیر سے چپ چاپ،اپنی اپنی سوچ میں گم،،،اس سرد اور سنسان سمے کو محسوس کر رہے تھے۔اس خاموش سمے کی پُر اسراریت نے ہمارے وجود کو اپنے حصار میں جکڑا ہوا تھا۔
میرا۰۰۰۰۰اسُکا۰۰۰۰۰۰اور ہم سب کا دسمبر۰۰۰
اک عجب اداس سا بندھن۰۰۰اک نامعلوم سا تعلق۰۰۰۰اک تنہائی کا احساس۔
کسی کی یاد۰۰۰۰کوئی پرانا ساتھ۰۰۰۰کوئی کھویا ہوا پل۰۰۰۰۰
لگتا تھا سب کچھ لوٹ آتا ہے ۰۰۰۰دسمبر کے ساتھ
دیکھو۰۰۰۰۰
“دسمبر پھر آگیا”
اُس نے ایک عجب سی سرشاری سے کہا۔
“ہاں”،،،،میں نے مسکراتے ہوئے ،گرم شال سے جھانکتے اسُکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اسُکی روشن آنکھوں میں مجھے یادوں کے لا تعداد دئیے جلتے نظر آرہے تھے۰۰۰
پتہ نہیں کیوں دسمبر مجھے ہمیشہ اپنا اپنا سا لگتا ہے۔ جیسےمیرا اس سے کوئی خاص بندھن۰۰۰۰کوئی رشتہ۰۰۰۰کوئی اپنا پن۰۰۰۰بہت خاص۰۰۰۰بہت قریبی۰۰۰۰۰لیکن کچھ پُراسرار سا۰۰۰۰۰الجھا الُجھا سا۰۰۰۰۰
وہ بولتی جا رہی تھی۔
خشک پتوں سے گھری زمین۰۰۰۰سرد ہوا۰۰۰۰سنسان راستہ۰۰۰۰
میں اور وہ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
میں اسُکی بات سننے کے ساتھ ساتھ ان لمحات کی خنکی کو اپنے وجود میں جذب کرنے مصروف تھا۔
تمکو معلوم ہے نا یہ سب مجھے کتنا پسند۰۰۰۰۰
سرد ہوا۰۰۰۰خاموشی۰۰۰۰۰اور لمبی اُداس راتیں۰۰۰۰۰سب کے درمیاں ہوتے ہوئے بھی اکیلا پن۰۰۰۰
شاید یہی سب تومیرے اندر۰۰۰۰۰۰
“سنو،،،،کیا تم نے کبھی اپنے اندر کے دسمبر کو محسوس کیا ہے”؟
“کیا”؟؟؟؟
میں چونک اُٹھا ۔
“ہاں”، ہم سب کے اندر ایک دسمبر ہوتا ہے،،،،”سرد”۰۰۰۰”اداس”۰۰۰۰۰اور”تنہا”دسمبر۔
ضرورت صرف اسُکو ڈھونڈنے کی ہے۔دسمبر تو موجود ہوتا ہے۔
کبھی کسی اداس شام،کسی ویرانے میں،کسی خاموش ٹھہری جھیل کے کنارے ۰۰۰۰۰۰تنہائی میں اپنے اندر کے دسمبر کو آواز دینا۰۰۰۰وہ تمہیں مل جائے گا۰۰۰۰تم اُسے پا لو گے۔
میں اسُکی آنکھوں میں اک گہری جھیل سی گہرائی دیکھ سکتا تھا۰۰۰۰۰میرے وجود میں ایک سرد سی لہر دوڑ گئی۰۰۰۰شاید میرے اندر کا دسمبر جاگ رہا تھا۔
(ابنِ آدم)

Posted in تم،میں اور دسمبر | 3 Comments

ایک شام،ایک سوچ اور میں

میں نے کلائی پہ بندھی گھڑی پر نظر ڈالی۰۰۰مجھے واقعی گھبراہٹ ہونے لگی۰۰۰میں فلائٹ تقریباًمِس کر چکا تھا۰۰۰۰
میں ایک مختصر سے آفیشل ٹور کے بعد گھر کی طرف رواں دواں تھااور دوبئی کے مصروف ترین انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے میری پاکستان کےلئے کنیکٹنگ فلائٹ تھی۰ مجھے معلوم تھا کہ بورڈنگ کارڈ رکھنے کے باوجود فلائٹ کسی کے لئے لیٹ نہیں ہوتی ۔میں تیز تیز قدموں کے ساتھ تقریباً اپنے مطلوبہ گیٹ کی طرف دوڑ رہا تھا۔میرے داہنے کندھے پہ لیپ ٹاپ بیگ جھول رہا تھا اور بائیں ہاتھ سے پکڑا ہینڈ کیری کسی برق رفتار گاڑی کی طرح میری اسپیڈ کا ساتھ دینے پر مجبور تھا،اسکے وہیل ایئر پورٹ کے شفاف ماربل پر رگڑ کھا کر ایک بےتکا سا شور پیدا کر رہے تھے جو اس مصروف ترین ایئرپورٹ کےہنگامے میں کہیں گم ہورہا تھا۔میرا مطلوبہ گیٹ دوسرے سرے پر واقع تھا اور مجھے ایک لمبا فاصلہ طے کرنا تھا۔
بالآخر میں اپنے مطلوبہ گیٹ کاوئنٹر تک پہنچ گیا۔میں نے اپنی پھولی ہوئی سانسوں کو سنبھالتے ہوئےکاؤنٹر پر موجود خاتون سے امید بھرے لہجے میں اپنی فلائٹ کے متعلق دریافت کیا۔ خاتون نے ایک رسمی مسکراہٹ میرے پسینے سے شرابور چہرے پر ڈالی اور پیشہ ورانہ نرمی کے ساتھ مجھےمطلع کیا کہ میں اپنی فلائٹ مِس کر چکا ہوں اور مجھے اب دوسری فلائٹ سے تقریباً چھ گھنٹے بعد روانہ ہونا ہوگا۔
میں نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر اسکا مُسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور بادل ناخواہستہ آگے بڑھ گیا۔
قریب ہی موجود بالکونی نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کر لی اور میں ٹشو پیپر سے چہرہ صاف کرتے ہوئےبالکونی میں آ کھڑا ہوا۔
نیچے دوبئ کا مصروف ترین ایئر پورٹ میری نظروں کے سامنے تھا۔ ہر طرف اک بھاگ دوڑ۰۰۰ہر شخص اپنی دھن میں مگن۰۰۰۰۰۰اپنے آپ میں مست۰۰۰۰اپنی اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں۰۰۰۰ایک دوسرے کو ہٹاتےہوئے۰۰۰۰جلدی میں ایک دوسرے کو گراتے۰۰۰اُن سے آگے نکلنے کے چکر میں ۰۰۰انُکو سائیڈ پر کرتے لوگ۰۰۰۰۰
یہ اس ایئر پورٹ کی ہی نہیں دنیا کی بھی کیفیت ۰۰۰
ایک دوڑِ مسلسل۰۰۰۰
ایک دوسرےسے آگے نکل جانےکی ازلی خواہش۰۰۰۰
ایک دوسرے کو مات دینے کی چاہ ۰۰۰۰
سب کچھ پا لینےکی ھوس اورسب کچھ حاصل کرنے کی تمنا۔
“مگر”اس ایئرپورٹ اور دنیا میں صرف ایک بنیادی فرق تھا،یہاں لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ کہاں سے آئےہیں،،،کہاں اور کیوں جا رہے ہیں۔لیکن دنیا کے عام انسان مقصدِ حیات سے لاعلم۰۰۰۰
کہاں سے آیا؟؟؟
کیوں بھیجا گیا؟؟؟
اور واپس لوٹ کر کہاں جانا ہے؟؟؟؟
کچھ خبر نہیں؟
کیا کبھی ہم نے اپنے وجود کی آگہی کی کوشش کی؟؟؟
کیا ہم نے سوچا کہ اس مختصر سی حیات میں کیا کرنے کا وعدہ لے کر ہمیں یہاں بھیجا گیا۰۰۰۰ہمیں واپس جا کر جواب دینا ہوگا۰۰۰۰اپنے کئے پر “جزا”اور”سزا”
مجھے اپنے گذرے وقت پہ افسوس ہونے لگا۰۰۰۰ہم میں سے بیشتر افراد زندگی کے انمول لمحات کو صرف گذارنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔
ایک مست سی کیفیت ،،،،اپنے آپ میں سرشار
زندگی بے مقصد گذارنے میں مشغول ،،،صرف کھانا پینا،سونا اورتفریح۔
یہی انسان کی کُل کائنات اور اسکا حاصلِ زندگی
سفرِ آخرت پہ لے جانے والا ہینڈ کیری خالی۰۰۰۰
میری نظر اپنے سائیڈ پر رکھے ہینڈ کیری پر پڑی۔
میں نے ایک گہرا سانس لیا اور ایک نئے عزم سےچل پڑا۔
(ابنِ آدم)

Posted in ایک شام،ایک سوچ اور میں | Leave a comment

A long drive

اب اُٹھ بھی جائیے،،،بیگم نے تیسری بار کمرے میں آکر کہا۰۰۰۰چھٹی کا دن تھا اور ہمیشہ کی طرح ہم دونوں اپنے اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے تھے۰۰۰میری کوشش ہوتی کہ چھٹی کا دن گھر میں آرام و سکون سے گذارا جائے اور بیگم کی کوشش کہ آؤٹنگ کی جائے۰۰۰آج پھر اسی بات پر اپنی اپنی جدوجہد۰۰۰کبھی وہ جیت جاتی پر اکثر میں ہار جاتا۰۰۰۰
اس سے پہلے کہ مطلع مزید ابر آلود ہوتا میں نے اُٹھنے میں عافیت جانی،،،آج لانگ ڈرائیو کا موڈ تھا۰۰۰۰میرا نہیں اُسکا۔
گاڑی باہر نکال کر مجھے احساس ہوا کہ آج گھر سے نہ نکلتا تو بہت کچھ مِس کر جاتا۔سردیوں کی آمد آمد تھی اور شام کے اس پہر اِک میٹھی میٹھی نمی فضا کو معطر کر رہی تھی ۰۰۰۰ہلکی ہلکی خنک سی ہوا،خوامخواہ آپکو گنگنانے پر مجبور کر رہی تھی ۰۰۰میں نے گاڑی کا اے سی آف کر کے ونڈوگلاس نیچے کر دئیے۔میں اس حسین فضا کو بھرپور انجوائے کرنا چاہتا تھا۰۰۰مجھ پر چھائی سستی شاید کمرے کے بیڈ پر ہی وہ گئی تھی۔میں نے گاڑی کا ٹیپ آن کرلیا اور ہم دونوں دھیمی دھیمی میوزک سے لطف اندوز ہوتے ہوئے خنک ہوا کو اپنے سینے میں سمونے کی کوشش کرنے لگے۔
سڑکوں پر حسبِ معمول رش تھا،مین روڈ پر آتے ہی میرا موڈ چینچ ہونے لگا،،وہی افراتفری، بے قاعدگی اور بے ہنگم ٹریفک،،اللّہ کی پناہ ۰۰۰۰۰۰
گاڑی کا چلانا مشکل ہو رہا تھا اور مجھ پر جھنجھلاہٹ سوار ہونے لگی۔میری کوشش تھی کہ جلد از جلد ٹریفک کے اژدھام سے نکل کر مضافاتی علاقے میں پہنچا جائے تاکہ سکون کے ساتھ ڈرائیو اور موسم کو انجائے کیا جاسکے۔
اچانک سامنے والی گاڑی نے بریک لگائے اور میں کوشش کے باوجود اپنی گاڑی کو نہ روک سکا اور وہ آگے والی گاڑی کے بمپر سے ٹکرا گئی۔
آگے گاڑی سے ایک صاحب بہت غصے میں باہر آئے اور پہلے تو انہوں نے اپنی گاڑی کا جائزہ لیا اور پھر نہایت بدتمیزی سے انہوں نے مجھے گاڑی سے باہر آنے کا اشارہ کیا۔اُنکے اس انداز سے میں کھول اُٹھا،ابھی میں نکلنے ہی لگا تھا کہ میری مسزز نے میرا ہاتھ تھام لیا”ذرا آرام سے بات کیجئے گا”
میں نے اسُکی اُڑی ہوئی رنگت پر نظر ڈالی اور مُسکرا دیا۔
“اسلام و علیکم”،میں نے گاڑی سے نکلتے ہی اُن صاحب کو سلام کیا،،جسکا خاطر خواہ اثر ہوااور انہوں نے بادل نہ خواہستہ جواب دیا،،،اُنکی گاڑی کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تھا،میں نے معذرت کی اور انکو اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا”جو بھی اخراجات ہونگے ، میں ادا کروں گا”۔میرے اس طرزِ عمل سے انکا غصہ کسی حد تک رفوچکو ہو چکا تھا۰۰۰وہ بھی مُسکراتے ہوئے بولے”نہیں جناب،ایسا کوئی خاص خرچہ نہیں ،،اس افراتفری میں ہوجاتا ہے”اور معاملہ افہام و تفہیم سے رفع دفع ہوگیا۔
میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور مُسکراتے ہوئے بیگم کو دیکھا۔
“تم نے بروقت مجھے ٹھنڈاکردیا ورنہ اُن صاحب کا انداز”
وہ مُسکراتے ہوئے بولی۔
“دو میٹھے بول اور ذرا سی برداشت،،،بہت سارے مسائل کا حل ہے۔
برائی کا جواب برائی سے دینا۔
اینٹ کے جواب میں پتھر کھینچ مارناسب سے آسان کام۔
دنیا کے اکثر لوگ یہی تو کرتے ہیں بلکہ پتھر کے جواب میں اینٹ مارنے کو فخر سمجھتے ہیں اور یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ۔
غصہ ہمارے مزاجوں میں شامل ہو گیا ہے ۔کیا یہی ہےہمارے دین کی تعلیمات؟
انسان کو محبت کی مٹی سے بنایا گیا ہے اور محبت اس پر اثر کرتی ہے،،،دیر سے کرے مگر کرتی ضرور ہے۔
ہمیں محبتیں بانٹتیے رہنا چاہئے۰۰۰پانی کا ایک قطرہ اگر مسلسل سخت ترین پتھر پر بھی گرتا رہے تواس پر بھی اثرات اور انمٹ نشانات چھوڑ جاتا ہے۔
سمندر کی ایک نرم سی دستکِ مسلسل بلند و بالا چٹانوں پر اثرانداز ہوتی ہےاور اسکی جہدِ مسلسل کے نتیجے میں سخت سے سخت چٹان بھی سمندر کو اپنے وجود میں شگاف کرکے رستہ دینے پر مجبور ہوجاتی ہے۔”
وہ مسلسل بولے جا رہی تھی،،میں نے آہستہ سے ٹیپ بند کردیا۔
“باتیں اثر کرتیں ہیں ،،بشرطِ کہ صدقِ دل اور یقین کامل سے کی جائیں ۔اپنا ۱۰۰% دیتے جاؤ،بنا لالچ بنا کسی بدلے کے۔باقی اللّہ پر چھوڑ دو ،کوئی شک نہیں تم ایک نہ ایک دن تم کامیاب ہوگے”
اُسکی آنکھوں میں ایمان و یقین کی چمک تھی۔
میرا موڈ پھر سے رومینٹک ہونے لگا۔”میرے خیال میں باقی بھاشن گھر جا کر دے دینا۔”میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ جیسے کسی خواب سی جاگی،چونک کر مجھے دیکھا اور اسُکی شرمندہ سی ہنسی میرے دل کو معطر کر گئی۔
(ابنِ آدم)

Posted in A long drive | 1 Comment

تنہائی کا دکھ گہرا تھا

اُس نے دونوں ہاتھوں سے منہ دبا کر کھانسی کی آواز دبانےکی ناکام کوشش کی مگر اس کوشش میں اُسکا دم گھُٹنے لگا اور وہ بری طرح ہانپنے لگی۔ساتھ کے کمرے سے بہو ،بیٹے کے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھیں۔اُسکی نظریں سامنے ٹیبل پر رکھے پانی کے گلاس پہ تھیں ،مگر اُٹھنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی ،،،،بدلتے موسم کےیہ دن ہمیشہ اُس جیسے عمر رسیدہ افراد کے لئیےعذاب سے کم نہیں ہوتے۔رات کا دوسرا پہر تھا،،،،کروٹیں بدل بدل کر سونے کی ناکام کوششوں سے اسکا بدن بری طرح دُکھ رہا تھا،،،،اُسکا دل چاہ رہا تھا کہ کوئی اسکے پاؤں کو زور زور سے دبا دے،،،کچھ سکون دے دے ،،،،مگر،،،،
عمر کے آخری لمحات میں تنہائی۰۰۰۰
ایک مسّلمہ حقیقت اور شاید سب کا مقّدر۰۰۰۰
شوہر کی وفات کے بعد وہ جیسے زندگی جی نہیں رہی تھی بلکہ موت کا انتظار کر رہی ہو،،،، کبھی کبھی اُسے ایسا لگتا کہ اُس کے ہونے نہ ہونے سے اس بھری دنیا میں کسی کو کوئی فرق نہ پڑتا ہو۰۰۰۰۰
جیسے اسُکی اپنی اولاد دنیا دکھاوا کر رہی ہو۰۰۰۰فرض نبھانے کی ناکام کوشش کر رہی ہو۰۰۰۰جیسے وہ اپنی بےزاری چُھپانے کی خاطر مُسکرا مُسکرا کر آتے جاتے ” چند لمحے”رک کر اسُکی خیریت معلوم کرتے ہوں۔
اُسے اپنےدونوں بیٹوں اور بہوؤں سے کوئی شکایت نہ تھی۰۰۰۰پابندی سے دو وقت کا کھانا۰۰۰۰دوا دارو اوراسُکی ضروریات کا خیال۰۰۰۰مگر اُنکے پاس اسُکے لئیے ٹائم نہیں تھا۔
سب اپنی اپنی زندگی میں مگن۰۰۰۰۰
کھانسی کا دورہ پھر سے پڑ گیا تھا،اُس نے پھر سے آواز دبانے کی ناکام کوشش شروع کر دی اور بلآخر پانی کا گلاس اُٹھانے میں کامیاب ہو گئی،،،،وہ بری طرح ہلکان ہو رہی تھی ،،،،،اسُکی نظریں وال کلاک پر جم گئیں،،،،ابھی صبح ہونے میں بہت دیر باقی تھی،،،،کمرے میں پھیلا ہو گہرا سکوت،،،،اسُکا دل بھر آیا۔
اس گھر میں کتنی چہل پہل تھی۰۰۰۰ہر طرف شور۰۰۰۰صبح ہوتے ہی کاموں کا انبار۰۰۰۰وہ دن بھر بھاگ بھاگ کر نہ تھکتی تھی۰۰۰۰بچوں کے کام۰۰۰۰شوہر کی فرمائشیں ۰۰۰۰آنے جانے والوں کی ریل پیل۰۰۰۰۰اسُکا گھرانہ خاندان بھر میں پسند کیا جاتا تھا۰۰۰نفیس شوہر،تمیزدار بچے،اور سب سے بڑھ کر وہ خود،،ملنسار اور سلیقہ شعار
ایک زمانہ اسُکا گرویدہ۰۰۰مگر اسُکے پاس فرصت کہاں تھی۰۰۰ان سب باتوں کو انجوائے کرنے کی۰۰۰۰وہ تو ایک مشین کی مانند۰۰۰۰وقت کی چکی میں گھومتی رہی۰۰۰۰گھومتی رہی اور گھومتے گھومتے۰۰۰۰۰ آج۰۰۰۰۰۰
اور اب ہر طرف ہو کا عالم۰۰۰مگر اب آرام کر کر کے وہ بری طرح تھک جاتی تھی۰۰۰۰۰
انسان کی زندگی میں ایک باب۰۰۰۰”بابِ تنہائی” بھی ہے۰۰۰شاید اسُکی زندگی کا مشکل ترین دور۰۰۰۰
انسان اس دنیا میں تنہا آیا ہے اور تنہا چلا جائے گا مگر تنہا زندگی گذارنا ناممکن۰۰۰۰
تنہائی بڑی ظالم شے ہے۰۰۰۰یہ انسان کو کھا جاتی ہے۰۰۰۰اسُکے جذبات کو۰۰۰۰احساسات کو۰۰۰۰اسُکی اُمنگوں کو۰۰۰۰یہاں تک کہ اسُکی زندگی کو۰۰۰۰۰
ہر انسان کی کتابِ زندگی میں اِک” بابِ تنہائی” کو آنا ہے۰۰۰۰جہاں صرف وہ ہوگا اور یادیں۰۰۰۰
اِس بابِ تنہائی میں وہ اپنے گذرے لمحات کو یاد کر کے کبھی خوش ہوگا تو کبھی پچھتاوے کا احساس۔
وہ سوچتی چلی گئی۰۰۰۰۰اسکی أنکھوں سے آنسو بہہ بہہ کر اسُکے جھریوں بھرے چہرے کی جھریوں سے ندی کی طرح راستہ بناتے ہوئے اسکے دوپٹے میں جذب ہوتے رہے۰۰۰۰یہاں تک کہ باہر سے آذان کی آوازیں اس سکوت کا سینہ چاک کرنے لگیں ۰۰۰۰۰۰اللّہ اکبر۰۰۰ اللّہ اکبر۰۰۰۰
بےشک اللّہ ہی سب سے بڑا ہے۰۰۰۰وہ ہی سب کے ساتھ۔
(ابنِ آدم)

Posted in تنہائی کا دکھ گہرا تھا | 1 Comment

بے لوث محبتیں

اچانک آہٹ کی آواز سے میری آنکھ کُھل گئی۰۰۰۰کمرے میں گھُپ اندھیرا تھا۰۰۰۰کوئی باہر گیا تھا۰۰۰۰یہ میرے ابو تھے جو اےسی کی کولنگ کم کر کے نکلے تھے۰۰۰۰چند دنوں سے میری طبیعت کچھ ناساز تھی۰۰۰مگر میں اپنی عادت سے مجبور جب تک فُل اےسی نہ چلا لوں ۰۰۰میرے لئیے سونا مشکل تھا۰۰۰۰۰
والد صاحب دیر تک جاگتے اور میرے سونے کا انتظار کرتے تاکہ اےسی کی کولنگ کم کرسکیں ۰۰۰۰نومبر کی شروعات تھی اور رات کے آخری پہر خنکی بڑھ جاتی تھی جو میری طبعیت کے لئیے یقیناً نامناسب تھی۔
میں نے ایک گہری سانس لی۰۰۰۰میں جانتا تھا کہ ابو علی الصبح نماز کے لئیے اُٹھتے ہیں ۰۰۰۰اتنی دیر تک جاگنا ۰۰۰۰میری وجہ سے۰۰۰۰؟
میں شرمندہ ہونے لگا۰۰۰۰۰۰
کیا کوئی انسان ماں باپ سے زیادہ محبت کر سکتا ہے؟؟؟؟
میں سوچتا چلا گیا۰۰۰۰میری نظروں میں بے شمار واقعات اور مثالیں گھومنا شروع ہو گئیں۔
نہیں۰۰۰۰کوئی انسان ماں باپ سےزیادہ محبت تو کیا ۰۰۰۰اُنکی محبت کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۰۰۰۰
یہ کیسا رشتہ؟؟؟
یہ کیسے لوگ؟؟؟
انسانی عقل حیران ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں؟؟؟
جو خود کو دکھ دے کر ہماری مسرتوں کا سامان۰۰۰
ہمارے کل کے لئیے اپنا آج قربان۰۰۰۰
جو اپنی تمام خوشیاں اور خواہشات ہماری ایک خوشی کے لئیے ختم کر دیں ۰۰۰جنُکے لئیے ہم ہی سب کچھ ہوں۰۰۰۰۰
خود بھوکے رہ کر ہمیں کھِلائیں اور خوشی سے بے حال۰۰۰
راتوں کو جاگ جاگ کر ہمیں سلائیں اور ہماری اک ذرا سی خوشی کے لئیے اپنی ساری رات قربان۰۰۰ماتھے پہ اک بل نہیں۰۰۰۰زباں پہ اک شکوہ نہیں ۰۰۰۰کسی انعام کا لالچ۰۰۰۰نہ پرواہ۰۰۰۰نہ خیال
اے خدا میں سوچتا چلا گیا۰۰۰۰۰۰۰
راہِ زندگی کی تمام آفتوں اور مصائب کو برداشت کریں۰۰۰۰مگر ہم پرایک آنچ نہ آنے دیں۰۰۰۰ہماری طرف اُٹھنے والے ہر طوفان کے آگے ڈھال۰۰۰۰ہماری طرف اُٹھنے والی ہر میلی آنکھ اور ہر ہاتھ کے آگے سینہ سپر۔
جو رو رو کر دعائیں کریں مگر اپنے لئیے نہیں ۰۰۰۰ہمارے لئیے۰۰۰۰
کیا کوئی اور ہو سکتا ہے ایسا؟؟؟؟
نہیں ۰۰۰۰ہرگز نہیں۰۰۰۰کبھی نہیں۰۰۰۰کہیں بھی نہیں۰۰۰۰
کمرے میں گرمی بڑھ گئی تھی۰۰۰۰میں نے ایک نظر اےسی اور پھر دروازے پر ڈالی۰۰۰۰میرے چہرے پہ مُسکراہٹ آگئی ۰۰۰۰میں نے کروٹ لی اور سونے کی کوششوں میں مصروف ہوگیا۔
(ابنِ آدم)

Posted in بے لوث محبتیں | Leave a comment

چُنے ہوئے لوگ

میں نے زور سے ہارن پر ہاتھ رکھا اورمسلسل بجاتا ہی چلا گیا۰۰۰۰گاڑی کے سامنے موٹر سائیکل سوار سامنے سے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۰۰۰۰مجھ پر جھنجھلاہٹ سوار ہونے لگی۰۰۰بالآخر موٹر سائیکل سوار مجھے بری طرح گھورتا ہوا ایک سائیڈ پر ہوگیا۔
آج پھر میں لیٹ ہوگیا تھا،پیر کی صبح اور سڑک پر ہر طرف اِک افراتفری ۰۰۰۰۰۰
مجھے ایسا لگ رہا تھا میں روڈ پر گاڑی چلانے نہیں بلکہ گاڑی بچانےنکلا ہوں۰۰۰۰۰
صبح ہی صبح لائٹ چلی گئی اور مجھے ہر کام میں دیر۰۰۰اور اب ٹریفک کا بےقابو اژدھام۰۰۰۰۰میرے خدا۰۰۰۰۰
میرا آفس شہر کے وسط میں گنجان جگہ پر تھا۰۰۰۰جتنا میں لیٹ ہوتا،اُتنا ہی پارکنگ کا مسئلہ شدید۰۰۰۰
میں جلد از جلد آفس پہچنے کی کوشش میں رف ڈرائیونگ کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ ہر دوسری گاڑی پر میرا غصہ۰۰۰۰۰
آخر وہی ہوا۰۰۰لمبی خواری کے بعد ۰۰۰۰میں بامشکل تمام آفس سے بہت دور گاڑی پارک کرنے میں کامیاب ہوا اور اب لمبے لمبے ڈگ بھرتاہوا آفس کی جانب گامزن بلکہ تقریباً دوڑ رہا تھا۰۰۰
بیٹا کچھ کھانے کو دے سکو گے؟؟؟؟؟
اچانک ایک آواز نے میرے قدم جکڑ لئیے۰۰۰۰میں پیچھے مڑا اور کہنا چاہتا تھا کہ “معاف کرو بابا”۰۰۰۰مگر
وہ ایک خستہ حال شخص تھا۰۰۰بے ترتیب داڑھی۰۰۰کمزور،لاغر
مگر جس چیز نے میری زبان روک دی تھی وہ اسُکی چمکدار آنکھیں۰۰۰۰۰۰
میں نے اپنی ساری زندگی میں اتنی روشن آنکھیں نہیں دیکھیں تھیں،،اسکی آنکھیں اُسکے باقی جسم کا ساتھ نہیں دے پا رہیں تھیں۰۰۰۰
مجھے پیسے نہیں چاہئیے،کچھ کھلا دو بیٹا۰۰۰۰۰اُس نے میرا ہاتھ جیب میں جاتا دیکھ کر کہا۰۰۰۰۰
میں نہ چاہتے ہوئے بھی رکنے پر مجبور تھا۰۰۰میں نے اطراف کا جائزہ لیا تو دور مجھے ایک چائے خانہ نظر آیا۰۰۰۰۰
“ابھی آیا بابا”،میں اُس سے کہتے ہوئے چائے خانے کی طرف چل پڑا۰۰۰۰۰۰۰
چائے کے ساتھ کچھ لوازمات وغیرہ بھی لے آیا جو میں نے آہستگی سے اسکے سامنے رکھ دئیےاور خود اسُکے برابرفٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۰۰۰۰۰۰
اُس نے جھپٹ کر ٹرے اپنے آگے سرکائی اور چیزوں پر ہاتھ صاف کرنے لگ گیا۰۰۰۰وہ بہت بھوکا معلوم ہو رہا تھا۰۰۰۰
مجھے نہ جانے کیوں اسمیں ایک عجیب سی پُر اسراریت محسوس ہو رہی تھی۰۰۰۰کچھ تھا جو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۰۰۰۰کچھ نا معلوم سا احساس۰۰۰۰۰
میں خاموش بیٹھا اُسے کھاتے دیکھتا رہا۰۰۰۰
اللّہ تمہارا بھلا کرے بیٹا اوراللّہ تمکو حقوق العباد ادا کرنے کی ہمت عطا فرمائے،اُس نے کھانے کے بعد دعا دیتے ہوئے کہا۔
میں نے تعجب سے پوچھا۰۰۰بابا ہمت سے کیا مراد ہے؟؟؟؟
بابا نے مُسکراتے ہوئے کہا۰۰۰۰۰بیٹا حقوق اللّہ کی توفیق عطا ہوتی ہےمگر حقوق العباد ادا کرنے کیلئے توفیق کے ساتھ ہمت کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔
برداشت کی ہمت۰۰۰۰اک دوسرے کو درگذر کرنے کی ہمت۰۰۰۰۰کسی کا حق ادا کرنے کیلئے اپنےآپ کو مشکل میں ڈالنے کی ہمت۰۰۰۰۰۰
ہم جب تک اپنے آپ پر جبر نہ کریں حقوق العباد ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔
میرے نزدیک حقوق اللّہ ادا کرنا آسان مگر حقوق العباد ادا کرنا ایک مشکل کام ہے۔شاید اللّہ کچھ بندوں کو چُنتا ہے۰۰۰اُن میں کچھ خاص بات کہ اللّہ اُنکو حقوق العباد ادا کرنے کا فریضہ سونپ دیتا ہے۰۰۰۰۰
حقوق اللّہ میں کمی۰۰۰۰۰۰۰اللّہ معاف کرنے والا ہے،مہربان ہے۔
مگر ۰۰۰۰حقوق العباد کی ذرا سی بھی کوتاہی بندے برداشت نہیں کر پاتے۰۰۰مجھے اسُکی روشن آنکھوں میں نمی تیرتی محسوس ہوئی۔
میں نے اُسکی جانب خالی نظروں سے دیکھتےہوئے اُٹھ کھڑاہوا ۔
(ابنِ آدم)

Posted in چُنے ہوئے لوگ | Leave a comment